اسے دل سے لگانا چاہتا ہوں
میں اس کے غم مٹانا چاہتا ہوں
ابھی حالات سے مجبور ہوں میں
کیا وعدہ نبھانا چاہتا ہوں
جگر کے خون سے لکھی ہے محبت
میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں
یہ دنیا بے مروت بے وفا ہے
میں دنیا کو جھکانا چاہتا ہوں
محبت میں ذرا نوشاد منظر
کہو خود کو گنوانا چاہتا ہوں
نوٹ: یہ نوشاد منظر کی پہلی غزل ہے۔

