آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں چھڑتے ہی ساز بزم میں کوئی…
غزل
-
-
زمیں سے آسماں تک کوئی استعارہ نہیں کسی کے ہم نہیں ہیں اور کوئی ہمارا نہیں بھنور بدن سےکچھ اس طرح ہم…
-
میرا جذبہ اس کو جوانی دیتا ہے ساکت دریا ہو تو روانی دیتا ہے اس کو ایسی فکر مری ہے پوچھو نا…
-
حوصلہ پست ہے کدھر جائیں ” اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں ” تو ہماری رہ پر نظر رکھنا رہ گزر پر…
-
تمہاری آنکھ تو بس ایک استعارہ ہے حقیقتاً یہ مرے بخت کا ستارا ہے اٹھی یہیں سے کوئی موج خود شناسی…
-
تیرے جیسا بدل نہیں سکتا ساتھ تیرے میں چل نہیں سکتا میری آنکھوں میں اب بھی پانی ہے گھر ترا یار جل …
-
بس ایک سوچ پہ آکر مرا گماں ٹھہرے بتاؤ کوئی بشر ہے جو جاوداں ٹھہرے اذیتوں کے بچھے سنگ ہر قدم…
-
دنیا میں اس طرح سے کچھ الجھے ہوئے ہیں سب عقبیٰ کو اک فسانہ ہی سمجھے ہوئے ہیں سب اپنے سوا کسی…
-
مہرباں ہوکے وہ ملا ہے آج دل مگر اور بھی دُکھا ہے آج تھم گئی ہے جو کائنات کی نبض کون…
-
نہ پوچھ ڈھونڈ لی راہ فرار کاہے کو لگائیں داؤ پہ اپنا وقار کاہے کو فریب دیتے رہے ہیں ہمیشہ لوگ جسے…

