بس ایک سوچ پہ آکر مرا گماں ٹھہرے
بتاؤ کوئی بشر ہے جو جاوداں ٹھہرے
اذیتوں کے بچھے سنگ ہر قدم ہیں یہاں
یہ راہِ عشق ہے اس میں نہ کہکشاں ٹھہرے
بہت کشادہ ہے دل میرا ٹھیک ہے لیکن
وہ میرے گھر پہ جو آئے تو پھر کہاں ٹھہرے
وہاں کیا ہے مجھے لا کھڑا مقدر نے
جہاں نگاہ میں میری فقط دھواں ٹھہرے
بھٹک رہے ہیں مسافر اندھیرے رستوں پر
عمارتوں میں اجالوں کے کارواں ٹھہرے
سجا کے رکھا ہمیں سب نے اپنی پلکوں پر
انس خودی کے سفر میں جہاں جہاں ٹھہرے
انس اعظمی
خاص بازار بلریا گنج اعظم گڑھ
موبائل نمبر. 9670969001


1 comment
👍