اسدمحمد خان زندگی کے مختلف تجربات سے گزرے ہیں اس لیے وہ انسانی فطرت کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں ۔ اس لیے ان کے ہاں عہد جدید کی تیز رفتار اور منتشر زندگی کے مسائل کے اظہار کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اس لیے ان کا اسلوب ، اساطیری ، تاریخی حوالے ، ہندی و ثفافتی الفاظ کا استعمال قاری کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کی تکنیک پڑھنے والے خون میں infiltration کر جاتی ہے۔ ان کے ہاں کئی مناظر زوال پذیر ہوتے ہیں۔ ان مناظر میں کئی زمانوں اور علاقوں کےلوگ آتےجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ہاں کراچی کی جھگیوں میں بسنے والے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کے لہجوں کی بازیافت کی گئی ہے۔
انہوں نے اقتصادی حالات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبقاتی کشمکش کو موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے بڑے شہروں کے حالات اور طبقاتی نفرتوں سے جنم لینے والی تلخیوں کو پیش کیا ہے۔ ان کے ہاں زمیندار، مالک ، مزدور میں دولت کی تقسیم سے پید اہونے والی طبقاتی کشمکش مختلف روپ دھار کر سامنے آتی ہے۔ اسد محمد خان نے علامتی انداز میں کہانیاں پیش کرکے حقیقت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سلیم اختر لکھتے ہیں۔
مادی جدلیات کی رو سے تاریخ کا تانا بانا اقتصادی عوامل سے تیار ہوتا ہے وسائل پیداوار میں تبدلیاں اور ملوں کے لائے ہوئے صنعتی انقلابات دراصل تارٰکی حالات کا رخ موڑ کر اقدار میں تغیرات کا باعث بنتے ہیں یوں تہذیبی اور تمدنی تبدیلیوں کی اساس اقتصادی محرکات پر استوار کی جا سکتی ہے اس لیے کسیت میں طبقاتی کشمکش پر زور ملتا ہے۔][1][
اسد محمد خان کی کہانی”سے لون” میں لاجی ، ہدا استاد، بیلا جی اور جارج ڈفونا اقتصادی مجبوریوں کے تحت مختلف طبقوں کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔ "چاکر” میں جاگیردار طبقے پر طنز ملتا ہے جو وافر مقدار میں اناج جمع کرکے اس پر پہرے دار بٹھا دیتے ہیں عوام کو بھوک سے کلبلاتا دیکھ کر خود سیر و تفریح کے لیے علاقے سے باہر چلے جاتے ہیں اس کہانی میں مختلف ملکوں اور خاندانوں کی عکس بندی کی گئی ہے۔ اسد محمد خان نے کراچی میں ہونے والے حوادث و حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنی کہانیوں میں مختلف کرداروں کے ذریعے طبقاتی تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دینی اور نفسیاتی کشمکش کو پیش کیا ہے کہ کس طرح زندگی اور حالات پر انسان کا اختیار نہیں رہتا اور وقت تیز رفتاری سے مخالف سمت بہالے جاتا ہے۔ اسد محمد خان نے ان المیوں کو کبھی تاریخ کے روپ میں کبھی تحریدیت اور علامت کے ذریعے پیش کیا ہے۔ مشینی تہذیب کے پھیلاؤ ن ے انسانی رشتوں کی توڑ پھوڑ اور طبقاتی تقسیم میں اضافہ کیا ہے۔ سڑکوں اور گندی گلیوں میں کلبلاتے بچے اسی تقسیم کا نتیجہ ہیں ۔ مشینی تہذیب نے انسانی افسردگی میں اضافہ کیا رشتوں میں خلیج پیدا ہوئی فاصلے بڑھ گئے جس سے دوریاں اور نفرتیں اپنے عروج کو پہنچ گئیں۔ اشرافیہ نے نچلے طبقے پر ہاتھ صاف کیے اقتصادی مسائل بڑھے تو امیر اور غریب کافرق آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اسد محمدخان نے نفرتوں کے بیج بونے والوں اور انسان کے کھوکھلے وجود کو نمایاں کیا ہے۔ علامتی اور تجریدی افسانوں اور کچھ نئی نسل کے افسانہ نگاروں کے یہاں انتشار ، علاحدگی پسندی، تنہائی، محرومی کا احساس قدروں کے زوال اور صنعتی تہذیب کے بڑھتے ہوئے سایہ میں فرد کے وجود کے ڈوبنے کا اظہار بجا طور پر ملتا ہے۔
یہ نسلی اور خاندانی برتری ایلیٹ کلاس اور مڈل کلاس کے فرق کو ہوا دینے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ لوگ جدید سے جدید تر کی خواہش میں سادہ اور شریف لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ جو کچھ ٹی وی ڈراموں میں دکھایا گیا لوگ اس کو عملی طور پر اپنانے لگے۔ کمرشل کی وجہ سے ہر طرفbrand brand کی گونج سنائی دین لگی جس سے خاندانوں اور طبقوں میں نفرت ، تعصب اور امیر غریب کا فرق limit cross کر گیا ہے۔ لوگوں کا طبقوں میں بٹ جانا عصری حالات کا نتیجہ ہے ۔ اسد محمد خان نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے خاموش تماشائی بننے کی بجائے علامت کے ذریعے فنکارانہ کردار اداکیا اس حوالے سے اقتباس ملاحظہ ہو۔
اس لیے کہ لوگ کبھی شیخوں مغلوں میں بھی شادیاں کرلیتے تھے اور بعضے تو اتنے بے ادب تھے کہ سیدوں تک یی بیٹی لے آتے تھے۔][2][
اونچ نیچ خاندانوں کا فرق واضح ہو رہا ہے کہ لوگ شادیاں کرنے میں اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں اقتباس ملاحظہ ہو۔
ایک غیرت مند قبیلے کی جھلاہٹ اور مجروح انا مسئلہ ہے، کوتوالی انچارج ذات کا چوہان راجپوت تھا اور تلوار باندھنے والے ہارتے ہوئے ہاتھوں کی تکلیف کو شاید سمجھتا تھا۔][3][
یہاں بھی ذات برادری اور حسب نسب بڑے خاندانوں کا مسئلہ غیرت سامنے آرہا ہے مختلف طبقوں کے نفسیاتی مسائل سامنے آرہے ہیں کہ وہ ہر بات کو جھوٹی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں”افسانہ "حمود الرحمٰن کمیشن” میں بھی زندگی کے مختلف گوشوں کی مصوری کی گئی ہے۔ ایسے انسانوں کی داستانیں بیان کی گئی ہیں جو محرومیوں کے باعث نفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔ اسد محمد خان نے مختلف طبقوں کے گھرانوں کا گہرا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور ان کے مسائل پر قلم اٹھاکر ان کے زیادہ تر کردار معاشی بدحالی کا نمونہ ایلیت کلاس سے دبے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے ہاں زمانے کے ستائے ہوئے لوگ موجود ہیں جن سے تمام
جاننے والے نفرت اور کینہ رکھتے ہیں اقتباس ملاحظہ ہو۔
