شبِ تلخ و سیہ گزاری ہے
زلف بکھری ہوئی سنواری ہے
دن کو وحشت تو شب کو زاری ہے
زندگی ہم پہ کتنی بھاری ہے
پڑ گئی ہے دراڑ آئینہ میں
سامنے شکل جو ہماری ہے
کیا غم کو عیاں ہے چہرے پر
یہ مصور کی شاہکاری ہے
کوئی مرتا نہیں کسی کے لیے
جان آخر ہر اک کو پیاری ہے
مجنوں سے بھی ہے رابطہ اپنا
اور فرہاد سے بھی یاری ہے
پیار کے راہیوں سے پوچھے کوئی
جان ہاری تو کیسے ہاری ہے؟
واسطہ راحتوں سے ہم کو کہاں
ہمیں محبوب دل فگاری ہے
اب رکے گا نہ چشم میں یہ ابر
دل کی کرتا ہری جو کیاری ہے
وسوسے موت کے ہیں آنے لگے
خوف تجھ پر فضیل طاری ہے
فضیل الہی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

