ہندوستان میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی(علی گڑھ)،جامعہ ملیہ اسلامیہ(نئی دہلی)،یونی ورسٹی آف کشمیر( سری نگر)،جامعہ ہمدرد (نئی دہلی)،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی(حیدرآباد )نیزکیرالہ وغیرہ میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبے قائم ہیں۔ ذیل میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کا تفصیلی تعارف اور علمی خدمات کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
شعبہ اسلامک اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام ۱۹۲۰ میں ہوا تھا ،اسی وقت سے ’اسلامیات‘ کو اس کے نصاب میں شامل کیا گیا تھا،البتہ اس کے لیے علاحدہ سے باقاعدہ کوئی شعبہ نہیں تھا۔۱۹۷۶میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کا قیام عمل میں آیا،لیکن اس وقت وہ ’عرب ایرانین اسٹڈیز‘ کا حصہ تھا جس میں دو اور شعبے یعنی شعبہ عربی اور شعبہ فارسی بھی شامل تھے اور اس کا پورا نام ’شعبہ اسلامک اور عرب ایرانین اسٹڈیز‘ (Department of Islamic and Arab-Iranian Studies تھا۔۱۹۸۸میں مستقل طور پراسے ایک شعبہ یعنی’شعبہ اسلامک اسٹڈیز‘کی حیثیت دی گئی جو آج تک برقرار ہے۔یہ شعبہ درحقیقت اسلام اوراسلامی تہذیب وثقافت کا احاطہ کرتا ہے اوراس کا اہم مقصدطلبہ و طالبات کو مسلم تاریخ، تہذیب،سائنس، تصوف، ادب،فنون لطیفہ،مسلم حکومتوںکے سیاسی،انتظامی، سماجی اور معاشی ڈھانچے وغیرہ سے واقف کراناہے۔
صدورِ شعبہ
پروفیسر عماد الحسن آزاد فاروقی ۱۹۸۸-۱۹۹۳
پروفیسر ماجد علی خان ۱۹۹۳-۱۹۹۶ پروفیسر اختر الواسع ۱۹۹۶-۱۹۹۹
پروفیسر شیث محمد اسماعیل اعظمی ۱۹۹۹-۲۰۰۲
پروفیسر عماد الحسن آزاد فاروقی ۲۰۰۲-۲۰۰۵
پروفیسر اختر الواسع ۲۰۰۵-۲۰۱۲
پروفیسر رضی احمد کمال ۲۰۱۲-۲۰۱۳
پروفیسر اقتدار محمد خان ۲۰۱۳-۲۰۱۶
پروفیسر محمد اسحق ۲۰۱۶-۲۰۱۹
پروفیسر سید شاہد علی ۲۰۱۹-۲۰۲۲
پروفیسر اقتدار محمد خان ۲۰۲۲ تا حال
سابق اساتذہ کرام
باضابطہ شعبہ کے قیام سے قبل و بعداسلامیات؍ اسلامک اسٹڈیز کی درس و تدریس سے وابستہ اہم شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں مولانا محمد علی جوہر،خواجہ عبدالحئی فاروقی،مولانا محمد اسلم جیراج پوری،بدرالدین چینی،سید محمد بن یوسف علی سروتی،سعدالدین انصاری ندوی، عبدالوحید سندھی،محمد سرور جامعی،محمد سید ابراہیم فکری،مولانا محمد عبدالسلام قدوائی ندوی،سید جمال الدین اعظمی،عزیز احمد قاسمی،پروفیسرمحمدسالم قدوائی،مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی،پروفیسر محمد مجیب،ڈاکٹر سید عابد حسین، پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی،پروفیسر مشیرالحق،پروفیسر عماد الحسن آزاد فاروقی، پروفیسرماجد علی خان،پروفیسر اختر الواسع،ڈاکٹر رشید الوحید،پروفیسر شیث محمد اسماعیل اعظمی، پروفیسر رضی احمد کمال اور پروفیسر فریدہ خانم کے نام قابل ذکر ہیں ۔
موجودہ اساتذہ کرام
پروفیسر اقتدار محمد خان( صدر شعبہ اور ڈائریکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز)،پروفیسر محمد اسحق(سابق صدر شعبہ،ڈائریکٹر مرکز برائے تقابلی مذاہب اور تہذیب)،پروفیسر سید شاہد علی(سابق صدر شعبہ)،جناب جنید حارث،ڈاکٹر محمد مشتاق،ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر محمد خالد خان،ڈاکٹر محمد عمر فاروق،ڈاکٹر خورشید آفاق۔
عارضی اساتذہ کرام (۲۰۲۲تک)
ڈاکٹر جاوید اختر،ڈاکٹر محمد اسامہ،ڈاکٹر انیس الرحمن،ڈاکٹرمحمد مسیح اللہ،ڈاکٹر ندیم سحرعنبریں،ڈاکٹر عمار عبدالحئی،ڈاکٹر عبدالوارث خاں
سابق عارضی اساتذہ کرام
ڈاکٹر صفیہ عامر،ڈاکٹر انعام الحق علمی،ڈاکٹر نجم السحر ثاقب،ڈاکٹر ذہین اختر ندوی،ڈاکٹر پرویز احمد،ڈاکٹر وارث متین مظہری،ڈاکٹر زبیر ظفرخان،ڈاکٹرعابدہ کوثر،ڈاکٹر الطاف حسین یاتو،ڈاکٹر نجم السحر،ڈاکٹر محمد تحسین زماں،ڈاکٹر تمنا مبین اعظمی۔
کورسز کا تعارف
شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں گریجویشن،ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سہولت موجود ہے،نیز آخر الذکر کے علاوہ میں طلبہ و طالبات پرائیوٹ امتحان بھی دے سکتے ہیں۔تفصیل حسب ذیل ہے:
بی۔ اے
یہ تین سالہ کورس ہے اوراس کی مدت کم سے کم چھ(۶)اورزیادہ سے زیادہ بارہ(۱۲)سمسٹرزہے۔کل نمبرات سولہ سو(۱۶۰۰) اور کریڈٹس (Credits)چونسٹھ(۶۴)ہیں اور ہر مضمون میں پاس ہونے کے لیے سو(۱۰۰) میں سے چالیس (۴۰)فیصد نمبرات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس میں مجموعی طور پرسولہ(۱۶) مضامین پڑھائے جاتے ہیں،جن میں چھ (۶)بطور سبسڈری(Subsidiary) کے بھی ہیں،اسی طرح سی بی سی ایس (Choice Based Credit System)کے بھی چھ(۶)پیپرز پڑھائے جاتے ہیں۔نیز ہیومنیٹیزاینڈ لینگویجز،سوشل سائنس ا ور نیچرل سائنس کے بی اے کے طلباکو پہلے اور دوسرے سمسٹر میں اسلامیات(Islamiat) اور آئی آر سی (Indian Religions & Culture) کا لازمی پیپر بھی پڑھایا جاتا ہے۔ان میں اسلامی تاریخ و تہذیب، اسپین میں مسلمانوں کاعروج و زوال، ہندوستان میں مسلمانوں کی آمداورمسلم دور حکومت، مسلمانوں کی تعلیمی و اصلاحی تحریکات ، فنون لطیفہ ، مذہبی علوم یعنی قرآن ،حدیث، فقہ، تصوف اور مسلم فرقوں کا آغاز و ارتقاء وغیرہ جیسے اہم موضوعات قابل ذکر ہیں۔
ایم ۔اے
ایم اے دو سالہ کورس ہے ،جوکم سے کم چار(۴)سمسٹرز اورزیادہ سے زیادہ آٹھ(۸) سمسٹرزپر مشتمل ہے۔کل نمبرات دو ہزار (۲۰۰۰)اور کریڈٹس (Credits)اَسِّی(۸۰) ہیںاور ہر مضمون میں پاس ہونے کے لیے سو(۱۰۰) میں سے چالیس (۴۰)فیصد نمبرات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس میں بہ شمول سی بی سی ایس(۴)(CBCS) اٹھائیس(۲۸) مضامین پڑھائے جاتے ہیں،جن میں مسلم تاریخ، تہذیب و ثقافت، قرآن، حدیث، فقہ، تصوف، مسلم فرقوں،علم کلام،مسلم فلاسفی،اسلام ہندوستان میں،دنیا کے بڑے مذاہب، مسلم اصلاحی تحریکیں،بعض اہم مسلم مفکرین، مستشرقین، غیر مسلموں کی اسلامک اسٹڈیز کے میدان میں خدمات،سائنس،ٹکنالوجی،فنون لطیفہ اور فن تعمیر میں عہد وسطیٰ کے مسلمانوں کی خدمات اور عربی زبان و ادب جیسے اہم عناوین کا تحقیقی و تفصیلی مطالعہ کرایا جاتا ہے ۔
پی ایچ۔ڈی
پی ایچ ڈی کی مدت کم سے کم تین سال(۳)اور زیادہ سے زیادہ پانچ(۵)سال ہے۔آغاز میںچھ مہینے کا ایک کورس ورک ہوتا ہے۔کل نمبرات چار سو(۴۰۰) اور کریڈٹس (Credits) سولہ(۱۶)ہیں،جس میں کام یاب ہوناہر ریسرچ اسکالر کے لیے ضروری ہے ۔اس میں کل چار(۴) مضامین پڑھائے جاتے ہیںیعنی ریسرچ کا طریقہ کار اور کمپیوٹر کا استعمال،اسلامک اسٹڈیز کے بنیادی مآخذ،اسلامک اسٹڈیز-تحقیق کا جدید مضمون،پریکٹیکل ورک یا ٹرم پیپر۔
پی ایچ ۔ڈی اسلامک اسٹڈیز کے میدان میں کسی بھی موضوع پر کی جاسکتی ہے۔ریسرچ اسکالر کو موضوع کے انتخاب کی پوری آزادی ہوتی ہے اوروہ فکری طور پر اپنے مشرف سے دلائل کی بنیادپراختلاف بھی کر سکتا ہے۔۲۰۲۲ تک بہ حیثیت مجموعی ایک سو ایک(۱۰۱)ریسرچ اسکالرس نے مختلف موضوعات پر پی ایچ ڈی کی ہے،نیز تقریباً چھبیس(۲۶)ریسرچ اسکالرس کا اندراج ہے،جن کی پی ایچ۔ڈی جاری ہے۔
پرائیوٹ کورسز(بی۔اے-ایم۔اے)
شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے ایسے طلبہ وطالبات جنہیں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کسی وجہ سے میسر نہیںہیں ،ان کے لیے بھی گریجویشن(تین سال)اور ماسٹر(دو سال)کی ڈگری لینے کی سہولت دی ہے۔ان کا نصاب بھی الگ سے متعین ہے اور سال میں ایک بار امتحان لیا جاتا ہے،البتہ ان کی کلاسز نہیں ہوتی ہیں۔ہر سا ل طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداداس شعبے سے مستفید ہوتی ہے۔
ہم نصابی سرگرمیاں
شعبہ میں طلبہ و طالبات کو تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے بھی نکھارا اور تراشا جاتا ہے۔گریجویشن،ماسٹر اور پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات میں اسے فروغ دینے کے لیے مختلف طرح کے پروگرام ہیں،ان میں سے بعض شعبہ کے قیام سے ہی جاری ہیںاور کچھ پروگرام کی شروعات موجودہ صدر شعبہ،پروفیسر سید شاہد علی کے مطابق حال میں یوجی سی(The University Grants Commission- 1953)کے تقاضوں کے مطابق ہوئی ہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
