آواز کا اثر تو یقیناً ہوتا ہے وقتی طور پر آواز لوگوں کو اپنی جانب مخاطب کرلیتی ہے اور وہ بے ارادی طور پر اس آواز کی جانب مڑ جاتے ہیں مگر بات کا اثر فوراً نہیں ہوتا کچھ وقت درکار ہوتا ہے اور اس بات کی جانب مخاطب ہونے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو شور اور گفتگو کا فرق سمجھتے ہیں۔ہاں! تو دیر سے اثر کرنے والی بات کبھی شور میں نہیں کھوتی بلکہ جب لب کھولتی ہے تو ایک عالم اس پر کان دھرتا ہے اور مغلوب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔غزل جو ایک قاتل صنف ہے اس کا بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔غزل سادگی چاہتی ہے،وہ دیوانوں کے چاک گریباں سے جھانکتی ہوئی خوش ہوتی ہے،محلوں میں اس کا آشیانہ نہیں ہوسکتا وہ تو اجڑے دل کے آہوں میں اٹھلاتی ہے۔غزل احساس کی صنف ہے۔ایک احساس،ایک کسک،ایک ٹیس،جو رات گئے آسمان خیال سے آنگن دل میں دھیمی قدموں سے اتر جاتی ہے اور شاعر کو وجدانی کیفیت سے آشنا کرادیتی ہے۔دھیمے لہجے میں درد کی لذت کو بیان کرنے والا شاعر جب یادوں کے جھروکے ہٹا کر گلشن عشق میں داخل ہوتا ہے تو غزل کے ہاتھوں میں ایک تازہ گلاب پیش کرتا ہے اور ایسے ہی غزل کے ہاتھوں میں تازہ گلاب پیش کرنے والے شاعر ڈاکٹر نسیم احمد نسیم ہیں۔
شاعری وقت گزاری نہیں شاعری زندگی کی ظاہری اور باطنی دونوں کی عمدہ ترجمانی تو کرتی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس میں ایک عہد سانس بھی لیتی ہے گر شاعری کے سینے پر کان رکھ کر سنا جائے تو اپنے عہد کی داستان دھڑکتی ہوئی صاف سنائی دیتی ہے۔ہر عہد کے اپنے مسائل ہوتے ہیں،اپنی خوبیاں ہوتی ہیں،اپنا منظر نامہ ہوتا ہے اور حساس دل خاص کر فن کار کا دل انکی تصویر بنانے پر ہی معمور ہوتا ہے۔میں تو کائنات کی ہر شئے کو بولتا ہوا سمجھتا ہوں یہاں تک کہ احساسات کو بھی۔ محسوسات اظہار چاہتی ہیں یہ ان موجوں کی طرح ہوتی ہیں جو سمندر میں اٹھتی ہے بے ساختہ،بے ارادی،بنا پوچھے،ہر ردعمل سے نا آشنا۔ہر وہ فن کار قابل تعظیم ہے جس نے ان احساسات کو اپنے فن کی زبان دی۔
نسیم احمد نسیم ایک شگفتہ ذہن کے مالک ہیں۔ان کے اشعار ان کے احساسات کا اظہار بھی ہے اور اعتراف بھی۔اپنی غزلوں میں دھیمی آنچ رکھنے والے نسیم احمد نسیم کی غزلوں میں نئ تازگی اور نئ لطافت کا مربوط و منظم احساس جاگتا دکھائی دیتا ہے۔ غزل میں غزل کا لہجہ اختیار کرنا آسان نہیں،کہیں بھی کھردرے پن کا سایہ تک نہیں دکھائی دیتا۔پر وقار لہجہ،نرم و سلیس الفاظ، انداز تخاتب،لفظوں کا ہنر مندی سے استعمال اور ثقالت سے پرہیز انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
زندگی کیا ہے؟انسان کی اس زمین پر کیا وقعت ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے خاک،بس یہی خاک ہماری حقیقت ہے ہماری اس رنگین دنیا کی بھی یہی حقیقت ہے لہذا انسان کو غرور زیب نہیں دیتا جب کچھ دائمی ہے ہی نہیں پھر کیسا اترانا پھر کیوں ان لمحاتی مسرتوں میں مسرور ہوکر خوش فہمی میں مبتلا ہونا؟شاعر نے اس فلسفے کو کیا خوب لفظوں کا پیرہن دیا ہے۔