اصل میں ڈلیچن کو چتکبرے کی بیمارے تھی۔ اس کی انگلیوں کا چمڑا اور ہونٹ اور پپوٹوں کے سرے سفید ہو چکے تھے باقی چہرے پر بھی چتکبری بیماری نے بسنت کے چوکے پور دینے تھے۔ گردن اور چھاتی کے چمڑے کی بھی یہی حالت تھی۔ لوگوں نے اڑا رکھا تھا کہ یہ کوڑھ ہے اس لیے چھوٹے بڑے ہندو مسلمان سب اسے دردر کرتے تھے۔][4][
ایک طرف بیماری اور دوسری لوگوں کی اس حد تک نفرت لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے اس لکھیرے کو مندر کا پجاری بھی جگہ نہیں دیتا ایک طرف حسین و جمیل دنیا ہے تو دوسری طرف انسان کی بنائی ہوئی وحشت ناک دنیا ہے جس میں ظلم و بربریت اور فرسودہ رسم و رواج کی تصویرا بھرتی ہے اسد محمد خان اساطیری کہانیوں کے ذریعے رمزیت پید اکرتے ہیں تو معنی کی پرتیں کھلتی ہیں قاری کو کرداروں کی نفسیاتی کیفیات جاننے کے لیے بصیرت سے کام لینا پڑتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
عیسیٰ خان بڑے باپ کا بیٹا تھا مگر یہ بات وہ کھل کر نہیں کہہ سکتا تھا اس لیے کہ شیر شاہ سوری کے عہد میں اگر قبیلوں کے سرداروں کو شوکت اور عروج حاصل ہوا تھا تو خادموں اور خان زادوں کی اولاد بھی عالی مرتبت ہو گئی تھی۔][5][
یہاں بھی طبقوں کی باہمی چیقلش جاری ہے عیسیٰ خان خادموں سے حسد کرتا ہے لیکن پھر اسے اپنے بے ہودہ خیالات پر غصہ آتا ہے کہ مجھے اللہ نے سب کچھ عطا کیا وہ حسد اور تکبر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے گھوڑے سے نیچے اترآتا ہے عاجزی اور انکساری سے اپنا احتساب کرتا ہے اور اقامت گاہ کی طرف پیدل چل پڑتا ہے اسد محمد خان کے کرداروں میں اچھی عادات و اقدار بھی پائی جاتی ہیں۔ اسد محمد خان اس بات پر اظاہر افسوس کرتے ہیں کہ زمانے کی تیز رفتاری اخلاقی اقدار کو خس و خاشاک کی طرح بہائےلے جارہی ہے ۔ افسانہ”کوکون” میں اے۔ بی ۔زیڈ کردار انسان کی صورت میں غیر انسانی مخلوق زمانی شعور سے محروم تقدس اور قدروں کی شکست کی علامت ہے اسد کی کہانیوں میں تاریخی اور قدیم اساطیری کردار موجودہ دور کے تناظر میں ملتے ہیں۔ بعض کردار اپنے ماضی میں سانس لیتے ہوئے زمانی جبر کو منکشف کرتے ہیں۔ تاریخی کرداروں اور واقعات کا تذکرہ ڈوبتی اقدار کی باز آفرینی ہے۔ اسدمحمد خان نے مادی اور روحانی، ماضی و حال کی کشمکش میں قاری کے لیے عصری حقیقتوں کو سمجھنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اسد سماج کے پسماندہ اور نچلے طبقے کی زندگی سنوارنے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔ اسد محمد خان سریندر پرکاش کا "دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم” وغیرہ چند ایسے افسانے ہیں جو مجھے بے اختیار یاد آرہے ہیں ان افسانہ نگاروں کے پاس تجربے کو تخلیق میں سمونے پھر اس سے زندگی کی نئی معنویت اجاگر کرنے کا زاویہ بے حد نمایاں ہے۔
اسد نے بھی اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر موجودہ عہد کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی اصلاح کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ اسد نے مختلف طبقوں کے مسائل ار پریشانیوں کی باز گشت انسان کے اندر ڈوب کر سننے کی کوشش کی ہے اسد عورت کی جسم فروشی کا ذمہ دار بھی معاشرے کو ٹھہراتے ہیں اس کا مرتکب پورا معاشرہ ہے جو اس کا استحصال کر رہا ہے افاسنہ”چھوٹے بور کا پستول” میں لمڈا ایک غریب خاندان کا چشم و چراغ ہے اس کے والدین نہ چاہتے ہوئے بھی اقتصادی مجبوریوں کے تحت بیٹے کو کوٹھے پر کام کروانے پر مجبور ہیں انہیں اپنے بیٹے کی تربیت کا بھی خیال ہے وہ لاجی کو سمجھاکے جاتے ہیں کہ ہمارا بیٹا کسی کالک سے نہ ملے اور پیسے نہ ہے غیرت مند ہے اپنے بیٹے کو دلا ل نہیں بننے دیتا اقتباس ملاحظہ ہو ۔
سیاکٹی صاحب کوئی بہت بڑا سرکاری افسر تھا: وہ اپنے خوشامدیوں کے ساتھ بیلا کا ناچ دیکھنے آتا تھا جب بھی آتا، بڑے پیسے لٹا کے جاتا تھا۔][6][
یہاں بھی بڑے لوگ جو اقتدار میں ہیں وہ رقم ضائع کرتے ہیں لیکن غریب عوام جو بھوک سے مر رہی ہے ان سے غافل اپنی رنگ رلیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔اقتباس ملاحظہ ہو۔
کھوسہ نے جرمن جرنلسٹ گیزل کو اپنی محبوبہ بتایا تھا جب کہ وہ ا سے صورت سے بھی نہیں پہنچانتا تھا اس نے اپنے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے ہم دو کو اپنے ساتھ نتھی کرکے، ایک طرح سے ہمیں محفوظ اور مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔][7][
باثر اور امیر لوگوں کا نام لے کر ملزم اپنی جان چھڑاتے ہیں کھوسہ کو یقین ہے کہ افسران بالا اثر و رسوخ والے آدمیوں کے نام سن کر دب جاتے ہیں اور چھوٹے لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
ہم سب گانے بجانے ، پیشہ کرنے والیوں کے علاقے جاپانی روڈ کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ میں بیلا بائی صاحب کالے پالک تھا گھر کا کام کاج کرتا تھا۔][8][
نچلے طبقے کے لوگ جادلے کی طرح سماجی پستی غیر منصفانہ امتیاز اور ذلت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اسد محمد خان نے اپنے کرداروں کی نفسیاتی الجھنوں کو پیش کرکے اپنے اطراف میں رونما ہونے والے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے سماج کی کمزوریوں کو ظاہر کیا جو ان خرابیوں کا مرتکب ہے اقتباس ملاحظہ ہو۔
جوگیوں پیروں کو انسانوں میں آخری سیڑھی پر ! جانوروں سے تھوڑا اوپر گنا جاتا تھا ۔ کہا جاتا تھا کہ دین دھرم بھی ان کا کوئی نہیں ہستیوں کی ھدوں ، کناروں پہ جاپڑنے والے یہ لوگ، غریبوں سے بھی زیادہ غریبوں کا بچا کھچا سمیٹ کر اپنا گزارہ کرلیتے ہیں۔][9][
