شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’ڈراما فن اور روایت‘‘ پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ27؍جنوری2022ء
’’جب ہم ڈراما کرتے ہیں یا اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو ہم صرف زندگی کو پیش نہیں کرتے بلکہ وہ وجوہات جو ہمارے ذہن میں ہیں ان تمام کو ہنر مندی اور خوبصورتی سے اس انداز سے کرتے ہیں کہ عام انسان بہتر انسان بننے کی کوشش کریںڈرا مہ ہمارے یہاں مختصر ہے مگے یہ اتنا مختصر بھی نہیں کہ اس میں سماج کی ہر شے کو نہ سمایا جاسکے قدیم زمانے سے قدیم مذہبی تصانیف سے ڈرامے لکھے گئے ہیں۔ڈرامے ہماری زندگی کے مسائل و مصائب کو عمدگی سے پیش کرتے ہیںیہ الفاظ تھے کولکاتا کے معروف ڈراما نگار ظہیر انور کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’ڈراما: فن اور روایت‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اقبال نیازی، اسلم پرویز کے ساتھ ساتھ صادقہ نواب سحر نے بھی ڈرا مے لکھے جس سے ڈرا مے کی روایت مستحکم ہوئی ہے۔ اگر ہم ڈرامے میں ڈوب کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس میں انسانی سوجھ بوجھ اور انسانی شعور بھی شامل ہو تا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کی نئے ڈرا مے لکھے جائیں گے۔نئے لوگ اور نئی نسل اردو ڈرامے میں شامل ہوگی،نئے میدان تیار ہوں گے اور اس کے فن اور روایت کا خوب پر چم لہرائیں گے۔‘‘
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ ہدیہ نعت ایم اے سال اول کی طالبہ عظمیٰ پروین نے پیش کیا اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی ۔صدارت کے فرائض کلکتہ کے معروف ڈرامانگار محترم ظہیر انور نے انجام دیے اورمہمانان خصوصی کے بطورصدر شعبۂ اردو، الہ آ باد یونیورسٹی پرو فیسر شبنم حمید اور ممبئی سے معروف ڈراما نگار محترم اقبال نیازی نے شر کت فر مائی جب کہ مہمان مقررین کے طور پر دہلی یو نیورسٹی سے پروفیسر محمد کاظم،حیدر آباد سے معروف ڈرا ما نگار محترم انیس اعظمی، ممبئی سے معروف ڈرا ما نگار محترم اسلم پرویز اور میرٹھ سے معروف ڈائریکٹر اور ڈرا مانگار محترم بھارت بھوشن شرماآن لائن موجود رہے۔۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر محمد کاظم نے کہا کہ عصر حاضر میں بہت سی تنظیمیں ایسی ہیں جو نا ٹک اور نکڑ ناٹک کے ذریعے عوام سے سیدھے سیدھے بات کرتی ہیں۔ یہ ڈرا مے سیدھے عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ نکڑ ناٹک میں جنونی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے اور سبھی کردار آپس میں مشور کر کے ایک سا تھ مل کر کر دار نگاری کو پیش کرتے ہیں اور سماج کے مسائل کو خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں اور عو ام کو نکڑ ناٹک کے لیے خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ ناٹک چا ہے ایک گھنٹے کا ہو یا دو گھنٹے کا۔ سبھی طرح کے نا ٹکوں میں سماج کی سبھی تصاویر پیش کی جا تی ہیں۔
اسلم پرویز نے کہا کہ بچوں کے ڈرا مے کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ دلچسپ ہو، تفریح والا ہو۔ میں ایسے ڈرا موں کا استقبال کرتا ہوں جن ڈرا موں میں مقصدیت ہوتی ہے۔ آج ہم بچوں کے لیے ڈرا مے پیش نہیں کرتے صرف ادا کاری کرتے ہیں، بچوں کے لیے ڈرا ما پیش کر نے کے لیے کچھ دیر ہمیں بچہ بننا پڑے گا۔ بچوں کا ادب اور تھیٹر دونوں ایک دوسرے کے لیے خون گرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔بچوں کا ادب ہو یا بڑوں کے ڈرا مے دونوں ایسی گاڑی میں سوار ہیں جن کی کوئی اسٹارنگ ہی نہیں ہے۔ پیار اور ڈراما دو نوں کرنے کی چیزیں ہیں بات کرنے کی نہیں۔
اقبال نیازی نے کہا کہ اردو ڈرا ما اور تھیٹر آج بنگال اور مہاراشٹر کے مقابلے میں کہیں نہ کہیں پچھڑ کر رہ گیا ہے۔ ڈرا مے کے پچھڑنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ ڈرا مے سے دور ہو گیا جب کہ مہاراشٹر میں لوگ تھیٹر اور ڈرا ما میں جاتے ہیں ،فلم کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے جب کہ ہمارے یہاں فلموں کو اہمیت دی جاتی ہے۔
پرو فیسر شبنم حمید نے کہا کہ ڈرا ما انسانی زندگی کی مصوری ہے جو انسانی زندگی کو غورو فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ڈرا ما ایک ایسی صنف ہے جو زندگی میں حر کت پیدا کرتی ہے جب ڈرا مے کے کرداروں کو غور سے دیکھتے ہیں تو کبھی راجہ بن جاتے ہیں کبھی بادشاہ اور کبھی فقیر یا عام انسان بن کر ڈرا موں سے متاثر ہوتے ہیں۔
بھا رت بھوشن شرما نے کہا کہ سماج میں ہر فرد ناٹک کررہا ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی روپ میں ناٹک کا حصہ بن رہا ہے۔ آج بھی لوگ ناٹک، سانگ، اور رام لیلا کے ذریعے اپنی کردار نگاری کو نبھا رہے ہیں۔ ہم جب آنکھ، ناک، کان سے اپنی کردار نگاری کو ادا کرتے ہیں تو لوگ ایک نیا سبق حاصل کر کے جاتے ہیں۔
انیس اعظمی نے کہا کہ مغلوں نے جن چیزوں کو عزیز رکھا اس کو ڈرا مے نے بھی عزیز رکھا اور ہندوستانی تعمیر کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ ہندو ستان میں تھیٹر نے جو ترقی حاصل کی اس ترقی میں عوام کی دلچسپی کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ منی پور، مہاراشٹر اور بنگال وغیرہ میں زبان کے اعتبار سے ڈرا مے نے بڑی ترقی کی۔ ہم لوگ اب ڈرا مے سے بہت دور ہوگئے ہیں۔ وہ روا یت اور قدیم زمانہ تھا جس کو ہم نے نظر انداز کردیا ہے۔ بہت سلیقے سے جو کوئی چیز لکھی جاتی ہے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے۔ ڈرامے میں کہانی ضرور ہوتی ہے جس میں کوئی بات مو ثر طریقے سے سماج کے سا منے رکھی جا تی ہے۔کوئی وا قعہ ہو یا تاریخ ہو یہ ضروری نہیں بلکہ کہانی پن کا ہو نا ضروری ہے۔اگر ہم سب کوشش کریں تو ہو سکتا ہے کہ اب بھی بہت اچھے ڈرا مے لکھے جاسکتے ہیں۔پروگرام میں پروفیسر اسلم جمشید پوری اور عارف نقوی نے بھی اظہار خیال کیا۔
اس مو قع پرفرح ناز،طاہرہ پروین،فیضان ظفر،سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،عبد الواحد وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

