ہم لوگ intermittent fasting کے عہد میں جی رہے ہیں ،اس لئے روزے کے طبی فوائد کا ذکر کارِ عبث لگتا ہے ۔روزے کا بنیادی مقصد تو تقوی پیدا کرنا ہے جیسا کہ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے
“یا اَیُّہا الࣿذِین آمَنُو کُتِب َ عَلَیکُمُ الصِّیامُ علیکم کَما کُتَبَ عَلی الذین مِن قَبࣿلِکُم لَعَلَّکم تَتَّقُون”
کہ اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تمہارے اوپر روزہ فرض کیا گیا ،جس طرح کہ تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا ،شاید کہ تم تقوی اختیار کر سکو”
روزہ وہ واحد عبادت ہےجس میں ریا کا امکان نہیں کیونکہ روزے دار علاوہ کسی کو اس کی حقیقت معلوم نہیں ۔یہ پورے سال کے لئے ایک تربیت ہے کہ باقی آنے والے گیارہ مہینوں میں بھی اسی طرح تقوی کی روش اختیار کرنی ہے لیکن روزہ کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے جس سے ہم من حیث القوم کچھ زیادہ ہی بے اعتنائی برت رہے ہیں ۔اسکی ایک غرض وغایت بھوک اور پیاس کا احساس بھی ہے ۔ شکم کی آگ کارخانہ دنیا چلانے کا سب سے بڑا محرک ہے ۔یہ نہ ہو تو کاروبارِ دنیا بند ہوجائے ۔روزہ کی حالت میں بھوک کا احساس ہمیں ان دوسرے بندگانِ خدا کی طرف سوچنے کو مجبور کرتا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لئے ترستے ہیں ۔اب اگر سحری کے وقت شکم کو اس نیت سے سیر کر لیا جائے کہ پورے دن بھوک ہی نہ لگے تو پھر یہ عظیم الشان مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔دوسرا روزہ شہوات کو توڑتا ہے ۔ضبطِ نفس کا اس سے بہتر طریقہ دنیا میں نہیں ہے ۔ایک نوجوان ایک بار آپ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ وہ شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اسے روزہ رہنے کی ہدایت کی ۔اسلام رہبانیت کی اجازت نہیں دیتا ہے لیکن اس پورے مہینے میں جس طرح سے نفس پر کنٹرول کی تربیت ہوتی ہے اس میں نفس کشی کی ایک ہلکی سی جھلک ضرور ہے ۔ضعف بدن اور روحانیت کا تصور لازم وملزوم ہے اور گوکہ اسلام اس طرح کی نفس کشی کی اجازت نہیں دیتا ،جس طرح دوسرے مذاہب میں ہے،روزہ کی شکل میں وہ اس کا نعم البدل ضرور عطا کرتا ہے ۔اسلام بسیار خوری کی کبھی بھی ترغیب نہیں دیتا ہے بلکہ اس کے علی الرغم یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں ۔
عن المِقْدَام بن مَعْدِي كَرِبَ رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما مَلَأ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا من بطن، بِحَسْبِ ابن آدم أُكُلَاتٍ يُقِمْنَ صُلْبَه،ُ فإن كان لا مَحَالةَ، فَثُلُثٌ لطعامه، وثلث لشرابه، وثلث لِنَفَسِهِ». [صحيح] – [رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد]
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی حصہ (پیٹ) کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے مختص کر دے“۔ (یہ “صحیح” کی کیٹیگری میں آتی ہے اور اسے ترمذی ،ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے )
سحری کی فضیلت کے تعلق سے بہت ساری احادیث ہیں ۔ابھی ایک طبی انکشاف نے اس کی معنویت کو اور اجاگر کر دیا ہے
اس ڈسکوری کا یہ کہنا ہےکہ اگر طلوع سحر سے پہلے کھانا کھا لیا جائے اور اس کے بعد شام تک کچھ نہ کھایا جائے تو ہمارا جسم آٹوفیجی موڈ autophagy پر چلا جاتا ہے ۔طبی سائنس آٹوفیجی کی تشریح کچھ یوں کرتی ہے
A process by which a cell breaks down and destroys old, damaged, or abnormal proteins and other substances in its cytoplasm (the fluid inside a cell). The breakdown products are then recycled for important cell functions, especially during periods of stress or starvation. Autophagy also helps destroy bacteria and viruses that cause infection and may prevent normal cells from becoming cancer cells. Once cancer has formed, autophagy may protect the cancer cells by providing extra nutrients to them or by keeping anticancer drugs or other substances from destroying them. Autophagy may also affect the body’s immune response against viruses, bacteria, and cancer cells.
“یہ ایک ایسا عمل جس کے ذریعے سیل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اس کے سائٹوپلازم (خلیہ کے اندر موجود سیال) میں موجود پرانی خراب، یا غیر معمولی پروٹین اور دیگر مادوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ پھر ان ٹوٹے ہوئے مادوں کوسیل کے اہم افعال کے لیے ری سائیکل کیا جاتا ہے۔یہ عمل خاص طور پر تناؤ یا بھوک کے دوران انجام پاتا ہے ۔آٹوفیجی ان بیکٹیریا اور وائرس کو تباہ کرنے میں بھی مدد کرتی ہے جو انفیکشن کا سبب بنتے ہیں اور نارمل خلیوں کو کینسر کے خلیات بننے سے بھی روک سکتی ہے۔ایک بار کینسر بننے کے بعد، آٹوفیجی کینسر کے خلیوں کو اضافی غذائی اجزاء فراہم کرکے یا اینٹی کینسر دوائیوں یا دیگر مادوں کو انہیں تباہ ہونے سے بچا کر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ آٹوفیجی وائرس، بیکٹیریا اور کینسر کے خلیات کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو اور مضبوط کر سکتی ہے “۔
لیکن یہ فائدہ تبھی حاصل ہوگا جب بھوک لگے گی کیونکہ بھوک کی حالت میں ہی جسم پھر جسم کو کھانا شروع کریگا ۔کمال کی بات یہ ہے کہ اس پروسس میں وہ سب سے پہلے بیمار حصے کو کھائے گا ۔ان دنوں ایک اصطلاح بہت رائج ہے ڈی ٹاکس (detox)-روزے کو اگر اس کی اسپرٹ کے ساتھ رکھا جائے تو detox کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے ۔اسی بات کو عرفان ستار ذرا شاعرانہ انداز میں یوں کہتے ہیں
مآلِ عشقِ انا گیر ہے یہ مختصرا
میں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں
افطار میں پھر سے شکم سیری اس سارے دن کی محنت کو اکارت کردے گی ۔
تن پروری ِ خلق فزوں شد زِ ریاضت
جز گرمیِ افطار نہ دارد رمضاں ہیچ
PS:with inputs from Amir Hamza Saqib and Suhail Azad
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