پیشے کے لحاظ سے لوگوں کو نفرت کی نگاۃ سے دیکھا جاتا ہے یہ ہیلرے جھوٹا اور بچا کھچا کھانے پر مجبور ہیں پیشے کی وجہ سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک روارکھا جاتا ہے۔ اسد محمد خان کشمکش سے پیدا ہونے والے مسائل کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ انسانی فلاح کے لیے ان اقدار کو بدلنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کا دل ایک درد مند انسان کی طرح تمام انسانوں کے لیے بغیر کسی تضاد کے برابر دھڑکتا رہتا ہے ۔سائرہ ہاشمی ، نجم الحسن رضوی، اسد محمد خان یہ چند پاکستانی نام ایسے ہیں جو ہندوستان میں بھی مانوس ہیں ۔ ان کے موضوعات ترقی پسند اور پیش رو افسانہ نگاروں سےمختلف ہیں ان کا فنی اسلوب پر کشش اور تخلیقی رویہ تازگی کا آئینہ دار ہے۔
اسد محمد خان جدید عہد میں بڑھتی بیگانگی اور نفرت کو ختم کرنے کے لیے مختلف حربے آزما تے ہیں۔ مختلف کرداروں کے ذریعے پائمال ہوتی اخلاقی اقدار اور بے لوث محبت اجاگر کرنا چاہتے ہیں ۔ غریبوں کو بھی حق اور انصاف دیا جائے ان کی محنت پر اجارہ داری قائم کرنے کی بجائے خاندانی وجاہت کو بالائے طاق رکھ کر حوصلہ افزائی کی جائے اسد محمد خان نے اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعے غریب لوگوں کے استحصال کو منفرد انداز میں قلمبند کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
لکڑی لوہے کے مچھوے، مزدور ، لکڑی لوہے کے کام والے ، پھیری لگا کے جھینگے مچھلی بیچنے والے اور نکمے آوارہ گرد سبھی صبح سویرے جنتی منانے نکل پڑتے تھے اور خود اپنی جیب سے یا چھٹ بھیے سراروں ، چودھریوں کے خرچ پر صبح کا پہلا پوایا ادھا لگاتے ہوئے؛ اپنے اگولے کی جے جے کارنر رہے تھے۔][10][
اسد محمد خان نے علامتی طریقہ اختیار کیا ہے علامت ان کے کردار کے اندر سے پھوٹتی ہے پھر موجودہ معاشرے کے تصنع اور دھوکہ بازیسے Relate ہوتی ہے۔ ان کے افسانون کی سچائی قاری کو شدت سے متار کرتی ہے۔ اسد کے طنز میں بھی گھلاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔
اسد کے ہاں چٹیل میدانوں، خانہ بدوشوں کی رہائش گاہیں اور جھونپڑیاں، کچے مکانوں میں پوری تہذیب نمایاں ماضی حال کی کشمکش ہے کہ جو طبقاتی تقسیم ماضی میں موجود تھی حال میں convert ہوگئی ہے۔ آج کا غریب انسان وحشت زدہ ماحول میں جی رہا ہے۔ "سیما” اور "تہور علی” کے کردار اسی ماحول کی پیداوار ہیں جن کے اندر سختیوں کی وجہ سے بغاوت سر اٹھاتی ہے جہاں مذہب، عقیدے اور ملک کو تحقیر کانشانہ بنایا جاتا ہے لوگوں کی انا کو کچل دیا جاتا ہے ایسے ماحول میں نفرتیں اور بغاوتیں ہی جنم لیں گی۔ اس افراتفری میں اخلاقی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ قدریں روند ڈالی گئی ہیں معاشرہ انتشار کا شکار ہو گیا ہے۔ بھائی چارہ جس کی بنیاد پر دکھ درد بانٹے جاتے تھے تصنع، تضاد اور اونچ نیچ خاندان کے جھگڑوں کی نظر ہو گیا ہے۔ ایک ہی گھر کی بالائی منزل پر شادی ناچ گانے ہو رہے ہیں نیچے والی منزل پر جنازہ اٹھ رہا ہے ۔ ساری قرابت مندیاں ملیامیٹ ہو گئی ہیں۔ ہر طرف بے حسی اور ویرانی چھا گئی ہے۔
طبقاتی عصبیت کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان بہت بڑی خلیج قائم ہو گئی ہے۔ اب نسل کی بنیاد پر امتیاز برتا جا رہا ہے آپس کے تعلقات کمزور ہو گئے ہیں رشتہ داروں میں اور تمام عالم انسانیت میں لاتعلقی اور بیگانیت بڑھ گئی حتیٰ کہ اولاد والدین کو برھاپے old House کے سپرد کرکے بھول جاتی ہے اطلاع ملنے پر جنازے میں شریک ہونے سے انکار کردیتی ہے۔ رشتہ دار ایک دوسرے سے حسد غرور اور گھمنڈ میں لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ کچھ تو ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کو جاننے پہنچانے سے انکار کرد یتے ہیں۔ ہر شخص دولت کی لت اور نشے میں دھت ساری قرابت داریاں ، حقوق و فرائض بھول گیا ہے۔ غریب رشتہ داروں کو تو یوں دھتکار دیتے ہیں جیسے کوئی متعدی جراثیم ہو۔ افراتفری اور نفسا نفسی کے اس عالم میں اسد محمد خان جیسے درد مند انسان کا دل خون کے آنسو پی کے رہ جاتا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
صبح ہوئی تو لڑکی نے گاؤں کے چھوٹے کنویں سے ، جو ڈھیڑوں، چماروں، پاسیوں کے لیے اور سیاطی کے گھروالوں کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ پانی بھرا۔][11][
غریب لوگوں سے نفرت حد سے بڑھیی ہوئی ہے ان کے لیے چیزیں بھی علیحدہ کر دی گئی ہیں۔ نچلہ طبقہ جو کچھ استعمال کرتا ہے اشرافیہ کے لیے وہ کرونا وائرس کے جراثیم ہے۔ اشرافیہ غریبوں کی استعمال کی چیزین الگ کر دیتی ہے جن کو کوئی ایلیٹ کلاس کافر ہاتھ نہیں لگاتا جہاں کروڑوں سال پہلے انسان باہمی میل جول اور محبت سے رہتے تھے اب وہاں نفرتوں کے بیج بودیئے گئے ہیں برکتیں اٹھ گئی ہیں چودہ سو سال پہلے پیغمبروں نے کالے کو گورے پر عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں دی تھی لوگوں کی بنائی ہوئی یہ طبقاتی تقسیم قانون قدرت سے انحراف اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی اور گمراہی ہے۔ ان قوموں پر عذاب احکام الٰہی کی خلاف ورزی کی وجہ سے آتے ہیں۔ اسد محمد خان تمام انسانوں میں باہمی محبت اور بھائی چارے کا خواہا ں ہیں۔
اقتباس ملاحظ ہو
اونچی ذات کے ناگرکی ہمیں منہ نہیں لگاتےتھے ۔ ہم لوگ گجرات کے برادھوتھے ہمارا گھر چوڑی والوں کے محلے میں تھا۔][12][
اس کہانی میں موجود عہد کی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔ جب غریب لوگوں کے بچے سڑکوں پر مانگتے نظر آتے ہیں لوگ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں والدین پہلے قصور وار ہیں لیکن کچھ اقتصادی مجبوریوں کے تحت جو لوگ مانگنے پر مجبور ہیں ان میں سب سے بڑا کردار ہمارے معاشرے کا جو بڑے عہدوں پر متمکن ہیں رئیس اور چودھری بن کے بیٹھ گئے ہیں وہ وسائل پر سانپ بننے کی بجائے ان لوگوں کی اصلاح کے لیے خاطر خواہ اقدام کریں۔ ایسے مواقع مہیا کئے جائیں تاکہ ان غریب لوگوں کو ذلت کے گڑھے میں گرنے سےبچایا جاسکے۔ جو کاری گر ملوں میں کام کرتے ہیں لاکھ چوڑیاں اور کڑے بناتے ہیں ان کو پوری مزدوری اور پورا حق دیا جائے تو طبقاتی تضاد کم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے محنت کش لوگوں سے کام کروا کے بہت کم اجرت دے کر brand کاTag لگا کر کاری گر کی محنت پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ بڑے صنعتکار غریب طبقے کا استحصال کرتے ہیں۔ ذات پات کے اسی نظام کے حوالے سے اقتباس ملاحظہ ہو۔
