جب پڑاوقت گلستاں پہ توخوں ہم نے دیا
جب بہارآئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں
ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانِ مجاہدین کا اہم کردار رہا ہے ۔اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں تو معلوم ہوتا ہے ۔ملک ہندوستان کو آزادی مسلم مجاہدین کے سبب ہی میسر ہوئی ہے ۔لیکن
"دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں۔ ”
ہندوستان میں انگریزوں نے اپنے اقتدار کوقائم رکھنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلیں، تدبیریں کیں، رشوتیں دیں، لالچ دیئے، "پھوٹ ڈالوں اور حکومت کرو کے اصول کو بڑے پیمانے پر عملی جامہ پہنانے میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔اور ہندوستانیوں نے بھی اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے کمان سنبھالی اور ملک ہندوستان کا بہ شعور طبقہ عوام کے ساتھ مل کر اپنی جہد مسلسل کے سبب آزادی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ۔ جن حضرات و خواتین نے آزادی حاصل کرنے میں اپنی جان کی بازی لگا دی جس سبب ہم آج آزاد ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں ۔آج ہمیں جن مسلیم مجاہدین کے سبب آزادی حاصل ہوئی ہمیں ان کے نام تک یاد نہیں ۔ بس آزادی حاصل کرنے والوں میں کچھ "گرم دل” "نرم دل” اور گاندھی جی ,ابوالکلام آزاد ,وغیرہ کی قربانیوں کو ہی یاد کرکے ہی آزادی حاصل کرنے والوں کی فہرست تیار کر لیتے ہیں ۔ جنگ آزادی کی تاریخ جن مظلوموں کے خون سے لکھی گئی ہے ۔ان میں مسلمانوں کا بھی بہت اہم کردار رہا ہے ۔ہمیں اوپری کنگورا دیکھائی دیتا ہے ۔بنیاد پر نظر نہیں جاتی ہے ۔ ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کاحصہ قدرتی طورپربہت ممتازونمایاں رہا ہے۔ ہندوستان کوطویل جدوجہدکے بعدآزادی کی جو نعمت حاصل ہوئی، جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کانذرانہ پیش کیاہے ۔
بہادرشاہ ظفر،بیگم محل،نواب مظفرالدولہ،امام بخش صہبائی، مولانابرکت الله بھوپالی، مولاناحسرت موہانی، مولاناحبیب الرحمن لدھیانوی،ڈاکٹرسیف الدین کچلو، رام پرشاد بسمل , مولانا مظہرالحق،ڈاکٹرسیدمحمودوغیرہ نے جنگ آزادی میں بھرپورحصہ لیا۔ مگراُن اہم لیڈروں اوران اہم واقعات کے بغیرپوری تاریخ ادھوری اورحقیقت سے کوسوں دورہے۔جس میں ہم گمنام مجاہدین کا ذکر نہ کریں ۔ (یہ بھی پڑھیں ماں کا حق- محمودہ قریشی )
مذکورہ بالا شخصیتوں کے علاوہ انگریزوں سے باقاعدہ منظم جنگ نواب سراج الدولہ کے ناناعلی وردی خان نے شروع کی ۔وہی مسلم مجاہدین میں دکن کےحیدرعلی(م1782ء) اوران کے صاحبزادہ ٹیپوسلطان کے ذکر کے بغیر بھی جنگ آزادی کی تاریخ ادھوری ہے ۔ مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمه الله ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔
”سب سے پہلاشخص جس کواس خطرہ کااحساس ہواوہ میسور کابلندہمت اورغیور فرمانروا فتح علی خان ٹیپوسلطان ( 1799)تھا، جس نے اپنی بالغ نظری اورغیرمعمولی ذہانت سے یہ بات محسوس کرلی کہ انگریزاسی طرح ایک ایک صوبہ اورایک ایک ریاست ہضم کرتے رہیں گے ۔اور اگرکوئی منظم طاقت ان کے مقابلہ پرنہ آئی توآخرکار پورا ملک ان کالقمہ تربن جائے گا؛ چنانچہ انھوں نے انگریزوں سے جنگ کافیصلہ کیااوراپنے پورے سازوسامان، وسائل اور فوجی تیاریوں کے ساتھ ان کے مقابلہ میں آگئے۔آزادی کی لڑائی میں ٹیپو سلطان کی شہادت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
