میرٹھ11؍ دسمبر2021
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں چل رہے تین روزہ سیمینار کا آج دوسرادن تھا جوایک اجلاس پر مشتمل تھا۔جس کی صدارت صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اور نظا مت کے فرائض عظمیٰ پروین اور دلکش نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔
یہ اجلاس صبح 11؍ بجے شروع ہوا۔جس میں شا ہانہ پروین نے’’نظم جدید کے احیاء میں اسماعیل میرٹھی کا حصہ‘‘،نشاء سیفی نے’’اردو نظم کے فروغ میں انجمن پنجاب کا حصہ‘‘،سمانا نے ’’ترقی پسند شاعر: فیض احمد فیض‘‘،افشاں خانم نے’’فکر اقبال کے بنیادی عناصر‘‘،ریبا عارف نے’’اسرار الحق مجاز کی نظم نگاری‘‘،عرشی خان نے’’محمد حسین آزاد بحیثیت نظم نگار‘‘،ارم پروین نے’’مجاز کی شاعرا نہ خصوصیات‘‘،عذرا پروین نے’’اردونظم کی روا یت : ایک جائزہ‘‘شاہ نور نے’’غالبؔ کے معاصرین‘‘علینانے’’حافظ محمود شیرانی کے تحقیقی کارنامے‘‘محمد عمران نے ’’فیض احمد فیض کی انفرادیت‘‘ نایاب پروین نے ’’قطب شاہی دور کا ادبی منظر نامہ ‘‘، دلکش نے’’بہمنی دور:ایک جائزہ‘‘حفصہ نے’’پریم چند بحیثیت افسانہ نگار‘‘ ، انکت کمار نے ’’ کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری :ایک جائزہ ‘‘،’’روزا نے مثنوی کا فن اور روایت‘‘،’’شبنم نے’’میر امن کی طرز نگارش‘‘،’’فرح ناز نے’’ اردو نظم کی روایت: ایک جائزہ‘‘،شفاء نے’’ اقبال کی شاعری میں حب الوطنی‘‘،عظمیٰ پروین نے ترقی پسند تنقید:ایک جائزہ‘‘ راحیل نے’’ میرؔ کا تغزل‘‘اور فاروق شیروانی نے’’ قصیدہ نگاری کا نقش اول‘‘ موضوعات پر مقالے پیش کیے۔
آخر میں تین طالب علموں نے سیمینار سے متعلق اپنی رائے پیش کی بعد ازاں صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے طلباء سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ایک اچھے مقالے کے لیے مواداور پیش کش کے ساتھ تلفظ کا درست ہو نا نہایت ضروری ہے اوراس کے لیے نصابی مطالعے کے ساتھ ساتھ خارجی مطالعہ بھی ضروری ہے۔طلبا مزید محنت کرتے ہو ئے شعبہ اور یونیورسٹی کا نام روشن کریں۔ اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر شاداب علیم اور ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سیمینار میں،ہما ،دہلی یونیورسٹی، سعید احمد سہارنپوری فرح ناز،گلناز،فیضان ،محمدشمشاد، اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