شہر کی طرح رستے میں بھی بامن اور ٹھاکر لوگ دردر کریں گے ۔ رستے میں تو سب ہی کا ایک جیسا مال ہے، سب ہی بھاگ رہے ہیں، اس ہاہا کار میں ذات پات کس بات کی؟ کوئی پوچھے تو بول دینا ہم پنڈت باہمن ہیں، ہمارا باپ مائی کے مندر میں پجاری لوگ کا کھانا بناتا تھا۔][13][
اب بھی شودر برہمن کافرق روا رکھا جا رہا ہے۔ نسلی تعصب کی بنیاد پر چھوٹے خاندانوں کے لوگوں کوکمی سمجھ کر طنز اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جب ہرطرف فسادات کا بازار گرم ہے تب بھی ذات پات کا فرق سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اسد کے ان دھتکارے ہوئے کرداروں کو اپنا حسب نسب چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسد ایسے مثالی معاشرے کی تلاش میں سرگرداں ہیں جہاں بغیر کسی خاندانی برتری کے تمام لوگوں سے مساوی سلوک کیا جائے۔ جھوٹ ، ریاکاری اور تصنع سے ہٹ کر حقیقت کا رنگ دیا جائے "رگھوبا” کا کردار قاری کو الجھائے رکھتا ہے۔ اور قاری کو آکر میں ایسے مقام پر چھوڑ دیتا ہے جہاں وہ کردار کو اپنے معاشرے میں تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ اسد محمد خان کی تخلیقی زبان اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
بڑے بڑے دہشت والے ڈینجر لوگ شانے پر ریوالور پیٹی لٹکائے پتلون کی چوڑی بیلٹوں میں سگریٹ والی ڈبیاں اڑسے، سیڑھیاں چڑھتے چلے آئے تھے۔ دن میں پولیس والے بھی آتے تھے جن کی بڑی خاطر یں ہوتی تھیں ہوٹل والا خود بوتلیں چابی لے کر آتا تھا اور سوڈے کھول کھول کر صوبیدار صاحبوں کے آگے رکھتا جاتا تھا۔][14][
"ایک میٹھے دن کا انت” میں وقت کی رفتار پر بحث ہے کہ وقت جس کو جیسا چاہتا ہے جس طرف چاہتا ہے بہا لے جاتا ہے۔سرکاری ملازمین میں بھی چھوٹے بڑے عہدوں کا گھمبیر مسئلہ ہے انہوں نے اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھا کر دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ غریب دکانداران اسلحہ سے نہیں افسروں سے خوفزدہ ہوکر مفت cold drink پیش کرکے خوشامد کرتا رہتا ہے۔ یہ افسران مفت خوری اور بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں۔ اسد نے ان افسران پر طنز کیا ہے کہ وہ اپنا بہترین وقت طوائفوں کے اڈوں پر گزارتے ہیں ۔ ان طوائفوں کے اندر کی عورت مر نہیں گئی لیکن ان افسروں کی دہشت سے خوفزدہ ہیں اور اقتصادی مسائل بھی آڑے آتے ہیں اسد کے ہاں یہ کیفیت حافظے کی مدد سے قائم رہتی ہے۔ اس حوالے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔
ننگے کھلے مذاق کرتے ہوئے میکینک، پانے اٹھانے، شیشے گھسنے ، جھاڑولگانے والے اسسٹنٹ جو "چھوٹے” کہلاتے تھے۔][15][
اسد نے اس کہانی میں لوگوں کے اصلی چہروں اور رویوں کی عکاسی کی ہے۔ دری، جمیلہ، روزی، لمڈا اسد کے انوکھے کردار ہیں جن کے ہاں ہر قسم کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں اسد کے کردار قاری کوڈوری کی طرح الجھائے رکھتے ہیں۔ قاری پھنستاپھنساتا حقیقت تک پہنچتا ہے یہ افسانہ انسانوں کے زوال کی داستان ہے۔ افسانہ نگار نے طنز کیا ہے کہ آج کا انسان مرچکا رشتے ناطے ختم ہوچکے ہیں۔ حکم طاقتور طبقے کا ہے بے اطمینانی کی اس فضا میں بھی اپنے آپ کو زندہ سمجھ رہا ہے۔ تقسیم کے بعد اردو افسانہ ایک لمبی جت لگاتا ہے ۔ یہ جت فکری و اسلوبیاتی ہر دو اعتبار سے ہے۔ ذات کے کٹے ہوئے حصے کی باز یافت یا جڑوں کی تلاش فکری سطح پر فنکاروں کو اس مرکز پر پہنچائی ہے جہاں سے اجتماعی لاشعور کی شعاعیں پھوٹتی ہیں اور اسلوبیاتی سطح پر اسطور و علامت کے وسیلے سے نازک ترین جذبات بے پایاں حسیات غیر مرئی تصورات اور نادیدہ روداد و عوامل کو بھی مجسم کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
اسد نے بھی اسطور و علامت کا سہارا لے کراسد محمد خان کے ہاں مختلف طبقوں اور پیشو ں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگو موجود ہیں جن میں جراح، پیشہ کرنے والیاں، گھریلوں عورتیں مغلانیاں، ہنر مند، مصور، شاعر، درویش ، اللہ لوک، طبلہ نواز، جاگیردار، کلرک، سرکس میں کام کرنے والے، شرابی اور حرامی ، مسلمان، مسلے، شودر، برہمن وغیرہ شامل ہیں۔ اسد کے کردار کہیں کہیں سارنگی کی رارارا میں گم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے ہاں ہر قسم کے کھیل اور کھلاڑی موجود ہیں۔ اسد اپنے کرداروں کے بارے میں افسوس کا اظاہر کرتے ہیں کہ کوٹھوں پررکھوالے بننے والوں کی کوئی اصلاح کرنے والا ہوتا تو ملک کی باگ ڈور سنبھالتے۔ یہ ذہن کردار بڑے عہدوں پر متمکن ہوکر عزت کی زندگی گزارتے ذلت سے بچ جاتے یہ وہ کردار ہیں جو معاشرے کی غفلت کا خمیازہ بھگت رہے ہیں معاشرے کے دھتکارے ہوئے اور نظر انداز ہونے والے لوگ اسد محمد خان کے دامن میں پناہ لیتے ہیں ۔ کاکا لمڈا جیسے کرداروں کے ذریعے سماج کی بربریت ناانصافی اور ظلم کی داستانیں رقم کی ہیں۔ "الی گجر کی آخری کہانی” میں "مٹھو ایسے کردارکے طور پر سامنے آتا ہے جس کی آواز کو دبا دیا گیا ہے جنہیں اشرافیہ طبقہ زیادہ سے زیادہ گڑ گڑانے یا پھر پاگل ہو جانے کی اجازت دیتا ہے جو زندہ ہوتے ہوئے بھی مردوں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ جدید عہد میں ذہنی تصادات کی وجہ سے ہماری سماجی زندگی ، پرانی قدریں ، قدیم نقوش و آثار ٹوٹتے اور بکھرتے جارہے ہیں ۔ اسد کے مظلوم کردار درد کا ایسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہیں جو عام انسان کے اندر بھی ہلچل پیدا کردیتے ہیں۔
