تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے خودکشی پہ آمادہ ہو…
غزل
-
-
سنتے ہیں وفا کے رستے میں ہم تم کبھی منزل پانہ سکے اک ڈور جو پہلے الجھی تھی ہم آج تلک سلجھا…
-
شعلہ ہے یا شرار ہے میرے وجود میں کیا چیز بے قرار ہے میرے وجود میں اک دشتِ خار زار ہے میرے…
-
کیسے بھلا رہے گا وفا کے بغیر بھی زندہ ہے جو جہاں میں انا کے بغیر بھی کرتے ہیں ظلم ہم پہ…
-
بڑی ہی بیقراری سے اے غیرتِ چمن ترا آ انتظار کرتے ہیں سب اہلِ انجمن ترا یہ لفظ لفظ گل فشاں…
-
ہر طرف روشنی ہو رہی ہے دور تیرہ شبی ہو رہی ہے روز چاہت دکھی ہو رہی ہے روز اک خودکشی…
-
رَنگ لائے گی ہماری اشکباری ایک دن دید کی خیرات ہوگی ناگہانی ایک دن عشق کی نیرنگیوں میں یہ نہیں معلوم تھا…
-
کیا کرتے کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں تھا ورنہ ہمیں اس کوچے میں آنا ہی نہیں تھا ہنگامۂ وحشت تھا جہاں جشن…
-
عشق میں تیرے خود کو مٹا تو چلے جو تھے کہتے وہ کرکے دکھا تو چلے اپنے جذبے ہیں زندہ پتہ…
-
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا تیرا در چھوڑ…

