یوں بھی باقی ہیں ابھی جینے کے آثار مرے
بسترِ مرگ سے اُٹھّے ہیں کئی یار مرے
موجِ ادراک سے سورج کی شعائیں پھوٹیں
تو نظر آئے کچھ اندیکھے سے کردار مرے
سینہء شب میں مچلتا ہے اداسی کا بدن
ایک تصویر میں دکھتے ہیں یہ آزار مرے
خواب بازار میں لایا ہوں تجارت کے لئے
سوچ کر کرنا ذرا سودا خریدار مرے
ہر نظارے میں چھپی بیٹھی ہے من کی جوبن
کس طرح خود کو سنبھالے گا اے ہشیار مرے
اپنی آنکھوں میں تری پیاس لئے پھر تا ہوں
اک نظر میری طرف دیکھ اے دلدار مرے
پہلے مشکل سے سمندر میں سفینہ اترا
اور پھر چھوٹ گئی ہاتھ سے پتوار مرے
مجھ کو صحرا میں ذرا خاک اڑانی ہے ابھی
اس لئے دیر سے آئیں گے پرستار مرے
میں نے لفظوں سے بنا ہے وہ زمانہ یارو
غور کرنے پہ نظر آئیں گے اشعار مرے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