بزم طلبہ
بزم طلبہ کا قیام شعبہ کے قیام (۱۹۸۸)کے ساتھ ہی ہواتھا۔صدر شعبہ ہی اس کے صدرہوتے ہیں اور وہی حسبِ خواہش شعبہ کے کسی استاذ کو اس تنظیم کا مشیر مقرر کرتے ہیں جو ہر سال طلبہ و طالبات میں سے نائب صدر،جنرل سکریٹری ،دومعاون سکریٹری اورممبران کا انتخاب کرتے ہیں،نیزبزم طلبہ کے ممبران ہر کلاس کے نمائندے (CRS)ہوتے ہیں۔اس کے مشیر بالترتیب پروفیسر ماجد علی خان، پروفیسر رضی احمد کمال،پروفیسر اقتدار محمد خان،جناب جنید حارث ،ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر محمد مشتاق رہے ہیں اورفی الحال اس کے مشیر ڈاکٹر خورشید آفاق ہیں۔ اس کے تحت طلبہ علمی و ثقافتی سرگرمیوں:استقبالیہ و الوداعیہ، قرأت،نعت،غزل گوئی،بیت بازی، مضمون نویسی،برجستہ مضمون نویسی، پینٹنگ، سلوگن رائٹنگ،مباحثہ،برجستہ شاعری،ڈرامہ،نکڑ ناٹک، کوئز مقابلہ،فوڈ مقابلہ اوراسپورٹس ڈے وغیرہ جیسے اہم پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔
صدائے جوہر
شعبہ کے طلبہ و طالبات اپنی قلمی کاوشوں کے فروغ و اظہار کے لیے بانی جامعہ مولانا محمد علی جوہر کی مناسبت سیــــــ’صدائے جوہر‘ کے نام سے ماہانہ جداری رسالہ اورسال کے آخر میں کسی اہم موضوع پر سالانہ شمارہ نکالتے ہیںجس کی ادارت سے اشاعت تک کے تمام مراحل ان ہی کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔اس مجلہ کی ایک کمیٹی ہوتی ہے جس کے لیے ہر سال انتظامی مدیر،مدیر،نائب مدیر،معاون مدیر اور ممبران کا انتخاب کیا جاتا ہے۔مضامین اردو،انگریزی اور ہندی تینوں زبانوں میں ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ مختلف ’ڈیز‘(Days) جیسے ’یوم تعلیم‘،’یوم تاسیس‘ اور’ویجلنس بیداری ہفتہ‘ کے تحت قومی سیمینار،مضمون نویسی کے مقابلے اور کتابچے وغیرہ تیار کرائے جاتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال یعنی ۱۹-۲۰۱۸سے صدائے جوہر کی اشاعت آن لائن بھی ہورہی ہے،اسے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ویب سائٹ (jmi.ac.in) میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پیج سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے،مزید برآں کوشش ہے کہ پچھلے تمام شماروں کو اسکین کرکے انہیں بھی اپلوڈ کیا جائے۔
بزم تحقیق
بزم تحقیق ریسرچ اسکالرس کی تنظیم ہے جس کا قیام ۲۰؍فروری ۲۰۰۹میں ہوااور شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی یہ واحد تنظیم ہے جو باقاعدہ یونی ورسٹی سے رجسٹرڈ ہے۔اس کا بنیادی ڈھانچہ صدر(صدر شعبہ)،مشیر،نائب صدر،جنرل سکریٹری،دو معاون سکریٹری اور خازن پر مشتمل ہے۔اس کا مقصدریسرچ اسکالرس میں تحقیق و تصنیف کا جذبہ پیدا کرنا،ان کے تحقیقی مضامین کومختلف رسائل و جرائد میں شائع کرانا،قومی و بین الاقوامی سیمیناروں میں ان کی شرکت کے مراحل کو یقینی بنانا،ہر مہینے کسی ریسرچ اسکالر کے ذریعے شعبہ میں پیپر پیش کرانا اور لائبریری کی دیکھ بھال کرنا ہے۔اس تنظیم کا ایک آن لائن مجلہ ’ای-جوائے‘(e-JOIS)کے نام شائع ہوتا ہے جس میں ریسرچ اسکالرس کے مختلف موضوع پر مقالات ہوتے ہیں۔
وومن سیل
شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ’وومن سیل‘ کا قیام پہلی بار سابق صدر شعبہ ،پروفیسر محمد اسحق (۲۰۱۶-۲۰۱۹)کے دور میں عمل میں آیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کا پورا نظام خواتین کے ہاتھوں میں اورخواتین کے لیے ہی ہوتا ہے۔اس کا مقصد شعبہ کی طالبات کی صحیح رہنمائی،تربیت اوران کے مسائل کو حل کرنا،نیز خواتین سے متعلق موضوعات پر مختلف سیمینار ،پروگرام اورمقابلے وغیرہ کا انعقاد کرانا ہے۔
رائٹرس لیب
