الطاف حسین حالیؔ؛ شاعر بڑے ہیں یا نقاد زیادہ بڑے ہیں؟ یہ سوال ہمارے زمانۂ طالب علمی میں اکثر کلاس روم کا موضوع بن جایا کرتا تھا۔ ویسے بھی بچکانہ تنقید کا ایک اہم سوال یہی ہوتا ہے کہ کون کس سے بڑا ہے؟ جب تک کسی کے کسی سے ’بڑے‘ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے اس وقت تک تنقیدی فیصلہ تسلّی بخش قرار نہیں پاتا۔ ہم کبھی اس بات پر لڑا کرتے کہ میرؔ؛ غالبؔ سے بڑے شاعر ہیں یا غالبؔ؛ میرؔ سے اور کبھی اس پر کہ اقبالؔ سب سے بڑے شاعر ہیں۔ کبھی منٹو، بیدی اور کرشن چندر میں اسی حوالے سے گھمسان کا رن پڑتا تو کبھی فیضؔ، راشدؔ اور میراجی کا اس ضمن میں ٹکراؤ ہو جایا کرتا۔ غرض یہ کہ کسی بھی تخلیق کار کی اہمیت اسی صورت متعین ہوتی جب وہ دوسروں سے افضل قرار پا جاتا۔ یہ بات بہت بعد میں جا کر سمجھ آئی کہ ادب میں بڑا ، بڑا ہی ہوتا ہے اور کسی ایک بڑے کا کسی دوسرے بڑے سے بڑا ہونا کچھ ضروری نہیں۔ اسی طرح ایک ادیب بیک وقت ایک جیسی دو حیثیتوں کا مالک بھی ہو سکتا ہے۔ حالیؔ اگر شاعر بڑے ہیں تو نقاد بھی بڑے ہیں۔ بس اتنا ہے کہ اردو میں تنقیدی ادب کی کم عمری کی وجہ سے بطور نقاد حالیؔ کی اہمیت ذرا سی بڑھ جاتی ہے وہ بھی اس لیے کہ حالیؔ کی اس حیثیت سے پہلی بار اردو میں ادب کے بارے میں کچھ سنجیدہ سوالات منظر عام پر آئے اور پہلی بار اردو میں تنقید کا کوئی باقاعدہ پیٹرن یا ڈسپلن نظر آیا۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حالیؔ نے ہمیں پہلی بار تنقید لکھنا سکھائی۔
اس میں شک نہیں کہ ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ جہاں ایک طرف شاعری کے اصولوں اور تنقیدی معیاروں سے بحث کرتی ہے وہیں ایک ایسی ’’تنقیدی جرأت‘‘ کا اظہاریہ بھی ہے جس کی مثال ہمارے تنقیدی ادب میں خال خال ہی ملے گی۔ گو یہ بات اپنی جگہ پر بامعنی ہے کہ اُس وقت کی تاریخی، سیاسی اور سماجی قوتوں کی کارفرمائی اس ’’جرأت‘‘ کو شکل پذیر کرنے میں بے حد معاون تھی مگر اس کے باوجود یہ حالیؔ ہی ہو سکتے تھے جن کا ذہن وقت کی ان کروٹوں کو سمیٹ کر آنے والے تنقیدی ادب کو ایک وژن فراہم کرنے کے لائق تھا۔ اگرچہ ہماری تدریسی تنقید ’’مقدمہ‘‘ کو بالعموم تخیل، وزن اور اخلاق وغیرہ کے مباحث تک ہی محدود رکھتی ہے مگر سنجیدہ تنقید نے اردو کی کلاسیکی شاعری پر اٹھائے گئے حالیؔ کے سوالات سے معاملہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ گو وہاں بھی ردِّ عمل زیادہ ہے اور تجزیہ کم۔ اور غیر ضروری معاملات سے سروکار زیادہ۔ ایسی صورت میں وارث علوی ’’مقدمہ‘‘ کا اور ’’مقدمہ‘‘ کے ناقدین، دونوں کا غائر مطالعہ کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں، جس کا نتیجہ ’’حالی، مقدمہ اور ہم‘‘ کے عنوان سے ایک چھوٹی سی مگر انتہائی ’’تیکھی‘‘ کتاب کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ وارث علوی خود بھی اِدھر اُدھر کی باتیں بہت کرتے ہیں اور حالیؔ کی تنقید کی اُس خوبی کو کہ جس سے سیکھنے کی تلقین وہ دوسروں کو بڑی شدومد سے کرتے ہیںکہ حالیؔ اپنے موضوع پر مرتکز رہنے کا ہنر خوب جانتے تھے، خود فراموش کر دیتے ہیں ، مگر اس کے باوجود وارث علوی کی تنقید، حالیؔ شناسی کے ذیل میں کسی بھی طور نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ وارث اپنے مخصوص تنقیدی اسلوب (جسے طنزیہ اور اصرافی تنقیدی اسلوب کَہ سکتے ہیں) میں حالیؔ کے ’’مقدمہ‘‘ کا جو عمیق تجزیہ کرتے ہیں وہ حالیؔ کی تنقید سے متعلق نہ صرف یہ کہ ایک گہری بصیرت عطا کرتا ہے بلکہ بہت سے نئے سوالوں کو بھی جنم دیتا ہے۔ گو وارث علوی کی تحریر سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بنیادی طور پر حالیؔ کے ’’مقدمہ‘‘ پر ان کا مقدمہ اپنے ان معاصر ناقدین کے ردِّ عمل میں، وجود میں آیا جن کے مفاہیم یا تشریحاتِ تنقیدِ حالیؔ سے وارث علوی مطمئن نہیں تھے۔ انہیں ان ناقدین کی تنقید پر بہت سے اعتراضات پیدا ہو ئے جن کا جواب دینا انہوں نے ضروری سمجھا۔ لہٰذا اسی جواب دینے کے عمل میں وارث علوی کا حالیؔ کی تنقید پر ایک اہم تجزیہ معرضِ وجود میں آ گیا جو بلاشبہ اب حالیؔ شناسی کے باب میں ایک اہم اضافہ سے کم نہیں کہا جا سکتا۔
حالیؔ کے ناقدین نے حالیؔ پر جو اعتراضات اٹھائے، وارث علوی نے ان کا دفاع کیا ہے۔ اور اس دفاع میں حالیؔ کے تنقیدی نظریات کے بارے میں بھی معاملہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے کہیں کہیں وہ ناقدین کے اعتراضات پر بے جا اعتراض اور حالیؔ کی بے جا حمایت کے مرتکب بھی ہوئے ہیں جس میں ان کا قصور کم اور اس تحریر کے بنیادی محرک کا کردار زیادہ ہے۔ کیوں کہ جب آپ تنقید کے ردِّ عمل میں تنقید کرتے ہیں تو ایسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ وارث علوی چوں کہ ایک بڑے نقاد ہیں (اوراس میں شک نہیں) اس لیے وہ ان مسائل کو بہرحال اپنی تنقید پر حاوی ہونے نہیں دیتے (ہاں اس ذیل میں بنیادی خامی کیا پیدا ہوئی، اس کا ذکر آخر میں کیا جائے گا)۔ اسلوب کی ’’گرمی‘‘ کو تو خیر وہ اسلوب کی خامی سمجھتے ہی نہیں اس لیے اس سے وہ بچنے یا گریز کرنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کرتے اس لیے ان کی یہ ’’گرمی‘‘ اس تحریر میں بھی اُسی شدت سے موجود ہے جیسے ان کی دیگر تنقیدی تحریروں میں پائی جاتی ہے اور جو ان کی تنقیدی شناخت بن چکی ہے اور اب جسے ان کی تنقید کا منفرد لہجہ بھی مانا جاتا ہے۔
