بہرائچ ایک تاریخی شہر/ جنید احمد نور – سفیان احمد انصاری
بہرائچ کی تاریخ ابتدا سے ہی تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہے ؛ یہاں بڑے بڑے اہل فضل وصاحب کمال شخصیات وافراد گزرے ہیں جنھوں نے دینی ، علمی ،اصلاحی ، ادبی ،تاریخی ، تحریکی اورسیاسی میدان میںنمایاںاور گراں قدر خدامت اورکارنامے انجام دیےہیں ،جس کے سبب بہرائچ کانام تاریخ کے صفحات میںزریں حروف میں مندرج ہے ، اس سلسلہ کی پہلی کڑی سلطان الشہداء حضرت سیدسالار مسعود غازیؒ ہیں،پھر یہ سلسلہ حضرت سیدامیر ماہؒ ، حضرت شاہ نعیم اللہ نقشبندی ؒاور حضرت مولاناشاہ نورمحمد نقشبندیؒ سے ہوتاہوا مفکرِ ملت حضرت مولانامحفوظ الرحمٰن نامیؒبانیٔ جامعہ مسعودیہ نورالعلوم وآزاداانٹرکالج بہرائچ تک پہنچتاہے، مولانانامیؒ نے اپنے عہد میں بہرائچ کو علمی ،دینی ،اصلاحی اورسیاسی بلندیوں تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اپنے والد محترم کے نام سے منسوب ایک پودا لگایا ؛جو چند ہی روز میں ایک تناور درخت کی شکل میں نمودار ہوا؛اورمشرقی اترپردیش کی ایک عظیم اور مقبول درسگاہ کی حیثیت سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگا،مفکرِ ملت مولانانامیؒ کے لگائے ہوئے اس شجرِمثمرہ سےایسے مختلف انواع واقسام اورمتفرق ذائقہ کے پھل وجود میں آئے جن کی خوشبو اور ذائقہ سے پوراملک مستفیض ہوا ؛اور آج ہورہاہے ،مادرِ علمی نورالعلوم سے خوشہ چینی کرنے والے سینکڑوں آفتاب وماہتاب ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں اوربہرائچ کانام روشن کررہے ہیں۔
سرزمین بہرائچ نےاپنی کوکھ سے ہمیشہ ایسے افراد کوجنم دیا ہے جنھوں نے بہرائچ کانام ایوانوں تک پہنچانے کا کام انجام دیاہے ،سرزمین بہرائچ ادبی ، تالیفی وتصنیفی میدان کے شہسواروں اور قلم کاروں کو پیداکرنے کا سلسلہ اب بھی جاری وساری رکھے ہوئےہے ؛ چنانچہ بہرائچ کےانھیںآب دار اور قیمتی موتیوں میں ایک جواں سال قلم کاراورتاریخ نگار جنیداحمدنور ؔبھی ہیں؛جو بظاہرابھی کم عمر ہیں لیکن کارنامے ان کے بڑے ہیں؛کیوںکہ ہنر کے بازار میں عمر نہیں بلکہ کام دیکھا جاتاہے۔
جنیداحمدنورؔ نے واقعی ہم لوگوں کے سامنے خاموشی سے بڑی لکیر کھینچ دی ہے؛ان کی محنت کا نتیجہ ”بہرائچ ایک تاریخی شہر“ ہم سب کے سامنے ہے؛دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں بڑیہی خوش اسلوبی اوراچھے انداز میں ارضِ بہرائچ کی اہمیت، اس کاکلی تعارف، اس کی تاریخ،ذکرِ بزرگان ، ذکر ِ علماء اور مشہور سیاسی شخصیات کو عنوان در عنوان بے حجاب و نقاب کرنے کا استقصاء کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے اندر تاریخی حقائق، اسرار ورموز، نکات اور باریکیوں کو گہرائی وگیرائی سے بیان کیا گیا ہے؛ اورتاریخ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کو بڑے ہی واضح انداز میں قارئین کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی ہے؛جو قارئین کو حد درجہ متاثر کرتی ہے اور اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔
”بہرائچ ایک تاریخی شہر“ایک معلوماتی تصنیف ہے جس میں موصوف نے نہایت عرق ریزی سےبہرائچ کےبہت سے مخفی گوشوں سے پردہ ہٹانے کی کوشش کی ہے،کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ حشووزوائد سے پاک اور فضولیات سے محفوظ ہے؛ دلائل و براہین کے اعتبار سے بھی مستحکم و مضبوط ہے اور تحقیقات و تجربات سے بھی خوب لبریز ہے۔
اس کتاب میں بہرائچ کی زبان ، تعلیم ، یہاں کی ندیوں اور جھیلوںوغیرہ ذکر کرنے کی سعی پیہم کی گئی ہے،جس نے کتاب کو مزید زرق برق اور مزین و مرصع کردیاہے؛اور اس کی مقبولیت اور پذیرائی میں ان چیزوں کا خاص کردار ہے، بلا ترددمیں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب کئی کتابوں کا خلاصہ اور لب لباب ہے۔
کتاب کی سب سے اہم خوبی اور وصف جو دیگر کتب سے اس کو ممتاز کرتی ہے؛ وہ اس کے مضامین ومشتملات ہیں جنھیں پڑھنے سے ذرا بھی اکتاہٹ نہیں ہوتی، ایسی خصوصیت کم کتابوں کو نصیب ہوتی ہے۔کتاب اپنے موضوع پر ایک دستاویز ہے جسے پڑھنے کے بعد بہرائچ کے تعلق سے بہت سارے پہلو واشگاف ہوجاتے ہیں، بہت سی ایسی نئی باتوں کا ادراک ہوتا ہے جو اب تک پردۂ خفا میں تھیں؛ کتاب کے مطالعہ سے وہ تمام باتیں معلومات کی حدود میں داخل ہو گئی ہیں ۔بہرکیف کتاب کا شاید ہی کوئی قاری ایسا ہو جو اپنے دوستوں، احباب و متعلقین کو مطالعہ کی دعوت نہ دے، اور جو ایک بار مطالعہ کرچکا ہوگا :وہ بار بار ایسی دلچسپ کتاب کا متلاشی اور پڑھنے کا متمنی رہے گا۔علاوہ ازیںکئ لحاظ سے قابل رشک اور لائقِ ستائش تصنیف ہے، جوجنیداحمد نورؔ کے خلوص کا ثمرہ اور نتیجہ ہے ۔
اس طرح جنید احمد نورؔ نےادبی اورتاریخی دنیامیںحیثیت سے بہت کم عرصہ میں اپنی مستحکم شناخت بنائی ہے _ان کے تعلق سے زبان و ادب کےبہت سے ممتاز دانشوروں اور ادیبوں نے تحسین آمیز کلمات کہے ہیں ؛ور ان کے ادبی کمالات و اکتسابات بیان کیے ہیں۔اگر اسی طرح ان کا قلم جاری رہااور وہ اسی طرح نادر ونایاب موتی کھوج کر لاتے رہے تو ان شا ء اللہ بہت آگے جائیں گے۔اس ادبی اور تاریخی پیشکش پر ہم انھیں تہِ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں؛اوردعاگوہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید قوت وتوانائی بخشے۔آمین
سفیان احمد انصاری
ریسرچ اسکالر ،شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی ، لکھنؤ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

