شاعر بنتا نہیں شاعر پیدا ہوتا ہے اور شاعری لکھی نہیں جاتی شاعری ساری عمر شاعر کو لکھتی رہتی ہے۔شاعر شب کی تاریکیوں سے ڈرتا نہیں اسے اپنی ذات کی روشنی سے منور کرنے کی تا عمر سعی کرتا ہے۔عرصہ دراڑ سے شاعری دلی کیفیات کے اظہار کا موثر ذریعہ رہی ہے اور آج بھی اس الیکٹرونک میڈیا کے دور میں بھی اردو شاعری دھوم مچا رہی ہے اور مجھے لگتا ہے پہلے کے بہ نسبت اردو شاعری کا دائرہ بڑھا ہے۔یہ شاعروں کی نظموں اور غزلوں کا جادو ہے جو آج تک بر قرار ہے۔ہر محفل کی زینت بننے والے اردو کے اشعار ان لوگوں کو للکارتے ہیں جو اردو جیسی میٹھی زبان سے خار کھائے بیٹھے ہیں۔ہر محاذ پر اپنی موجودگی درج کرانے والے یہ اردو شاعری اس کو کسی کی دعا لگ گئ ہے۔کسی کامل بزرگ کی،لگے بھی کیوں نہ اردو کی ترویج و ترقی میں صوفی بزرگوں کا بہت اہم رول رہا ہے۔اردو شعر و ادب کا سفر جاری ہے اس سفر شوق میں بہت دیوانوں نے آبلہ پائی کی اور قلم کی نوک کو ترجمان زندگی بنا دیا۔اس سفر شوق میں دیوانوں کے صف میں ایک پریت کی راہوں کا راہی بھی تھا جسے ہم نور اقبال کے نام سے جانتے ہیں۔
اردو شعر و ادب کے گلستاں میں نور اقبال ایک معتبر نام ہے۔نظموں کے حوالے سے بنگال کی شاعری میں اعتبار حاصل ہے۔موصوف کی کئی کتابیں منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ان کی نظموں کے مجموعے "جھرنا” جوقومی،وطنی، ملی ،اخلاقی ،دینی اور یک جہتی نظموں پر مشتمل کتاب ہے۔”ہم آزاد ہیں” ایک طویل طنزیہ نثری نظم ہے۔”میری آواز” اور "میں راہی پریت کی راہوں کا”۔مختلف اصناف شاعری کے علاوہ نثر میں بھی بہترین نمونے چھوڑ چکے ہیں۔
موصوف کا تعلق درس و تدریس سے رہا بطور معلم ہر دل عزیز رہے،تعلیمی،اخلاقی اور دینی دلچسپی بڑھانے کے لئے انہوں نے” جھرنا” لکھا جس میں موصوف نے بچوں کے اندر قومی،اخلاقی،دینی جذبے کو فروغ دیا۔مختصر خوبصورت نظموں میں شاعر نے معصوم ذہنوں کے عین مطابق پیغامات بھی دئے۔ خالق کائنات سے دعا کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے۔
ہم کو علم و ہنر کر عطا
اے خدا اے خدا اے خدا
ہم دمکتے رہیں
ہم چمکتے رہیں
جیسے سورج اس سنسار کا
موصوف نے اپنی نظموں میں وطن پرستی کے جذبے کو بھی بہت خوب پیش کیا ہے۔وطن سے محبت نصف ایمان ہے اور ہمارا وطن ہمیں جان سے بھی پیارا ہے،یہاں کی مٹی سے ہمیں عشق ہے۔اس کی شان پر ہم قربان ہیں۔شاعر نے اس محبت کا اظہار یوں کیا ہے۔
اے وطن قسم ہے تیری کہ ہمیشہ دم بھریں گے
تری خاک پر جئیں گے،تری خاک پہ مریں گے
کہ رہے گا تا قیامت ترا میرا دوستانہ
چلو آؤ مل کے شائقین کہ وطن کا ہے پرانہ
