شاعری زمانے سے انسانی زندگی کے ساتھ اپنے عہد کی تصویر نگاری کرتی چلی آرہی ہے۔اس کا کارواں کبھی کسی بھی حال میں نہ رکا ہے اور نہ رکنے کے آثار ہیں۔رکنا،تھمنا اور دم لینا اسے گوارہ نہیں یا یوں کہہ لیں اسکے مقدر میں نہیں۔زمانہ وہ مصور خود پیدا کرلیتا ہے جو اس کی شاہکار تصویر بناۓ یہ معاملہ دوسرے میدان عمل کے ساتھ یکساں طور پر شعر و ادب کی دنیا میں بھی موجود ہوتا ہے۔ کچھ ایسے گرفتار جنوں ہوتے ہیں جن پر گفتار نازاں ہوتی ہے،جن کے ہاتھوں لمحوں کو صدی بنتے دیکھا گیا ہے۔جنوں واحد وہ شۓ ہیں جو عشق کو درکار ہے ورنہ عشق کی تفسیر فلسفوں پر مشتمل نہیں ہوتی۔ایسا ہی ایک جنوں کی شاہکار تصویر استاد الشعراء محترم حشم الرمضان کی شخصیت ہے.
حشم الرمضان کی شخصیت ادبی حلقے میں مستند اور استاد الشعراء کی حیثیت سے مسلم ہے۔اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور شاعری کی بلند آواز حشم الرمضان صاحب نے نظموں اور گیتوں کو غزلوں سےذیادہ فوقیت دی مگر جب آپ انکی غزلوں کے اشعار کا مطالعہ کریں گے تو اس بات سے اتفاق مشکل ہوجاتا ہے۔غزلوں میں ان کا بلند آہنگ،پر وقار لہجہ اور کھنکتی آواز کی جادو سے کسی بھی ذی شعور اور شعری ذوق رکھنے والا خود کو باز نہیں رکھ سکتا اور ان کو داد دۓ بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ جیسے عشق سر چڑھ کر بولتا ہے ویسا ہی ان کا شعری شعور بولتا ہے۔جنوں کا کمال یہی ہوتا ہے کہ جب شباب پر آتا ہے توانسانی عقل کو محو حیرت کردیتا ہے۔وہ فقیہہ شہر نہیں ہوتا وہ قلندر ہوتا ہے جو مثال پیش کرتا ہے جواز نہیں۔وہ زمانے پر عکس نہیں چھوڑتا بلکہ دیوار دل پر اپنا نقش گڑھ جاتا ہے۔اس ضمن میں موصوف کا ایک شعر دیکھیں۔
ہے جنوں عشق ہی کی شکل کمال
عقل کو ہو کہ اعتبار نہ ہو
فنکار کسی مخصوص مقام کا نہیں ہوتا وہ فن کے آسمان کا سورج ہوتا ہے جس کی روشنی بلا امتیاز سب پر پڑتی ہے ہاں جس مخصوص مقام پر وہ ایام زندگی گزارتا ہے جہاں اس کے فن کے جوہر کھلتے ہیں یقیناً وہ جگہ قابل ذکر ہوتی ہے حشم الرمضان صاحب مغربی بنگال کے ادبی افق کا ایک آفتاب ہیں۔
حشم الرمضان صاحب کی شاعری میں موضوعات کا تنوع ملتا ہے،اظہار کی بر جستگی سے شعر کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے۔رومانیت کا پہلو شاعری کا اہم عنصر ہے جس سے قطع نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔موصوف نے بھی اس عنصر کو اپنی شاعری میں اعتبار بخشا ہے۔
یہ عارض اور یہ تل، اللہ اللہ،ہم تو سمجھے تھے
اجالے میں اندھیرے کو سمویا جا نہیں سکتا
عشق میں سرشار عاشق کی بس یہ التجا ہےکہ
یار زانو پہ سو گیا ہے مرے
صبح کہہ دو ذرا ٹھہر جائے
اردو شاعری میں معشوق کی شبیہ ایک ظالم کی ہے اسے عاشق کو سزا دینے میں مزہ آتا ہے وہ فطرتاً سنگ دل واقع ہوا ہے لہذا مختلف طریقے سے عاشق کو اذیتیں دینے کی کوشش میں لگا رہتا ہے مگر واہ! رے عاشق کی سادہ لوحی وہ محبوب کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے طریقہ ستم خود ہی بتاتا ہے۔
رقص بسمل سے اگر ہونا ہے لطف اندوز تو
تیر نظروں کے ذرا تھم تھم کے مارا کیجئے
میر کی طرح آداب عشق سے آشنا شاعر محبوب کی رضامندی کی خاطر اور آداب عشق کی توقیر کے لئے یہ مشورہ دیتا ہے۔
ہے روا مسلک یہی بازی میں حسن و عشق کی
جیت ہو ان کی ہمیشہ آپ ہارا کیجئے
عشق کا حسین اظہار بھی دیکھئے
