تمہاری آنکھ تو بس ایک استعارہ ہے
حقیقتاً یہ مرے بخت کا ستارا ہے
اٹھی یہیں سے کوئی موج خود شناسی کی
تمہارا غم بھی ہمیں اس لئے گوارا ہے
تمہاری قید سے ہم تونکل بھی جائیں مگر
ہمیں ہے علم کہ آنا یہاں دوبارہ ہے
یہ آرہی ہے صدائے جرس کہیں سے تو
کسے خبر ہے یہ کس کوچ کا اشارہ ہے
میں ناپ آؤں ذرا وسعتیں تو دریا کی
مرے جنوں کے لئے کم بہت کنارہ ہے
ندیم عشق میں آیا نہ وہ مقام کہ ہم
وفورِ شوق میں کہہ دیں کہ وہ ہمارا ہے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

