یہ اور بات ہے کہ ہمارا نہیں ہوا
اس شخص کے بغیر گزارہ نہیں ہوا
آنکھوں میں تیرے بعد کئی صورتیں بسیں
لیکن کسی سے عشق دوبارہ نہیں ہوا
کٹ جاتی گفتگو میں اسی سے تمام شب
افسوس تیری یاد کا تارا نہیں ہوا
اک غم کہ اس نے آج حدیں توڑ دیں تمام
اک دل کہ آج درد سے پارا نہیں ہوا
صورت کوئی سراب سی تھامے ہمیں رہی
بس دشتِ جاں میں اور سہارا نہیں ہوا
ہونے کو ہوگیا ہے ہمارا تو وہ ندیم
صد حیف ہے کہ سارے کا سارا نہیں ہوا
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