بندہ پرور کم سے کم سائل ہی مجھ کو جان کر
گاہے گاہے حسن کے صدقے اتارا کیجئے
کب کسی کی شامت آئی،کب کسی کی جان گئ
آپ کو کیا ،آپ تو زلفیں سنوارا کیجئے
اللہ اللہ ترے حسن کا بانکپن
نا مکمل ہر اک استعارا ہے
موصوف نے اپنی شاعری میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔زندگی کی ترجمانی کرتے وقت شاعر کا قلم کبھی مسرور دکھائی دیتا ہے تو کبھی اس پر رقت بھی طاری ہو جاتی ہے پر قلم بولتا ہے ہر حال بولتا ہے اور جب قلم دیوانے کے ہاتھ ہو تو ظالم کا کلیجہ کانپ جاتا ہے۔
دیوانگی میں جب کبھی دیوانے آے ہیں
ٹوٹے ہیں کتنے طوق و سلاسل نہ پوچھئے
طبیعت نے موزونیت پائی تھی اور استاذی حضرت شاکر کلکتوی (مرحوم) کی صحبت نے اس موزونیت کو موسیقی میں تبدیل کردیا۔موصوف شاعری کے رموز سے نہ صرف واقف تھیں بلکہ اسکا عملی ثبوت بھی پیش کیا۔زبان پر ایسی گرفت تھی کہ ان سے ہم کلام ہوتے وقت زبان والے بھی الفاظ کے استعمال پر مشکوک دکھائی دیتے۔موصوف کی کڑی محنت نے ان کے فن کو چار چاند لگا دیا۔ایک ماہر فن جب فن کا مظاہرہ کرتا ہے تو اک سحر انگیز سماں باندھ دیتا ہے۔
فقر کی بے سر و سامان پہ نادان نہ ہنس
سر شہنشاہوں کے اس در پہ جھکا کرتے ہیں
راکھ میرے نشیمن کی بکھری ہوئی
فصل گل کا ہے صدقہ اتارا ہوا
عالم یاس میں اے میرے تنفس،مجھ پر
تیرا احسان کر انبار ہوا جاتا ہے
موصوف کی شاعری میں کوشش پیہم کا جذبہ نا امیدی میں امید کی جوت جگاتی ہے۔زندگی کے کسی موڑ پر بھی حوصلے شکست زدہ نظر نہیں آتے،ہر قدم آہنی ارادے زندگی کو ہاتھوں کے اشارے سے بلاتے ہیں۔
تیشہ کوہکن جب اٹھے لے کےہم
ریزہ ریزہ ہر اک سنگ خارا ہوا
لو دیکھو ڈالتا ہوں میں پھر طرح آشیاں
حلانکہ بجلیوں کا اشارا ابھی سے ہے
ناکامیوں نے کردیا ہر چند نیم جاں
پھر بھی ہوں پر امید یہ میرا شعور ہے۔
خالق بحر و بر نے انسان کو زمین پر بھیجا نیک اعمال کے لۓ یہ دنیا در حقیقت ایک میدان عمل ہے ہر ایک اپنے اپنے عمل کے بنا پر ہی دنیا میں اور بار گاہ خدا میں عزت وذلت کا ذمہ دار ہوگا۔شاعر کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ عمل سے ہی زندگی جنت بھی ہے اور دوزخ بھی لہذا وہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتا کہ
موقوف ہے عمل ہی پہ انجام زندگی
ناداں عبث یہ تزکرۂ نار و نور ہے
انسان کی مٹی میں خطا شامل ہے پھر یہ ناممکن ہےکہ انسان یکسر خطاؤں سے پاک رہے اگر ایسا ہو تو اس کے انسان ہونے پر شک ہوگا۔انسانی خطائیں محدود ہیں پر اسکی رحمت لا محدود ہے۔نم آنکھوں کے ساتھ صدق دل سے اسکی رحمت پر آس لگانے والے کو مایوسی نہیں ہوتی۔جب غفار پر عقیدہ کامل ہے تو خوف محشر معنی نہیں رکھتی۔
کس بات کی ہے پھر سر محشر یہ باز پرس
میں نے تو سن رکھا ہے تو رب غفور ہے
موصوف کے اشعار میں الجھاؤ نہیں ہے سیدھے سادھے طریقے سے بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں شعر گوئی کا کمال اور اس پر تخیل کی پرواز شعر کو تابندگی بخشتی ہے۔ابہام گوئ اور ثقیل الفاظوں سے پرہیز ترسیل اظہار کو وسعت بھی دیتے ہیں اور سادگی کا لطف بھی۔لہجہ پر وقار اور پر جوش ہے جو مطالعے کے دوران رگوں میں سرائیت کر جاتا ہے۔شاعری ہمیشہ وقت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلی ہے اور خاص کر غزل نے تو نبض زمانہ پر اپنی انگلی رکھی رہی ہے، تب ہی ہر دور میں شاعری کی آبرو رہی ورنہ کئ اصناف تو وقت کی گردش کے شکار ہو گئیں۔بدلتے وقت کے ساتھ غزل کے موضوعات بدلتے گئیں۔شاعری کے دوسرے اصناف مزاج وقت کو سمجھنے میں چوک گئے مگر غزل کا جادو قائم رہا اور اب بھی قائم ہے۔غڑل جب غزل نما ذہن میں پل کر بڑھتی ہے تو مرکز ہر خاص و عام ہو جاتی ہے ۔موصوف نے غزل کو غزل کے شایان شان لکھا،غزل کی نزاکتوں اور شوخیوں کو ملحوظ خاطر رکھا اور شاعری کے اٹھلاتے قدموں پر دل کی کلیاں نچھاور کردی۔