"موتبر کی باڈی” بھی اسی نوع کا افسانہ ہے۔ جس میں غریب لوگوں کی داستان غم رقم کی گئی ہے جن کو جو کچھ ملتا پولیس والوں معتبر لوگوں اور رینجروالوں کی مرضی سے ملتا جتنا ان کا دل کرتا کم یا زیادہ دے دیتے تھے۔ اس لیے لوگوں نے بھوک اور آبی گھاسوں سے تنگ آکر وہ جگہ چھوڑ دی تھی۔ "سہیل ممتاز خان یوں لکھتے ہیں۔
بلا بلا، گھس بیٹھیا ، چاکر سے لون، سرکس کی سادہ سی کہانی، وقائع نگار، برجیاں اور مور، اور ہٹلر شیر کا بچہ وغیرہ ایسی کہانیاں ہیں جن میں افسانہ نگار کچلے ہوئے اور راندہ درگاہ افراد کے دکھوں میں شریک ہوتےہیں اور رنجیدہ نظرآتے ہیں۔ ][16][
اسد محمد خان اونچ نیچ طبقے اور پیشے دھندے سے قطع نظر تمام انسانوں سے قلندر انہ محبت کرتے ہیں۔ انسانی تذلیل پر چلا اٹھتے ہیں اور لوگوں کے غیر انسانی رویوں سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں "سوروں کے حق میں ایک کہانی” وحشی خیال کا منفی میلاپن، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اسد محمد خان نے تمام اخلاقی و تہذیبی اقدار نچلے طبقے سے دریافت کی ہیں۔ مئی دادا کا کردار جہاں ملازموں کو بھی گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے اور ادب کہا جاتا ہے شادی والے دن داماد کو بھی مٹی دادا کے سلام کے لیے پیش ہونا پڑتا ہے۔ عبدالعزیز ملک لکھتے ہیں۔
اس دنیا میں ہونے والی ناانصافیوں ، بد عنوانیاں ، اقدار کی پائمالیاں ان کے کرداروں کے توسط سے سامنے آتی ہیں۔][17][
عبدالعزیز کی تحقیق کے حوالے سے اسد کے تمام کردار پولیس، رینجر، چوہدری،رئیس اور بادشاہ اپنی رعایا سے جو سلوک کرتے ہیں ان کے کردار آشکار کرتے ہیں۔ پیش منظر کے تخلیقی افسانے میں اقدار کی شکست اور منظم نظریات کی ناآسودگی کے نتیجے میں تنہائی کی کونپل پھوٹی ، ایسے افسانہ نگاروں کے ہاں معاشرے کےگدلے پن سے مفاہمت کی بجائے ایک خاص قسم کے اکیلے پن نے چہرہ نمائی کی۔
موجودہ عہد میں یہ اخلاقی اقدار کہیں نظر نہیں آتی اسد مئی دادا کے کردار کے توسط سے معاشرے میں ایسی اخلاقی اقدار ادب اور تمیز، ملازمین سے برابری نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسد نے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور کوڑے کے ڈھیروں کو ڈھکنے کی بجائے خاص اسلوب اور موثر پیرائے میں ڈھال کر بیان کیا ہے۔ تاکہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالنے والی زوال آمادہ قومیں ان کرداروں سے اثر قبول کریں۔ ارد گرد چھائی ہوئی ویرانی اور بے حسی ختم ہو سکے۔
اسد کے ہاں عموماً نچلے طبقے کے اجتماعی دکھ پریشانیاں اور شاد مانیاں پیش کی گئ ہیں۔ جب کبھی رشتہ داریوں اور دوستیوں کا ذکر آتا ہے یا جاگیرداری نظام کا ذکر آتا ہے تو ان کے کرداروں کا طبقاتی ماحول اور رویے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اسد کے کرداروں کی نفسی کیفیات اہمیت کی حامل ہیں۔ "ترلوچن” میں بے رحم کائنات میں لوگوں کی مدد کرتا آدمی اپنی پہچان کی تلاش میں سرگرداں نظر اتا ہے۔ اسد طبقاتی نظام کی تباہی کے ساتھ ساتھ مقتدر طبقے کی چیرہ دستیوں کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ نسلی عصبیت کی بناء پر دشمنیاں ، خانہ جنگی اور نفرتیں انسانیت کو تباہ کررہی ہیں۔ اسد کے ہاں جنگلی قانون پر عمل پیرا درندہ صفت قالب رکھنے والے انسان بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں مقتدرطبقہ نچلے طبقے کی آوازوں کو ریزہ ریزہ کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے معاشرے کی تصویر ابھرتی ہے جہاں عدل و انصاف اپنا مفہوم گم کر چکے ہیں۔ انسان خونخوار بھیڑیئے بن گئے ہیں۔ "مردہ گھر میں مکاشفہ” معاشرے کی تباہی کا تشویش ناک احساس دلاتا ہے ہر جگہ جھکتی اور محل کمی اور آقا کا فرق نظر آرہا ہے ۔
رفیق، الی گجر اسد کے بہت مضبوط کردار ہیں جو معاشرے کے بے زبان طبقے کو پیش آتے ہیں یہ کردار طبقاتی تشدد کے باوجود محبت کرنے والا دل رکھتے ہیں بیریاد خان، ہندو کھیرا، راول اور جاولے نچلے طبقے سے تعلق ہونے پر ظلم کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان پر ہر کوئی حملہ آور ہو جاتا ہے اسد محمد خان نے ہمارے ارد گرد موجود کرداروں کو علامتی انداز میں دکھایا ہے دراصل اسد محمد خان نے انہی مصائب زدہ اور مفلوک الحال لوگوں کے درمیان عرصہ گزار ا ہے۔ یہ بھوک اور افلاس کے مارے ہوئے مظلوم کردار ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی کے سفر پر رواں دواں ہیں اور موہوم امیدوں کو دل میں رکھے زندگی گزار رہے ہیں۔ "دانی کی کہانی” بھی ایسا افسانہ ہے جس نہ پیار ملتا ہے نہ سننے کو لوریاں اور کہانیاں ملتی ہیں جن لوگوں کے درمیان زندگی گزر رہی ہے ان کے پاس قصوں کہانیوں کا وقت نہیں تنہائی اور کرب کا یہ احساس اسد کے اندر لاوے کی طرح پک رہی ہیں اور طوفانی لہریں اٹھ رہی ہیں۔ اسد معاشرے کے پسے ہوئے اور بے توقیر لوگوں کے مسائل سے زیادہ دکھی ہوتے ہیں۔ اسد محمد خان اس طبقے سے محبت کرتے ہیں اور انہیں اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں ان کے دکھ درد کو لفظوں کی لڑیوں میں پرو کر کاغذ کی زینت بناتے ہیں۔ اسد محمد خان ان کرداروں کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ "الی گجر” جیسے کردار جن کی اپنی کوئی زبان نہیں ان معصوموں سے بات کرنے کی سکت معاشرے نے چھین لی ہے۔ اسد سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پرقلم اٹھاتے ہیں جو ان معصوموں کا حق چھین رہے ہیں انہوں نے انسانی اقدار کے نام و نہاد پاسداروں کی قلعی کھولی ہے۔ ملازموں اور مالکوں طبقاتی کشمکش کو بیان کرتے طبقہ اشرافیہ کو نشانہ بنانا سے نہیں چوکتے ہیں اور تضادات کو بیان کرتے ہیں تہذیبوں اور اعلیٰ و ادنی طبقوں کے نشیب و فراز کو کشاکش ان کو پریشان کیے رکھتی ہے جس وجہ سے وہ اس ماحول کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے معاشرے کی ان خامیوں پر قارئین کو غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ پسماندہ طبقات کی پریشان حال زندگی سے روشناس کرایا ہے۔ اسد نے ان برائیوں کو انتہائی کامیابی سے قارئین کے سامنے رکھا ہے۔