رائٹرس لیب میں بی اے،ایم اے اور پی ایچ ڈی کے طلبہ وطالبات شریک ہو سکتے ہیں ۔اس کا بنیادی مقصد طلبہ وطالبات میں تحریری صلاحیتوں کو بیدار کرنااورنکھارنا ہے تاکہ شعبہ سے اسلامک اسٹڈیز کے مختلف میدانوں میںتحقیق و تصنیف کے علاوہ شعر و شاعری، کہانیاں، ناول نگاری، افسانہ نگاری،ڈرامہ نگاری اور ڈاکومنٹری یا اسکرپٹ وغیرہ جیسے اہم میدانوںکے ماہر قلم کار پیدا ہو سکیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ان کے درمیان تحریری مقابلے،لکھے گئے مضامین کی ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں اشاعت،اخبارات کے لیے خبریں تیار کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت اور مختلف ماہرین کے خطاب وغیرہ کرائے جاتے ہیں۔
ڈیبیٹ اینڈ ڈائیلاگ سوسائٹی
ڈیبیٹ اینڈ ڈائیلاگ سوسائٹی کے قیام کا مقصد طلبہ وطالبات کو مختلف موضوعات پر بحث ومباحثہ کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ وہ ٹی وی، سوشل میڈیا ،یو ٹیوب اور اسی قبیل کے دیگر میدانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی کرنے کے ساتھ ساتھ جدید مسائل میں دنیا کی رہ نمائی کرسکیں۔دیکھا جائے تو یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے،بالخصوص ہندوستان کے موجودہ حالات میں مسلم تاریخ کو جو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس کے دفاع میں یہ سوسائٹی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اس حوالے سے طلبہ و طالبات کی تربیت کے لیے ان کے درمیان مختلف موضوعات پرباہمی مقابلے اورعملی میدان کے ماہرین کے لیکچرزاور ویڈیوز وغیرہ کرائے یادکھائے جاتے ہیں۔
روزگارسیل
عام طور پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں داخلہ لینے کی خواہش رکھنے والے یایہاں سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے ذہنوں میں ایک اہم اور بنیادی سوال آتا ہے کہ تعلیم کے حصول کے بعد ہمارا ذریعہ معاش کیا ہوگا ؟کن میدانوں میں ہمیں نوکری مل سکتی ہے؟ اسی تعلق سے اس کا قیام عمل میں آیا ہے اوراس کا مقصد طلبہ وطالبات کوروزگار کے مختلف میدانوں کے تعلق سے معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ معاشی طور پرفکرمند نہ ہوں۔اس کا بنیادی ڈھانچہ ایک مشیر اور بعض دیگر ممبران پر مشتمل ہے جس میں شعبہ کے وہ فارغین جو زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں،کو شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے تجربات سے طلبہ وطالبات کو فائدہ پہنچا سکیں۔اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
٭ڈاکٹر نسیم گل،اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیز،بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی،راجوری،جموں کشمیر٭سید حبیب الرحمان،اسسٹنٹ پروفیسر،فاروق کالج،کالی کٹ٭ڈاکٹر شبیب خان،اسسٹنٹ پروفیسر،(Safi Inst. of Advanced Study, Vazhayoor, Mallappuram)٭ڈاکٹر فیصل بابو،لیکچرر،(Mes Kalladi College, Mannarkkad, Palakkad)٭ڈاکٹر جعفر علی،لیکچرر(اسلامی تاریخ)(D.G.MM.E.S Mampad College)٭ڈاکٹر حسن شریف، اسسٹنٹ پروفیسر،(Safi Inst. of Advanced Study, Vazhayoor, Mallappuram)٭ڈاکٹر فنسر محمد،اسسٹنٹ پروفیسر، (T.K.M. College of Arts & Science)٭ڈاکٹر وکٹر ایڈون(Teacher of Islam, Christian-Muslim Relations and interreligious Dialogue at Society of Jesus, Delhi)٭ڈاکٹر شیر محمد ابراہیمی(Diplomate, Ministry of Foreign Affairs of Afghanistan)٭ڈاکٹر شکنتلا فنسر،اسسٹنٹ پروفیسر،(University College, Thiruvananthapuram)٭ڈاکٹر الطاف حسین یاتو،اسسٹنٹ پروفیسر،گورنمنٹ ڈگری کالج،ٹینگدھار،کرناہ،کشمیر٭ڈاکٹر زین العابد ٹی،اسسٹنٹ پروفیسر،(MES Kalladi College)٭ڈاکٹر محمد سراج الدین،اسسٹنٹ پروفیسر،مولانا آزاد یونی ورسٹی، لکھنؤ٭ڈاکٹر امان اللہ فہد،جامعہ سینئر سکنڈری اسکول،نئی دہلی٭جناب قمرالدین،ہمدرد پبلک اسکول،نئی دہلی ٭محمد بن حسین، سکنڈری ٹیچر(Sh. Atoll Education Centre Ministry of Education, Maldives)٭جناب محمد ابوطلحہ،البلاغ پبلی کیشنز،نئی دہلی٭جناب جمال اختر،فوٹو جرنلسٹ،پریس انفارمیشن بیورو،دہلی٭جناب ناصرحسین قریشی،(News Reader & Anchor at TV9, Chandigarh)٭جناب حسان خان،(CEO, SGH-Shurouq Global Health, Delhi)