ہوا ختم دور ظلمت کا وہ خون بھرا فسانہ
موصوف چھوٹی چھوٹی نظموں میں بڑی کار آمد باتیں کہہ جاتے ہیں۔ہمارا ملک پوری دنیا میں اپنی شناخت رکھتا ہے،علم و فن ہو یا حکمت و طب،ہر میدان میں دنیا سے آنکھیں ملانے والا ہمارا ملک پوری دنیا میں ایک مہذب اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔یہاں مختلف مذاھب کے لوگ،مختلف عقائد کی پیروی کرتے ہیں،کئ زبانیں اس ملک کی عظمت کی ترجمان ہے۔ہمارے ملک کی سب سے بڑی بات ہے کہ ہم مختلف مذاھب کے ہونے کہ باوجود ایک تھے ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔
سمتیں جدا جدا سہی پرواز ایک ہے
بھاشا الگ الگ سہی انداز ایک ہے
ہم مختلف زبانوں میں بات ایک کہیں گے
ہم ایک تھے ،ہم ایک ہیں،ہم ایک رہیں گے
موجوں کی طرح شب و روز بہیں گے
شاعر کی محبت کا نظریہ اور وسیع ہوتا ہوا نظر آتا ہے جب وہ عالمی سطح پر اضطرابی دیکھتا ہے , اس کا دل مچل جاتا ہے۔پوری دنیا کو ایک گھر سمجھنے والا،انسان کو بس انسان سمجھنے والا،دوسرے کے دکھ پر افسردہ ہونے والا جب اپنی برتری قائم کرنے کے لئے جنگ و جدل دیکھتا ہے تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ
کوئی مغرب میں ہے،کوئ مشرق میں ہے،پر ہیں سب زمیں کی کہانی
کوئی ہندو ہے،کوئ مسلمان ہے،نسل آدم کی سب ہیں نشانی
موصوف نے عمر کا ایک طویل حصہ ننھےذہنوں کی آبیاری میں گزارا ہے لہذا وہ جا بجا علم کے گیت سناتا ہے ،ہر موڑ پر زندگی کے اس کی آوازیں گونجتی ہیں۔علم و فن کی اہمیت پر اس کی نظر ہمیشہ رہتی ہے کیونکہ شاعر کو اس بات کا یقین ہے کہ ہماری حالت صرف اور صرف علم سے سدھر سکتی ہے،حصول علم ہی ایک واحد راستہ ہے جو ہمیں کامیابی کی منزل تک لے جاسکتا ہے۔
راہ عمل پر اپنا قدم ہم بڑھائیں گے
ہم علم کے چراغ ہر اک سو جلائیں گے
موصوف کی ایک طویل نثری نظم "ہم آزاد ہیں” میں شاعر کی حق بیانی کمال کی ہے۔ ایک شاعر ہمیشہ حساس واقع ہوا ہے اس کے اندر ایک اور شخص جیتا ہے جو تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا۔موصوف نے بھی ظلم و ستم کے خلاف محاذ کھولا اور اپنا نظریہ پیش کیا۔نظم "ہم آزاد ہیں” میں شاعر اپنے تمام تر مشاہدے کو پیش کردیا جب وہ شہر کی گلیوں اور شاہراہوں سے گزرتا ہے تو اس کے آنکھوں کے سامنے جو کچھ ہوتا ہے وہ ہو بہ ہو اسکی تصویر کھینچ لیتا ہے۔آزادی کے نام پر کس طرح کی آزادی حاصل ہے اس کی مونھ بولتی تصویر ہے۔بظاہر چند صفحات پر مشتمل یہ کتاب کوئی انوکھا منظر نامہ نہیں پیش کرتی مگر اس میں ایک شاعر کا دل دھڑک رہا ہے۔اس کی روح بے چین ہے کہ جس آزادی کی خاطر کروڑوں ہندوستانیوں نے اپنا خون دیا جس کی آن بان پر سیکڑوں مر مٹے آج اس کی ایسی حالت کیسے ہوگئ؟