بڑائی یا عظمت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہی نہیں خوش فہمیاں بھی ہیں۔ مغرب میں بھی ہر بڑے نقاد نے اپنے طور پر بڑائی یا عظمت کو معنی پہنائے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی نقادوں کی رائے میں اختلاف کی بڑی گنجائش ہے۔ مختلف نقاد ہی نہیں قاریوں کے بھی گروہ ہیں جو اپنی اپنی پسندیدگی کے مطابق بڑے یا بڑائی کا تصور قائم کرتے ہیں۔ اس طرح کسی شاعری کو بڑا بنانے میں فہمِ عامّہ کا بھی کچھ نہ کچھ دخل ضرور ہوتا ہے۔ لیکن ادب کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑے اور کم بڑے کا گراف اکثر ادوار میں بدلتا رہا ہے۔ا ٓدمی وہی رہتا ہے تاج بدلتے رہتے ہیں تاج وہی ہوتا ہے سر بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن بعض ایسے شعرا بھی ہیں جنھیں ہر دور میں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا گیا، جو ایک بار مسندِ اعلیٰ پر متمکّن ہوئے تو پھر اُنھیں اس منصب سے کوئی معزول نہیں کرسکا۔ انیس کا شمار بھی ایسے ہی شعرا میں کرنا چاہیے۔
انیس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو کسی شاعر کو نہ صرف ممتاز بنانے کے لیے ’شرط ‘ کا درجہ رکھتی ہیں بلکہ ان سے بڑائی کا تصور بھی وابستہ ہے۔ کوئی شاعر بڑا یا عظیم یوں ہی نہیں ہوجاتا۔ عظمت کو آنکنے کا کوئی مستند اور فیصل معیار متعین نہیں ہے اور نہ اس کے لیے کسی حتمی تعریف کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ کی طرح ادبی تاریخ کی تشکیل میں ایک جدلیاتی عملیے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ پھر بھی ہمارے لیے اکثر وہی شعرا بڑے کا درجہ رکھتے ہیں جنھیں مختلف ادوار کی خبر میں کوئی بڑا زخم نہیں پہنچا سکیں جو گویا نتھر کر کشید ہوکر ہم تک پہنچے ہیں۔
میر کو بڑا بنانے میں ان کی غزل گوئی کافی ہے لیکن اس بڑائی کو زیادہ متموّل، زیادہ گھنا اور زیادہ استحکام بخشنے والی اور بھی چیزیں تھیں۔ انھوں نے مثنویاں لکھیں، تذکرہ لکھا، ایک خودنوشت لکھی اور غزلوں کا ایک گراں قدر ذخیرہ چھوڑا جو زندگی، تجربے اور زبان کو برتنے کے ہزار رنگوں کا مجموعہ ہے۔ ناسخ کی شاعری کو غالب نے بھی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا تھا مگر وہ محض اپنی غزل کے بوتے پر بڑا نہیں بن سکتے تھے کیونکہ بہ الفاظِ غالب وہ ’یک فنے‘ تھے۔
غالب کے ادبی سفر کے کئی سنگ ہائے میل تھے۔ ان کے پاس ذہنی، اکتسابی اور عملی زندگی کے تجربات کا اژدہام تھا۔ وہ زندگی سے جوجھتے رہے، ٹکراتے رہے، دوست ہی نہیں دشمن بھی بناتے رہے کہ متنازعہ بننے کے اپنے کچھ فائدے ہیں اور کچھ نقصان بھی۔ جس شخص کی زندگی اتنی نشیب و فراز سے گزری ہو۔ جو قیام کرنا تو جانتا ہی نہ ہو۔ زندگی کی تلچھٹ تک جو پی جانا چاہتا ہو۔ اس کی گرہ میں کہنے کے لیے ’بہت کچھ‘ ہوتا ہے۔ یہی ’بہت کچھ‘ اسے اردو غزل اور پھر فارسی غزل اور مثنوی فارسی خطوط نگاری اور پھر اردو خطوط نگاری، قصیدہ نگاری پھر نعت بازی اور روزنامچہ نگاری کی طرف مائل رکھتا ہے۔ اتنے مختلف صیغوں کے بیچ میں وہ شخصیت بنتی ہے جس کا نام غالب ہے۔ غالب کی زنبیل میں اگر صرف غزل ہی کا مایہ ہوتا تب بھی وہ بڑے تھے مگر اس بڑائی کو اور بہرہ مند اور گراں ارز بنایا ۔ دوسری اُن متذکرہ بالا جہتوں نے جو ان کی شخصیت کی تعمیر میں بھی کام آئی تھیں۔ (یہ بھی پڑھیں نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری-میر انیس )
