میں اپنی بات حفیظ بنارسی کی ایک غزل کے تین شعر سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ ملاحظہ کیجیے:
یہ تمہاری زلفِ سیاہ تھی، مرا دوش تھا شبِ ماہ تھی
ابھی کل کی بات ہے سب مگر تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے کہیے مایۂ صد خوشی جسے کہیے حاصلِ زندگی
وہی ایک لمحۂ مختصر تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
تمہیں کل جو دل سے عزیز تھا وہ یہی تمہارا حفیظؔ تھا
مگر اب یہ شاعرِ دیدہ ور تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
حفیظ بنارسی کے فسوں ساز متون تک رسائی حاصل کرنے کے لیے میں نے یہ تین کلیدی اشعار بغیر کسی منصوبے کے منتخب کرلیے ہیں۔ بارہ اشعار کی اس غزل کا ماقبل متن ہمارے سامنے مومن کی مشہور غزل کی شکل میں موجود ہے۔ محبوب کو ماضی کی تلخ و شیریں یادیں یاد دلائی جارہی ہیں۔ ماضی کا ایک لمحۂ مختصر کس طرح عاشق کردار کے لیے مایۂ صد خوشی اور حاصل زندگی بن کر اب بھی تابندہ ہے۔ پہلے شعر میں عاشق اور معشوق دونوں کردار معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے متحرک ہوگئے ہیں۔ محبوب سے جو قرب حاصل تھا اب وہ جیسے ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ پھر مقطع میں ٹھیک مومن ہی کی طرح حفیظ بنارسی نے محبوب پر واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ماضی میں یہی حفیظ اُس کا عزیز تھا لیکن اب شبہ ہوتا ہے کہ یہ شاعر دیدہ ور اس کے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ بھی ہے۔ مومن نے خود کو ’’مومن مبتلا‘‘ کہہ کر ایک المناک فضا وضع کی تھی جب کہ حفیظ نے خود کو ’شاعر دیدہ ور‘ کہہ کر تعلّی اور اک ذرا خوددار ہونے کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔
اردو کلاسکی غزل کے دامن میں ہزارہا گوہر آبدار ملتے ہیں۔ ولی سے لے کر میر و مصحفی اور پھر غالب و مومن سے لے کر شاد، حسرت و جگر و فراق تک غزل کی بوقلمونی دیکھی جاسکتی ہے۔ حفیظ کی غزلیں اس غزلیہ روایت کی توسیع کہی جاسکتی ہیں۔ خالص کلاسکی رچاؤ میں حفیظ کی غزلیں پڑھنے اور سننے میں تقریباً برابر کا مزا دیتی ہیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی شاعر مشاعروں میں محض اپنے دل کش ترنم سے داد و تحسین کی ٹوکریاں سمیٹ لیتا ہے لیکن جب اس کے متن کو سامنے رکھ کر پورے انہماک و ارتکاز کے ساتھ آپ مطالعے کا حصہ بنائیں گے تو بے حد مایوس ہوگی۔ کلام حفیظ اس زمرے میں نہیں آتا۔ شعری متن کی اصل اوقات صفحۂ قرطاس پر سمجھ میں آتی ہے۔ یہاں صرف Oral Tradition سے کام نہیں چلتا۔
حفیظ نے گاہے گاہے بڑے سلیقے سے طنز کے تیر بھی چلائے ہیں۔ لیکن تیراندازی دل کو بھلی لگتی ہے کیوں کہ شعور کی پختگی اور ان کے میلان طبع نے اس رویے کو بے معنی اور بے جوڑ ہونے سے بچا لیا ہے۔ یہ اشعار دیکھتے چلیں:
جام اٹھانا بھی نہ آیا آج تک جن کو حفیظ
وہ سکھانے آئے ہیں آداب میخانہ مجھے
میخانے سے مسجد تک ملتے ہیں نقوش پا
یا شیخ گئے ہوں گے یا رند گیا ہوگا
جو شناور تھے انھیں موج بلا لے ڈوبی
تیرنا جن کو نہ آتا تھا وہی پار لگے
سفینے کا جو ناخدا بن گیا ہے
خدا کی طرح بات کرنے لگا ہے
مرے ہم پیالہ رہے ہیں وہ برسوں
مجھے واعظِ محترم جانتے ہیں