جن ناقدین کے اعتراضات سے وارث علوی نے یہاں زیادہ بحث کی ہے ان میں کلیم الدین احمد، سلیم احمد اور شمیم حنفی کے نام نمایاں ہیں۔ ان ناقدین کے اعتراضات کو موضوع بناتے ہوئے وارث علوی؛ حالیؔ کی تنقید کے جن اہم گوشوں کو نمایاں کرتے ہیں ہمارے لیے یہاں وہ گوشے ان ناقدین کے اعتراضات سے زیادہ اہم اور توجہ طلب ہیں کہ ان گوشوں سے ہی وارث علوی کے حالیؔ سے ملاقات ممکن ہے۔ لہٰذا آئیے ان پر نظر کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ وارث علوی؛ حالیؔ کے ذہن، شخصیت، زبان اور اسلوب کو سراہتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایسا کلاسیکی رچاؤ والا ذہن اور سلجھا ہوا اسلوب ہماری تنقید کو آج تک میسر نہیں آیا۔ اس بحث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وارث علوی تنقیدی اسلوب کو نقاد کی شخصیت اور ذہنیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ جیسا ذہن اور شخصیت ہوتی ہے ویسا تنقیدی اسلوب اور زبان ظہور میں آتی ہے۔ حالیؔ کے اسلوب میں اگر بناوٹ نہیں تو اس لیے کہ ان کی شخصیت میں بناوٹ نہیں۔ ان کی زبان میں اگر سادگی ہے تو یہ ’’سادگی ایک متمدّن آدمی کی سادگی ہے، اُس آدمی کی سادگی نہیں جو متمدّن زندگی کی تمام لطافتوں سے بے بہرہ ہو۔۔۔ حالیؔ کا تنقید لکھنا گویا ایک مہذب آدمی کا تہذیب کے مسئلے پر دوسرے مہذب آدمیوں سے سرگرمِ گفتگو ہونا ہے۔‘‘(ص: ۱۳) اور پھر وارث علوی کا یہ کہنا کافی غور طلب بھی ہے اور بحث طلب بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ہمارے تنقیدی اسالیب کی اکثر خرابیاں کردار کے نقائص کی خرابیاں ہیں۔‘‘(ص: ۱۳) اسی بنیاد پر وہ حالیؔ کی تنقید کو آج بھی اردو کی تنقید میں نہایت اہمیت دیتے ہیں۔ گو ہم تنقیدی اسلوب میں نقاد کے کردار اور ذہنیت جیسے عناصر کو خارج از بحث قرار نہیں دیتے لیکن سوال صرف اتنا ہے کہ کیا یہی وہ اوصاف ہیں جو تنقیدی اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں؟ اور کسی بھی دوسرے عنصر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا؟ وارث علوی کے متذکرہ بالا بیان سے بڑی حد تک متفق ہونے کے باوجود یہ سوال ذہن میں ابھرتے ہیں لیکن وارث علوی ان کا جواب نہیں دیتے۔ خیر ہم بھی ابھی اس بحث سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ ہمیں تو فی الوقت وارث علوی کے حالیؔ اور حالیؔ کے ’’مقدمہ‘‘ سے ملنا ہے۔ اس لیے آئیے آگے بڑھتے ہیں۔
کسی بڑے فن پارے کی عظمت کا راز کیا ہوتا ہے؟ اس پر دنیائے ادب اور فن کے مفکرین کی بیسیوں بحثیں ملتی ہیں لیکن کسی بڑے تنقیدی ادب پارہ کی عظمت کس بات میں پوشیدہ ہے اس پر مباحث بہت کم پائے جاتے ہیں۔ وارث علوی اپنی تنقید میں اس معاملہ سے اکثر معاملہ کرتے ہیں اور بڑی فکر انگیز بحثیں اٹھاتے ہیں۔ حالیؔ کی تنقید اور ان کے ’’مقدمہ‘‘ کے حوالے سے بھی یہاں انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اس کے بغیر وارث علوی کی اس تنقیدی کاوش کے کوئی معنی نہ رہتے۔ اردو میں حالیؔ کی تنقید یا ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ کی عظمت کا راز کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وارث علوی لکھتے ہیں:
