یاد میں تیری کھوکر ہم کیا ہوجاتے ہیں محفل میں بھی اکثر تنہا ہوجاتے ہیں ہم تو اپنے قد کے برابر بھی…
غزل
-
-
جو تھی تجھ کو مجھے دے گئی چاہئے پھر وہی رات نعمت بھری چاہئے اس کے چہرے کی تابندگی چاہئے ہے اندھیرا…
-
حریمِ دل کہ مقدس ہے ماورائے جنوں اسی کے فیض سے روشن ہے یہ فضائے جنوں خدا کے واسطے عقل و…
-
وہ پری رو اس قدر شعلہ فشاں ہے بزم میں دل نہیں، خود آتشِ طاقِ فروزاں جل گیا ہائے! ہم جلتے…
-
لہو میں وہ روانی اب کہاں ہے تمہاری وہ جوانی اب کہاں ہے درونی آگ ٹھنڈی ہو چکی ہے جو تھی…
-
متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی ترے آزاد بندوں کی نہ…
-
ہوگئی رات اب تو جاۓ گی بےقراری مری سو جاۓ گی ایک مدت سے جو رہی نفرت بیج اب پیار کا بو…
-
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی سپرد کر کے اسے چاندنی…
-
وہ شہرِ دل جو کبھی تھا بسا بسایا ہوا اُجڑ کے لگتا ہے بالکل لُٹا لُٹایا ہوا کہا یہ سن کے مری…
-
وہ پاس تھا تو لگا درد میں افاقہ ہے نظر سے دور ہوا تب کھلا اضافہ ہے یہ درد، درد نہیں دوست…