غریب غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے امیروں کی بھوک مٹ نہیں رہی ہے محکومیت کا شوق انسانی دلوں میں موجیں مار رہا ہے۔زندگی غم کی دہلیز پر بال کھولے بیٹھی اشک باری کر رہی ہے۔سارے خواب یکسر چور ہوگئے۔ہم آزاد ہیں ایک زناٹے دار طمانچہ ہے ،ایک خون روتی آنکھ ہے،ایک ٹوٹا دل ہے،ایک بجھی آس ہے اور ایک احتجاج ہے جھوٹ کے خلاف۔غربتی،مفلسی،ناچاری،اور ستم گری خوب پھل پھول رہی ہیں اور انہیں دیکھ کر نحیف آرزوئیں دم توڑ رہی ہیں۔شاعر کو یہ غم ستاتا ہے کہ گلشنِ محبت میں کانٹیں کیونکر آگ آئے۔
شاعر مختلف مقامات پر جاتا ہے اور ہر جگہ آزادی کی ایک الگ تصویر دیکھتا ہے جسے دیکھ وہ اندر ہی اندر کراہتا ہے۔
شاعری اپنے عہد کی داستان سناتی ہے۔شاعر اپنے زمانے کی کوکھ سے جنا ہوتا ہے جس سماج میں میں وہ آنکھیں کھولتا ہے وہ سماج اس کا میدان عمل بنتا ہے اور زندگی میں اس کے جو اپنے مشاہدے ہوتے ہیں وہ نظموں میں،غزلوں میں اور گیتوں میں دنیا کی سامنے جگ بیتی بنا کر پیش کرتا ہے چونکہ زندگی سبھی کو آزماتی ہے اس لئے ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز ہر مظلوم کی اپنی آواز ہوتی ہے،وہ آواز جس میں الفاظ تو شاعر کے ہوتے ہیں مگر جذبات قاری کے۔
موصوف کی کتاب "میری آواز”جو تیرہ انقلابی نظموں پر مشتمل ہے۔شاعر اپنی آواز کے متعلق رقمطراز ہے کہ اسکی آواز محض اسکی آواز نہیں ہے بلکہ یہ آواز ہر زمانے میں حق پرستوں کی آواز رہی ہے۔ان لوگوں کی آواز رہی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو عوام الناس کی فلاح و بہبودی کی خاطر وقف کردی۔شاعر اس کا اقرار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
میری آواز کئی روپ بدل کر گونجی
کبھی لنکن،کبھی لینن،کبھی گوتم بن کر
حق پسندوں کی طرح جہد مجسم بن کر
انقلابات وطن کا کبھی پرچم بن کر
میری آواز کسی ناگ کی پھنکار بھی ہے
اور زمانے کے لئے پیار کا اپہار بھی ہے۔
موصوف کی شاعری مزدوروں کی شاعری ہے،کسانوں کی شاعری ہے،ٹوٹے پھوٹے آشیانے میں دن کاٹ رہےلوکوں کی شاعری ہے المختصر یہ سنگ دل زمانہ کےستائے ہوئے لوگوں کے دل کی آواز ہے۔اس آواز میں سوز و گداز ہے،درد ہے،آنسوں ہے،آہیں ہیں اور زمانے کے خداؤں کو للکارتا حوصلہ بھی ہے۔شاعر کا ذہن انقلابی ہے وہ خاموشی کو توڑنا چاہتا ہے۔وہ ظلم کے خلاف محاذ کھول بیٹھا ہے۔صدیوں سے ہو رہے مظالم پر وہ خاموش تماشائی نہیں بن سکتا لہذا وہ ظالموں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے
میری آواز کو اے ڈھونڈنے والوں سن لو!
