’’ایک دن کا لمبا سفر‘‘ شاکر کریمی کا افسانوی مجموعہ ہے۔اس سے پیشتر شاکر کریمی کے دو افسانوی مجموعے’’پردے جب اٹھ گئے‘‘ اور ’’ اپنی آگ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ شاکر کریمی کی کہانیوں کا محور وہ چھوٹے چھوٹے واقعات اور وارداتیں ہیں جن سے ہمارا سابقہ ہر روز پڑتا ہے۔ انھوں نے ان چھوٹے چھوٹے واقعات ،سانحات، حادثات اور ذہنی الجھنوں کو اپنے زور بیان اور منفرد انداز سے خاص بنادیا ہے،یہاں تک کہ افسانوں کے عنوانات بھی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیںاور یہ بھی افسانوں کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے۔
’’ ایک دن کا لمبا سفر‘‘ کی اشاعت ۲۰۱۴ میں عرشیہ پبلی کیشن، دہلی کے زیر اہتمام ہوئی۔ اس مجموعے میں کل ۲۰ افسانے شامل ہیں، ان افسانوں کے علاوہ مصنف کا ایک مختصرپیش لفظ بھی اس کتاب کا حصہ ہے جس میں شاکر کریمی نے مختصرا اپنے افسانوی محرکات پر گفتگو کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’میں اپنے افسانوں کے لیے خام مال اپنے آس پاس سے لیتا ہوں اور پھر افسانے کے منظر اور پس منظر کے عین مطابق کرداروں کا انتخاب کرتا ہوں اس لیے میرے افسانوں کے کردار مافوق الفطرت کردار معلوم نہیں ہوتے۔میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ عام انسان اپنے جذبات و احساسات اور مسائل کی تصویر میرے افسانوں میں دیکھ سکے۔‘‘
(پیش لفظ،ایک دن کا لمبا سفر، ص ۱۰)
شاکر کریمی نے جن نکات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی انھیں محسوس کیا جاسکتا ہے۔عام انسانی جذبات و خیالات کو افسانے کے قالب میں کیسے پیش کیا جاتا ہے، اس ہنر سے شاکر کریمی نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس پر مہارت بھی رکھتے ہیں۔
شاکر کریمی کے افسانوی مجموعہ’’ایک دن کا لمبا سفر‘‘ کا پہلا افسانہ ’’ انہونی بات ‘‘ ہے۔ اس افسانے کا موضوع جہیز جیسی سماجی بیماری ہے۔اس ا فسانے کا مرکزی کردار فیاض احمد نام کا ایک ایسا شخص ہے جو نام اور اپنے عمل دونوں سے فیاض ہے۔ان کی نیکی اور انسان دوستی کی وجہ سے پورے محلے میں انہیں لوگ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔فیاض کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔بیٹوں کی شادی ہوچکی ہوتی ہے مگر بیٹی کی شادی میں انھیں کئی طرح کی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ لڑکی کے لیے رشتوں کی کوئی کمی تھی ، کئی رشتے آئے مگر لڑکے والوں نے جہیز کی ایک لمبی فہرست بھی ساتھ میں دی،جس کے باعث فیاض صاحب نے ان رشتوں کو ٹھکرادیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جہیز نے اپنی جڑیں کچھ اس طرح پھیلا رکھی ہیں کہ عوام و خواص دونوں طبقے اس سے متاثر نظر آتے ہیں۔ایک لڑکی اور اس کے والدین جس طرح اس لعنت سے متاثر ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔ افسانہ’’ انہونی بات‘‘ کی کہانی بھی اسی سماجی برائی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔شاکر کریمی نے فیاض احمد کی شکل میں سماج کے ایک ایسے شخص کو پیش کیا ہے جو بااخلاق بھی ہے اور جس کی سماج میں عزت بھی ہے،باوجود اس کے انھیں اپنی بیٹی کی شادی میں کئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فیاض احمد اگر چاہتے تو آسانی سے لڑکے والوں کو منہ مانگا جہیز دے دیتے مگر انھوں نے اس بیماری سے لڑنے کا فیصلہ کیااور کئی اچھے رشتوں کو محض اس لیے ٹھکرا دیا کیونکہ لڑکے والوں کی طرف سے غیر ضروری مطالبات تھے۔