جیون کا یہ پہلو بھی سنور کیوں نہیں جاتا آنکھوں سے ترا خواب اتر کیوں نہیں جاتا ہے صرف اگر لمحۂ…
غزل
-
-
مری عاشقی فروزاں ، کرے تیری پیشوائی مجھے حق پرست کر دے ، یہ صنم سے آشنائی یہ نیاز دلبروں کے…
-
بزم میں اس کی اگر جانا ہوا لوٹ کر کے پھر نہ گھر جانا ہوا اک نگاہِ ناز کا اٹھنا تھا بس…
-
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ…
-
گرچہ ترے بغیر گزارا نہ کر سکے پر عشق بھی کسی سے دوبارہ نہ کر سکے اک تو کہ مہر و…
-
اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں جذبۂ جنوں اٹھیں تو ایک عزم سے، سوئیں تو پر سکوں جھکنے لگی تو شاخ…
-
اس منزل حیات پہ جذبات منتشر اعمال منتشر ہیں، مناجات منتشر گل چیں کی اک ہوس کے نتیجے میں باغ کی ہر…
-
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی…
-
اک دشتِ خار زار ہے میرے وجود میں مجنوں! ترا دیار ہے میرے وجود میں شعلہ ہے یا شرار ہے میرے وجود…
-
اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ابھی سفر سارے ابھی تو خواب بھی پھرتے ہیں در بدر سارے تمہارا مشقِ ستم…

