بس میں سفر کرتے ہوئے جمشید کو بہت غصہ آیا جب وہ ڈرائیور کے قریب سیٹ پر بیٹھا تھا اور ڈرائیور نے سیگریٹ سلگایا ۔ سیگریٹ کا دھواں جمشید کے منہ اور آنکھوں میں سیدھے چلا جاتا تھا جس سے وہ بہت پریشان لگ رہا تھا ۔۔۔
جمشید ۔۔۔ کیا آپ کو قانون کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے ۔ مسافر گاڈی میں سیگریٹ پینا قانونا” جرم ہے ۔ جب گاڑی کا ڈرائیور ہی سیگریٹ کا ایسا استعمال کرے تو باقی مسافروں کو کس طرح اس فعل سے منع کیا جائے ۔ سیگریٹ کا دھواں صحت کے لئے کتنا مضر ہے اس بات کا تمہیں بالکل بھی احساس نہیں ہے ۔ مجھے ڑاکٹروں نے دو سال پہلے سیگریٹ پینا اور دھوئیں میں بیٹھنا منع کیا ہے۔۔۔۔۔
چار روز بعد ہی جمشید کو کسی کام کے لئے شہر جانا پڑا ۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند کی وجہ سے سڑکوں پر مکمل طور غائب تھا ۔ آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد ہی ایک ماروتی کار گاڑی اس کے سامنے رکی ۔ محکمہ صحت کا ایک ملازم تھا جس نے جمشید کو لفٹ دیا ۔ گاڑی میں چڑھنے کے بعد ہی ملازم نے سیگریٹ سلگانا چاہا لیکن پہلے جمشید سے پوچھا۔۔۔
محترم ! میرے سیگریٹ سلگانے اور پینے سے آپ کو کوئی پریشانی تو مت ہوگی ۔ میری عادت ہے کہ جب بھی میں گاڑی چلاتا ہوں تو گھر پہنچنے تک ایک سیگریٹ پی لیتا ہوں ۔۔۔۔۔
جمشید ۔۔۔۔۔ نہیں جناب ۔ مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔ آپ اچھی طرح سیگریٹ سلگا بھی اور پی بھی سکتے ہیں ۔ آپ کے سیگریٹ پینے سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔۔۔۔۔
رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ کشمیر
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

