وہ پاس تھا تو لگا درد میں افاقہ ہے
نظر سے دور ہوا تب کھلا اضافہ ہے
یہ درد، درد نہیں دوست کی امانت ہے
مزید جو بھی ہے وہ درد کے علاوہ ہے
کیا ہے تم نے جو احسان کیسے بھولیں گے
دیا ہے زخم جو تم نے وہ اب بھی تازہ ہے
اگر نہ ہو تو سیاہی نظر کو ڈستی ہے
یہ چاندنی نہیں رخسار شب کا غازہ ہے
تم اس کا حال نہ پوچھو عجیب خلقت ہے
خود اپنے دوش پہ اپنا لئے جنازہ ہے
زاہد ندیم احسن

