انہیں ممبئی کے 125 پولیس تھانوں کے Grievances کی اضافی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی ہے
کل مورخہ 17 مارچ کو ڈاکٹر مسرور علی قریشی نے حج کمیٹی آف انڈیا کے ڈپٹی چیف ایکزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی جوائن کرلی ہے ،عہدےکا چارج لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ مفوضہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔آج جب وہ چارج لینے کے لیے حج کمیٹی کے دفتر پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے گلدستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا،اس موقع پر حج کمیٹی کے ملازمین۔نے آپس میں مٹھائیاں تقسیم کرکے ڈاکٹر مسرور علی قریشی کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا،ڈاکٹر مسرور علی قریشی ڈیوٹی جوائن کرنے کے بعد بہت سرگرم نظر آئے انہوں نے دفتر کے لوگوں سے مل کر وہاں کے کاموں اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہم سب کو مل کر ایک ٹیم کی صورت میں کام کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ وزارت اقلیتی امور حکومت ہند نے ڈاکٹر مسرور علی قریشی کو حج کمیٹی آف انڈیا کے انتظامی معاملات کا ڈپٹی چیف ایکزیکٹیو آفیسر مقرر کیا ہے، ساتھ ہی وزارت داخلہ نے ڈاکٹر مسرور علی قریشی کوایک اضافی ذمہ داری دیتے ہوئے انہیں ممبئی کے 125پولیس تھانوں کی Grievances سے متعلق معاملات کی سنوائی اور ان کے تصفیہ کا انچارج بھی مقرر کیا ہے۔اس خبر سے علیگ برادری و طبی حلقہ میں خوشی کا ماحول ہے اور بڑی تعداد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سی سی آر یو ایم سے جڑے لوگوں نے ڈاکٹر مسرور علی قریشی کی تقرری پر اظہار مسرت کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی ہے ۔ڈاکٹر مسرور علی قریشی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج کے فارغ التحصیل ہیں اور جامعہ ملّیہ اسلامیہ سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ،گزشتہ پچیس برس سے وہ وزارتِ آیوش کے ادارہ سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن میں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔
حج کمیٹی آف انڈیا میں بطور ڈپٹی چیف ایکزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر مسرور علی قریشی کی تقرری سے امید کی جارہی ہے کہ حاجیوں کو بہتر سہولیات مل سکیں گی اور یہ بھی توقع کی جارہی ہے حج کے موقع پر حکومت ہند کی طرف سے ڈاکٹرز کا جو وفد بھیجا جاتا ہے اس میں یونانی طبیبوں کو بھی خدمت کا موقع فراہم ہوگا ۔طبی تنظیموں کی طرف سے ایک عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے،امید ہے ڈاکٹر مسرور علی قریشی کے توسط سے یونانی طبیبوں کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا ہوسکے گا ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