’’کسی بھی نقاد کی عظمت کا اندازہ محض ان تصورات کی بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا جو اس نے شاعری سے متعلق قائم کیے ہیں۔۔۔ تنقید میں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ نقاد نے مسائل پر سوچ بچار کیسے کیا ہے؟ اس کی تنقید شاعری کے بارے میں ہمیں کچھ نئی اور اہم باتیں بتاتی ہے یا نہیں؛ نقاد فکر کی نئی سرزمینوں کے انکشاف اور دریافت میں کام یاب ہوا ہے یا نہیں؛ ادب کی سیاحت میں وہ جن تجربات سے گزرا ہے ان کی نوعیت کیا رہی ہے، اور ان تجربات سے وہ کس قسم کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ تنقید کی اہمیت دعوے کو ثابت کرنے میں نہیں بلکہ اسے explore کرنے میں ہے، کسی نظریے کو پیش کرنے میں نہیں بلکہ نظریے کی تشکیل کے پورے عمل کو پیش کرنے میں ہے۔ تنقید اس معنی میں دریافت، انکشاف اور جہانِ فکر کی سیاحی کا عمل ہے۔ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ کی عظمت کا راز اسی نکتے میں پنہاں ہے کہ یہ نتائج نظریوں، فیصلوں اور رایوں سے بھری ہوئی کسی پروپیگنڈسٹ، پمفلٹ باز، مفتیِ عصر کی جھولی نہیں، بلکہ ایک شائستہ اور متجسس ذہن کی سیاحت اور ادب کی دستاویز ہے۔‘‘(ص: ۱۵ تا ۱۶)
یہیں سے وارث علوی؛ حالیؔ اور ترقی پسند تنقید کے فرق کی بحث اٹھاتے ہیں۔ عام تاثر تو یہی ہے کہ ترقی پسند تنقید کی بنیاد، حالیؔ کے تصوراتِ نقد بنتے ہیں مگر وارث علوی اس سے کسی طور متفق نہیں۔ وہ نہ صرف ان دونوں تنقیدی نظاموں کو الگ الگ سمجھتے ہیں بلکہ حالیؔ کے تصورات کو ترقی پسند تنقیدی تصورات سے کہیں زیادہ افضل گردانتے ہیں۔ اس ذیل میں حسبِ عادت وارث علوی شدت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ترقی پسند ادب اور تنقید سے متعلق تجزیاتی طریقِ نقد کی بجائے جذباتی بیانات سے کام لیتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’ترقی پسند بھی حقیقت جیسی ہے ویسی پیش نہیں کرتے بلکہ اپنے انقلابی مقصد کے زیرِ اثر اس کی صورت مسخ کرتے ہیں۔‘‘(ص: ۳۵) ابھی ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہی ہے کہ ان کا یہ بیان کہ’’ ایک نظر سے دیکھیے(ایک ہی نظر سے کیوں دیکھنا ضروری ہے؟) تو ترقی پسندوں نے بھی خیالات اور آدرشوں کے طوطا مینا ہی اڑائے ہیں، اور ان کے ادب میں بھی کوئی واقعیت اور اصلیت نہیں‘‘(ص: ۳۵) ہمیں فوری احساس دلاتا ہے کہ وارث علوی کو اس وقت محض حالیؔ کی حمایت مقصود ہے لہٰذا اس وقت وہ صرف حالیؔ کا تجزیہ ہی کر سکتے ہیں، کسی اور طرف وہ ہم دردی سے سوچنے کی پوزیشن میں نہیں۔ بہرحال ان کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ:
