میں ایک دھندلی سی تصویر ہوں سنوار مجھے
بعور دیکھ کبھی پھر ذرا نکھار مجھے
میں عام سی ہوں بنائے نہ شاہکار مجھے
بنا بنا کے مٹاتا ہے کیوں کمہار مجھے
میں منتظر ہوں زمانے سے مجھ کو رہنے دے
کہا ہے میں نے کبھی کیا کہ اب پکار مجھے
میں کوئی دھوپ نہیں ہوں اندھیری رات نہیں
سہانی شام ہوں یوں ہی کبھی گزار مجھے
بکاؤ چیز نہیں ہوں میں ایک عورت ہوں
نہ مول تول کبھی کر نہ لے ادھار مجھے
ہے پھول پھول پہ کیسی عجب سی ویرانی
خزاں رسیدہ لگے ہے یہ کیوں بہار مجھے
عجب سا ایک تلاطم ہے مجھ میں بےچینی
الٰہی کیوں نہیں آتا کبھی قرار مجھے
میں مشت خاک ہوں سحرا کی زرد مٹی ہوں
بنا نہ اس طرح راہوں کا تو غبار مجھے
وہ ایک ننھی سی چڑیا حسین گوریا
بھلی سی لگتی بہت جس کی چوں چکار مجھے
میں چینٹیوں کو بھی پیروں تلے نہ آنے دوں
عزیز تر ہیں یہ ننھی سی جاندار مجھے
میں آسمان میں اڑتے ہوئے انہیں دیکھوں
زمیں کے سارے پرندوں سے کتنا پیار مجھے
میں بات بات پہ شہناز خوف کھاتی ہوں
میں جانتی ہوں نہیں موت سے فرار مجھے
محل میں رہنا ہے شہناز اب تو ناممکن
میں کیسے جاؤں بلاتا ہے کوہسار مجھے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