ابنائے قدیم
ابنائے قدیم کا مقصدملک و بیرون ملک میں موجود شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ و طالبات کو باہم جوڑنا ہے تاکہ شعبہ سے ان کا تعلق قائم و دائم رہے اورشعبہ کی ترقی،خدمات نیزدیگرخبروں سے واقف ہوتے رہیں۔مزید برآں وہ اپنے تجربات کا تبادلہ خیال کر سکیں اوراپنے مفید مشوروں،بالخصوص روزگار کے مواقع کے حوالے سے طلبہ وطالبات کی رہ نمائی کر سکیں۔اس حوالے سے ان کا واٹس اپ پر ایک گروپ "JMIIslamicStudiesAlumni”کے نام سے اور فیس بک پر ـ”ARIS”کے نام سے ایک پیج موجود ہے جن میں شعبے کے فارغین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
یوٹیوب چینل
سابق صدر شعبہ پروفیسر سید شاہدعلی کی سربراہی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کا ایک یوٹیوب چینل "departmentofislamicstudies jmi-YouTube” کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔اس کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات کو اسلامک اسڈیز کے میدان میں ماہر اور مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔اس میں بی اے،ایم اے اور پی ایچ۔ڈی وغیرہ کے نصاب کے تعلق سے ویڈیوز اپ لوڈ کی جائیں گی،جس سے شعبہ کے ریگولر اور پرائیوٹ دونوں طرح کے طلبہ وطالبات استفادہ کر سکتے ہیں۔اس کا لنک "https:/ /www.youtube.c om/ channel/U COx7giLc SuxA Ufzn yv4pxhA”ہے۔
ا سپورٹس کلب
بانیانِ جامعہ نے پڑھائی کے ساتھ کھیل پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔اس سلسلے میں۱۹۷۱میں پہلی بار باقاعدہ تربیت یافتہ فزیکل ایجوکیشن ڈائریکٹر کی تقرری ہوئی اور اس کے بعد سے اب تک جامعہ کھیل کے میدان میںمسلسل ترقی کرتا رہا ہے اوراس نے ملک کو قومی اور بین الاقوامی سطح پرکئی ایسے نامور کھلاڑی دیے ہیں جنہوں نے اپنے عمدہ اور لاجواب کھیل سے ملک کا نام روشن کیا ہے۔شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے بھی اپنے طلبہ وطالبات کی ذہنی وجسمانی نشو ونما اورتفریح کے لیے ایک ’اسپورٹس کلب‘ قائم کیا ہے۔اس کا مقصد طلبہ و طالبات کو مختلف کھیلوں، ورزشوں اور بالخصوص طالبات کو دفاعی طریقہ کار سے واقف کرانا ہے۔ اس حوالے سے اس میدان کے ماہرین کے پروگرام بھی کرائے جاتے ہیں۔
تدریسی خدمات
فارغین شعبہ کی ایک بڑی تعدادملک و بیرون ملک کی مختلف یونی ورسٹیز،کالجز اور اسکولوںمیں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہی ہے،ظاہر ہے کہ اس مقالے میں سب کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے ،البتہ بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے:
٭پروفیسر فہیم اختر ندوی،شعبہ اسلامک اسٹڈیز،مولانا آزاد یونی ورسٹی حیدرآباد٭ڈاکٹر صفیہ عامر،اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدرد،نئی دہلی٭ڈاکٹر وارث متین مظہری،اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدرد،نئی دہلی٭ڈاکٹر شکیل احمد،اسسٹنٹ پروفیسر ،مولانا آزاد یونی ورسٹی،حیدرآباد٭ڈاکٹر محمد عرفان احمد،اسسٹنٹ پروفیسر،مولاناآزاد یونی ورسٹی حیدرآباد ٭ڈاکٹر عبدالوارث خان،جامعہ سینئر سکنڈری اسکول،نئی دہلی٭ڈاکٹر نجم السحرثاقب،صدر شعبہ،دہلی پرائیوٹ اسکول، دبئی٭ڈاکٹر انعام الرحمن رفیقی،صدیق فیض عام،انٹر کالج،کان پور٭ڈاکٹر عابدہ کوثر،اسسٹنٹ پروفیسر،گورنمنٹ ڈگری کالج،سوپور، کشمیر٭ڈاکٹر اکرم رضا، مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونی ورسٹی،پٹنہ٭ڈاکٹر زہرہ فاطمہ، گورنمنٹ بوائز اسکول،نور نگر،اوکھلا،نئی دہلی ٭محترمہ شمع پروین،جامعہ گرلس سینئر سکنڈری اسکول،نئی دہلی٭محترمہ سنبل اعجاز،جامعہ گرلس سینئر سکنڈری اسکول،نئی دہلی٭محترمہ صدف مشرف،ہمدرد پبلک اسکول،دہلی ٭جناب زاہد انور،فوقانیہ،مدرسہ حضرت امام حسین اسلامیہ عالیہ،مسرولی،کشی نگر،یوپی ٭جناب محمد شعیب،الفلاح یونی ورسٹی،نئی دہلی۔
علمی خدمات