مری اوقات وہ اس طرح بتا دیتا ہے
خاک لے کر کے ہواؤں میں اڑا دیتا ہے
زندگی متحرک رہنے کا نام ہے اس لئے جواں حوصلے والے منزل پر آکر بھی اپنا سفر نہیں روکتے نئ منزل کی جانب رواں دواں رہتے ہیں در اصل ایسے مسافروں کے قدموں میں ہی منزل ہوتی ہے مگر ہمیشہ نئ راہوں کی تلاش میں سرگرداں رہنا چاہتے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم اسے جنون کہہ سکتے ہیں جو منزل پر آکر بھی دم نہیں لیتا۔موصوف کی شاعری میں ایسا ہی چلتے رہنے کا جنون ملتا ہے جو خوش آئندہ ہے۔
منزل ہے میرے آگے میں منزل کے روبرو
پھر بھی میں چل رہا ہوں ابھی راستے میں ہوں
غزل میں تزکرہ حسن شرط اول نہیں تو دوئم ضرور ہے۔اردو شاعری میں خصوصی طور پر غزل میں عشق کا جتنا خوبصورت اظہار ملتا ہے اتنا شائد دوسرے اصناف میں نہیں ملتا ہے۔اردو شاعری کا محبوب ناز و ادا میں دوسرا ثانی نہیں رکھتا۔آداب حسن اور اظہار عشق کا خوبصورت التزام موصوف کی غزلوں ملتا ہے۔موصوف کے دو اشعار دیکھیں۔
مری کتاب کے اوراق سبھی تمہارے ہیں
جہاں سے دیکھو ترا اقتباس رہتا ہے
وہ ایک لمس کہ اب تک نہ بھول پایا میں
نہ جانے کیسے کسی کو کوئی بھلاتا ہے
غزل کی مقبولیت کے کئ وجوہات ہیں ان میں ایک وجہ یہ بھی ہےکہ غزل نے بدلتے وقت کے ساتھ اپنے موضوعات بدلے۔شاعر ذی ہوش اور ترجمان وقت ہوتا ہے لہذا جہاں وہ اپنے دور کی حسین تصویر پیش کرتا ہے تو وہی اپنے عصر حاضر میں درپیش مسائل کو بھی صفحہ قرطاس پر ابھارتا ہے۔عصر حاضر اپنی تکنیکی ترقیوں سے جہاں سر خرو ہے وہی اس کے ماتھے پر مظلومیت کی داستانیں بھی کنندہ ہیں۔سیاروں تک رسائی حاصل کرنے والا انسان دلوں تک رسائی حاصل نہ کرسکا۔بے چینی،بھوک،مفلسی،تنگ دستی، ناانصافی، جانبداری بہ دستور جاری و ساری ہے۔تعلیم یافتہ اور قابل لوگ مفلوک الحال ہیں اور نا اہل مسند کی زینت بنے بیٹھے ہیں۔عصر حاضر کا منظر نامہ پیش کرتے یہ اشعار دیکھیں۔
پڑھ کے لکھ کے حالت کیا ہم نے یہ بنالی ہے
ڈگریاں ہیں ہاتھوں میں اور جیب خالی ہے
جھوٹی گواہیوں کی بدولت وہ بچ گیا
سچ بولتا ہوا میں ابھی کٹگھرے میں ہوں
نسیم احمد نسیم کی یہاں فکر کی ارتقا کے ساتھ ذہنی کشمکش میں الجھتے سوالوں کے اطمینان بخش جواب ملتے ہیں۔کہیں کسی موڑ پر ہراساں دکھائی نہیں دیتے گویا جو ہو رہا ہے وہ عین قانون فطرت ہے۔وہ دنیاوی حقیقت سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ مستقبل میں ہونے والے فیصلے پر بھی مطمئن ہیں۔انسان جب اس بات کو دل میں بیٹھا لیتا ہے کہ پانا اور کھونا اس کاتب تقدیر کے ہاتھ ہے جو ہر پل نئے کرشمے دکھاتا ہے تب وہ اپنا سینہ مضبوط کرلیا ہوتا ہے کہ کچھ باتیں اس کے خلاف امید ہوسکتے ہیں اس دنیا میں ثبات کس کو حاصل ہے تو پھر دوست کا دشمن ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں بلکہ یہ روزمرہ کا ایک واقعہ ہے اس لئے وہ محتاط ہوتے ہوئے کہتے ہے۔
لاکھ اپنے ہوں کسی پل بھی بدل جائیں گے
ریت کے محل پہ اتنا بھی بھروسا نہ کرو
