Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
مرثیہ تنقید

محب اہلبیت گوپی ناتھ امن اور ان کا تحریر کردہ مرثیہ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ – ڈاکٹر سید کلیم اصغر

by adbimiras اگست 31, 2020
by adbimiras اگست 31, 2020 0 comment

گوپی ناتھ امن لکھنوی مہادیو پرشاد عاصی کے فرزند اکبر، گُرسرن لال ادیب لکھنوی کے برادر بزرگ اور ڈاکٹر دھرمندرناتھ کے والد محترم تھے۔ آپ نامور شاعر ، معتبر صحافی، مشہور نثر نگار ، کئی زبانوں کے ماہر، پدم بھوشن اعزاز سے سرفراز ہونے کے ساتھ سیاست کے میدان میں بھی مرد میدان رہتے ہوئے وزیر اور ڈپٹی اسپیکر دہلی کے عہدے تک پہنچے ۔ ان تمام پوسٹ، مقامات اور اعزازات کے ساتھ امن لکھنوی کی سب اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک سادہ انسان تھے ،نہ وزیر اور اسپیکر ہونے کا غرور تھا اور نہ ہی کبھی اعزازات و مقامات پر فخر کیا، بلکہ ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کی ،اور انسانیت کی خاطر اپنی زندگی وقف کردی۔ امن لکھنوی نے لکھنؤ کی قومی ہم آہنگی کی فضا میں پرورش پائی جہاں بلا تفریق مذہب و ملت ذکر اہل بیت کرنے کی مستحکم روایت تھی۔ آپ کا خانوادہ اہل بیت سے بے پناہ محبت کرتا اور خاص کر احترام محرم میں اپنی مثال آپ تھا۔ بقول ڈاکٹر دھرمندر ناتھ :
’’ ہمارے خاندان میں بھی ماہ محرم سے چہلم تک کوئی خوشی نہیں منائی جاتی تھی ۔ جو سبیل لگائی جاتی تھی اس کا منتظم مسلمان ہوتا تھا۔ لکھنؤ میں ہمارے پڑوس میں مرزا جی کے یہاں تعزیے رکھے جاتے تھے ۔ عزاداری میں شریک ہونے ہمارے خاندان کے افراد بھی جاتے تھے ۔ پردادا جان یوم عاشورہ کو پیدل تالکٹورہ کربلا (لکھنؤ) جاتے تھے ۔ دادا جان عاصی لکھنوی شعری نذرانہ عقیدت پیش کرتے تھے ۔ والد محترم (جناب امن لکھنوی) اور عم محترم (جناب ادیب لکھنوی) نے تو تا عمر زبان و قلم سے مدحت گری رسول و آل رسول کی۔ مجالس میں تقریر فرماتے تھے اور مقاصدوںو مسالموں میں کلام پیش کرتے تھے ۔ ‘‘(۱)
یقینا امن لکھنوی نے جہاں ایک طرف قلم کے ذریعے خدمت اسلام انجام دی وہیں دوسری جانب تقاریر کے ذریعے بھی پیغام اسلامی پہنچانے کی کوشش کی ۔ دونوں میدانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی ۔ امن صاحب نے مصلحتاً کوئی کا م نہیں کیا بلکہ جو بھی کیا وہ آپ کے دل و ضمیرکی آواز تھی ۔ مصلحت کو کہیں کوئی دخل نہیں رہا۔ ڈاکٹر دھرمندر ناتھ نے ’’سیل عقیدت‘‘ میں پرستار حسینیت امن لکھنوی کے عنوان سے لکھے مضمون میں لاہور میں امن لکھنوی کی تقریر سے متعلق اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کیا ہے :
’’میرے والد محترم عالی مرتبت گوپی ناتھ امن لکھنوی مرحوم نے ۱۹۵۵ میں حسین ڈے (زیر اہتمام بزم حسین لاہور) میں اپنی تقریر کا آغاز مولانا ظفر علی خان کے اس شعر سے کیا:
محمدِؐ عربی کو جھکائیں سر ھندو
جناب کرشن کا یوں احترام کرتا ہوں
