تم تو کہتے تھے وہ موسم ہی نہیں آنے کا آ کے دیکھو تو نیا رنگ ہے ویرانے کا بننے لگتی ہے…
غزل
-
-
روبرو اُس کے معتبر بیٹھے* پھر بھی تھامے ہوئے جگر بیٹھے* *جس کی چھاؤں نے زندگی بخشی* *کاٹ کر پھینک وہ شجر…
-
وطن کو پھر رجھایا جارہا ھے ” نیا منشور لکھا جا رہا ھے " سدن کو…
-
مجبور انا ہیں کہ مداوا نہیں کرتے اے درد! مسیحا کو پکارا نہیں کرتے مجنوں! تجھے صحرا کی یہ شہرت ہو مبارک…
-
اک دشتِ خار زار ہے میرے وجود میں مجنوں! ترا دیار ہے میرے وجود میں شعلہ ہے یا شرار ہے میرے وجود…
-
میں ایک دھندلی سی تصویر ہوں سنوار مجھے بعور دیکھ کبھی پھر ذرا نکھار مجھے میں عام سی ہوں بنائے نہ…
-
اجاڑتا!مری مٹی کو بے نمو کرتا وہ خواب بوتا جو آنکھیں لہو لہو کرتا اسی امید میں کب سے پڑے ہیں…
-
یہ امید بھی اب دامن گریزاں ہوتی جاتی ہے تیرے ملنے کی آس اب مدھم ہوتی جاتی ہے ہر محفل میں ایک…
-
کسی کے ساتھ کوئی شام کر لو ہمارے نام کا بھی جا م بھر لو اکیلے جا رہے ہو سوئے مقتل دعا…
-
شبِ تلخ و سیہ گزاری ہے زلف بکھری ہوئی سنواری ہے دن کو وحشت تو شب کو زاری ہے زندگی ہم پہ…