شعبہ سے وابستہ سابق؍موجودہ؍عارضی؍سابق عارضی اساتذہ کرام نے ہی اسلامک اسٹڈیز کے مختلف گوشوں پر اردو، انگریزی اور ہندی زبان میں اپنی کتابیں،کتابچے،تراجم اور مقالات تصنیف،تالیف اور ترتیب دیے ہیں جن کا تعلق قرآن،تفسیر، حدیث،فقہ، تصوف، سیرت،اسلامی تاریخ،برصغیر کے مسلم حکم رانوں کی تاریخ، اسلامی تحریکات،مسلم مفکرین اور صالحین کے حالات اورافکار و نظریات، تحریک آزادی ہند میں مسلمانوں کی خدمات ،جدید مسائل اوراسلامک اسٹڈیز میں غیر مسلموں کی خدمات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ طوالت کے پیش نظر یہاں بعض کتابوں ؍کتابچوں؍تداوین؍تراجم کے نام کا صرف ذکر کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ راقم الحروف نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے باقاعدہ قیام کے بعد کے اساتذہ کرام کی خدمات کا ذکر کیا ہے اور یہ حتمی یا مکمل فہرست نہیں ہے۔
سابق اساتذہ کرام کی تصانیف؍تالیفات؍کتابچے ؍تراجم
پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی:٭سیاسی نظریے – افلاطون اور ارسطو ٭اشخاص و افکار ٭جدیدترکی ادب کے ارکان ـثلاثہ ٭ حضرت جنید بغدادیؒ-شخصیت اور تصوف٭شہید جستجو-ڈاکٹر ذاکر حسین٭اسلام میں راسخ الاعتقادی-بیچ کی راہ ٭مولانا ابوالکلام آزاد-فکر و نظر کی چند جہتیں٭مولانا ابوالکلام آزاد-آزادی کی طرف٭مسلمانوں کا تعلیمی نظام٭ مجیب صاحب احوال و افکار٭اسلام اور بدلتی دنیا ٭ذاکر صاحب اپنے آئینہ لفظ و معنی میں٭ زگار معنی -انتخاب اشعار فارسی(تقدیم و انتخاب)٭ فکراسلامی کی تشکیل جدید(شریک ِمرتب)
پروفیسر مشیر الحق:٭امریکہ کے کالے مسلمان٭انیسویں صدی میں ہندستانی مسلمان-رویہ اور رجحان٭مذہب اور ہندستانی مسلم سیاست کل اور آج٭مذہب اور جدید ذہن٭مسلمان اور سیکولر ہندوستان٭شاہ عبدالعزیز-ان کی زندگی اور وقت(انگریزی) ٭فکر اسلامی کی تشکیل جدید(شریک ِمرتب )٭اسلام دور حاضر میں-ویلفرڈ کینٹویل اسمتھ(مرتب)٭رسول اکرمؐ اور یہود حجاز(ترجمہ)
پروفیسر عماد الحسن آزاد فاروقی :٭دنیا کے بڑے مذاہب٭عشق اور بھکتی٭اسلامی تہذیب و تمدن -مغربی ایشیائی ورثہ ٭ہند اسلامی تہذیب کا ارتقاء(تہذیبی لین دین اور فنون لطیفہ)(مرتب)٭ہندوستان میں اسلامی علوم و ادبیات(مرتب)
پروفیسر ماجد علی خان:٭اسلام کا فلسفہ سیاست: مغربی افکار سیاست کے پس منظر میں٭سیرت خاتم النبیینؐ٭مقدس آیات ٭خلفائے راشدین٭حضرت محمدؐ -آخری نبی
پروفیسر اختر الواسعـ:٭ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیم٭سرسید کی تعلیمی تحریک٭ہنداسلامی طرزِ تعمیر(ترجمہ)٭ہمارا ملک بھارت (ترجمہ)٭سبق آموز کہانیاں(ترجمہ)٭ہرات میں اسلامی شکشا کے کیندریہ(ہندی ترجمہ)٭اسلام تعارف وتاریخ(شریک ِمرتب) ٭روشنی کا سفر(اسلامی تصوف کے بنیادی سنگ میل)٭کچھ او ر چاہیے وسعت٭مولانا محمد علی جوہر میموریل ایوارڈس(۱۹۹۱)٭افکار ذاکر(ڈاکٹر ذاکر حسین کی منتخب تحریریں(شریک ِمرتب)٭دانائے راز اناماری شمل(شریک ِمرتب)٭اسلامی بصیرتوں کے عصری ترجمان پروفیسر مشیر الحق(شریک ِمرتب)٭جہانِ دیگر حیرت بن واحد(ترتیب وتہذیب)٭خامۂ خسرو(پروفیسر علی محمد خسروکے علمی،ادبی مضامین کا مجموعہ)(شریک ِمرتب) ٭مولانا آزاد کی قرآنی بصیرت(شریک ِمرتب)٭معلم تہذیب خواجہ غلام السیدین(شریک ِمرتب) ٭ماضی آگاہ،مستقبل نگاہ شبلی نعمانی(شریک ِمرتب)٭مستشرقین اور انگریزی تراجم قرآن(پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کے مضامین)(مرتب)٭فقہ اسلامیـ:تعارف اور تاریخ۔
پروفیسر شیث محمد اسماعیل اعظمی:٭عہدسلطنت کے فقہا،صوفیا اور دانشوروں کی نظر میں ہندو کی حیثیت٭دراسات اسلامیہ کے فروغ میں ہندوؤ ں کی خدمات٭قفس رنگ (شعری مجموعہ)
پروفیسر رضی احمد کمال: ٭حالات وخدمات مشائخ چشتیہ صابریہ٭جمیعت علمائے ہند ۱۹۴۸ سے ۲۰۰۳تک٭ مختصر تاریخ مشائخ اودھ٭ہندوستانی عہد وسطی پرمسلم ثقافتی اثرات٭تحریک آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں۔* A Studay of Major Indian Religions. *History of Sufi’ism under Publication.