آپ نے سامعین سے دریافت فرمایا: ’یہ شعر کیسا ہے ؟ ‘جواب ملا’بہت اچھا‘ قبلہ امن صاحب نے فرمایا: ’کیا آپ حضرات نے غور فرمایا کہ شاعر احترام کو مشروط قرار دے رہا ہے ۔یعنی احترام اس لیے کرو کہ دوسرے سر جھکائیں یہ سوچنے کا طریقہ مناسب نہیں ہے۔ عقیدت کبھی بر بنائے تجارت نہیں ہوتی اس میں شرائط و قیود نہیں ہوتیں۔ میں اگر بزم حسینی میں حاضر ہوا ہوں تو اس لیے کہ
حسین ابن علی کو سلام کرتا ہوں
کہ اس سے کسب فیوض دوام کرتا ہوں
نہیں ہے مصلحت اندیش اعتقاد مرا
پئے طہارت دل اہتمام کرتا ہوں ‘ ‘‘(۲)
امن صاحب اسم با مسمی تھے۔ انہوں نے اپنا تخلص ہی امن اختیار کیا تاکہ امن و آشتی برقرار رہے اور پیغام امن پہنچاتے رہیں ۔ یہی پیغام آپ کے اشعار اور تقاریر میں ملتا ہے ۔حق و صداقت کی راہ میں جان دینے کو وہ ترجیح دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے اگر موت آئے تو راہ حق پر چلتے ہوئے یا حق و صداقت کے دفاع میں آئے۔ انہوں نے کربلا کا بخوبی مطالعے کیا۔ امام حسینؑ کی شخصیت اور ان کی راہ میںجان دینے والے افراد سے بے پناہ عشق رکھتے تھے ۔ امن لکھنوی کی نظر میں راہ حق میں جان دینے سے اچھی کوئی چیز نہیں ۔ وہ ظلم و تشدد کے سخت مخالف تھے ۔ جب بھی بچوں ، عورتوں اور مظلوموں پر کوئی ظلم ہوتا تو پریشان ہوجاتے اور کہتے کاش میں وہاں ہوتا اور ان ظالموں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان قربان کرتا۔ کیونکہ امن لکھنوی نے کربلا کا بخوبی مطالعے کیا تھا ۔ امام حسین ؑ کے کردار سے بے حد متاثر تھے چاہتے تھے کہ موت بھی آئے تو امام حسین اور گاندھی جی کی طرح راہ حق پر آئے ۔ جس زمانے میں دہلی کے امامیہ ہال کی زمین پر کچھ دکانداروں نے غاصبانہ قبضہ کیا تو وہ اس وقت معذور تھے اور ویل چیئر پر چلتے تھے اس عالم میں بھی حوصلہ کی بلندی کا یہ حال تھا کہ وہ وہاں جاکر معذوری کے عالم میں ان کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے ۔ ڈاکٹر دھرمندر ناتھ نے اس واقعے کو بھی ’’سیل عقیدت‘‘ میں نہایت فخر کے ساتھ اس طرح تحریر کیا ہے :
’’ایک دن استاذی محترم جناب قیصر زیدی دریاگنج ہمارے گھر تشریف لائے ۔ باتوں باتوں میں ذکر آیا امامیہ ہال کی زمین پر کچھ دکانداروں کے غاصبانہ قبضے کا ۔ زیدی صاحب نے تجویز رکھی کہ دلی کے لیفٹینٹ گورنر کے نام ایک درخواست بھیجی جائے ۔ امن صاحب نے فرمایا: ایسے کچھ نہیں ہونے والا ہمیں وہاں ستیہ گرہ کرنا چاہیے ۔‘ زیدی صاحب نے فرمایا: ’وہ لوگ تشدد پر اتر آئیںگے ۔ ‘ والد صاحب نے کہا: ’تب تو ہمارا کام اور جلدی بنے گا۔ میری پہیے دار کرسی(والد صاحب ان دنوں چلنے سے معذور تھے) وہاں لے جائی جائے ۔ میںلاٹھیاں کھاؤں گا بھاگوں گا بھی نہیں اور اب تو بھاگنے کا سوال پیدا ہی نہیںہوتا۔ میں اگر مرجاؤں گا تو امامیہ ہال کی زمین بہت جلد خالی ہوجائے گی۔‘‘(۳)
یہ تھا جذبہ امن صاحب کا وہ جانتے تھے اگر نیک کام کی خاطر جان جائے تو زندگی سے بہتر ہے ۔ اورحسینیؑ کبھی بھی راہ حق میں جان دینے سے گریز نہیں کرتے بلکہ افتخار کرتے ہیں ۔ حسینیت کا مقصد ہی راہ حق میں قربان ہونا ہے ۔ یہی تمام باتیں آپ کے کلام میں دیکھنے کو ملتی ہیں :
حسینیت یزیدیت سے ہرگز دب نہیں سکتی
ہے ظاہر دین کا دنیا سے سودا ہو نہیں سکتا
حسینی شان کے سجدے ہیں سجدے میری نظروں میں
