میرٹھ28؍ مارچ2023ء
آج یہاںاٹل بہاری واجپئی آڈیٹوریم،واقع چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو اور یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) کے مشترکہ اہتمام میںعالمی یوم ڈراما کے موقع پر ڈرا ما’’آپریشن وائٹ مون‘‘ اسٹیج کیا گیا جس کو ناظرین نے خوب پسند کیا اور تالیوں کی گڑ گڑا ہٹ سے ارا کین ڈرامہ اور اداکاروں کو حوصلہ بخشا۔ڈرامہ ’’آپریشن وائٹ مون‘‘معروف ادیب و ڈرامانگار گربچن سنگھ کا کا تحریر کردہ ڈرا ما ہے جس کا ڈا ئریکشن بھارت بھوشن شرما نے کیا۔
اُپٹا نے ہر سال کی طرح امسال بھی اسٹیج اورڈراما نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے وا لوں کو ایوارڈ سے سر فراز کیا ۔ ان ہستیوں میں ہری پرکاش شرما،پورن چند آ ہوجہ،سریندر شرما، سریش شرما،مہیندر کوشک، مدھو بھوشن شر ما،سدیش یادو اور ان کے علا وہ رنگ منچ کی کچھ اور ایسی شخصیات شامل رہیں جنہوں نے اس صنف کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی پورے عزم و حوصلے سے ساتھ میدان میں قدم جما ئے ہوئے ہیں، ان میں درپن کلا کیندر کے ونود کمار بے چین،میرٹھ رنگ منچ کے اوم دت راجپوت، لہر سنستھا کے انوج شرما،ڈاکٹر اروند تیواری اور فری لانس ادا کارہ کی حیثیت سے سبھی تنظیموں کے ساتھ کام کر نے والی سیما سمر کو اعزاز سے نوازا گیا۔طویل عرصے تک رنگ منچ کے لیے نمایاں خدمات دینے والے سینئر رنگ کرمی آنجہانی سریندر کوشک، شانتی ور ما(اِپٹا) دو ایسی عظیم شخصیتیں ہیں جن کو بعد از مرگ اس اعزاز سے نوازا گیا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آ غازمہمانان نے شمع روشن کر کے کیا۔اس مو قع پر مہمانان خصوصی کی حیثیت سے یونیورسٹی کے فائننس کنٹرولرایف۔سی رمیش چندرا ،معروف ڈراما نگار نیرج شرما،شریک ہوئے جب کہ مہمانان ذی وقار کے بطور پروفیسر بندو شرما (صدر ،ویمنس سیل) اور جے پی سنگھ (سیل ٹیکس کمشنر)نے شرکت کی۔صدارت کے فرا ئض معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری اور،نظامت ڈاکٹر آصف علی اور سیما سمر نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نیرج شر ما نے کہا کہ میرٹھ ڈرامے کے میدان میں مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہاں کی تنظیمیں دہلی میں جاکر اپنا پرچم لہرا تی ہیں اور ایوارڈ حاصل کرتی ہیں۔آج کا ڈرا ما بہت خوب رہا اور سبھی اداکاروں نے خصوصاً رو پالی گپتا نے جس اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے وہ کمال ہے۔ ان کا مستقبل شاندار ہے۔ بہترین ڈرا ما کے لیے پوری ٹیم کو مبارک باد۔
ایف۔سی رمیش چندرا نے کہا کہ واقعی ڈراما لا جواب تھا اور بہت خوبصورتی سے سبھی کرداروں نے اپنی ادا کاری کا مظاہرہ کیا۔اور اس کو اسی بنا پر سماج کا آئینہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ ہمارے معاشرے میں ہو تا ہے اسے فن کاری کے ذریعے خوبصورتی سے پیش کردیا جاتا ہے۔آج اس آڈیٹوریم میں لوگوں کی موجودگی بہت کم رہی اور یہ بہت افسوس ناک ہے۔ایسے پروگراموں میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔
اپنے صدار تی خطبے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ کی ان کامیاب پیش کشوں نے،میرٹھ کی رنگ منچ کی دنیا کو کامیابی سے ہمکنار کر نے کی بہترین کوشش کی ہے۔ سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔عوام کی اس پسنددیدگی نے ہمیں حو صلہ عطا کرنے کے ساتھ اس تحریک کو جا ری رکھنے کی ترغیب دی ہے۔
ڈرامے کے اہم کرداروں میں ونود کمار بے چین،روپالی گپتا، آرین خان، اُجول سنگھ اور بھارت بھوشن شرما نے ادا کاری کے جو ہر دکھائے۔میک اپ اور اسٹیج کی تزئین کاری عابد اور ساجد سیفی جب کہ بیک گرا ئونڈ موسیقی انل شر ما نے پیش کی۔
اس مو قع پرڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر ارشاد علی،سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد، مہیش تیاگی، جتن سروپ، انجینئر منوج کمار، انجینئر مشرا، عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