ادھر فیاض احمد کی بیٹی کی عمر بھی بڑھتی جارہی تھی، حالات بد سے بدتر ہورہے تھے،لڑکی کی عمر اور دن بہ دن جہیز والوں کے مطالبات کے باوجود فیاض احمد کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ مسلسل جہیز کے خلاف لڑتے رہے۔جوان لڑکی اگر گھر میں کنواری ہو یہ بات والدین کے لیے نہایت کربناک ہوتی ہے، اس تکلیف کو وہ لوگ بہتر ڈھنگ سے سمجھ سکتے ہیں جن کی بیٹیوں کی شادی محض جہیز کی وجہ سے نہیں ہوپاتی ہے۔
اس کہانی کا ایک کردار ماسٹر ریاض الدین کا ہے جو فیاض احمد کے دوست بھی ہیں اور پڑوسی بھی۔ ماسٹر ریاض الدین ایک ریٹائرڈ استاد ہیں اور ان کا اور ان کے اہل خانہ کا گزر بسر پنشن کی ایک معمولی سی رقم پر ہوتا ہے۔انھوں نے ا پنی دو بیٹیوں کی شادی کے لیے اپنی ساری جائیداد فروخت کردی تھی لہذا ان کی مالی حالت اچھی نہیں تھی ۔ باوجود اس کے، انھوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کسی طرح کی کمی نہیں ہونے دی،شاید یہی وجہ تھی کہ ریاض الدین صاحب کا بیٹا انور سادگی پسند اورمحنتی تھا۔ریاض الدین صاحب جنھوں نے اس امید کے ساتھ بیٹے کو اچھی تعلیم دلائی تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر اچھی نوکری کرے گا جس سے ان کی مالی حالت بہتر ہوگی۔افسانہ نگار نے فیاض احمد اور ماسٹرریاض الدین کی شکل میں دو ایسے کردار کو پیش کیا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں جہیز سے متاثر ہیں۔فیاض احمد جہیز کے سخت مخالف تھے۔ لہذا انھوں نے اپنے بیٹوں کی شادی میں جہیز بالکل نہیں لیا، باوجود اس کے ان کی بیٹی کی شادی جہیز کی وجہ سے ہی نہیں ہورہی تھی۔دوسری طرف ماسٹر ریاض الدین صاحب ہیں جو جہیز کو غلط مانتے ہیں باوجود اس کے، بیٹی کی محبت میں وہ حالات سے سمجھوتا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جو بھی ان کی چھوٹی بڑی جائیداد ہوتی ہے اُسے فروخت کردیتے ہیں۔ جہیز نے ہمارے سماج کو کچھ اس طرح متاثر کررکھا ہے کہ بغیر جہیز اور لین دین کے شادی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا،لہذا آج اکسویں صدی میں بھی لوگ لڑکیوں کو اپنی پریشانیوں کا باعث مانتے ہیں جو صحت مند سماج کے لیے کسی بھی صورت نا قابل قبول ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جہیز کے لیے لڑکے والے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں،لڑکی والے بھی اس گھرانے سے رشتہ جوڑنا فخر کی بات سمجھتے ہیں جہاں دولت و ثروت کی فراوانی ہوتی ہے، خواہ لڑکے میں کوئی خوبی ہو یا نہیں۔ لہذا اکثر لڑکے والوں کے مطالبات بڑھتے جاتے ہیں ، لڑکیوں کا استحصال ہوتا ہے یہاں تک کہ کئی معاملوں میں لڑکیاں خود کشی تک کر لینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے وقت اچھے لڑکے کا انتخاب کریں، محض غربت کی وجہ سے اچھے رشتے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔افسانہ ’’ انہونی بات‘‘ میں بھی شاکر کریمی نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔کہانی کا اختتام اس طرح ہوتا ہے:
’’ ایسا ہی معلوم ہواا جیسے کوئی انہونی بات ہوگئی ہو، لوگوں کے چہرے فق ہوگئے، حیران نظروں سے فیاض صاحب کو تکنے لگے،ماسٹر ریاض الدین پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔چند لمحے فیاض صاحب کو گھورتے رہے پھر لپک کر ان سے لپٹ گئے۔‘‘ ( ص۔۱۸)
فیاض صاحب نے اپنی بیٹی کے لیے جس لڑکے کا انتخاب کیا وہ غریب تھا۔ دولت نام کی کوئی چیز اگر اس کے پاس تھی تو وہ اس کا علم اور اس کی شرافت تھی،جسے آ ج کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ،لہذا ماسٹر ریاض کے ساتھ دوسروں کو بھی یہ عجیب سا لگا۔ شاید اسی مناسبت سے افسانہ نگار نے اس کا نام ’’ انہونی بات‘‘ رکھا ہے۔ ماسٹر ریاض الدین اپنے اکلوتے او رہونہار بیٹے انور کی شادی بغیر کسی مطالبہ اور جہیز کے فیاض صاحب کی بیٹی سے کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔فیاض احمد نے بھی اپنی سخاوت کا عمدہ نمونہ پیش کیا اور اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بیٹی کو ضرورت کی تمام چیزیں دیں ۔ فیاض احمد کا خیال تھا کہ لالچی امیر لڑکے سے بہتر غریب محنتی ہوتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ انھوں نے انور احمد کو جہیز میں وہ ساری چیزیں دیں جس کا مطالبہ دوسرے لڑکے والے کرتے تھے۔افسانہ نگار کا خیال ہے کہ لالچی لوگوں سے رشتہ بنانے سے بہتر ہے کہ کسی محنتی لڑکے کی مدد کی جائے اس سے ایک غریب کی مدد کے ساتھ ساتھ جہیز کے رواج پر قدغن بھی لگ سکتا ہے۔
اس مجموعے کا ایک افسانہ’’ایک دن کا لمبا سفر‘‘ ہے جو اس مجموعہ کا نام بھی ہے۔مذکورہ افسانہ کا مرکزی کردار ایک ایسی عورت کا ہے جس کا شوہر روزی روٹی کی تلاش میں اپنے گاؤں سے دور شہر میںرہنے پر مجبور ہے۔یہ کردار ان معنوں میں اہم نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر سے الگ ہوکر زندگی گزارنے کے لیے مجبور تھی بلکہ اہم بات یہ تھی کہ اس کے دو معصوم بچے بھی اس کے ساتھ رہتے تھے۔شوہر سے دور اور دو بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کسی اکیلی عورت پر آجائے تو اسے کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کنہیا جو اس عورت کا شوہر تھا شہر میں ضرور نوکری کرتا تھا مگر اس کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں تھی۔دراصل شوہر اور بیوی دونوں کی خواہش تھی کہ وہ پیسہ بچا کر اپنے بیٹے کندن اور بیٹی سونا کو اچھی تعلیم دلائیں اور اس کی بہترین پرورش کریں تاکہ ان کا مستقبل اچھا ہو اور ان کے بچوں کو ان اذیتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا نہ پڑے، جن سے وہ خود دوچار تھے۔ان تمام باتوں کے باوجود عورت کی کچھ ایسی ضرورتیں ہوتی ہیں جو پیسوں سے پوری نہیں ہوتی۔شوہر کی کمی ایک عورت کے لیے کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے اس کا اندازہ اس کہانی کو پڑھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔مختلف موسموں میں عورت پر شوہر کے ہجر کا جو تکلیف دہ وقت آتا ہے اسے شوہر سے دور رہنے والی ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔مگر ضرورت انسان کو جینا سکھا دیتی ہے۔وہ عورت بھی اس بات سے واقف ہے کہ اگر اس کا شوہر نوکری چھوڑ کر اس کے پاس آجائے گا تو اس کا اثر کیا ہوگا۔ایک اقتباس دیکھئے:
’’بیٹی دیکھتے دیکھتے سیانی ہوجائے گی لڑکیوں کی باڑھ زیادہ ہوتی ہے اور پھر پیسوں کے بنا سونا اچھے گھر کی بہو کیسی بن پائے گی۔کندن لکھ پڑھ کر ڈھنگ کا آدمی بن پائے گا،میرے بچے میری ہی طرح ہوئے تو ۔۔۔۔‘‘
افسانہ نگار نے اس کہانی کے ذریعے رشتوں کی اہمیت اور بچوں کی پرورش کے لیے والدین کی قربانیوں کی عظمت کا ذکر کیا ہے۔ بچوں کی پرورش میں جن والدین کو جن پریشانیوں اور قربانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ واقف ہیں۔مگر اس افسانے کی کہانی غربت نہیں بلکہ شوہر کے بغیر زندگی بتانے والی ایک عام عورت کی کہانی ہے،جو چھوٹی بڑی خوشی اور غم کے موقعے پر اپنے شوہر کو یاد کرتی ہے۔ شاعری میں اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے ’بارہ ماسہ‘ موجود ہے۔حالانکہ شاکر کریمی نے بارہ ماسہ کی طرح اس عورت کے ہجر کی کیفیت بیان نہیں کی ہے مگر ایک دن کی جدائی کی جس کیفیت کو افسانہ میں پیش کیا گیا ہے، اس سے بھی بارہ ماسہ والی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔اس کہانی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جب وہ عورت اپنے پڑوس میں رہنے والے خاندان کی حالت زار کو دیکھتی ہے تو شوہر کی جدائی کا غم آہستہ آہستہ کم ہوجاتا ہے۔اسے اس بات کی خوشی ہے کہ گرچہ اس کا شوہر اس کے ساتھ نہیں رہتا مگر یہ بھی کم نہیں کہ وہ پیسہ کماتا ہے اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی کا بھی خیال رکھتا ہے۔دراصل یہ کہانی متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے۔چونکہ یہ کہانی ایک دن کے واقعات پر مشتمل ہے ۔ افسانہ نگار نے مذکورہ افسانے کے ذریعے ایک غریب عورت کی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور اس کی چھوٹی بڑی خوشیاں اور پھر حالات کے ساتھ سمجھوتا کرلینے کے جذبے کو پیش کیا ہے۔ غالباََ اسی مناسبت سے افسانہ نگار نے اس کا عنوان ایک دن کا لمبا سفر رکھا ہے۔
افسانہ ’’ اگر تم نہ آئے‘‘ اس مجموعہ میں شامل ایک ایسا افسانہ ہے جسے پڑھ کر بے ساختہ ہمیں عصمت چغتائی کے افسانے ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ کی یاد آجاتی ہے۔اس افسانے کا اہم کردار ایک جوان لڑکی ارچنا ہے جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کی ساری ذمہ داری اس کی والدہ پر عائد ہوگئی ہے۔گھر کی آمدنی کا واحد ذریعہ پنشن کی قلیل مقدار ہے جس سے بمشکل گھر کا خرچ چل پاتا ہے ۔ اوپر سے جوان بیٹی’ ارچنا‘کی شادی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ لہذا انھوں نے اپنے مکان کا ایک حصہ جو دو کمروں پر مشتمل ہے، اسے کرایے پر لگانے کا فیصلہ کیا۔ارچنا کی والدہ کو اس بات کی پوری امید ہے کہ اگر مکان کو کرایے پر لگادیا جاتا ہے تو بڑی حد تک اسن لوگوں کی مالی تنگی دور ہوسکتی ہے ۔ارچنا کی ماں اس مکان کو کرائے پر لگانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہے۔