جبیں فرسائیوں کا نام سجدہ ہو نہیں سکتا
جو راہ حق میں سب کچھ پیش کرنے سے جھجھک جائے
وہ کوئی اور ہو حیدر کا بیٹا ہو نہیں سکتا (۴)
امن لکھنوی کے دینی کلام کے دو مجموعے شائع ہوئے ایک ’’سیل عقیدت‘‘ یہ حمد ، نعت، قصائد، سلام،مراثی، رباعیات اورقطعات کا مجموعہ ہے ۔دوسرا ’’ایشور اللہ تیرے نام‘‘(۵)
سیل عقیدت میں امن لکھنوی کے دو مرثیے بھی شامل ہیں ۔ ایک مرثیہ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ کے نام سے ہے ۔ یہ مرثیہ ۱۲۴ بند پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا مرثیہ ’’بیاد محسن علی‘‘ جس میں کل ۳۳ بند ہیں ۔’’ پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ عنوان سے کہے گئے مرثیے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امن لکھنویؔ نے اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک سانحے، سانحۂ کربلا کا بہت ہی گہرائی سے مطالعے کیا تھا ۔ جس انداز سے امن لکھنوی نے مرثیہ کا آغاز کیا ہے اس سے ان کی انکساری کے ساتھ اپنے اسلاف کے علم و فن کا پتہ معلوم ہوتا ہے ۔ مندرجہ ذیل بند میں امن لکھنوی اپنے بزرگوں کے مقابلے خود کو ہیچ سمجھتے ہیں ۔ آپ لکھتے ہیں :
حامل تجلیوں کا نہیں ہے مرا کلام
کیا میرا علم و فن ہے بھلا اور کیا کلام
کچھ شان اور رکھتا تھا اسلاف کا کلام
تاریخ میں مقام بلند ان کا لا کلام
اسلاف کا وہ حسن بیاں کیسے پاسکوں
دعویٰ ہی کیوں کروں جو ، نہ جوہر دکھا سکوں
اگلے جو اہل فن تھے ، کمال ان کا لا زوال
میں ان کی ہمسری کروں میری کیا مجال
وہ چست چست بندشیں لفظوں کا وہ جمال
اک بند ان کے پایہ کا لکھنا بھی ہے محال
میدان نظم کوئی نہ وہ چھوڑ گر گئے
مضمون وہ لکھے کہ قلم توڑ کر گئے
ان کا بجا تھا ناز کہ ہیں صاحب قلم
مضمون تازہ کرتے ہیں ہر نظم میں رقم
جوہر فصاحت اور بلاغت کے تھے بہم
زور بیاں جو ان میں تھا لائے یہ کس میں دم
زورِ قلم سے اپنے وہ منظر دکھا گئے
ہندوستاں کے پھول عرب میں کھلا گئے(۶)
اس کے بعد کے بندوں میں مرثیے کی ابتدا ، تاریخ اور مرثیہ گو شعرا ، خاص طور سے سرزمین اودھ کے مرثیہ گو شعرا کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں :
پہلے دکن میں لکھے گئے چند مرثیے
سوداؔ نے چند بند سپرد قلم کئے
گو پیش بند میرؔ نے بھی چند لکھ دیے
میداں مگر یہ وقف تھا اوروں ہی کے لئے
سب صاحب کمال اودھ کی زمیں کے تھے
یعنی دبیر، انیس، تعشق یہیں کے تھے
پھر ان کی نسل میں ہوئے وہ صاحب کمال
تھا اپنی اپنی طرز میں ہر ایک بے مثال
اوج و نفیس دونوں کی شہرت ہے لا زوال
تھی عشق کے کلام میں بھی ندرت خیال
عارف بھی اپنے علم کے جوہر دکھا گئے
مرجھائے ہی نہیں وہ شگوفے کھلا گئے
تھے حضرت رشید بھی ایسے ہی اہل فن
اس سر زمین میں خوب کھلائے نئے چمن
وہ حضرت مودب و شاعر کا بانکپن
نانک بھی اپنے قسم کا اک صاحب سخن
کتنے ہی اور مرثیے گو با ہنر ہوئے
جن کا کلام سن کے بہت دیدے تر ہوئے(۷)
موجودہ دور میں بھی ہیں واقف سے نکتہ رس
وہ پڑھتے جائیں رات بھر اور سنتے جاؤ بس
انداز وہ نصیب ہو بیکار یہ ہوس
اُن کو عظیم کہنے میں کیا مجھ کو پیش و پس
وہ ارض لکھنؤ جو مری زاد بھوم ہے
