غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام جناب سیفی سرونجی اور محترمہ استوتی اگروال کی مرتبہ کتاب ’خالد محمود: شخصیت اور ادبی خدمات‘ پر مذاکرے کا ایوان غالب میں انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے کی صدارت سابق چیف الکشن کمشنر جناب ایس وائی قریشی نے فرمائی۔ اپنے صدارت خطاب میں انھوں نے کہا کہ خالد محمود صاحب سے میں پہلے بھی واقف تھا لیکن اس کتاب کے ذریعے ان کی شخصیت کے تمام پہلو مجھ پر روشن ہو گئے ہیں۔ اس مذاکرے میں جو گفتگو میں نے سنی اس کی بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں مبالغے کو دخل نہیں تھا اور سب نے خود کو موضوع تک محدود رکھا، کسی مذاکرے کی کامیابی کی اس سے بڑی کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ جلسے کے مہمان خصوصی اور دہلی کے سابق لفٹننٹ گورنر جناب نجیب جنگ صاحب نے کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خالد محمود صاحب سے میری پہلی ملاقات بہت یادگار تھی اور وہ آج تک میرے حافظے میں محفوظ ہے۔ انھوں نے جس ادارے کی ذمہ داری قبول اس کی قسمت بدل کر رکھ دی۔ وہ اچھے استاد اور لاجواب منتظم ہیں۔ اس کتاب میں ان کی شخصیت کے سبھی پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔ اس بہترین ترتیب کے لیے اس کے مرتبین لائق مبارکباد ہیں۔ اجلاس کے مہمان اعزازی جناب چندر بھان خیال نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خالد محمود اگرچہ میرے استاد نہیں ہیں لیکن میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی شخصیت میں کمال کا انہماک ہے جس چیز میں لگ جاتے ہیں اس میں ایک منفرد شان پیدا کر دیتے ہیں۔ شاعری، خاکہ نگار ی ہو یا انتظامی امور وہ ہر میدان کے شہسوار ہیں۔ اس کتاب کے مرتب جناب سیفی سرونجی صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خالد محمود صاحب میرے استاد بھی رہے ہیں اور ایک ادیب کی حیثیت سے ان کا اسلوب تربیت کا وسیلہ ہے۔ ان سے ہر ملاقات میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسی شخصیت کے علمی کارناموں کا اعتراف تحریری شکل میں لازم ہے اسی خیال نے مجھے کتاب کی ترتیب پر راغب کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ سب نے اسے پسند کیا اور اپنے گراں قدر خیالات پیش کیے۔ محترمہ استوتی اگروال نے اس کتاب کی ترتیب میں بہت محنت کی ہے وہ زیادہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر معین الدین جینا بڑے، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر سراج اجملی، پروفیسر ابوبکر عباد، پروفیسر تسنیم فاطمہ، جناب راشد جمال فاروقی، محترمہ فوزیہ رباب، ڈاکٹر نعمان قیصر، اور ڈاکٹر فیضان شاہد نے کتاب کے اہم گوشوں اور خالد محمود صاحب کی شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر خالد مبشر نے انجام دیے اور ادارے کی جانب سے استقبالیہ کلمات ڈاکٹر محضر رضا نے پیش کیے۔ محترمہ استوتی اگروال نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر خالد مبشر، جناب سیفی سرونجی، پروفیسر خالد محمود، جناب چندر بھان خیال، جناب ایس وائی قریشی، جناب نجیب جنگ، محترمہ استوتی اگروال
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