’’ترقی پسندوں کے آدرش وادی اور سماجی ادب کے تصورات کا ان تصورات سے کچھ لینا دینا نہیں جو حالیؔ کے تصورات رہے ہیں۔۔۔ حالیؔ اور ترقی پسند ادیبوں میں ایک بھی چیز مشترک نہیں۔۔۔ حالیؔ کا ادب کا تصور اتنا وسیع تھا کہ ترقی پسند اس کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔‘‘(ص: ۳۵، ۳۶ اور ۴۰)
ہمیں چوں کہ ترقی پسند تنقید اور حالیؔ کے تصورات میں مناسبت تلاش کرنے کی کچھ زیادہ فکر نہیں، کیوں کہ ہمارا سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا ترقی پسند فکر کا کوئی نہ کوئی رشتہ حالیؔ کے تصورات سے ہونا بہت ضروری ہے؟ اور یہ بھی کہ کیا اگر اردو کا کوئی تنقیدی دبستان حالیؔ کے تنقیدی تصورات سے کوئی قدر مشترک نہ رکھتا ہو تو کیا اس کا وجود صرف اور صرف اس وجہ سے مشکوک ہو جائے گا؟ خیر فی الوقت یہ بحث ہمارا مطمحِ نظر نہیں۔ ابھی تو یہ دیکھنا مقصود ہے کہ وارث علوی کے نزدیک حالیؔ کا ادب کا وسیع تصور کیا ہے؟ اس کے لیے انہوں نے حالیؔ کے اس اقتباس کا حوالہ دیا ہے جس میں حالیؔ نے لکھا ہے کہ ’’نئی طرز کی شاعری میں سوا اس کے کہ لوگوں نے جابجا مسلمانوں کے تنزّل کا رونا رویا ہے، اور مضامین کی طرف بہت ہی کم توجہ کی گئی ہے۔ حالاں کہ نیچرل مضامین کا ایک وسیع اور ناپیدا کنار میدان موجود ہے جس میں ہمارے شعرا طبیعت کی جولانیاں اور فکر کی بلند پروازیاں دکھا سکتے ہیں۔‘‘(ص: ۶۸) یعنی شاعری میں حالیؔ مضامین کے باب میں کسی حد بندی کے قائل نہیں تھے بلکہ تنوع پسند تھے اسی لیے وارث علوی ان کے تصورِ ادب کو وسیع قرار دیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ حالیؔ کے ادب کے اس وسیع تصور کی بنیادیں کیا ہیں؟ اس ضمن میں وارث علوی لکھتے ہیں:
’’مذہب، سیاست، سماج اور ادب کے متعلق حالیؔ نے جو فیصلے کیے وہ خود ان کے اپنے تھے؛۔۔۔ حالیؔ سمٹی سکڑی شخصیت کے مالک نہیں تھے کہ کسی ایک چیز کے ہو رہتے۔ ایک عظیم شخصیت کی مانند وہ زندگی کے ہر شعبے پر چھائے ہوئے تھے۔ ان کی ذات مذہب، سیاست، ادب، سماج، تہذیب، ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ اور زندگی کے ان تمام شعبوں میں وہ نہایت انکسار اور نرم مزاجی سے، بغیر کسی ہنگامہ آرائی کے، سرگرمِ عمل رہے۔ ایک نہایت ہی حوصلہ شکن اور تاریک دور میں وہ اپنی قوم اور اپنی تہذیب کے بکھرے اجزا کو سمیٹتے رہے؛ ٹوٹتی ہوئی روایتوں کو سنبھالتے ہوئے، نئی قدروں کا چیلنج قبول کرتے رہے۔ جب آدمی حالات کے مقابلے پر کمر بستہ ہوتا ہے، سرکتی ہوئی زمین پر قدم جمانے کی کوشش کرتا ہے، طوفانِ حوادث میں اپنے ہوش و حواس برقرار رکھتا ہے، اور ایک قیامت خیز عبوری دور میں کچھ چیزوں کو بچانے اور کچھ چیزوں کو اپنانے کے لیے چند اہم اخلاقی فیصلے کرتا ہے، تب کہیں جا کر اس کی شخصیت میں وہ کلاسیکی حسن پیدا ہوتا ہے جو حالیؔ کی شخصیت کو آج ہمارے لیے اتنا دل نواز بنائے ہوئے ہے۔‘‘(ص: ۳۶ تا ۳۷)