اسد محمد خان کو ماضی سے خاصہ شغف تھا۔ انہوں نے اساطیر اور داستانوں اور علامت پر اپنے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ اسد آوازوں کا بنیادی حق استحصال زدہ طبقہ یعنی عورت، مزدور اور کسان کے لیے مانگتے ہیں ان کا تحفظ چاہتے ہیں۔ ان تمام حقیقتوں کو واشگاف انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر انہیں اپنا دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے استحصال زدہ طبقات کو اپنی حالت بدلنے اور بنیادی وسائل حاصل کرنے کی خواہش سے آشنا کرتے ہیں۔ نچلے طبقے کو گزشتہ کئی صدیوں سے سکوت ، غاصبیت اور جبر کا سامنا رہا ہے۔ اشرافیہ طاقت کے بل بوتے پر ہر جگہ کرسی پر براجمان ہے نچلے طبقے کی زبان، تہذیب، تعلیم اور ثقافت کی نفی کررہی ہے۔ اسد اس کچلے ہوئے طبقے کو زبان عطا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور استحصالی طبقات کے خلاف شعوری بیداری رکھتے ہیں۔
مقامی جاگیرداروں نے اپنا حوا کھڑا کرکے ملا، قاضی اور حاکم کے اداروں کو مضبوط کردیا ہے۔ اس طبقاتی کھینچا تانی نے ہمہ قسم کے مزاقموں کو جنم دیا ہے۔ اسد طبقاتی نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ روز بروز سماجی تناؤ بڑھ رہا ہے طبقاتی لڑائی شدت پکڑتی جارہی ہے محنت کش کو جاگیردار نے دبادیا ہے۔ خود غرض طریقے سے دولت کمانے کی دھن میں اربوں انسانی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ جاگیر دار دنیا کی آدھی دولت کے مالک بن بیٹھے ہیں جب کہ غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ یہ ظلم و ستم انتہا کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرمایہ دار اور اشرافیہ کی اس لوٹ کھسوٹ سے غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسد کی کہانیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس طریقے سے دولت کا انتا بڑا فرق تباہ کن ہے۔ یہ سنگین عدم مساوات موجودہ سماجی نظام کے دیوالیہ پن کا پورا سامان کررہی ہے۔ سرمایہ دار اور حکمران اشافیہ انسانی سماج کی جدید ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ دولت کی ہوس اورنشہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ قوم کا تصور شروع سے ابہام اور تضاد سے لبریز ہے۔ سب سے بنیادی تضاد سرمائے اور محنت کے مابین طبقاتی تضاد تھا۔ جاگیرداری کے خلاف لڑائی بورژوا اور محنت کش طبقہ دونوں کے لیے بقا اور سالمیت کا مسئلہ بن کر تاریخ کے ایجنڈے پرآگئی تھی۔ سرمائے اور محنت کا تضاد روز گروز شدت اختیار کر تا جارہا ہے۔ مارکس نے بجا طور پر کہا تھا”سرمایہ داری جب تاریخ کے افق پر نمودار ہو ئی تو سر سے پاؤں تک لہو ٹپک رہا تھا” یہ لہو صرف جاگیرداری کی متعفن لاش کا ہی نہیں محنت کش کے شدید ترین استحصال کی نشاندہی کررہا ہے۔
مارکس کی طرح اسد محمد خان بھی اشرافیہ اور نچلے طبقے کے مشترکہ مفادات کے علمبردار ہیں سماج میں طبقاتی توازن کی درست عکاسی کررہے ہیں۔ چونکہ ہمارا معاشرہ انسانی طبقات میں بٹا ہوا ہے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ طبقات موجود رہے ہیں۔ کہیں آقا اور غلام کہیں جاگیردار اور کسان کہیں سرمایہ دار اور مزدور طبقات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ طبقاتی نظام اس وقت جڑ پکڑ گیا جب اشرافیہ نے کچھ چیزوں کو اپنی ذاتی ملکیت بنا مل جل کر رہنے کی بجائے علیحدہ دولت بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔یہ ذاتی ملکیت طبقات کے وجود میں آنے کا سبب بن گئی۔ ذرائع پیداوار کے مالک ایک طبقہ بن گئے اور جو محروم ہو گئے وہ الگ طبقہ بن گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ذرائع پیداوار سے محروم لوگ اس بات پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ جاگیرداروں کے کام کریں تاکہ ان کو اتنا حصہ مل سکے جس پر وہ زندہ رہ سکیں۔ اب انسانی محنت کے استحصال اور لوٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس لوٹ مار کو قائم رکھنے اور استحصال کو مستقل بنانے کے لیے ذرائع پیداوار کے مالک لوگوں نے جبر و تشدد اور ظلم و نا انصافی سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔
اس طرح طبقاتی معاشرہ استحصالی ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمانہ اور جابرانہ معاشرہ بھی بن گیا۔ یہ جبر، ظلم اور استحصال ہر سماجی تنظیم میں جاری رہا۔ ہر جگہ لوٹنے والے اور لوٹے جانے والے ظلم کرنے والے اور ظلم سہنے والے طبقات موجود رہے۔ یہ طبقاتی کشمکش ہمیشہ جاری رہی ہے۔ یہی طبقاتی کشمکش ہی انسانی معاشرے کی تاریخ میں معاشروں کے تغیر و تبدل اور ان کے ارتقاء کا قانون رہی ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہ ثابت کرتی رہی کہ تاریخ بادشاہ مشاہیر اور عظیم لوگ بناتے ہیں ۔ ان لوگوں کا ایک کردار ضرور ہے لیکن یہ کردار انہیں طبقاتی کشمکش ہی عطا کرتی ہے۔ یہ لوگ حالات کی پیداوار ہوتے ہیں اور تاریخ کی ضرورت ہوتے ہیں۔ معاشرتی ارتقاء کا محرک بھی طبقاتی کشمکش ہوتی ہے یہ کشمکش اشرافیہ اور نچلے طبقے کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی طبقوں کی کئی پرتیں ہوتی ہیں۔ جب کوئی معاشرہ بحرانی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے تو یہ طبقات اپنا کردار ادا کرتے ہیں جاگیر دار طاقت رکھتے ہیں اور نچلے طبقے پر غالب ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ سارے ادارے اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ اور غلبے کو مستحکم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ نچلے طبقے سے ہمیشہ ان کی چیقلش چلتی رہتی ہے۔ اشرافیہ کو زندگی کے سارے عیش میسر ہوتے ہیں۔ دنیا کے سبھی قوانین ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے وہ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتے ہیں۔ نچلے طبقات پر حاوی ہوتے ہیں جس طرح چاہیں ان کو لوٹتے رہتے ہیں۔ اور ان سے کام لیتے ہیں۔