موصوف کی شاعری میں مختلف صنائع کا اہتمام ملتا ہے۔مختلف بحور میں غزلوں کو کہہ کر انہوں نے اس صنف پر اپنی دسترس کامل کا بین ثبوت دیا ہے۔نظموں اور گیتوں کے اس رسیا نے غزل سے بھی اپنی انسیت اور عقیدت کا برملا اظہار کیا ہے۔
لف و نشر مرتب کی ایک خوبصورت مثال یہ شعر دیکھیں۔
اللہ رے ترے عارض،اللہ رے ترے گیسو
اک صبح درخشاں سی،اک شام سہانی سی
تکرارِ لفظی بھی موصوف کی شاعری میں شعری غازہ ملتا دکھائی دیتا ہے
سر جو گردن پہ ہی جھک جائزے اسے سر نہ کہو
سر جو گردن سے اتر جائے وہ سر ہوتا ہے
صنعت تضاد کی ایک بہترین مثال آپ کے شعری ذوق کی خدمت میں حاضر کر رہا ہوں۔
ہم لوگ ہیں اسیر زمان و مکان میں
حاجت تجھے نہ قرن کی نہ عرض و طول کی
صنعت تضاد کی ایک قسم ایجابی کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔
کیسے ہو تھوڑا بھی بھروسہ دیں گے وہ دیدار تنک
باتوں میں ہو جب ان کی انکار ادھک اقرار تنک
صنعت ارشاد المثل کی ایک مثال سے لطف اندوز ہوں۔
اے کشت کار ہوش کے ناخن لے بے وقوف
لاۓ گی رنگ جلد ہی کھیتی ببول کی
موصوف نے ہندی آمیز غزل کہہ کر دونوں زبانوں پر اپنی گرفت کا ثبوت دیا ہے۔ہندی شبدوں کا پریوگ اردو شاعری میں بڑی کشلتا سے کیا ہے۔آپ کو تنک وشواس نہ ہوگا ایک اردو فارسی کا گرو ہندی شبدوں کو نگینے کی طرح شعر میں فٹ کر دیا ہے۔ان الفاظوں کا استعمال شعر کی دلکشی کیسے بڑھاتا ہے دیکھئے۔
پریت کی ریت نبھانے میں یہ جان بھی ارپن کردے گا
درشن سے پریتم کے اپنے سنبھلے تو بیمار تنک
جس خوبصورت خیال کو مزکورہ بالا شعر میں پیش کیا گیا ہے اس کے لئے الفاظ پریت،ریت،ارپن،درشن،پریتم،تنک سے موزوں شائد اور کچھ الفاظ نہ ہوں۔ان الفاظوں کی جگہ اور کوئی الفاظ میری دانست کے مطابق سماعت کو وہ مزہ نہ دے جو ان سے ملتا ہے۔
تیرے بگڑے مئے خانے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے
ساقی،ہوش و گوش کی سیما لانگھیں تو مئے خار تنک
موصوف کے مطلعے اور مقطعے پوری غزل کو مظبوطی سے پکڑے رہتے ہیں۔دو شاندار مطلعے اور مقطعے اس بات کی تصدیق کے لئے حاضر خدمت ہیں۔
دیر ہوتی ہے تو ہوتی ہے مگر ہوتا ہے
دل سے نکلی ہوئی باتوں کا اثر ہوتا ہے
جذبۂ محبت کو یوں تری ادا چھیڑے
جیسے پارسائی کو اولیں خطا چھیڑے
پھرتی ہیں شہر شہر سزائیں یتیم سی
کیا جانے جا مری ہے حشم منصفی کہاں
اس کو شاعر کہیں اے دوست کہ رہزن دل کا
لوٹ لیتا ہے حشم شعر کی محفل تنہا
اپنے بلند لب و لہجے سے اردو ادب کے قارئین کی طبیعت کو سرسار کرنے والے شاعر حشم الرمضان صاحب کی شاعری ادب میں بڑی قدر و منزلت رکھتی ہے۔اظہار خیال کی برجستگی سے ان کی شاعری جو نیا پن ابھرتا ہے قابل دید بھی ہیں اور قابل داد بھی۔
ان کی شاعری کو خراج کے لئے میری نظر اس شعر پر ہی رک جاتی ہے۔
چھین لیں ہر بات منھ کی،ایسا بھی کوئی شاعر ہے
ایسا شاعر!ایسا شاعر،ہاں،حشم الرمضان تو ہے۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ۔ ۔۔۔بہت خوب۔۔۔۔