اس میں خبیرؔ اور مہذبؔ کی دھوم ہے(۸)
شاعر نے یہ مرثیہ اپنے ایک رفیق کی فرمائش پر لکھا ہے۔ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ لکھنے کے پس منظر کو کتنے حسین پیرایے میں ان دو بندوں میں بیان کیا ہے :
پھر لکھ رہا ہوں کس لیے کیا باعث سخن
اس سے غرض نہیں کوئی اظہار علم و فن
ہے یوں کہ لکھنؤ میں ملے مصطفی حسن
بولے کے لکھو کوئی رسالہ رفیق من
جس میں بیاں ہو وجہ شہادت حسین کی
کیوں اہل دل کے دل میں ہے الفت حسین کی
دلی میں آکے لکھنے جو بیٹھا میں ایک رات
آیا یہ دل میں نظم میں لکھو وہ واقعات
ہوں سیدھے سادے لفظوں میں کچھ دل کے واردات
نکلے زبانِ خامہ سے اشعار پانچ سات
تکیمل سلسلہ جو ہوئی پیش بزم ہے
پس منظر اس میں رزم کا ہے ، ذکر رزم ہے(۹)
ذیل کے چار پند قابل توجہ ہیں جو ان کے کمال علم و فن کے آئینہ دار ہیں ۔ جن میں امام حسینؑ کا سر زمین کربلا پہنچنا، کوفیوں کی بے وفائی اور اس بے وفائی کی وجہ سے امام حسینؑ کی ہند آنے کی خواہش ظاہر کرنا ، یہ سرزمین امن و آرام ہے افسوس کہ امام حسینؑ کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی لکھتے ہیں :
مقتل کی سر زمین پر پہنچے جو شاہ دیں
خیمے وہیں گڑے کہ یہ منزل تھی آخریں
ان کوفیوں میں رسم وفا نام کو نہیں
تھی معرکے کی ماہ محرم کی ساتویں
اپنا کوئی نہیں ہے یہاں ہے جو غیر ہے
مسلم ہیں اور آل محمد سے بیر ہے
یہ بھی دیا حسین نے اغیار کو پیام
مانا کہ بیر ہے ، نہ کرو تیغ بے نیام
راہیں جو کھول دو تو اکھڑ جائیں سب خیام
چھوڑیں عرب کو جاکے کریں ہند میں قیام
اے سر زمین گنگ و جمن وجہ ناز ہے
تیری طرف رخ شہ گیتی نواز ہے
ہر قسم کے ہیں پھول ہر اک قسم کے ہیں پھل
ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں میٹھا ہے تیرا جل
سحرا کہیں ہے دشت کہیں ہے کہیں جبل
فصل خزاں بھی ہو تو بہاریں یہاں اٹل
مشہور اک زمانے سے ہے رام کی زمیں
یہ رام کی زمیں ہے آرام کی زمیں
ہیں صبح و شام باغ میں چڑیوں کے چہچہے
ایسی ہے مشک بیز صبا کوئی کیا کہے
کلیوں کی مسکراہٹیں پھولوں کے قہقہے
موزوں تھا یہ رسول کا پیارا یہاں رہے
انکار اس سے کردیا لیکن یزید نے
ہند آنے کی بھی راہ نہ دی اس پلید نے(۱۰)
اس مرثیہ کے آخر کے دو بند میں سے پہلے بند میں میدان کربلا میں شہادت کے بعد لاشوں کے بکھرے پڑے رہنے کے منظر کو قرآن کے منتشر اوراق سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہر قوم اس عظیم غم میں گریہ کناں ہے ۔
میدان میں یہ حال تھا لاشیں تھیں منتشر
بازو کٹے کسی کے، کسی کا کٹا تھا سَر
قرآن کے ورق تھے یہ بکھرے اِدھر اُدھر
ہر قوم کے بشر کی ہے اس غم میں آنکھ تر
لاشوں کی یُوں ضرورتِ دفن و کفن گئی
کانپی زمین، دُھول اڑی قبر بن گئی(۱۱)
اور اس سلسلہ کا آخری بند دعائیہ ہے جس میں جذبہ انسانیت کو دل میں باقی رہنے کی دعا کے ساتھ مدح اہلبیت کے عوض اپنی بگڑی سنوارنے کی بھی دعا کی گئی ہے ۔
اَے شاہِ دیں مجھے بھی عطا کر اک ایسا دل
غم دیکھکر جو اوروں کے ہوجائے مضمحل
دردِ رفاہِ عام رہے دل میں مستقل
مولیٰ بہت ہوں اپنے گناہوں پہ منفعل
انسانیت کے جذبے کو دل میں ابھار دے