یہ اشرافیہ کسی بھی سماجی انقلاب کے سخت خلاف ہوتی ہے کبھی بھی حالات نہیں بدلنے دیتے۔ سماجی اور معاشرتی انقلاب کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیتے ہیں۔ ہر اس قلم کو توڑ دیتے ہیں جو نچلے طبقے کے انقلاب کے لیے لکھتا ہو ۔ یہ اپنی مرضی کے مطابق حکومت کرتے ہیں اور محنت کش کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ہر لحاظ سے اور ہر سطح پر استحصال کرتے ہیں۔ ان تمام نظریات کے خلاف ہیں جو ان کے مفادات اور اقتدار کے لیے خطرہ ہو۔ یہ استحصالی نظام اور لوٹ مار کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ نچلے طبقے کو سہولیات اور زندگی کی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ان سے جانوروں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ آقا اپنے غلام کو پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے۔ ان غلاموں کو گھر نصیب نہیں ہوتے اور ان کے بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں اسد محمد خان ان حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اپنے کرداروں کے ذریعے معاشرتی جبر کی سچی تصویریں پیش کرتے ہیں۔رفیق اور الی گجر جیسے کردار ان تمام حالات کو سامنے لاتے ہیں۔ اگر غریب کے بچے بیمار ہو جائیں تو وہ علاج نہیں کروا سکتے۔ ان کو اپنی محنت سے پیدا کردہ پیداوار سے اتنا حصہ نہیں ملتا کہ وہ زندہ رہ سکیں۔ اس اس ظالمانہ اور استحصالی نظام کو بدلنا چاہتے ہیں۔ اسد نچلے طبقے میں اپنے حقوق کے لیے سماجی شعور بیدار کرتے ہیں اور ان کی زندگیوں میں انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اشرافیہ ان کو سماجی شعور اور انقلاب کی سائنس سے بے بہرہ رکھتی ہے۔
اشرافیہ ان کو ہمیشہ ظلم کی چکی میں پستا دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اپنا فائدہ حاصل کرتی ہے۔ کسان اور مزدور اس وقت تک ظلم اور جبر سے چھٹکارا حاسل نہیں کر سکتے جب تک ان کی محنت کا استحصال ختم نہیں ہوتا اور جب تک وہ ان ظالم جاگیرداروں سے اپنا ناطہ نہیں توڑتے۔ نچلے طبقے کو ہمیشہ رذیل، گھٹیا اور جاہل سمجھا جاتا ہے ان سے ملنا ملانا کم رکھا جاتا ہے۔ اسد خواہش رکھتے ہیں کہ استحصال زدہ طبقات سے میل ملاپ بڑھایا جائے ان کے ساتھ دوستیاں اور رشتہ داریاں قائم کی جائیں تاکہ ان کے احساس کمتری کو کم کرکے ان کو ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جا سکے۔ اشرافیہ نے غریب کو لوٹ کر تاراج کردیا ہے سارا مال اپنے خزانوں میں بھر لیا ہے دوسری طرف عورتوں کا استحصال ہو رہا ہے اگر کوئی لڑکی طوائف کے گھر پیدا ہوئی ہے تو معاشرہ اسے طوائف ہی بناتا ہے۔ گر ہتن بننے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ معاشرے میں اس کی کوئی عزت اور وقار نہیں ہوتا ہمیشہ لاولد ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔ بد نامی کے داغ کو مدہم نہیں پڑنے دیا جاتا۔ ایسی عورتوں پر زندگی کے تمام دروازے بندکر دیئے جاتے ہیں اور زندگی کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ہر طرح کے استحصال کو ان عورتوں کا مقدر بنادیا گیا ہے۔ جو مرد اس عورت کا استحصال کر رہا ہے اسے پاک دامن قرار دیا جاتا ہے یہاں بھی مرد وعورت کی برتری اور طبقاتی چپقلش جاری ہے اسد ان عورتوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
کمی کی اولاد کو کمی ہی سمجھا جاتا ہے چاہے وہ کتنی ذہن فطین ہو جائے کتنی اعلیٰ ڈگریاں رکھتی ہو ان کو سڑکوں پر رلنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کی جگہ جعلی ڈگریوں اور کم میرٹ والوں کو اونچی اونچی کرسیوں پر فائز کردیا جاتا ہے۔ اور کمی کی اولاد کو ہمیشہ چوہدھری کی چوکھٹ پر باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ غریب کے بچوں کی آگے نکلنے اورکامیابی اور ترقی کی تمام راہیں بند کر دی جاتی ہیں۔ ہر جگہ رشوت، سفارش اور اقربا پروری کی روش قائم ہے۔ میرٹ والے غریب منہ دیکھے رہ جاتے ہیں اور سفارشی میدان مار لیتے ہیں۔ کرپشن، رشوت اور سفارش ہمارے معاشرے کے لیے ناسور بن چکی ہیں اور طبقاتی چپقلش بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ غریب لوگوں نے کتنے سنگ میل عبور کیے اور کتنے عبور کریں گے۔ استحصال زدہ طبقات کی ترقی اسی وقت تک ممکن نہیں جب تک ان تمام برائیوں سے نجات حاصل نہ کی جائے۔
اسی طبقاتی تضاد کی وجہ سے افراتفری اور نفسا نفسی کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔ نوجوان نسل اپنے ماحول سے مطمئن نہیں ہے ان کے اندر اونچ نیچ کے فرق اور تضاد کے خلاف بغاوت کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا ہے۔ اسد ان تمام پرانی اقدار سے ہٹ کر چلنے کی دعوت دیتے ہیں۔ سعد اللہ سیتھی اور سیکئی صاحب جیسے کرداروں کے ذریعے اپنے گردو پیش میں موجود طبقاتی تضاد کی تصوریں کھینچتے ہیں۔ موجود عہد کی تیز رفتاری نے بھی ذات پات کے اختلاف پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اعلیٰ ذات کے لوگوں نے اپنے محلے الگ کر لیے ہیں۔ کمیوں اور غریبوں کی جھگیاں الگ کر دی گئی ہیں۔ بڑے گھروں کی بیٹیوں کو محلوں اور حویلیوں کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ غریب کی بیٹیوں کو سڑکوں پر چھوڑ کر ظالم درندوں کی خوراک بنا دیا گیا ہے۔ اسد محمد خان اسلامی معاشرے کو اپنانے اور مساوات پر عمل پیرا ہونے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ تاکہ تمام لوگ مل جل کر رہیں اور تمام معاملات بھی عدل و انصاف کو مد نظر رکھ کر حل کیے جائیں۔ اسد اپنے کرداروں کے ذریعے موجود عہد کی صورت حال دکھاتے ہیں جہاں تمام کام، عدالتی فیصلے اور شادیاں بھی ذات پات کو مد نظر رکھ کر کیے جاتے ہیں انہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے ذات پات اور رنگ و نسل کے فرق کی نشاندہی کرکے ان پر گہری چوٹ کی ہے۔