اقبال محض اردو کلام کے بوتے پر بھی زندہ رہ سکتے تھے لیکن انھیں بڑا بنانے میں ان کی فارسی شاعری اور مختلف اصناف میں طبع آزمائی کا بھی خاصا دخل ہے۔ ان کے خطبات، خطوط اور دیگر علمی کارنامے بھی بیش قیمت ہیں۔اقبال کی بصیرت میں جو آفاقی عنصر ہے وہ ان کے وسیع علم اور وسیع تجربے پر منتج ہے۔ اقبال نے رنگا رنگ غنائیت آمیز بحریں اور ہیئتیں آزمائیں، محسوسات کے نئے نئے سانچے تشکیل دیے، خیال کو اس طور پر استعارے کی راہ دکھائی کہ اس کی حرمت پر بھی کوئی حرف نہیں آیا اور شاعری کا جادو بھی قائم رہا۔
حالی اور آزاد کی نظم میں کئی تاؤ کی کمی تھی۔ یہ تجربہ ابھی ادھر کچرا ہی تھا۔ اقبال ہی نے نظم کو قائم کیا اور یہ ثابت کیا کہ نظم کا فارم کتنے کچھ امکانات اپنے اندر رکھتا ہے۔ اقبال نے جس موضوع کو اپنا نظریہ بنایا تھا اور جو ان کی تمام شاعری کا تابہ آخر عنوان بنا رہا۔ اس کے زیادہ سے زیادہ امکانات کو وہ بروئے کار لائے اور انھیں نے سارے امکانات بھی سلب کرلیے۔ دیکھا جائے تو ہر بڑا شاعر قادرالکلام ہوتا ہے۔ انیس بھی قادرالکلام تھے۔
انیس نے مرثیے کو ایک صنف کی حیثیت سے پوری طرح قائم کردیا، جس طرح میر نے غزل کو قائم کیا اور اس چھوٹی سی بساط میں ہزار رنگ کے مضامین وضع کرکے اس کی گہری ساخت میں چھپے ہوئے ان امکانات کو بروئے کار لائے اور اُن ہزاروں ہزار امکانات کی طرف متوجہ کیا جو غزل کی لوچ داری کے ضامن تھے۔ غزل کا یہی لوچ تھا جس نے میر کے بعد غالب کے لیے بھی ایک خاص جگہ چھوڑ رکھی تھی۔ میر کی غزل کی اتنی جہتیں اور اتنے ابعاد ہیں جس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ وہ غزل کے سارے امکانات سلب کرنے کے درپے تھے۔ بہت کچھ انھوں نے کیا، بہت کچھ پھر بھی باقی رہ گیا۔ وہ غالب ہی تھے جن میں یہ استعداد تھی، ایک فطری اور جبلّی استعداد جس نے غزل کو فلسفہ و فکر کی نئی توانائی بخشی۔ وقت کے ساتھ کچھ ایسے اجزا بھی اس کی ترکیب میں شامل ہوگئے تھے جنھیں غالب نے کاٹ چھانٹ کر اسے پہلے سے زیادہ محترم بنا دیا لیکن غزل کے امکانات میں جو خودروی تھی غالب کی غیرمعمولی خلاقی نے اس پر قدغن بھی لگا دی۔ غالب کے بعد ایک بڑے عرصے تک غزل کو کوئی بڑا نام میسر نہیں آیا۔ ہمارے اکثر شعرا نظم کی طرف راغب ہوئے تو اس کی ایک وجہ شاید غالب کی غزل کا وہ پندار بھی تھا جسے توڑنا اور جسے عبور کرنا اس قدر آسان نہ تھا۔ (یہ بھی پڑھیں کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے-مرزا سلامت علی دبیر )
آل احمد سرور کے حوالے سے مجھے یاد آرہا ہے کہ انھوں نے اپنے مضمون بعنوان ’انیس کی شاعرانہ عظمت‘ میں مولانا ابوالکلام آزاد کے اس خیال سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا تھا کہ شاعر کی عظمت کا پیمانہ کیا ہوسکتا ہے۔ سرور صاحب لکھتے ہیں:
’’یادش بخیر غالباً 1950 کی بات ہے مولانا آزاد غالب کے مزار کے قریب 15 فروری کو یومِ غالب کی صدارت کررہے تھے۔ مولانا نے اردو شاعری کے سرمائے کی قدر و قیمت کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ کسی شاعر کی عظمت اور بلندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا کتنا حصہ عالمی ادب کو ایک عطیّہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ انیس کے مرثیے اور غالب کی غزلیں یقینا عالمی ادب کو اردو شاعری کی دین ہیں۔‘‘
