وہ شہرِ دل جو کبھی تھا بسا بسایا ہوا
اُجڑ کے لگتا ہے بالکل لُٹا لُٹایا ہوا
کہا یہ سن کے مری داستان لیلیٰ نے
مجھے تو لگتا ہے قصہ سنا سنایا ہوا
امیرِ شہر کی ہمدردیاں ملیں گی اسے
وہی جو بولے گا جملہ رٹا رٹایا ہوا
تم اپنے شیلف کی بوسیدہ ڈائری کھولو
ہمارا نام ملے گا مٹا مٹایا ہوا
سنا رہا ہے سنو داستانِ ظلم و ستم
ہماری بستی کا ہر گھر جلا جلایا ہوا
امیر لوگ غریبوں کو پالتے ہیں صباؔ
کھلا کھلا کے نوالہ چبا چبایا ہوا

