نئ نسل میں بھر پور تخلیقیت ہے:۔نعمان شوق
شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی میں منعقد شعری مقابلے میں زیبا خان،شہلا کلیم،خوشبو پروین، اور نورالزماں انعامات سے نوازے گئے۔
نئ دہلی: شعبئہ اردو دہلی یونیورسٹی کے زیر اہتمام آرٹس فیکلٹی کے کمرہ نمبر ٢٢ میں” بین الجامعاتی شعری مقابلے” کا انعقاد عمل میں آیا ،جس میں حکم کے فرائض معروف شعراء "فرحت احساس اور نعمان شوق ” نے انجام دیے ۔ شعری مقابلے میں دہلی کی تینوں جامعات کے نئ نسل کے شعراء نے شرکت کی،پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے اپنی نوعیت کے اس شعری مقابلے میں 10 شعراء نے اپنے کلام پیش کیے ۔اس موقعے پر پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے صدر شعبہ اردو پروفیسر نجمہ رحمانی نے کہا کہ.
اس شعری مقابلے کا انعقاد اس ایک نکتے کو ذہن میں رکھ کر کیا گیاہے کہ آپ لوگ جو الگ الگ جامعات میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ شعری اور ادبی طور پر سرگرم طلباء اور ریسرچ اسکالر نہ صرف ایک دوسرے سے متعارف ہوں، بلکہ سینیئر شعرا سے اور ساتھیوں سے مشورےاور رہنمائ بھی حاصل کرسکیں جو ان کی تخلیقیت کو جلا بخشنے میں معاون ثابت ہوں۔مجھے پوری امید ہے کہ یہ شعری مقابلہ نئ نسل کے تخلیقی سفر میں مشعل راہ ثابت ہوگا ۔
معروف شاعر نعمان شوق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس شعری مقابلے سے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ نئی نسل اپنے انداز سے سوچنے اور اس کے اظہار کی بے پناہ صلاحیتیں رکھتی ہے۔
معروف شاعر فرحت احساس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئ نسل کے شعراء میں لفظوں پر یقین،گہرائ، مصرعوں کے درمیان ربط،اورجملوں کے درمیان بہترین دروبست پائے جاتے ہیں، ہمارے کلچر سے تخلیقیت کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں ۔
پروفیسر ابوبکر عباد نے اظہار تشکر پیش کیا اور کہا کہ ان پروگراموں کا انعقاد اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ ہمارے طلبہ و طالبات میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ہوسکے ،مجھے خوشی ہیکہ تمام شعراءکا کلام عمدہ ہے ۔
شعری مقابلے میں پہلا انعام زیبا خان،دوسرا انعام شہلا کلیم،تیسرا انعام خوشبو پروین ،اور تشجیعی انعام نورالزماں زمن کو دیا گیا۔
شعری مقابلے کے کچھ پسندیدہ اشعار حاضر ہیں :
برق بن کر گھر جلا کر جاوداں کر دےمجھے
لن ترانی تیری زد پر طورجاں رکھتا ہوں میں
ناصر مصباحی
دنیا دریا دھوپ سفر
خواب کنارہ راہ بھنور
عظمیٰ
قبیلے کا علم بن جاتا تھا پہلے میرا آنچل
کمر سے جھولتی غیرت کی وہ تلوار میں ہی تھی
خوشبو پروین
مجھ میں ہوا کا رنگ شامل رہا مگر
مجھ سے مرے خمیر کا سودا نہ ہو سکا
امتیاز احمد
تمہارے ہونے سے اس زندگی میں خوشیاں تھیں
تمہارے بعد کسی طور پر بھی قرار نہیں
نورالزماں
اے نقش گر یقین کر اچھا نہیں بنا
لا پھر سے کائنات کا نقشہ بناؤں میں
شہلا کلیم
زندگی سانحہ بن گئی ہے عجب دیکھتا ہوں جدھر چونک اٹھتا ہوں میں
محفوظ الرحمان
خلق ہوتی ہوں اسی کوکھ میں مر جاتی ہوں
اے کہانی تیرا کون سا کردار ہوں میں
زیبا خان
پروگرام کی نظامت دہلی یونیورسٹی کے اسکالر ذیشان حیدر نے کی۔
اس پروگرام میں بطور خاص پروفیسر ارجمند آرا،پروفیسر متھن کمار ،ڈاکٹر افسانہ حیات،ڈاکٹرزاہدندیم احسن ،ڈاکٹرفرحت کمال ، ڈاکٹرسنیل کمار ،ڈاکٹر بشیر شاہین اور شعبے کےدیگر اساتذہ کے ساتھ بڑی تعداد میں طلباء طالبات نے شرکت کی۔
تصویر کا کیپشن :پوڈیم پر ناظم اجلاس ذیشان حیدر، اسٹیج پر پروفیسر نجمہ رحمانی، نعمان شوق اور فرحت احساس
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