پروفیسر فریدہ خانم:٭مولانا مودودی : شخصیت اور تحریک،ایک علمی جائزہ ٭امہات المومنین *Islam and the Five Basic Human Values. *A Study of World’s Major Religions. *Sufism: An Introduction. *A Simple Guide to Islam. *A Study of Islam. *The Quran, Explanatory notes translated and edited with Dr Saniyasnain Khan. *Life and Teachings of the Prophet.
موجودہ اساتذہ کرام کی تصانیف؍تالیفات؍کتابچے؍تراجم
پروفیسر اقتدار محمد خان:٭۱۹۴۷کے بعد ہندوستان میںاسلامی تحریکیں٭اسلامی نظام حکومت اور ایران٭تبلیغی جماعت ٭بھارت میں مسلم دھارمک سنگٹھن۔
پروفیسر محمداسحاق:٭عہدوسطی کے شمالی ہندمیں غیرمقلدانہ صوفی طریقے٭اندلس اورسسلی کی مسلم تاریخ وثقافت٭قرآن علم و معرفت کی شاہ کلید٭اسلامی تہذیب و تمدن (شریک مرتب)* Religion & Morality (Edited) * Relevance of Religion in the Contemporary age (Edited)
پروفیسر سید شاہد علی:٭اردوتفاسیر بیسوی صدی میں٭مسلمانان ہند٭اسلام- ایک تعارف٭اسلام کے بارے میں ٭اخلاقیات قرآن ٭حکمت قرآن٭شیطان اور انسان:اسلام کے سندربھ میں٭میراجیون اورقرآن ٭قرآن اورانسان: اکیسویں صدی میں٭انسان زندگی اور اسلام٭زندگی:کیا اور کیوں؟٭اسلام اورانسان(کتابچہ) ٭زندگی ایک امتحان٭سوچنا ضروری ہے ٭انسانی آپتیوں کے خدائی جوابات(کتابچہ)٭ہندوستان میں دعوت دین:مسائل وامکانات(کتابچہ)٭قرآنی نصیحتیں(کتابچہ)
جناب جنیدحارث:٭عظمت ہند:سلطان ٹیپو٭ہندوستان:ثقافت و ورثہ(مرتب)
ڈاکٹر محمد ارشد:٭مشرق وسطی (عرب عوامی بیداری کے بعد)٭مغرب اوراسلامی بنیادپرستی٭اسلام تعارف وتاریخ(شریک مرتب)٭روشنی کاسفر (مرتب)٭ہندوستانی مسلمان(مرتب)
ڈاکٹر محمد مشتاق:٭دہشت گردی اور اسلامی تعلیمات٭غالب اور الور٭بر صغیر ہند میں اشاعت اسلام کی تاریخ٭سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی٭ہندوتوا -ایک تحقیقی مطالعہ٭فضلائے دیوبند کی قرآنی خدمات٭شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تجدید فکر اسلامی (ترجمہ) ٭تصوف اور شریعت(ترجمہ)٭عصر حاضر میں فتویٰ کی تبدیلی کے اسباب(ترجمہ)٭نصرت اللہ خان شیروانی کا سفر حجاز (مرتب) ٭تذکرہ خواتین صوفیہ(ترجمہ)٭اولاد کی تربیت(کتابچہ)٭جہیز اور وراثت اسلامی نقطہ نظر سے(کتابچہ)٭صفائی ستھرائی اور اسلام(کتابچہ)٭ہندوستانی مذاہب میں توحید،رسالت اور آخرت کا تصور(کتابچہ)
ڈاکٹر محمد خالد خان :٭تحریک اہل حدیث: آغاز،محرکات اور خدمات ٭مولاناابوالمجاہدزاہد:فکر اورفن(شریک مرتب)٭دل ربابیوہ (ترجمہ)
ڈاکٹر محمد عمر فاروق:٭مسلم اسپین :تہذیبی وثقافتی تاریخ٭خانگی تشددسے تحفظ خواتین بل۲۰۰۵اور قانون۲۰۰۶(ترجمہ)
ڈاکٹر خورشید آفاق:٭شہید شبلی:مولانا ضیاء الدین اصلاحی کے احوال و افکار کا مطالعہ(زیر طبع)
عارضی اساتذہ کرام کی تصانیف؍تالیفات(۲۰۲۰ء تک)
ڈاکٹر محمد تحسین زماں:٭ چند اہم مفسرین اور ان کی تفسیریں٭عرب وعجم کے چند اہم مفسرین اور ان کی تفسیریں(ہندی )
ڈاکٹر محمداسامہ:٭مولاناصدرالدین اصلاحی:بعض فکری جہات کامطالعہ٭مشترکہ خاندانی نظام اور اسلامی نقطہ نظر(کتابچہ) ٭برصغیر میں نعت گوئی اور چند ہندونعت گوشعرا(کتابچہ)
ڈاکٹر جاوید اختر:*A handbook on Islam. *Jamia Millia Islamia and its contribution to Islamic Studies :A chronological study from 1920 to 2011
ڈاکٹر تمنامبین اعظمی:٭مسلم خواتین کے سماجی ومعاشی حقوق واختیارات :غلط فہمیوں کاازالہ۔