اس کو تم پاؤگے مزدوروں میں،دہقانوں میں
گاؤں میں کھیت میں،لٹتے ہوئے کھلیانوں میں
ظلم کی چکی سے پستے ہوئے انسانوں میں
ٹوٹے پھوٹے ہوئے اجڑے ہوئے کاشانوں میں
کچلے انسانوں کے سر پل میں اٹھا دیتی ہے
ساتھ مظلوموں کا دنیا میں سدا دیتی ہے۔
نظم "مزدور” میں شاعر مزدوروں کی بے بسی کو بیان کرتے ہوئے خون کے آنسوں روتا ہے۔مزدور جس کے دم سے جہاں کی رونق ہے کہیں کھیتوں میں،کہیں مشین کے چکوں میں اپنی جوانی جھونکا مزدور،کہیں باغ زندگی میں پھول کھلاتا مزدور،کہیں سسک سسک کر دم توڑتا مزدور،کہیں کھانے کے نیوالے کو ترستا مزدور کا بچہ،آنکھوں میں شہزادی کا خواب سجائے مزدور کی بیوی،لاکھوں الزام کا سزاوار مزدور،ہر گناہ کا ذمہ دار مزدور،ہر سزا کا حقدار مزدور،ہر قانون کا پاس دار،ایمان اور آخرت کی خوف دل میں بسایا مزدور نیز تمام تر برائیاں اس سے منسوب اور مسلسل دنیاوی عذاب کا طلبگار مزدور۔واہ مزدور! ہماری زندگی میں رنگ بھرنے والے مزدور کی اپنی زندگی اتنی بے رنگ کیوں ہے ؟اس سوال پر سوال خود شرمندہ ہے۔شاعر نے ان مزدوروں کی زبان بن کر کہا ہے
نام میرا بھی لیا جاتا ہے فنکاروں میں
فن مرا بکتا ہے دو کوڑی کے بازاروں میں
خون شامل ہے مرا محلوں کی دیواروں میں
زندگی پھر بھی مری جلتی ہے انگاروں میں
کیا کروں اب میں زمانے سے کوئی شکوہ گلہ
مجھ کو ملتا ہے کہاں دہر میں محنت کا صلہ
موصوف کی نظموں کی ایک اور کتاب "میں راہی پریت کی راہوں کا” ہے۔یہ ایک طویل آزاد نظم پر مشتمل ہے۔اس نظم میں شاعر قدرت کے جاندار اور غیر جاندار چیزوں سے مخاطب ہے اور ان سے پریت میں حاصل ہونے والے تجربے جاننا چاہتا ہے۔شاعر کائنات کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہی نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس دنیا میں ایک حقیقت ہے اور وہ ہے پیار۔شاعر مختلف چیزوں سے پیار کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتا ہے اور آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ
دھرتی سے نیلے امبر تک/اک تو ہی نہیں ہے اے شاعر!/سب گھائل ہیں/اک دوجے کی جانب مالی ہیں/عنوان محبت ایک سا ہے/آغاز محبت ایک سا ہے/انجام محبت ایک سا ہے.
موصوف کی شاعری ہماری اپنی جانی پہچانی شاعری لگتی ہے ایک عجب مانوسیت ہیں انکی نظموں میں گویا وہ عوام الناس کی شاعری ہے۔موصوف اپنی نظموں میں آسان اور عام فہم زبان استعمال کرتے ہیں۔بھاری بھرکم الفاظ کا استعمال نہیں کرتے،ایسی شاعری جو بھاری بھرکم الفاظ سے دبی ہوئی ہو وہ عام قاری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔بہت آسان اور بیانیہ طرز تحریر نے ان کی شاعری کو عام لوگوں کے قریب کردیا۔ذاتی زندگی میں بھی موصوف عام لوگوں کے قریب رہیں اور ان کی شاعری بھی۔انکی نظموں کو پڑھتے وقت کہیں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا اور ایک نشست میں کئ نظمیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ایک قاری گر شاعر یا مصنف کی تحریر پڑھتے وقت اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا تو یہ اس شاعر یا مصنف کے حق میں بہت بڑی بات ہے اور موصوف کی شاعری میں یہ بات پائ جاتی ہے۔موصوف نے اپنی شاعری کو بطور چراغ پیش کیا ہے جو یقیناً مایوسی اور جہالت کے اندھیرے کو دل سے مٹاتی ہے،نئ امنگیں جگاتی ہیں اور دل کی زمین پر پسرے مایوسی کو پیغام مسرت دیتی ہے۔
موصوف کا ایک شعر حاضر خدمت کرکے آپ سے اجازت لیتا ہوں جو انہوں نے اپنی شاعری کے متعلق کہا ہے
کلی مراد کی میری جو کھل گئ ہوتی
تو میری شاعری مٹی میں مل گیا ہوتی
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
بہت عمدہ۔۔۔۔اللہ آپکے قلم میں اور طاقت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