’’۔۔۔پنشن کے روپے تو میری زندگی ہی تک ملیں گے،میری آنکھیں بند ہوگئیں تو یہ سلسلہ بھی بند ہوجائے گا۔یہی سوچ کر دو کمروں کو کرایے پر لگا دینا چاہتی ہوں تاکہ کچھ آمدنی بڑھے۔کچھ بچا سکوں آئندہ کے لیے،ارچنا کے لیے۔۔۔۔‘‘ (افسانہ، اگر تم نہ آئے، ص ۳۷)
اس کہانی کا ایک کردار سنیل ہے جو ارچنا کے مکان میں بحیثیت کرایہ دار رہتا ہے۔ سنیل اپنی اچھی عادتوں کی وجہ سے بہت جلد ارچنا اور اس کی ماں کا یقین جیت لیتا ہے، آہستہ آہستہ وہ کرایے دار سے زیادہ گھر کا فرد بن جاتا ہے۔ارچنا کی ماں سنیل کا بہت خیال رکھتی ہیں، اس کے کھانے پینے سے لے کر کپڑے اور پاکٹ خرچ تک کا خیال رکھتی ہیں۔دراصل ان کی آنکھوں میں ایک خواب ہے کہ سنیل اس کی بیٹی ارچنا سے شادی کر لے، ارچنا کی ماں کو اس حد تک سنیل کی باتوں پر یقین ہوتا ہے کہ وہ کہتی ہے:
’’کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مطلوبہ اور قیمتی شئے آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہے۔‘‘ (افسانہ: اگر تم نہ آئے۔ص ۳۹)
اس اقتباس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ارچنا کی ماں سنیل اور ارچنا کو لے کر کیا خواب بنتی رہتی ہے ۔خود ارچنا بھی اس سے قریب ہوجاتی ہے اور اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔ اس امید اور محبت میں چھ مہینے کا وقت گزر جاتا ہے۔سنیل نے اپنا فائنل امتحان دے کر جب اپنے گھر لوٹنے لگتا ہے اس وقت ارچنا اور اس کی ماں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان دونوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سنیل کہیں نہ جائے، بلکہ اس کے ساتھ اس کے پاس رہے۔ مگر سنیل ان دونوں کو امید دلاتا ہے کہ وہ بہت جلد لوٹ کر آئے گا۔ سنیل کہتا ہے:
’’ممی آپ کو ارچنا کی فکر ہے نا؟ مت کیجئے فکر، میں ہوں۔میں جو ہوں!‘‘ (ص:۴۱)
ارچنا اور سنیل ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتے ہیں،ان دونوں میں ایک ایسا رشتہ قائم ہوجاتا ہے جسے ایک مہذب سماج قبول نہیں کرتا مگر محبت کرنے والے اسے محبت کا نام دیتے ہیں۔شاکر کریمی نے بڑی حد تک اسی موضوع کو اپنے افسانے میں پیش کیا ہے جسے عصمت چغتائی نے اپنے افسانہ ’’ چوتھی کا جوڑا‘‘ میں پیش کیا ہے۔’’چوتھی کا جوڑا ‘‘کی کبریٰ اور’’ اگر تم نہ ہوتے‘‘ کی ’ارچنا‘میں کافی مماثلت ہے،دونوں ہی بھوکے پیاسے اور ہر طرح کی پریشانیوں کو برداشت کرتے ہوئے بھی راحت اور سنیل کا خیال رکھتی ہیں،ان کی ہر خوشی ان کی ہر خواہش کی تکمیل کے فکر میں لگی رہتی ہیں،دونوں جس امید میں اتنی قربانیاں دیتی ہیں اس کا صلہ انہیں تنہائی اور بے وفائی کی شکل میں ملتا ہے۔شاکر کریمی کے افسانے ’ اگر تم نہ آئے‘ میں راحت ہی کی طرح سنیل ہے جو ارچنا اور اس کی ماں کی امیدوں کا مذاق بنا کر ان سے جھوٹا وعدہ کر کے بلکہ اسے دھوکا دے کر چلا جاتا ہے۔