ڈاکٹر محمدمسیح اللہ:٭ ہندوستان میں تہذیب اسلامی کے آثار(زیر طبع)
ڈاکٹرندیم سحرعنبریں:٭خواتین اور خدمت قرآن٭دور حاضر کی چنداہم مفسرات قرآن٭قرآنیات میں خواتین کے تحقیقی مقالات۔
ڈاکٹرانیس الرحمان:٭اسلامی علوم ومعارف٭حکمت قرآن(ترجمہ)٭علم حدیث میں علماء بہار و جھارکھنڈ کی خدمات(زیر طبع)
ڈاکٹر عمار عبدالحی:٭سرسید احمدخان اور مولانامحمدقاسم نانوتوی کے تعلیمی تصورات۔
سابق عارضی اساتذہ کرام کی تصانیف؍تالیفات؍تراجم
ڈاکٹر صفیہ عامر:* Muslim Nationhood in India: Perceptions of Seven Eminent Thinkers.
ڈاکٹر نجم السحر ثاقب:٭مولانا آزاد کی صحافت میں جذبۂ حریت اور انسانی آزادی کا تصور٭گاندھی کی معنویت:ایک شخص اور فکر کی حیثیت سے(ترجمہ)٭عالمی تہذیب و ثقافت پر اسلام کے اثرات(ترجمہ)٭اسلام اور ہندو مذہب کی مشترکہ باتیں(ترجمہ) ٭مسلم پرسنل لا میں مسلم عورتوں کے حقوق(ترجمہ)
ڈاکٹر وارث مظہری:٭اسلام کا نظریہ اعتدال٭ہندوستانی مدارس کا تعلیمی نظام اور اس میں اصلاح کی ضرورت:ایک جائزہ ٭قرآن کی تعلیمات اور عصر حاضر٭دعوت فکر و عمل٭دینی مدارس اور دہشت گردی:الزام اور حقیقت٭دینی مدارس:عصری معنویت اور جدید تقاضے(ترجمہ)٭برطانوی ہند میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست:احمد رضا خان بریلوی اور ان کی تحریک ۱۸۷۰-۱۹۲۰(ترجمہ) ٭مدارس کے نصاب میں اصلاح کی ضرورت(ترجمہ)٭عقیدہ اور انسان(ترجمہ)٭رسالہ توحید(ترجمہ)٭شادی اور اسلام (کتابچہ)٭شراب-ام الخبائث(کتابچہ)٭اسلام کیا ہے؟(کتابچہ)
ڈاکٹر نجم السحر:٭عورت اسلام کے سائے میں٭مسلم تانیثیت کے جدید رجحانات-آمنہ ودود،فاطمہ مرنیسی اور مریم جمیلہ کے افکار کا تجزیاتی مطالعہ۔
ڈاکٹر زبیر ظفر خان:*Muslim Development Index 13. *Thought of Maulana Abul Hasan Ali Nadvi. *Muslim Progress Scan. *Muslim Progress Index. *Muslim Progress Index A. *Some inspiring stories of coexistence and cooperation between Muslims and Jews.
ڈاکٹر عابدہ کوثر:*Islam Perceptions and Perspectives. (Edited)
ڈاکٹر الطاف حسین یاتو:*The Islamization of Kashmir (Role of Muslim Missionaries) *Muslim Reform Movements (A Brief Introduction). *The Emergence of Islam in Kashmir (Role of Sheikh Nooruddin Noorani) *Islam: The Noble Path. (Booklet) *Da’wah of Islam: The Mission of the Prophets.(Booklet) *The Legacy of Kashmir (A Study of the Ancient Faiths of Kashmir)(Booklet)
درج بالا تفصیلی مطالعہ سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامک اسٹڈیز کے میدان میں شعبے کی اہم خدمات ہیںاوراس کا اعتراف شروع سے ہی ملک و بیرون ملک کی مختلف شخصیات اور کالجوں اور یونی ورسٹیوں سے آنے والے وفود نے کیا ہے،نیز اس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مزید ترقی کے لیے مفید مشوروں اور قابل قدر تجاویز سے بھی نوازا ہے۔بیرون ملک سے امریکہ، جرمنی،جاپان، مصر، برونئی، ترکی، ایران، انڈونیشیا، ملیشیا،شام،افریقہ،موریشس اورافغانستان وغیرہ جیسے اہم ممالک کے نام قابل ذکر ہیں۔
٭٭٭
ڈاکٹر محمد اسامہ
گیسٹ فیکلٹی، شعبہ اسلامک اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی
Mob.No: +91-9911319959
Email :usama9911@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

