میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان !
یہ خدا کے فرشتوں نے مجھ کو بتایا کہ تم لوگ
رہتے ہو یہ سوچ کر کے پریشاں بہت اور غمگین بھی
کہ بچھڑ کر میں تم سے ہوں کس حال میں
اور کہاں پر ہوں میں
میرے اللہ نے مجھ کو رکھا ہے کہاں
کیسی دنیا ہے مجھ کو رکھا ہے جہاں
میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان
تم پریشاں نہ ہو کوئی غم نہ کرو
جس طرح صبر سے تم رہے ایسے حالات میں
جبکہ رب نے اچانک بلایا مجھے
تم نے کوئی شکایت نہیں رب سے کی
بس مری مغفرت کی دعا رب سے کی
فیصلے پر خدا کی جو راضی رہے تم
عمل یہ مبارک تمہارا بہت ہے
میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان !
شکر اس ذات القدس کا ہے جو
ہے ستارالعیوب و غفارالذنوب
اس نے تمہاری دعاؤں کے صدقے
کر دیا مجھ پہ اپنا ہے فضل و کرم
اپنی رحمت کے دریا میں اس نے
میری ساری خطاؤں کو دھو ڈالا ہے
اپنے فضل و کرم سے میرے نفس کو کر دیا مطمئن
اور اپنی رحمت کے سائے میں دی ہے جگہ
میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان
میں جہاں ہوں وہاں
اب نہ غم ہے کوئی، نہ کوئی خوف ہے
خوب پر کیف منظر ہے پیارا سماں
ایک نورانی خوشبو ہے چھائی ہوئی
نور میں ڈوبی ہوئی ہے فضا ہر طرف
بس سکوں ہی سکوں ہے یہاں ہر طرف
میرے رب نے ہر اک غم سے دی ہے رہائی مجھے
اپنی جنت میں دی ہے رسائی مجھے
اسلئے !!!
میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان !
تم بھی غم نہ کرو !
صبر کرتے رہو ، شکر کرتے رہو !
مجھ کو اپنی دعاؤں میں شامل رکھو!
اپنے رب سے یہ امید رکھتا ہوں میں
حشر میں پھر دوبارہ ملائے گا وہ
سارے غم کا مداوا بھی کر دے گا وہ
پھر جدا ہم نہ ہوں گے کبھی اسطرح
دائمی ساتھ ہو گا ہمارا وہاں
کتنا پر کیف ہوگا وہ پیارا سماں
اسلئے خوش رہو اور غم نہ کرو!
میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان !
میری ماں جان پیاری ، مرے ابو جان!
☆☆☆
( یہ نظم ام شکیب سیدہ نزہت قیصر کی پہلی نظم ہے جو ایک خواب سے متاثر ہو کر انہوں نے تحریر کی ہے ۔
نوشاد منظر، ایڈیٹر ” ادبی میراث” )
—-
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