یہاں اگرچہ یہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ حالیؔ سے متعلق اس نتیجہ تک پہنچنے میں وارث علوی کے ہاں ترقی پسند تنقید کے مخالف نظریات کا کردار بہت اہم رہا ہے مگر اس کے باوجود ہم ان کے اس تجزیہ کو تنقید کا نشانہ اس لیے نہیں بنا سکتے کہ اپنی اصل میں یہ تجزیہ غلط نہیں۔
اردو مرثیہ ، قصیدہ، مثنوی اور غزل پر حالیؔ کے اعتراضات کا وارث علوی نے جو تجزیہ کیا ہے وہ اس لیے قابلِ ذکر ہے کہ اس جہت سے کسی اور نقاد نے حالیؔ کی تنقید کو سمجھنا چاہا ہی نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ حالیؔ کو مرثیہ کی اخلاقیات یا موضوع اور مواد پر کوئی اعتراض نہیں تھا، اعتراض تھا تو مرثیہ کے فارم پر، جو چند ایسے نقائص کا شکار ہے کہ اس میں اعلیٰ یا بڑی شاعری ممکن ہی نہیں۔ اگر ہم فن میں موضوع یا مواد اور خیال کی ادائیگی میں فارم کی اہمیت کو سمجھتے ہوں تو حالیؔ کا نقطۂ نظر بھی سمجھ آئے اور وارث علوی کے تجزیہ کی داد دینے کو بھی جی چاہے۔ اسی طرح مثنوی اور غزل کے ذیل میں حالیؔ کی تنقید کا جواب بھی وارث علوی کے پاس بہت Valid ہے کہ حالیؔ کو مثنوی یا غزل کے عشقیہ موضوعات پر اعتراض نہیں تھا، اعتراض تھا تو اس فنی پھوہڑ پن پر جو ابتذال کی حد تک جا پہنچا تھا۔ اور حالیؔ جیسے کلاسیکی ذہن کے مالک نقاد کو فن کا ابتذال یا فنی خام کاری کبھی خوش نہیں آ سکتی۔ یہاں وارث علوی نے ایک بات انتہائی پتے کی، کی ہے جسے ان ناقدین کو ضرور سننا چاہیے جو حالیؔ کے تصورِ عشق پر، ان کے غزل کے عشقیہ تصورات پر تنقید کی بنیاد پر معترض ہوتے ہیں۔ وارث علوی کہتے ہیں:
’’حالیؔ کی یہ تنقید کلاسیکی بنیادوں پر شاعرانہ مذاق کی تخلیق کی طرف پہلا قدم ہے۔ عشق و محبت پر حالیؔ نے جو کچھ کہا ہے اسے اسی context میں سمجھنا چاہیے۔ حالیؔ اس عشق پر بات کر رہے ہیںجو غزل میں ہے، اس عشقیہ جذبے پر بات کر رہے ہیں جو غزل میں اظہار پاتا ہے، جس عشق کی وہ نکتہ چینی کر رہے ہیں وہ بھی وہی ہے جو غزل میں بیان ہوا ہے؛ اور عشق کی اس تنقید اور نکتہ چینی کو زندگی میں عشق کی مخالفت سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ (پھر یہ کہ) انہوں نے عشقیہ جذبے کو ختم کرنے کی بات نہیں کی بلکہ اسے تَہ دار، پہلو دار اور آفاقی بنانے کا مشورہ دیا۔‘‘(ص: ۱۰۵ تا ۱۰۶ اور۱۰۹)
