مسلم انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتما م پانچواں قومی ریسرچ اسکالر سیمینارکاکامیاب انعقاد
ریسرچ اسکالرز سیمینار ہماری نئی معلومات کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس طرح کے سیمیناروں میں شرکت کر کے خوشی ہوتی ہے۔ یہ بات مسلم انسٹیٹیوٹ میں منعقدہ پانچویں ریسرچ اسکالرز قومی سیمینار میں مسلم انسٹیٹیوٹ کے صدر اور ایم پی (راجیہ سبھا) جناب ندیم الحق کہی۔ انھوں نے سیمینار میں مولانا آزاد کے” الہلال“ کے حوالے سے ایک مقالے کی پیشکش کے بعد یہ اعلان کیا کہ مسلم انسٹیٹیوٹ کی طرف سے آئندہ 22/ فروری کو مولانا آزاد کی برسی کے موقعے پر کلکتے میں واقع الہلال کے دفتر کو یادگار کے طور پر محفوظ کیا جائے گا ۔ اب تک ہم اہل کلکتہ اس کی طرف سے بے توجہی کا شکار تھے۔ لیکن اس سلسلے کو مزید دراز ہونے نہیں دیا جائے گا ۔ قومی ریسرچ اسکالر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے اعزازی جنرل سیکریٹری نثار احمد نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ہم مسلم انسٹی ٹیوٹ کے توسط سے ہمیشہ ایسے باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی کی کوشش کرتے ہیں جو ملک وملت کے سامنے کچھ نیا پیش کر رہے ہوں۔ کیونکہ جو قوم نئے تجربات نہیں کرتی وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلم انسٹیٹیوٹ 120 سالوں سے نئی نسل کی تحقیقات سے استفادہ کر کے ملت کی بہبودی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہمارے ریسرچ اسکالرز بھی اپنی تحقیق سے کچھ نیا پیش کرنے کی کوشش کریں۔قومی سیمینار کے افتتاحی سیشن میں جناب محمد جمال (چیئرمین لٹریری سب کمیٹی، دی مسلم انسٹیٹیوٹ)نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آج کے سیمینار میں مختلف موضوعات کے حوالے سےپیش کیے جانے والے مقالات سے ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔ صدارتی خطاب میں جناب عمر خان ( وائس پریزیڈنٹ ،مسلم انسٹیٹیوٹ )نے خوشی ظاہر کی اور کہا کہ جو لوگ مسلمانوں کی نئی نسل سے ناامید ہیں ان کے لیے یہ ریسرچ اسکالر سیمینار کرارا جواب ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ کیونکہ یہ محنتی بھی ہیں اور پلاننگ سے آگے بڑھنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں ۔افتتاحی سیشن کے بعد پہلے ٹیکنکل سیشن کا آغاز ڈاکٹر نعیم انیس (صدر شعبۂ اردو ، کلکتہ گرلس کالج) کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس سیشن میں کل پانچ مقالے پیش کیے گئے۔ شاہد حبیب نے ”جدیدیت کے تحت لکھے گئے اردو افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ: حقوق انسانی کے تناظر میں“ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی لکھنؤ کیمپس سے ڈاکٹر مجاہد الاسلام کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ جناب الماس احمد انصاری نے ”اکبر الہ آبادی کی شاعری میں قومی اصلاح و بیداری“ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ وہ لکھنؤ یونیورسٹی سے ڈاکٹر فاضل احسن ہاشمی کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں ۔محترمہ عائشہ صدیقہ نے ”مولانا آزاداور تحریک آزادی “ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ وہ للت نارائن متھلا یونیورسٹی میں ڈاکٹر سحر افروز کی نگرانی میں ریسرچ کر رہی ہیں ۔ جناب محمد عمران نے ”اقبال کی قافیہ پیمائی“ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ وہ دہلی یونیورسٹی سے ڈاکٹر احمد امتیاز کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں۔محترمہ شگفتہ جہاں نے ”مغربی بنگال کے اردو ناولوں میں ہندوستانی تہذیب و معاشرت کی عکاسی“ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی میں ڈاکٹر زرینہ خاتون کی نگرانی میں ریسرچ کر رہی ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر نعیم انیس نے کہا کہ۲۰۱۷میں جب مسلم انسٹی ٹیوٹ میں نئی مجلس انتظامیہ کا انتخاب عمل میں آیا تو اس وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہاں ہر سال قومی ریسرچ اسکالر کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس سیمینار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نئے قلمکاروں کو ایک قومی پلیٹ فارم مہیا کرایا جائے۔ آج کے اس سیمینار میں کئی ایسے مقالہ نگار ہیں جو پہلی دفعہ کسی قومی سیمینار میں اپنا مقالہ پیش کر رہے ہیں ۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ ایک تربیت گاہ ہے جہاں نئے ذہنوں کی آبیاری کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ پہلے سیشن کے اختتام پر اختر حسین صاحب نے شکریے کی رسم ادا کی ۔ دوسرے ٹیکنکل سیشن کا آغاز ڈاکٹر درخشاں زریں (ایسوسی ایٹ پروفیسر ، شعبہ ٔ اردو عالیہ یونیورسٹی) کی صدارت میں ہوا۔پہلے مقالہ نگار کی حیثیت سے جناب محمد ساجد نے ”سید محمد اشرف بہ حیثیت فکشن نگار“ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ وہ عالیہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر نیلوفر فردوس کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں ۔محترمہ شاہینہ پروین نے”قیصر شمیم : حیات اور کارنامے“کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ قاضی نذرل یونیورسٹی، آسنسول سے ڈاکٹر محمد شمیم عالم کی نگرانی میں ریسرچ کر رہی ہیں ۔جناب محمد تنویر مظہر نے ”ہندوستان میں نئے ڈرامے کا فروغ، حبیب تنویر کی خدمات کے خصوصی حوالے سے“کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ وہ رانچی یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد ایوب کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں ۔جناب شیخ ظہور عالم، ”مغربی بنگال کے اردو افسانوں میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت“ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا ۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر امتیاز عالم وحید کی نگرانی میں ریسرچ کر رہے ہیں ۔محترمہ شبنم پروین نے ”گداگر سرائے: ایک تنقیدی مطالعہ“ کے موضوع پر بردوان یونیورسٹی کے ملحقہ ہگلی محسن کالج (کلکتہ) سے ریسرچ کر رہی ہیں۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر درخشاں زریں نے کہا کہ پانچوں مقالہ نگاروں نے بڑی محنت سے اپنے مقالے تیار کیے۔ یہ ایسے مقالے تھے جن سے علم کے نئے دروازے وا ہوتے ہیں۔مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ان مقالہ نگاروں کا تلفظ درست تھا اور مقالہ خوانی کا انداز بھی قابل تعریف ہے۔ تینوں سیشن کی نظامت کامیابی اور خوبصورتی کے ساتھ ڈاکٹر جاوید اختر (اعزازی لٹریری سکریٹری ،دی مسلم انسٹی ٹیوٹ) نے انجام دی۔مسلم انسٹی ٹیوٹ کے ڈرامہ و میوزک سکریٹری جناب ساجد پر ویزکے شکریے کی رسم ادا کی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

