عشق میں تیرے خود کو مٹا تو چلے
جو تھے کہتے وہ کرکے دکھا تو چلے
اپنے جذبے ہیں زندہ پتہ تو چلے
میں اگر رک گیا قافلہ تو چلے
اب کے کردوں گا ان سے میں اظہارِ عشق
پھر ملاقاتوں کا سلسلہ تو چلے
بھیجوں گا میں تری چھت پہ خط کی پتنگ
اے مری جان تھوڑی ہوا تو چلے
کیا قدم سے قدم وہ ملا پائے گا
ہمسفر اس کو اپنا بنا تو چلے
تیری تعریف کے باندھ دوں گا میں پل
تیرا لیکن وہاں تذکرہ تو چلے
شکر ہے تونے خالی نہ واپس کیا
لے کے دل اپنا ٹوٹا ہوا تو چلے
دیکئے اس کا انجام کیا ہو "ذکی”
راہِ دل میں قدم ہم بڑھا تو چلے
ذکی طارق بارہ بنکوی
ایڈیٹر۔ہفت روزہ "صداۓ بسمل” بارہ بنکی
سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