انگریزوں کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کرنے میں علماء اکرام کی خدمات بھی قابل قدر رہی ہیں ۔علماء اکرام نے عوام میں سنت نبوی اور غلامی کو قبول نہ کرنے کے لئے بیداری کی لہر قائم کی ۔ 1857ء میں شاہ ولی الله اورشاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمه الله اورشاہ اسحاق محدث دہلوی رحمه الله اور انکے شاگردوں کی محنت بھی رہی ہے ، اور 1857 ء میں علماء کرام کی ایک جماعت تیارہو گئی تھی ۔جس نے اپنے طور پر آزادی کی لڑائی میں بھر پور حصہ لیا ۔جنگ آزادی میں علماء دیوبندکا بھی اہم کردار رہا ہے ۔ 1857ء میں شاملی ضلع مظفرنگرکے میدان میں علماء دیوبندنے انگریزوں سے باقاعدہ جنگ کی، جس کے امیرحاجی امدالله مہاجرمکی رحمه الله مقررہوئے۔اور اس کی قیادت مولانارشیداحمدگنگوہی نے کی تھی ۔ 1884ء میں انڈین نیشنل کانگرس کاپہلااجلاس منعقدہوا،جس میں بعض ممتازاہل علم واہل فکرمسلمان بھی شریک تھے،اور اس کا قیام 1885 ء میں عمل میں آیا۔اس کے بانیوں میں مسلمان بھی شامل تھے، جن کے نام بدرالدین طیب جی اوررحمت الله سیانی تھے،کانگرس کا چوتھااجلاس 1887ء میں مدراس میں ہوا،جس کی صدارت بدرالدین طیب جی نے کی ۔
1919 ء میں جلیاں والاباغ کی خونی واردات ہوئی ۔جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے، اور جنرل ڈائیر نے جس خونی واردات کو انجام دیا۔ جس کی نشانات آج بھی باقی ہیں ۔وہاں پر لاکھوں افراد مسلمان بھی ہلاک ہوئے جن میں عبدالغنی ,حشمت اللہ خاں , محمد دین عبدالکریم ,میر بخش , محمد شفیع صاحب ,شیر علی شیر کا نام قابل ذکر ہے ۔دراصل یہیں سے تحریک آزادی کو ہوا ملی اس وردات سے ہندوستانیوں میں آزادی کے لئے خود کو پورے طور سے جنگ آزادی میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ,اور مسلمانوں نے ‘ تحریکِ خلافت’ کی بنیاد رکھی ،جس کے بانی مولانامحمدعلی جوہر تھے ۔مولانامحمدعلی جوہر ومولانا ,شوکت علی اورمسلم رہنماوٴں کے ساتھ مل کر ملک کا دورہ کیا،اس طرح تحریک نے عوام اورمسلم علماء کوایک پلیٹ فارم پرکھڑاکردیا،جن میں شیخ الہند مولانامحمودحسن دیوبندی رحمه الله ،مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمه الله ، مولاناآزادسبحانی،مولاناثناء الله امرتسری رحمه الله ، مفتی کفایت الله دہلوی رحمه الله ، مولاناسیدمحمدفاخر،مولانا سید سلیمان ندوی رحمه الله ، مولانااحمدسعیددہلوی وغیرہ شریک تھے ۔
1920ء میں گاندھی جی اورمولاناابوالکلام آزادنے غیرملکی مال کے بائیکاٹ اورنان کوآپریشن(ترک موالات)کی کارگرہتھیار کا اعلان کیا ۔جواس جنگ آزادی میں انگریزی حکومت کو اُکھاڑنے میں کارگر ثابت ہوا ۔اس کے علاوہ 1921ء میں ،1922ء میں چوراچوری اور پولیس فائرنگ میں, 1930ء میں ونمک آندولن، 1942ء میں ہندوستان چھوڑوتحریک اور 1946ء میں ممبئی میں بحری بیڑے کی بغاوت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پرپولیس فائرنگ کے دوران ہزاروں مسلمان شہیدہوئے۔انگریزوں کی قیدوبندکے مصائب جھیلے اورانکی گولیوں کانشانہ بننے والوں کی تعدادتو شمار سے باہرہے۔ ( یہ بھی پڑھیں قیمت – محمودہ قریشی )
ان کے علاوہ بھی ایک بڑی تعداد کاذکرتاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے؛جس کی یاد دلوں میں تازہ اورتاریخ کی نئی کتابوں میں محفوظ رہنی چاہیے؛ غرض ہرطرح ہرموقع پرمسلمان جنگِ آزادی میں برابرشریک رہے ہیں، جن کوآج فراموش کیاجارہاہے،۔اس چھوٹے سے مضمون میں ان سب کا ذکر کرنا یقیناً ناممکن ہے ۔
جاری ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