ہمارے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے کیونکہ انہی ناہمواریوں کی وجہ سے علم بغاوت بلند ہونے لگتا ہے۔ غریبوں کو روٹی تو دور کی بات پینے کے لیے صاف پانی بھی میسر نہیں ہوتا وہ سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں۔ محنت کش اور مڈل کلاس طبقہ کسی بڑے انقلاب کے آرزو مند ہیں۔ ایسے لوگ جب تنگ ہو تے ہیں اور حالات ان کی برداشت سے باہر ہو جاتے ہیں تو وہ بغاوت پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں جلد یا بددیر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ غذا، صحت کسی بھی چیز تک ان کی رسائی نہیں ہوتی تو وہ بے را روی کا شکار ہو کر غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
بہت سی اخلاقی اقدار مفادات کے تحفظ کے لیے رائج کی گئی ہیں۔ وفاداری کی اقدار رائج کرنے کے لیے نوابوں جاگیرداروں نے رعایا کو اپنے استحصالی نظام میں جکڑ رکھا ہے اگر یہ معیشت کے نظام کو نئے خطوط پر استوار کیا جائے تو بہت سی اقدار دم توڑ دیں گی اور استحصالی نظام ختم ہو جائے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام ایک استحصالی نظام ہے اور اسد محمد خان اس نظام کو ہر حال میں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام ایک وحشی نظام ہے جو انسانیت کے لیےتباہ کن ہے۔ تقریباً ننانوے فی صد لوگ اس سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسی نظام کی وجہ سے غریب جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پرمجبور ہیں اسی نظام نے خلوص اور انیست کو ختم کرکے عوام کو طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔
غریب طبقات بھوک، بے روز گاری میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اشرافیہ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ غریب کے بچوں کو پینے کے لیے پانی بھی ملاہے کہ نہیں بھوک تو دور کی بات پیاسے سوگئے ہیں۔ اشرافیہ میں احساس ختم ہو چکا ہے کیونکہ انہیں لوٹ مار کے لیے مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔
غریب طبقہ پانی کے قطرے قطرے کے لیے ترس رہا ہے اس کے پاس تن ڈھانپنے کے لیے کچھ نہیں نہ رہنے کی محفوظ جگہ ہے۔ اناج غریب طبقے کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے غریب طبقے کو اپنی موت کے واضح اثرات نظر آرہے ہں۔ ان تمام خرابیوں کی بنیاد اشرافیہ ہے۔
اسد ہمیشہ ایک عام آدمی کی طرح سوچتے ہیں۔ وہ محنت کش طبقے کی زندگی میں انقلاب کے آرزو مند رہے۔ اسی وجہ سے وہ سماج کے ہر اس پہلو سے قلم کے ذریعے لڑنے کو تیار ہیں جس میں آمریت کا رنگ جھلکتا ہو۔ وہ سماج کی محکوم عوام کو اعلیٰ طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان تمام مسائل کی ایک وجہ مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید بھی ہے۔ نئی نسل بڑی تیزی سے مغربی تہذیب میں مدغم ہو رہی ہے۔ ان کو سماج کے دبے اور کچلے ہوئے طبقے سے بے پناہ محبت اور ہمدردی تھی۔ انہوں نے طوائف کو پیش کرکے یہ طوائف کی قدر و منزلت کو واضح کیا ہے۔ طوائف محض عیش کاسامان نہیں ہے بلکہ یہ ہماری تہذیب و ثقافت کی پاسداری بھی کرتی ہے۔ انہوں نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اور طبقات کا احاطہ اس طرح کیا ہے منظر نامہ قاری کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ انسانی سماج پر ان کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے عورتوں کے استحصال پر قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے انسانوں کی آزادی پر زور دیا اور یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی انسان کمتر نہیں ہے۔ ابراہیم ذوق کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔
؎ فکر قناعت ان کو میسر ہوئی کہاں
دنیا سے دل لے کے جو حرص و ہوا چلے
معاشرہ ذات، برادریوں کے تعصب میں بٹا ہوا ہے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور اخلاقی خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ استحصالی نظام کی پیداوار ہے ۔ جب لوگوں کو حقوق نہیں ملتے وہ انصاف کے حصول سے مایوس ہو جاتے ہیں تو ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں اور عصبیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ تب قبائل اور برادریاں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ معاشرتی انصاف کے ذریعے تاریخی اور تہذیبی روایات کے اندر یک جہتی کی روح پھونکی جا سکتی ہے۔
[[1]] ڈاکٹر سلیم اختر، اردو افسانہ حقیقت سے علامت تک، آلہ آباد: تاج آفسٹ پریس، 1980ء، ص 137
[[2]] اسد محمد خان، کھڑکی بھر آسمان، لاہور: القا پبلیکیشنز، 2015ء، ص20
[[3]] اسد محمد خان، کھڑکی بھر آسمان، ص27
[[4]] اسد محمد خان، برج خموشاں، لاہور:القا پبلیکیشنز،2015ء،ص7
[[5]] اسد محمد خان، برج خموشاں، ص37
[[6]] اسد محمد خان، ایک ٹکڑا دھوپ کا، لاہور:القا پبلیکیشنز،2017ء، ص46
[[7]] اسد محمد خان، ایک ٹکڑا دھوپ کا،ص30
[[8]] اسد محمد خان، ایک ٹکڑا دھوپ کا،ص63
[[9]] اسد محمد خان، ایک ٹکڑا دھوپ کا،ص10
[[10]] اسد محمد خان، ایک ٹکڑا دھوپ کا،ص58
[[11]] اسد محمد خان، نربدا، لاہور:القا پبلیکیشنز،2015ء، ص 28
[[12]] اسد محمد خان، نربدا،ص34
[[13]] اسد محمد خان، نربدا،ص35
[[14]] اسد محمد خان، نربدا،ص97
[[15]] اسد محمد خان، نربدا،ص107
[[16]] سہیل ممتاز خان، بازیافت ، شمارہ 31 جولائی تا دسمبر 2017ء، مشمولہ مضمون، اسد محمد خان کے فکری دوائر ۔۔ایک تحقیقی مباحثہ، لاہور: اورینٹیل کالج پنجاب یونیورسٹی، 2017، ص285
[[17]] عبدالعزیز ملک، اردو افسانے میں جادوئی حقیقت نگاری، فیصل آباد: مثال پبلشر، 2014ء، ص 194
Zakia shameem m.phill universty of sargodha
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