انسان کی حیات بھی کتاب کی مانند ہے مگر ہزار کتابوں کو پڑھنے والا ،فلسفہ کائنات سمجھنے والا ضروری نہیں کہ وہ کتاب نما زندگی کو پڑھ سکے۔اس کتاب کہ اسباق کبھی اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں، ان میں اتنا گہرا رمز ہوتا ہے کہ اس کے بند گرہوں کو کھولنا آسان نہیں ہوتا۔شاعر بھی اس نقطے کو یوں بیان کرتا ہے۔
دنیا کے سارے راز سے واقف تو تھا مگر
وہ پڑھ سکا نہ مجھ کو میں ایسی کتاب تھا
نسیم احمد نسیم کی غزلیں پیچیدہ نہیں ہوتی بلکہ خیالات کا ایک سادہ احساس کی دلکشی کا اظہار ملتا ہے۔اثرات کے ساتھ اس کے وجوہات بھی بیان کرتے ہوئے انکا لہجہ بالکل نہیں بدلتا گویا جذبات کی ترجمانی کرتے وقت انہیں بر خلاف امید ہونے والے واقعات سے کوئی شکایت نہیں۔ہر حالات میں معتدل رہنے کا مادہ انکے ہاں ملتا ہے۔
میں اس کے واسطے مشکل سا اک سبق ٹھہرا
وہ مجھ کو یاد تو کرتا ہے بھول جاتا ہے
ہر گھڑی ایک ہی جیسا کبھی سوچا نہ کرو
وقت ہرجأئی ہے تم اس پہ بھروسا نہ کرو
حقیقت پسندی ان کی شاعری کی اہم خصوصیت ہے ان کی شاعری کا محبوب دنیا سے الگ نہیں،وہ دنیاوی رنگ و روپ،دنیاوی مسائل،خوبیوں و خامیوں سے مبرا نہیں،چاندنی رات کے دوسرے پہر وہ چاند کے جھولے سے نہیں اترتا بلکہ انکی شاعری کا محبوب جدید دور کا وہ انسان ہے جس کی سانسوں سے ذیادہ مسائل ہیں جس کے رخسار پر حسن کا غازہ تو ہے پر زیست کے دھوپ میں حسن کے رخسار پر لگا غازہ پسینے سے سنا ہوا بھی ہے اور ہاتھوں میں عصری تقاضوں کا مصلحتی عصا بھی ہے۔یہ وہ محبوب ہے جو عصر حاضر کی شاعری کا passive character ہے اور شاعر عملی۔
تمہاری یاد کو کب تک سجا کے رکھتا میں
کبھی تو خالی یہ دل کا مکان ہونا تھا
پھر کسی شام کے رخسار پہ رکھ دے گا وہ
ان کے چہرے پہ جو تھوڑا سا نمک باقی ہے
موصوف کی شاعری میں یادیں ایک خاص عنصر ہے۔یادوں کے آنگن میں جب شاعر کا دل جھانکتا ہے تو ماضی کے سارے مناظر ایک ایک کرکے ظاہری وجود پانے لگتے ہیں جنہیں دیکھ شاعر دل کو سمجھتا ہے کہ یادیں صرف یادیں ہوتی ہیں حال اس کے بالکل برعکس ہے اور ان یادوں کی اب کوئی حقیقت باقی نہیں۔
اس سے وابستہ ہیں کچھ ایسی پرانی یادیں
جب بھی آتا ہے مری نیند اڑا دیتا ہے
نسیم جس سے تعلق تھا چند لمحوں کا
وہ بن کے یاد گزشتہ مجھے ستاتا ہے
جب جا چکے تمام ہی رشتوں کے قافلے
میں تھا تمہاری یاد کا تازہ گلاب تھا
اس سے وابستہ ہیں کچھ ایسی پرانی یادیں
جب بھی آتا ہے مری نیند اڑا دیتا ہے
لاکھ کرتا رہا میں اس کو بھلانے کی سعی
یاد رہ رہ کے کوئی اس کی دلا دیتا ہے
ہر معرکہ زندگی کائنات وجود میں ایک نیا آدمی پیدا کرتا ہے ایسی صورت حال میں نہایت مشکل ہے کہ ہر واقعہ ایک جیسا ہو۔زمانے کے بدلتے مزاج کی شناسائی تخلیق کار کے فن کو جلا بخشتی ہے۔نسیم احمد نسیم کی شاعری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی کرتی ہے نیز اسلوب کی لطافت نیا ذائقہ فراہم کرتی ہے۔ان کے یہاں آسانی سے اپنی بات کہہ جانے کا ہنر قابل دید ہے۔
خالق دو جہاں ان کے قلم کو مذید روانی بخشے۔
اس کی خواہش کا شجر خشک نہیں ہوسکتا
جس کی ہر شاخ تمنا میں لچک باقی ہے
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
بہت عمدہ مضمون۔۔۔۔بہت خوب