رَنگ لائے گی ہماری اشکباری ایک دن
دید کی خیرات ہوگی ناگہانی ایک دن
عشق کی نیرنگیوں میں یہ نہیں معلوم تھا
ہم کو بھی سہنی پڑے گی بےقراری ایک دن
گرچہ روٹھا ہے، مگر مجھ سے اُسے نفرت نہیں
ہوگا پہلو میں مِرے، وُہ آفتابی ایک دن
پھول، شبنم، خوشبوئیں ہیں دیکھنے کی منتظر
گلستاں میں حسن کی صَد گل فشانی ایک دن
اپنی تقصیرات کا میں معترف تو ہوں، مگر
تجھ پہ ظاہر ہوگی میری بے گناہی ایک دن
اِس قدر فیاض ہونا بھی تمہیں اچھا نہیں
تم کو لے ڈوبے گی ایسی خیرخواہی ایک دن
بے زَباں کس نے کہا تجھ کو، کرے گا لازماً
محفلوں میں تو سخن کی ترجمانی ایک دن
کر عطا اس کو سخن کی آشنائی اے خدا!
تاکہ فاخر بھی کرے گوہر بیانی ایک دن
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