حالیؔ کو بالعموم ایک مذہبی آدمی سمجھا جاتا ہے لیکن کیا وہ ان معنوں میں مذہبی تھے جیسے کہ ایک ظاہر پرست مذہبی شخص ہوتا ہے جو عقائد پرستی اور ظواہر کی پابندی پر خوش ہو لیتا ہے؟ جو انسان کے باطن کو نہیں بس ظاہر کو بدل کر چین کی بانسری بجاتا ہے؟ وارث علوی نے حالیؔ کے اس پہلو سے بھی بامعنی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ حالیؔ ایسے مذہبی آدمی نہیں تھے کہ انسان کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں تلاش کریں بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان کے بہت سے اخلاقی، سماجی اور سیاسی مسائل کو انسانی سطح پر ہی حل کرنا پڑتا ہے۔ حالیؔ کی یہی ذہنی اپروچ ہے جہاں ان کی ’’شخصیت ایک مذہبی آدمی کی شخصیت سے بلند ہو جاتی ہے۔‘‘(ص: ۷۶) وہ انسان کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن محض انسان کے ظاہر کو نہیں، اس کے باطن کو بدلنے کی تدبیر کرتے ہیں یعنی انسانیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور انسانیت؛ انسان کے باہر سے نہیں، اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ حالیؔ کی اس خوبی کو وارث علوی ان الفاظ میں سراہتے ہیں جس سے کم سے کم ہمیں ضرور اتفاق ہے۔ لکھتے ہیں:
’’حالیؔ سماجی اور انسانی مسائل پر غور کرتے وقت خالص مذہبی نقطۂ نظر نہیں اپناتے۔ سماجی مسائل کے وہ سماجی حل ہی تلاش کرتے ہیں اور انسانی مسائل کو وہ انسانی سطح پر سلجھاتے ہیں۔ وہ خود ایک خدا ترس مذہبی آدمی تھے، لیکن مذہب کو انہوں نے ایک آئیڈیالوجی میں نہیں بدلا۔ ایک ایسے سماج میں جس پر مذہب کا گہرا اثر ہو، ایک مذہبی آدمی کے لیے انسان کی انسانیت کو اس کے اعمال کی کسوٹی بنانا عدم مفاہمت کی طرف پہلا قدم ہے۔ انسانی شخصیت کی پرکھ کے لیے ایک ایسی اخلاقی کسوٹی کی تلاش جو مذہب کے خلاف نہ ہو لیکن خالصاً مذہبی بھی نہ ہو، حالیؔ کے لیے ناگزیر تھی۔‘‘(ص: ۷۷)
وارث علوی چوں کہ ادب پر آئیڈیالوجی اور نظریہ سازی کے اطلاق کو بہت برا عمل سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ ادب کی آزادانہ پرکھ کے قائل ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ معیارات کی تشکیل کو غلط سمجھتے ہیں مگر معیارات کسی آئیڈیالوجی کا شاخسانہ ہوں تو انہیں گوارا نہیں۔ حالیؔ کی تنقید کا یہ پہلو بھی ان کے لیے توجہ کا باعث بنتا ہے۔ ان کے خیال میں حالیؔ نے محض ادب کی پرکھ کے لیے چند معیاروں کی تشکیل ضرور کی اور چند تصورات قائم کیے مگر کوئی نظریہ نہیں بنایا جس کی وجہ سے ان کی تنقید اکہرے پن کا شکار ہونے سے محفوظ رہی۔ اور اسی وجہ سے حالیؔ ادب، سماج اور انسان کو ایک Totality میں دیکھ سکے۔
یہاں بہت سے سوال پیدا ہو سکتے ہیں اور وارث علوی کی یہ پوری کتاب جگہ جگہ ہمارے لیے سوال پیدا کرتی ہے۔ بہت سی باتوں سے اختلاف پیدا ہوتا ہے، بہت سی باتیں ہماری تائید حاصل کرتی ہیں، کہ یہی وارث علوی کی تنقید کی اصل خوبی ہے۔ اگرچہ یہاں ہم وارث علوی سے اختلافی امور پر طول طویل بحث کرنے کا فی الوقت کوئی ارادہ نہیں رکھتے مگر حالیؔ پر ان کی اس تحریر کے حوالے سے اتنا ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے حالیؔ کی تنقید پر اب تک کی بہترین تنقید لکھ دی ہے مگر کیا انہوں نے حالیؔ کی حمایت میں کہیں بھی غلو سے کام نہیں لیا؟ کیا بعض جگہوں پر حالیؔ کو سر پہ اٹھانا محض اس لیے نہیں ہے کہ کچھ معاصر ناقدین کو نیچا دکھایا جا سکے؟ کم سے کم ہم اپنے مطالعے کی بنیاد پر ان سوالوں کا جواب نفی میں دینے سے قاصر ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ پر کہ وارث علوی نے حالیؔ کی ناقدانہ حیثیت کو ثابت کرنے میں اپنا حق ادا کر دیا مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ ’’دفاعی تنقید‘‘ کی آخری حدوں کو چھو آئے ہیں، جو بہرحال ایک مثبت تنقیدی رویہ نہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر اب اردو میں حالیؔ کے علاوہ کسی اور نقاد کو پڑھنا ہمیں ہماری حماقت لگنے لگی ہے۔ انہوں نے صاف صاف لکھ دیا ہے کہ حالیؔ اور دیگر اردو ناقدین (پتہ نہیں اس میں وارث علوی بھی شامل ہیں یا نہیں) میں وہی فرق ہے جو ایک پیغمبر اور فقیہوں میں ہوتا ہے۔ ’’پیغمبر ذہنی بصیرت عطا کرتا ہے، فقیہ موشگافیوں میں الجھا کر ذہن کو تنگ، مزاج کو تُند اور فکر کو پریشان کرتا ہے۔ پیغمبر آئیڈیا دیتا ہے، فقیہ اسے آئیڈیالوجی میں بدل دیتا ہے۔ حالیؔ اور حالیؔ کے بعد آنے والے ہمارے نقادوں میں یہی فرق ہے۔‘‘(ص: ۱۲۶) اور یہ تاثر وارث علوی نے کتاب میں متعدد جگہوں پر ابھارا ہے۔ خیال یہ آتا ہے کہ آخر کلیم الدین احمد اور وارث علوی کے تنقیدی رویے میں کس قدر فرق ہوا؟ کلیم الدین احمد کا لبِ لباب جو سامنے آیا تھا اور ہمارا جو تاثر بنا تھا وہ یہ کہ کوئی اردو نقاد اس قابل نہیں کہ جس کا مطالعہ کیا جا سکے۔ وارث علوی کی اس تنقید سے صرف اتنا ہوا کہ اب اردو تنقید میں ایک حالیؔ قابلِ مطالعہ ٹھہرے ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کوئی ایسی تنقید جو قاری کے لیے کسی ایک نقاد یا ایک تخلیق کار کے علاوہ باقی سب کا مطالعہ فضول قرار دینے کا تاثر ابھارے، وہ تنقید اپنی Totality میں کہاں تک اہم ہو سکتی ہے؟
ایم ۔ خالد فیاض
ایسوسی ایٹ پروفیسر اُردو
گورنمنٹ زمیندار پوسٹ گریجوایٹ کالج گجرات، پاکستان
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
واہ ۔
محترم ایم خالد فیاض صاحب ! آپ نے مولانا حالی کے حوالے سے وارث علوی کے تنقیدی خیالات کا خوب تجزیہ کیا ہے ، وہ جسے بات کرنے یا کہنے کا ڈھنگ کہتے ہیں وہ آپ کو خوب آتا ہےب، بات سے بات نکالنا ، اس کا تجزیہ کرنا ، کسی بات کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز نہ کرنے کی عمدہ روش ، آپ کو نئ تنقید میں اہم مقام و منصب پر فائز کرنے کا وسیلہ بنتی ہے ، سہل اور سادہ اسلوب قاری پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے ،
ایک اور شان دار تنقیدی مضمون لکھنے پر حرف تحسین ۔