ادھر ارچناجو اپنی آنکھوں میں نہ جانے کیا کیا خواب لیے سنیل کی منتظر رہتی ہے، وہ اس بات سے بالکل انجان ہوتی ہے کہ سنیل اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔اس افسانے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شاکر کریمی نے اس میں فلیش بیک تکنیک کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ارچنا جو اس کہانی کی راوی ہے، وہ اس طرح اپنے خواب اور اپنی امید کی داستان بیان کرتی ہے جیسے سنیل اس کے سامنے موجود ہو اور وہ اس سے نہایت محبت کے ساتھ ان تمام لمحات اور ساتھ گزارے ہوئے ہر ایک پل کی یاد دلاتی ہے کہ تم نے سب کچھ کیسے بھلا دیا، ان وعدوں کو جس کے سہارے وہ جی رہی تھی، ماں کی اس امید کو جس کی وجہ سے غربت کے باوجود اسے کسی چیز کی تکلیف نہیں ہونے دی، پھر کیوں تم نے سب کے ساتھ فریب کیا ،انہیں دھوکا دیا،جھوٹ بولا؟ مجموعی طور پر یہ افسانہ محبت ،اعتماد اور فریب کی تثلیث بن گیا ہے۔
مذکورہ مجموعہ میں شامل ایک افسانہ ’’زہر میں بجھا ہوا نشتر‘‘ بھی ہے۔ یہ کہانی دراصل ساس بہو کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہونے والی نوک جھونک پر مشتمل ہے جو تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے۔ساس اور بہو اپنی انا کے لیے اس حد تک ایک دوسرے کو برا ثابت کرتی ہیں ،جس سے ان کے درمیان ایسی کشیدگی پیدا ہوتی ہے کہ بعض موقعہ پر طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔
دراصل شاکر کریمی نے اس افسانے کے ذریعے سماج کی بدلتی ہوئی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔افسانہ ’زہر میں بجھاہوا نشتر‘‘ کا مرکزی کردار ایک علم نفسیات کے ریٹائرڈ ماسٹر ہیں۔برسوں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ خوشحال زندگی گزاری۔ماسٹر صاحب کی بیوی نیک سیرت اور خوش اخلاق عورت واقع ہوئی تھی، انہیں اپنی ذمہ داریوں کا پورا خیال تھا۔ لہذا جب ماسٹر صاحب انہیں بیاہ کے اپنے گھر لائے اور دبی زبان میں اپنے والدین کی خدمت کی بات کی تو ان کی بیوی نے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہیں اور اسے ہر حال میں پورا کریں گی۔ ماسٹر صاحب کی بیوی نے اپنا وعدہ پورا بھی کیااور اپنی آخری سانس تک اپنے شوہر کی خدمت کے ساتھ ساتھ دوسری ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا،مگر ماسٹر صاحب کی بیوی کے انتقال کے بعد ماسٹر صاحب بالکل تنہا پڑ گئے۔ماسٹر صاحب کی بیوی کے انتقال کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری ماسٹر صاحب کی بہو پر آگئی ۔ماسٹر صاحب کی بہو نئے خیالات اور نئے زمانے کی ایک ماڈرن اور آزاد خیال عورت تھی۔بیوی کے انتقال نے ماسٹر صاحب کو ہر ضرورت کے لیے بہو کا محتاج بنادیا۔ ماسٹر صاحب کا خیال تھا کہ جیسے ان کی بیوی نے اپنے سسر اور ساس کی خدمت کی ٹھیک اسی طرح ان کی بہو بھی ان کی خدمت کرے گی،یہیں دو تہذیبی روایت اور دو عہد کا تصادم نظر آتا ہے۔سسر جو قدیم روایت کا امین ہے تو وہیں ان کی بہو نئے دور کی ایک آزاد خیال لڑکی ہے، دونوں کے خیالات میں بہت فرق ہے ۔ سسر جہاں سماجی رواداری اور بزرگوں کی خدمت کو بہو اور بیٹے کے لیے فرض سمجھتا ہے وہیں بہو اور بیٹے اسے اپنی ترقی میں رکاوٹ اور Privacy میںمداخلت مانتے ہیں۔ آج ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ نیوکلیر فیملی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے جس نے بچوں کو نانا،نانی اور دادا، دادی کے پیار سے محروم کردیا ہے۔ شاکر کریمی جو سماج کے نباض ہیں،انھوں نے بڑے خوش اسلوبی کے ساتھ ہماری بدلتی ہوئی اقدار کو اپنے اس افسانے میں پیش کیا ہے۔
