میرٹھ:13؍دسمبر2021
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک ادبی پرو گرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبے کے طالب علموں نے مختلف موضو عات پر 10 مقالے پڑھے۔طا لبہ عظمیٰ پروین نے’’ترقی پسند تنقید‘‘ عنوان سے مقا لہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ما رکسی نقاد ادب پارے میں صرف دا خلیت، عشق و محبت یا رو مانی باتوں سے تعلق نہیں رکھتا۔جو ادب عوا م کی ترجمانی نہیں کرتا اسے ترقی پسند تنقید نظر انداز کردیتی ہے۔مارکسی تنقید میں سماجی حا لات، طبقاتی تقسیم، اورتاریخ کے مادی عوا مل کا جائزہ لیتی ہے۔ کیو نکہ اس کے بغیر ادب کا سماجی نقطۂ نظر واضح نہیں ہو تا۔
اسما پروین نے اپنے مقالے ’’اردو میں تحقیق کی روا یت‘‘ میں کہا کہ تحقیق کسی امر کو اس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش کا نام ہے۔یہ بڑا محنت اور جانفشیں طلب کام ہے۔ مو ضوع جتنا چھوٹا ہو اتنا بڑا کام ہو تا ہے۔شعبے کی طا لبہ الینا نے اپنے مو ضوع’’ علی گڑھ تحریک :ایک جائزہ ‘‘ میں کہا کہ علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خان نے ہندو ستانی مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبے کی خا میوں اور خو بیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ان کی ضرورتوں پر غور کرتے ہوئے مصلحانہ کو ششیں کسی خاص شعبے تک محدود نہ رہیں بلکہ انہوں نے مذہب، ادب، سیاست، تعلیم،معاشرت اور سماج غرض کہ ہندو ستانی مسلمانوں کے جملہ مسائل پر توجہ کی۔ اس مو قع پرانکت کمار نے’’ کمپیوٹر ایپلی کیشن میں ڈیز ائنگ اور ای میل کا طریقہ‘‘ ، دلکش نے’’ تحقیق کا مفہوم و روا یت‘‘ رو ضا نے’’ اردوتنقید کی روا یت‘‘،نوازش نے’’ قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری ایک جائزہ، شفا نے’’ جما لیاتی تنقید: ایک جائزہ‘‘،حیات نے’’ ہند یو رپی زبان‘‘ پر اپنے مقالات پیش کیے۔بعد ازاں شعبے صدر پرو فیسر اسلم جمشید پوری، ڈا کٹر آ صف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈا کٹر ارشاد سیانوی نے پڑھے گئے مقالات پرطلبا کی خا میوں و خو بیوں پر تفصیل سے رو شنی ڈا لی۔نظا مت کے فرا ئض عظمیٰ پروین نے انجام دیے۔
اس مو قع پر سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد،سیدہ مریم الٰہی، گلناز، گلستاں وغیرہ موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

