یاد میں تیری کھوکر ہم کیا ہوجاتے ہیں
محفل میں بھی اکثر تنہا ہوجاتے ہیں
ہم تو اپنے قد کے برابر بھی نہ ہوئے
لوگ نہ جانے کیسے خدا ہوجاتے ہیں
راس نہ آئے اپنا ملنا جلنا اگر
چلیے تو ہم پھر سے جدا ہوجاتے ہیں
سنتا نہیں گر اپنی کوئی دنیا میں
اک نادار کی ہم بھی صدا ہوجاتے ہیں
غاروں میں چھپ چھپ کر رہنے والے لوگ
خود کو مٹا کر کیسے فنا ہو جاتے ہیں
ماں کی دعاؤں کے بدلے ہی ائے رضوان
دنیا میں ہم کیا سے کیا ہو جاتے ہیں
نوٹ – شاعر کا مختصر تعارف خان محمد رضوان