’’ایک دن کا لمبا سفر‘‘ میں شامل ایک افسانہ ’ پردہ‘ ہے۔اس افسانے کا موضوع لالچ ہے۔لالچ ایک ایسی بلا ہے جو انسان کے اندر سے کھرے کھوٹے کا فرق مٹا دیتی ہے، جس سے اکثر اپناہی نقصان ہوتا ہے۔افسانہ ’ پردہ‘ کا مرکزی کردار’راج‘ کا ہے۔راج ایک پڑھا لکھا لڑکا ہے،مگر اس کے اندر لالچ بھی ہے۔ اسی لالچ میں آکر اس نے انجنا نام کی لڑکی کی محبت کو ٹھکرا کر شالنی نام کی امیر زادی سے شادی کرلیتا ہے۔ انجنا ایک مہذب اور نیک سیرت لڑکی ضرور ہے مگر اس کے پاس دولت نہیں ہے۔ چند دنوں میںراج کو احساس ہوجاتا ہے کہ اس نے پتھر کو حاصل کرنے کے چکر میں ہیرا کھودیا ہے۔راج کو بہت جلد اس بات کا بھی احساس ہوجاتا ہے کہ محض دولت کے نہ ہونے کی وجہ سے انجنا کی محبت کو ٹھکرانے کا اس کا فیصلہ غلط تھا۔ شالنی کی بدتمیزیاں دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی۔ایک دن راج کے صبر کا پیمانہ بھر گیا اور اس نے دبی زبان میں اپنی بیوی کی آزاد خیالی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرنی چاہی تو اس کے جواب میں شالنی نے جو کہا وہ اس کے ہوش اڑا دینے والا تھا:
’’ ایک دن اس[راج] نے شالنی کی بے راہ روی کے خلاف لب کشائی کی،اس کے آدھی آدھی رات تک گھر لوٹنے پر احتجاج کیا،آئے دن دوستوں کی محفلیں آراستہ کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی تو شالنی پھٹ پڑی،ترش روی اور تلخ کلامی کی انتہائی بلندی پر پہنچ کر حقارت سے کہنے لگی: ’’راج اپنی حد سے آگے نہ بڑھو،میں تمہاری بیوی ہوں ضرور ہوں،لیکن غلام نہیں۔یہ مت بھولو کہ آج تم جو کچھ بھی میری وجہ سے ہو۔یہ ٹھاٹ باٹ،یہ عیش و آرام،یہ چمچماتی کاریں جن پر تم دنددناتے پھرتے ہو،سب میری عطا کی ہوئی ہیں۔میں تمہیں جھونپڑے سے نکال کر محل میں لے آئی۔ اس لیے نہیں کہ میری نگرانی کرو،مجھ پر پابندیاں عائد کرو۔‘‘ (افسانہ: پردہ، ص۹۶)
افسانہ پردہ ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ظاہری خوبیوں کو ہی حقیقت مان لیتی ہے جس سے اکثر نقصان ہوتا ہے۔راج کے ساتھ بھی یہی ہوا، اس نے ظاہری چمک دیکھ کرشالنی سے شاد ی کرلی،مگر شالنی نہ صرف آزاد خیال لڑکی تھی بلکہ وہ بد دماغ اور گھمنڈی بھی تھی۔ مذکورہ اقتباس پڑھ کر شالنی کے کردار کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ادھر جیسے جیسے راج پر شالنی کی حقیقت ظاہر ہوتی گئی خود کے فیصلے پر راج کی ندامت بھی بڑھتی گئی ۔مگر اب سوائے افسوس کے ، کچھ ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔
بہر کیف، شاکرکریمی کے مذکورہ مجموعے میں اور بھی افسانے شامل ہیں،جن کے موضوعات ہماری زندگی میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔ان کے افسانوں کے مطالعہ سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مشاہدہ گہرا ہے، وہ چھوٹی سی چھوٹی چیز کا پوری گہرائی کے ساتھ مشاہدہ کرتے ہیں ۔ زندگی کے ہر واقعے پر ان کی گہری نظر ہے۔زبان و بیان کی سطح پر بھی شاکر کریمی کامیاب کہے جائیں گے۔ان کا اسلوب سادہ اور سلیس ہے ان کے یہاں کسی قسم کی گنجلک تحریر دیکھنے کو نہیں ملتی۔
٭٭٭

