میں اکثر سوچتا تھا کہ نوٹا کا آپشن کیوں… جنہیں ووٹ نہیں کرنا ہے وہ بوتھ پر جاکر لائن لگانے کی صعوبتیں کیوں جھیلے.. وہ سرے سے بوتھ پر جاۓ ہی نہیں…. میری اس غلط سوچ کو میرے ایک جرنلسٹ دوست نے سدھاری اور اسکے بہت سارے فائدے گنوائے سب سے اہم اور کارآمد بات یہ بتائی کہ اگر ٹوٹل ووٹر کا بیس فیصد ووٹ نوٹا میں پڑ گیا تو الیکشن باطل قرار پائے گا… اور پارٹیوں کو اپنا امیدوار بدلنا ہوگا… اس پوائنٹ نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا….
جب سے کارپوریشن الیکشن میں امیدواروں کے نام کااعلان ہوا تھا میرے وارڈ کے لوگوں میں خاص کر اقلیتی طبقے میں بڑی بے چینی اور ناراضگی تھی کیونکہ جسے امیدوار بنایا گیا تھا وہ اس وارڈ کی رہنے والی نہیں تھی اور نہ عوام میں مقبول تھی.. پھر بھی اسے امیدوار بنانا…. سبھوں کے لیے حیرت کا باعث تھا…..مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا سابق حکومت جب عروج پر تھی تو انکے ایک معتبر نیتا نے گھمنڈ اور غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا "ہم اگر اپنی پارٹی سے ایک کتے کو بھی الیکشن میں کھڑا کر دیں تو بھی تم انہیں ووٹ دینے پر مجبور ہو… اس وقت یہ بات ہم اقلیتوں کو بری لگی تھی اور ہم نے انکے امیدوار کو دھول چٹا دیا تھا” اسی قسم کے حالات آج پھر ہمیں منھ چڑھا رہے تھے
مائک پر اعلان ہو رہا تھا ہمارے علاقے میں ایک بڑی میٹنگ رکھی گئی، تھی… میں نے اپنے جرنلسٹ دوست سے رابطہ کیا جو ایمانداری اور بیباکی کے لیے اپنا ایک الگ مقام رکھتا تھا.. اس نے میٹنگ میں شریک ہونے کا وعدہ کیا…. میں بھی اپنے ضروی کام نپٹا کر وقت مقررہ پر میٹنگ میں شریک ہوا….. لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھے اپنے نیتاؤں کے آنے کا انتظار کر رہے تھے کچھ چُھٹ بَھین قسم کے لوگ.. نیتا بننے کے لیے مائک پر زور آزمائی کر رہے تھے….. اتنے میں ایک کار آکر رکی اور نئ نویلی امیدوار جلوہ افروز ہوئیں…. کچھ مفاد پرستوں نے زندہ باد کے نعرے لگائے جس میں جوش بالکل بھی نہیں تھا…… لمبے القابات سے نوازتے ہوئے امیدوار کو مائک پر آنے کی دعوت دی گئی…. سلام نمستے کر کے امیدوار نے اپنی تقریر شروع کی اور دیر تک حکومت کے مراعات گنواتی رہیں اور اس وارڈ کو پہلے سے بہتر بنانے کا بھی وعدہ کیا اور پھر اخبار کے نمائندوں کو سوالات پوچھنے کی اجازت دی…. اور مجھے اسی وقت کا انتظار تھا میں نے اپنے جرنلسٹ دوست کی طرف ایک نظر ڈالی … اس نے مجھے پرسکون رہنے کا اشارہ کیا اور ہاتھ اٹھا کر سوال کرنے کی خواہش ظاہر کی جسے امیدوار نے اجازت دے دی…. میرے دوست نے پہلے انہیں امیدوار بناۓ جانے کی مبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا…. اور مودبانہ لہجے میں کہا….. میڈم آپ نے حکومت کی جانب سے دیئے گئے مراعات کی ایک لمبی لسٹ گنوائی جو کم و بیش ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں…. لیکن بہت سارے لوگ آپ سے ناواقف ہیں آپ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے میں چاہتا ہوں آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں… اس کے بعد میں کچھ سوالات کروں گا
امیدوار نے اپنا گلا صاف کیا اور بتایا
” آج سے چند سال قبل ہی میں نے پارٹی جوائن کی ہوں پھر مجھے مہیلا سیل کا پریسیڈنٹ بنایا گیا تب سے اب تک میں ایمانداری سے کام کر رہی ہوں اور میرے کام کو دیکھ کر ہی شاید مجھے امیدوار بنایا گیا”
"میڈم ترویدی جی نے جو آپکے پارٹی کے اہم کارکن تھے اور کئی شعبوں کی ذمہ داری بھی انکو دی گئی تھی انہوں نے اس پارٹی کا جھنڈا آپ کو پکڑایا تھا وہی آپکے گاڈ فادر بھی ہیں…
"جی بالکل صحیح کہا آپ نے” اس نے حامی بھری
"ترویدی جی نے تو پالا بدل لیا اور آر ایس ایس کے حامی پارٹی کی گود میں بیٹھ گئے آپ نے ایسا کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا آخر وہ آپکے گرو تھے؟؟؟”
امیدوار نے اپنا اعتماد بہال کیا اور ایک لمبی سانس لیکر گویا ہوئی "دیکھیۓ یہ اپنے اپنے سوچ کی بات ہے گرو مانا ہے تو ضروری نہیں کی انکی سوچ کو بھی اپنا لوں”
میڈم معذرت چاہتا ہوں بس دو سوال اور”
"پوچھئے میں جواب دینے کی پوری کوشش کروں گی ”
"شکریہ میڈم جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ترویدی کیمپ کے سارے لوگوں کو اس بار ٹکٹ نہیں دیا گیا آپ بھی تو انہیں کی کیمپ کی تھیں آپ کو کیسے ٹکٹ مل گیا….؟؟؟”
"اب اس بارے میں میں کیا بتا سکتی ہوں یہ تو اعلیٰ کمان ہی جانیں میں تو بس اتناجانتی ہوں انہوں نے مجھے موقع دیا ہے مجھ پر وشواس کیا میں انہیں نراش نہیں کروں گی” "ہچکچاتےہوۓ انہوں نے اپنی بات مکمل کی
” لیکن میڈم سننے میں آرہا ہے کہ ایک کول مافیا نے ٹکٹ دلانے میں آپ کو فائنانس کیاہے جو آپ کو بہت پسند کرتے ہیں ان سے آپ کے بڑے گہرے تعلقات ہیں میرا مطلب ہے سمبھند ہیں ”
بکواس ہے…. جھوٹ ہے…. اپوزیشن والوں کی پھیلائی ہوئی افواہ ہے…. ہار کے ڈر سے الٹے سیدھے آروپ لگا رہے ہیں افواہیں پھیلا رہے ہیں … اس کا جواب عوام اپنے ووٹ سے مجھے جیتا کر دیگی ”
تالیاں بجتی ہیں پَر جوش کی کمی کا احساس ہوتا ہے
"بس ایک آخری سوال آپ کئی سالوں سے بجرنگ دل جو کے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جنکا کام مسلمانوں کو ڈرانا دھمکانا اور مآب لینچنگ کا سہارا لے کر مسلمانوں کو بڑی بےدردی اور بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارنا ہے… دہشت پھیلانا ہے…. اسکی مہیلا شاخ "دُرگا واہنی” کی ایکٹو ممبر ہیں اور ایک سیکولر پارٹی جوائن کرنے کے بعد بھی اب تک تک دُرگا واہنی جیسی دہشت گرد تنظیم سے جڑی ہوئی ہیں.. آپ نے اس تنظیم سےاستعفیٰ کیوں نہیں دیا ہے؟؟… اقلیتوں میں اسی وجہ سے بڑی ناراضگی دیکھی جارہی ہے… اسکے بارے میں آپ کیا کہیں گی "…… وہ تھوک پر تھوک گھونٹے جارہی تھی….لمبی خاموشی کے بعد….. سامعین سے کسی نے آواز لگائی….”چپ کیوں ہیں میڈم جواب دیجئے ”
پھر دوسرا پھر تیسرا آوازیں بلند ہوتی چلی گئیں…..لوگوں کی غیرت جاگ چکی تھیں…. اتنے میں دور سے ایک آواز آئی” نوٹا زندہ باد… نوٹا زندہ باد…. نوٹا زندہ باد” اور دھیرے دھیرے کرسیاں خالی ہونے لگیں.
قمر جاوید رانی گنج
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