غزل Miniature کا آرٹ ہے۔ ایجاز اور ایما کا فن ہے۔ مواد خواہ ٹھوس ہو خواہ غیرمرئی یعنی کیفیت پر مبنی، ہر دو صورتوں میں غزل میں تصویر کشی کے وقت بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ حفیظؔ بنارسی نے اپنی غزلوں میں غموں کی ایک دنیا سجائی ہے۔ ایک روح پرور الم ناکی ان کی غزلوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ شعور ضبط اور فنی پختگی کے سبب اظہار غم میں واشگافیت کا رنگ حاوی نہیں ہوتا۔ ان کا غم Eternal ہے فانی نہیں اور یہ غم عشق کے تعمق سے ہوتا ہے۔ غم کی چند ایک جہتیں ان شعروں میں دیکھیے:
ہر ایک قلب کو سوز نہاں نہیں ملتا
بغیر عشق غم جاوداں نہیں ملتا
اے غم دوست تصدق تری کیفیت کے
کھل گیا آج مسرت کا بھرم کیا کہیے
تاروں کی روشنی بھی شب غم نہیں تو کیا
ہم آنسوؤں کے دیپ جلائے ہوئے تو ہیں
غم و الم کی شکایت بجا حفیظ مگر
غم و الم سے کہاں ہے فرار کی صورت
غم حیات سے نجات ممکن نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ غم ہی ایک ایسی دولت ہے جسے دیکھ کر کوئی شخص آپ کا رقیب یا دشمن نہیں بن سکتا۔ حفیظؔ بنارسی کو اس فلسفۂ غم کی آگہی ہے۔ غالب نے بھی غم کو ایک ہمیشہ رہنے والی دولت سمجھا تھا تبھی تو انھوں نے کہا تھا کہ:
’’موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں‘‘
غزل میں جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ خارجی معنی کے علاوہ ایک داخلی معنی بھی ہوتا ہے۔ داخلی معنی کے لیے ایمائی طرزِ اظہار سے کام لیا جانا ضروری ہے۔ حفیظ بنارسی اس وصف خاص سے واقف ہیں۔ وہ صرف الفاظ کے خوبصورت در و بست کو کافی نہیں سمجھتے۔ انھوں نے اپنے مجموعے ’’غزالاں‘‘ کے پیش لفظ میں لکھا ہے: ’’اچھی غزل کے لیے موسیقیٔ الفاظ (Music of words) کے ساتھ نغمگیٔ خیال (Music of thought) کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔‘‘
(کلیات، ص: ۲۶۷)
حفیظ صاحب کے اس بیان میں صداقت ہے۔ اچھے خیال کو اچھے الفاظ میں پیش کرنے سے ہی شعری ترفع یعنی Poetic Sublimity پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے اردو غزل کی روایت کا پورا پورا پاس رکھا ہے۔ ان کی پوری شاعری میں روایت اور کلاسکی رنگ و آہنگ کا اہتمام ملتا ہے۔ یہاں چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
غرقِ صہبائے تحیر ہے زمانہ جو حفیظؔ
مستیٔ چشم غزالاں ہے غزل کے اندر
آلام روزگار سے گھبرائیں کس لیے
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہیں
زلف کو شام تو عارض کو سحر کہتے ہیں
ہم ہر اک بات بہ اندازِ دِگر کہتے ہیں
جگنو بن کر تری یادوں کے اجالے چمکے
جب اندھیرے نظر آئے گھنے جنگل کی طرح
’’صہبائے تحیر‘‘ کی ترکیب سازی قابل توجہ ہے۔ اسی کی مناسبت سے دوسرے مصرع میں مستیٔ چشم غزالاں کا استعمال ہوا ہے۔ دنیا میں آلام و مصائب تو فطری ہیں، لہٰذا اس سے گھبرانا کیسا۔ معلوم ہے کہ شام آتی ہے تو سحر بھی ہوتی ہے۔ یعنی غم کے بعد خوشی بھی ملتی ہے۔ شعراء نے زلف کو شام اور عارض یا چہرے کو سحر کی علامت تصور کیا ہے۔ زندگی کی تاریکیوں میں اپنے دوست اور محبوب کی یاد جگنو کا کام کرتی ہے۔ یادوں کی شمع، یادوں کے چراغ اور یادوں کے جگنو وغیرہ کا استعمال ہماری کلاسکی شاعری کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ حفیظؔ بنارسی سامنے کے مضامین کو بڑی صفائی اور Sophistication کے ساتھ پیش کرنے پر قادر ہیں۔ وہ ایہام، رعایت لفظی یا معنی آفرینی کے چکر میں خواہ مخواہ قطعی نہیں پڑتے۔ البتہ شعر میں اگر ایسے مواقع ازخود آجاتے ہیں تو صنعتوں سے پرہیز بھی نہیں کرتے:
زندگی بخشی گئی گردش پیہم کے لیے
آپ ساقی بنے پیمانہ بنایا ہم کو
جو سورہے ہیں ابھی گیسوؤں کے سائے میں
اٹھو اور ان کو جگاؤ کہ رات اندھیری ہے
رخ صبیح پہ آوارہ گیسوؤں کی قسم
عجیب چیز ہے دن اور رات کا سنگم
یہاں ساقی محبوب بھی ہوسکتا ہے اور خدا کی ذات بھی جو زندگی اور موت پر قادر ہے۔ گردش پیہم کی رعایت سے پیمانہ کا استعمال ہوا ہے۔ پیمانہ بھی بادہ خواروں کے درمیان ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ اس شعر کو پڑھتے ہوئے شاد عظیم آبادی کا یہ شعر بھی سامنے رکھ سکتے ہیں:
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
دوسرے شعر میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ محبوب اپنے گیسوؤں کو بکھیرے ہوئے محوِ خواب ہے۔ عاشق کو اس کی یہ غفلت شعاری اور بے خبری پریشان کرتی ہے۔ گیسوؤں کی سیاہی سے اندھیری رات کی رعایت اور مناسبت پیدا کی گئی ہے جو برمحل ہے۔ تیسرے شعر میں یہ کہا گیا ہے کہ روشن چہرے پر گیسوؤں کا بکھرنا ایسا ہے جیسے دن اور رات کا سنگم ہورہا ہو۔ ان رعایتوں اور مناسبتوں میں ایک طرح کا فطری پن ہے۔ حفیظؔ بنارسی کی غزلوں میں اس نوع کے شعروں سے فنّی رچاؤ کا بھی پتہ چلتا ہے۔
حفیظ بنارسی کے یہاں انسانیت اور محبت کی داستاں طرازی کھلے طور پر ملتی ہے۔ یہ وصف خاص ان کی تقریباً پوری شاعری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ایک طرح کا خاموش انسانی اور اخلاقی پیغام رسانی کا مشن معلوم ہوتا ہے۔ ان کا میلانِ طبع اور ان کی تربیت کے عناصر ان کی غزلوں اور نظموں دونوں میں نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی اخلاقیات اور انسانیت کا درس بھاری پن کا احساس دلاتا ہے۔ لیکن حفیظ صاحب نے پھر بھی اس مشکل مرحلے سے عہدہ برآ ہونے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ چند شعر پیش کیے جاتے ہیں جن میں اقوال زرّیں، اخلاقیات اور شعور انسانیت کے نقوش ملتے ہیں:
تم انھیں روکو گے کب تک یہ تو اکثر آئیں گے
پھل درختوں میں اگر ہوں گے تو پتھر آئیں گے
تہذیب وفا ہم سے چھوٹی ہے نہ چھوٹے گی
دشمن بھی ملے گا تو سینے سے لگائیں گے
کیا جانے کس مقام پہ یہ ساتھ چھوڑ دے
اس زندگی سے اتنی محبت فضول ہے
کوئی شیطاں کی طرح ہے کوئی یزداں کی طرح
لوگ ملتے نہیں دنیا میں اب انساں کی طرح
چلے چلیے کہ چلنا ہی دلیل کامرانی ہے
جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتے
آپ تھوڑی دیر کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج کے انٹرنیٹ کے عہد میں ناصحانہ اور موعظانہ مضامین کی اہمیت اور ضرورت ہی کیا ہے۔ لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں کہ تاریکی جس قدر بڑھے گی روشنی کی ایک معمولی سی کرن کی اہمیت بھی اسی قدر فزوں تر ہوتی جائے گی۔ انٹرنیٹ اور سائبرکیفے کی تہذیبی بساط پر ہماری نئی نسل جس سیاہ کرّہ کی سیر کررہی ہے اس کی ذہنی تاریکی کو مٹانے کے لیے ایسے اشعار کی ضرورت ہے۔ اخلاق، مذہب اور پند و نصائح کے مضامین میر، سودا، ذوق، غالب، مومن کے یہاں بھی ہیں لیکن ان کی تخلیقی آنچ نے ایسے مضامین کے ٹھوس پن کو سیالیت میں بدل دیا ہے۔ بچہ جب Tablet نہیں کھا پاتا تو اسے وہی دوا پیس کر یا پھر سیال کی صورت میں دی جاتی ہے۔ شاعری میں ایسے مضامین پیش کرتے ہوئے تخلیقی فنکار کو اس کی سیالیت کا دھیان رکھنا ضروری ہے ورنہ قارئین یا سامعین کے لیے انھیں نگل پانا مشکل ہوگا۔ گرچہ حفیظ بنارسی نے ان باتوں کا خیال رکھا ہے پھر بھی کہیں کہیں تخلیقی سیالیت میں کھردرے موٹے موٹے ذرّے دکھائی دے جاتے ہیں لیکن ان کے خلوص کی آنچ میں دھیرے دھیرے وہ بھی پگھل جاتے ہیں۔ ایسے اشعار کا مقابلہ ہم فراق کے اس طرح کے شعر سے نہیں کرسکتے کہ :