مدّاح اہلبیت ہوں بگڑی سنوار دے(۱۲)
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ محب اہلبیتؑ گوپی ناتھ امن نے کربلائی ادب سے متعلق جو خدمات انجام دیں وہ ناقابل فراموش ہیں ۔ ظاہراً آج یہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے علمی اور ادبی کارنامہ ہمیشہ ان کی یاد کو تازہ رکھیں گے ۔ جب جب ذکر اہلبیتؑ اور خاص کر ذکر کربلاہوگا تو ان کا بھی ذکر ہوگا جنہوں نے اس ذکر کو پھیلانے میں اپنی عمر صرف کردی۔
m
حواشی:
(۱) انوار عقیدت،ص: گزارش، ڈاکٹر دھرمیندر ناتھ، مرکز تحقیقات فارسی ، رایزنی فرہنگی ، سفارت جمہوری اسلامی ایران، نئی دہلی
(۲) سیل عقیدت،ص:۱۱، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ،ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۳) سیل عقیدت، ، ص:۲۲، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ،ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۹) سیل عقیدت، ، ص:۲۲، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ،ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۵) ہمارے رسول، ص: ۲۷۷، ڈاکٹر دھرمیندر ناتھ ، مرکز تحقیقات فارسی، رایزنی فرہنگی، سفارت جمہوری اسلامی ایران، نئی دہلی۲۰۱۱
(۶) سیل عقیدت،ص: ۸۷-۸۸، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ، ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۷) سیل عقیدت،ص: ۸۹-۹۰، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ، ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۸) سیل عقیدت،ص: ۹۰، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ، ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۹) سیل عقیدت،ص: ۹۱، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ، ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۱۰) عزاداری امام حسینؑ ایک آفاقی تحریک ص: ۳۳، ڈاکٹر دھرمیندر ناتھ، رایزنی فرھنگی ، سفارت جمہوری اسلامی ایران، دھلی نو۲۰۱۳
(۱۱) سیل عقیدت،ص: ۱۳۵، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ، ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸
(۱۲) سیل عقیدت،ص: ۱۳۶، ڈاکٹر دھرمیندرناتھ، ترتیب و پیشکش: سید محمود نقوی، نشاط پبلی کیشنز، نیو برج پوری، دہلی ۱۹۹۸

 

نوٹ: مضمون نگار شعبۂ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فارسی کے استاد ہیں۔

0 comment
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اردو رسائل- ڈاکٹرنعمان قیصر
اگلی پوسٹ
ناول کی تدریس-ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی

یہ بھی پڑھیں

غالب کا "سلام” – نسیم اشک

اپریل 21, 2022

’’مرثیہ‘‘ یعنی جذبۂ دردوغم کا شعوری اظہار(منظر وپس...

اگست 16, 2021

غالب کا ’مرثیۂ عارف‘: ایک تنقیدی تجزیہ –...

فروری 28, 2021

علامہ جمیل مظہری کی سلام نگاری – ڈاکٹر...

جنوری 8, 2021

کلیم عاجز کے شخصی مرثیے- ڈاکٹر سلمان فیصل

جنوری 1, 2021

انیس کی عظمت – پروفیسر عتیق اللہ

اگست 12, 2020

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں