میرےچہرے پر کوئی چہرہ نہ تھا ورنہ کیا میں آدمی اچھا نہ تھا زندگی کوجب تلک سمجھا نہ تھا ٹوٹ کر ایسے…
غزل
-
-
جذبات میں اک آگ لگاتا ہےدسمبر خواہش کی نئی فصل اگاتا ہے دسمبر جوبن پہ اگر رات ہو اور چاند بھی چمکے…
-
آشوب لگ گیا ہے کوئی میری جان کو سر پہ اٹھائے پھرتا ہوں میں آسمان کو شاید اسی سے ٹوٹے ہواؤں کی…
-
دل مرا اتنا بے قرار نہ تھا ہجر کی رات اشک بار نہ تھا بات میں بات ہو گئی پیدا اس پہ…
-
حوصلہ ٹوٹ بھی تو سکتا ہے آسماں روٹھ بھی تو سکتا ہے مطمئن ہو کے چل رہے ہو میاں رہنما لوٹ…
-
یوں بھی باقی ہیں ابھی جینے کے آثار مرے بسترِ مرگ سے اُٹھّے ہیں کئی یار مرے موجِ ادراک سے سورج کی…
-
یہ اور بات ہے کہ ہمارا نہیں ہوا اس شخص کے بغیر گزارہ نہیں ہوا آنکھوں میں تیرے بعد کئی صورتیں بسیں…
-
دل پہ پہرا بٹھا دیا میں نے خود کو یوں بھی سزا دیا میں نے شور لیکر وہ جنگ میں آیا…
-
آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں چھڑتے ہی ساز بزم میں کوئی…
-
زمیں سے آسماں تک کوئی استعارہ نہیں کسی کے ہم نہیں ہیں اور کوئی ہمارا نہیں بھنور بدن سےکچھ اس طرح ہم…