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
البتہ ایسے شعروں کو معاون متون کے طور پر رکھ کر دیکھ سکتے ہیں:
بڑے موذی کو مارا نفس امّارہ کو گر مارا
نہنگ و اژدہا و شیر نر مارا تو کیا مارا
(ذوق)
کاسۂ چینی پہ اے منعم نہ کر اتنا غرور
ہم نے دیکھا ٹھوکریں کھاتے سر فغفور کو
(ناسخ)
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
(غالب)
حفیظ بنارسی کی غزلوں میں ایک اور مضمون ہے جو اپنی مرکزی حیثیت بھی رکھتا ہے یعنی ساقی، میخانہ اور میخوار۔ اسی کی مناسبت سے میکدہ، جام، مینا، سبو، ساغر، پیمانہ، بادہ، صہبا، رند، بادہ خوار، نشّہ، میکش، سرشاری، سرخوشی جیسی لفظیات سے کام لیا گیا ہے۔ کہیں کہیں ساقی اور میخوار کی معنوی جہتوں میں وسعت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ اشعار سنیے:
جرم ساقی پہ جو چپ نہ بیٹھے کبھی
میکدے سے وہ میکش نکالے گئے
کمی کوئی نہیں ہے میکدوں کی
جو پینا ہو تو میخانے بہت ہیں
توہین میکشی ہے کہ اک جام کے لیے
ساقیٔ کم نگاہ کی تمجید کیجیے
اُنہی سے پی رہی ہے آج دنیا
جو ساغر میرے چھلکائے ہوئے ہیں
اک جام کے لیے کہیں سجدہ نہ کرسکے
ہم اپنی پیاس کو کبھی رسوا نہ کرسکے
ساغر ایّام میں اشک الم ہی کیوں نہ ہو
مسکرا کر پیجئے زہراب غم ہی کیوں نہ ہو
مثل پیمانہ کم ظرف چھلک جاتے ہیں
ننگ میخانہ ہیں جو پی کے بہک جاتے ہیں
اسی حوالے سے اب خالص کیف و سرور اور جذب و مستی کے اشعار دیکھیے:
بہار آئی ہے صحن چمن کی بات کرو
نگاہ ساقیٔ توبہ شکن کی بات کرو
جو چاہتے ہو غم زیست خوشگوار بنے
تو جام اٹھاؤ کسی گلبدن کی بات کرو
تجھ کو معلوم ہے کچھ اے ہمہ کیف و مستی
کتنے ساغر تری آہٹ سے کھنک جاتے ہیں
کلیات حفیظ بنارسی میں اس نوع کے مزید بہت سے اشعار موجود ہیں۔
ان موضوعات کے علاوہ انسانیت، حسن و عشق، جنوں و خردجیسے مضامین بھی انھوں نے کھل کر باندھے ہیں۔
ان کے مجموعۂ کلام ’’درخشاں‘‘ میں ایک غزل ہے جس میں مرکبات کی بھرمار ہے۔ اس ایک غزل سے بھی حفیظ بنارسی کی قادرالکلامی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ زمین غالب کی ہے لیکن قافیہ بدلا ہوا ہے۔ غالب کی غزل کا مطلع سنئے:
آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
دودِ شمع کُشتہ تھا شاید خطِ رخسار دوست
اب بغیر کسی تبصرے کے حفیظ بنارسی کی اس آٹھ اشعار کی غزل سے چار اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرکے آپ سے رخصت چاہتا ہوں:
کون سمجھے گا یہ خوش ایامیٔ نخچیرِ دوست
گوشۂ صد امن ہے ہر حلقۂ زنجیرِ دوست
اب نگاہوں کو نہیں کچھ زحمتِ آوارگی
دل کا آئینہ بنا ہے روکشِ تنویرِ دوست
پرتوِ روئے مبیں ہے یا فروغِ صبح عید
ابرِ رحمت ہے کہ عکسِ کاکلِ شب گیرِ دوست
جیسے ہر تارِ نفس ہو نغمگی کی داستاں
اللہ اللہ یہ فسونِ عالمِ تقریرِ دوست
(کلیات: سفیرِشہرِدل ]۱۷؍مارچ ۲۰۰۷[کے اجراء کے موقع پر پڑھا گیا)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