مولانا آزاد نے یہ تو کہہ دیا کہ کسی بھی شاعر کی عظمت اس میں ہے کہ اس کی شاعری کا کتنا حصّہ عالمی ادب کو ایک عطیّہ ہے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ عالمی ادب میں جگہ پانے کے لیے وہ کون سے عناصر ہیں جو اسے یہ منصب عطا کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس ضمن میں دو معیار متعین کرتے ہیں کہ اردو شاعری کی تاریخ میں انیس کے مرثیے اور دوسرے غالب کی غزلیں اِس منصب پر پورا اترتی ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ اس تفصیل سے گریز ہی برتتے ہیں کہ انیس کے مراثی کی وہ کون سی خوبیاں ہیں جو انھیں بڑا بناتی ہیں اور غالب کی غزلوں کو وہ کون سی خصوصیات ہیں جو انھیں بڑائی کے مرتبے پر فائز کرتی ہیں۔ سرور صاحب کے لیے بھی یہ ایک مسئلہ تھا سو وہ کہتے ہیں:
’’بڑائی کی تعریف آسان نہیں۔ اس میں صرف بلندی یعنی تخیل کی بلندی کا ہی سوال نہیں وسعت یعنی دائرہِ خیال کی وسعت اور گہرائی یعنی فطرتِ انسانی کے سربستہ رازوں کے انکشاف سبھی آجاتے ہیں۔ شاعری کی بڑائی میں صرف موضوع کی بڑائی کا سوال نہیں۔ موضوع کی تخیّلی ترجمانی، خیال کو محسوس بنانے کی قدرت، فکر کو جذبے کی آنچ عطا کرنے کی صلاحیت، لفظ کو گنجینۂ معنی بنانے کی اہلیت، زبان پر فتح اور زبان کے ساز کو سوز بنانے پر قدرت، مانوس جلووں میں انوکھا پن اور اجنبی مناظر میں مانوس پہلو دکھانے کی صلاحیت سبھی کچھ ہے۔‘‘
اگرچہ سرور صاحب نے بڑائی کو جانچنے کے جو پیمانے بنائے ہیں جو تخصیصات قائم کی ہیں۔ ان کی اپنی جگہ وقعت و قیمت ہے۔ یعنی جو شاعری ان عوامل کی مظہر ہوگی وہ یقینا بڑی شاعری کہلانے کی مستحق ہوگی۔ یہ سوال پھر بھی جوں کا توں برقرار رہے کہ ان تخصیصات میں سے کن کا اطلاق انیس یا غالب پر کیا جاسکتا ہے یا کن کا اطلاق انیس پر اور کن کا غالب پر کیا جاسکتا ہے ۔ یا یہ کہ کسی بھی شاعری کی عظمت کے لیے یہ تمام تخصیصات، محض تخصیصات ہی نہیں شرائط بھی ہیں۔ ممکن ہے سرور صاحب نے یہ ساری باتیں ایک خاص ترنگ میں کہی ہوں اور ان کے اطلاق کی ذمّہ داری اپنے قاریوں پر چھوڑ دی ہو۔ ایک بات اور ہے کبھی کبھی ایک خاص رَو میں کہی ہوئی باتیں توضیح طلب ہونے کے باوجود بڑی معنی خیز ہوتی ہیں بلکہ توضیح طلب ہونے کے باوجود ان کی توضیح ان کے اَصل کو مسخ کرسکتی ہے۔ سرور صاحب کے اس بیان پر غور کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں ہے کہ ایک آدھ کو چھوڑ کر یہ سارے امور تو وہی ہیں جو انیس سے وابستہ ہیں اور جو انیس کے امتیاز اور عظمت کو پہچاننے کی راہ فراہم کرتے ہیں اور یہی وہ امور بھی ہیں جو غالب یا کسی بھی بڑے شاعر پر صادق آسکتے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں اردو شاعری کی کلاسیکی شعریات – پروفیسر ابو الکلام قاسمی )
سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ مولانا آزاد نے انیس (جو کم و بیش) غالب کے معاصر ہی تھے۔ میر اور اقبال کو نام زد کیوں نہیں کیا۔ جبکہ میر، غالب کے پیش رو تھے اور اقبال پس رَو۔ غالب کے مقابلے میں اسلوبیاتی اور بیانیہ شاعری ہی نہیں فکر کی روشنی میں بھی انیس اور اقبال میں ایسی کئی جہتیں ہیں جن میں مماثل اجزا کی تلاش ایک سود مند مطلب تک ہماری رہنمائی کرسکتی ہے۔ سرور صاحب نے ادب کے مذہب و اخلاق کے رشتے پر بحث کرتے ہوئے انیس و اقبال میں بعض نمایاں ملتے جلتے عناصر کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا ہے جس کی اپنی معنویت ہے۔ ایک جگہ سرور صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’غالب و اقبال کو بھی میر کی مدد ہی سے سمجھا جاسکتا ہے۔‘ درحقیقت اِس جملے کی ترکیب میری نظر میں کچھ یوں ہونی چاہیے تھی کہ اقبال کو انیس کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے، ظاہر ہے میں نے ’ہی‘ جو حرفِ تاکید ہے کو اپنے جملے سے اس لیے حذف کرنا ضروری سمجھا کہ انیس کے یہاں اقبال کے مقابلے میں اور اقبال کے یہاں انیس کے مقابلے میں ایسی بہت سی سطحیں اور عناصر ہیں جن سے ان کے انفراد کا تعین ہوتا ہے اور جو بہت سی مماثلتوں اور افتراقات کے باوصف بڑی شاعری کے ذیل میں آتے ہیں۔
میرتقی میر، میر انیس کے قریبی پیش رَو تھے۔ ایک ہی زبان کے دو اہم شاعروں کے درمیان بین المتنی رشتے کو محض ان کی مرغوب اصناف یا ہیئتوں کی روشنی میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کو اس معنی میں تشنہ ہی قرار دیا جائے گا کہ لفظ و معنی کی جدلیت کے سراغ کے بغیر ہم دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی انصاف نہیں کرسکتے۔ میر کی حیثیت ایک غزل گو کی ہے اور غزل میں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ انیس ایک مرثیہ گو شاعر ہیں اور مرثیے میں ان کی منزلت غیرمتنازع ہے۔ انیس کے بیانیہ کو بہ ظاہر میر کے غزلیہ اظہاری پیرایوں سے کوئی مناسبت نہیں لیکن غنائی شاعری کی وہ خصوصیت جسے جذبہ انگیزی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس میں پرزور شدت اظہار کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔ دونوں کے یہاں مقصود کا درجہ رکھتی ہے۔ انفرادی ذاتی احساس، اجتماعی کائناتی احساس میں اس وقت بدلتا ہے جب شاعر اپنے معروضات Objects سے جذباتی اور وجدانی مطابقت پیدا کرلیتا ہے۔ کسی تاریخی واردات یا سانحے کے ساتھ جذباتی وابستگی ہی جذباتی شمولیت کا راہ دکھا سکتی ہے۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جو دل میں گداز اور دردمندی پیدا کرتی ہیں اور انھیں کے باعث اظہار کے اسالیب اور پیرایوں میں اثرانگیزی کا جوہر بھی پیدا ہوتا ہے۔ انیس کے درد کا کینوس نسبتاً وسیع ہے۔ اسی نسبت سے وہ اثرانگیزی جو میر کے یہاں برسرِ کار ہے، انیس کو ایک علاحدہ منصب عطا کرتی ہے۔ وہ درد جو عشق حسین سے وابستہ ہے یا جو ذاتی ناکامی پر منتج ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اور اس فرق کے باوجود اگر شاعر اپنے جذبوں کے ساتھ پورے طور پر مخلص اور ہم آہنگ ہے تو ایک ذاتی تجربے کو احساسِ مشترک میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ ہر شخص، ہر دور میں اسے دردِ مشترک کی میراث سمجھتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انیس کے یہاں کسی ایک قوم کے درد سے بڑھ کر تمام انسانوں کا درد بن جاتی ہے اور میر کا درد تنہا میر کا نہ ہوکر ان کے پورے زمانے بلکہ تمام زمانوں کا درد بن جاتا ہے۔ انیس کا ایک مصرعہ ہے۔ جسے میں یہاں مثال بنانا چاہوں گا۔ کہنے کو ایک مصرعہ ہے لیکن جیسے حضرت حسینؑ کا سارا غم، سارا کرب اس میں سمٹ آیا ہے۔ جیسے ہڈیوں کو پھاڑ کر کوئی آواز گونجی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
آج شبیرؑ پہ کیا عالم تنہائی ہے
صرف ایک لفظ ’کیا‘ نے’عالم‘ کی کیفیت کو افق تا افق پھیلا دیا ہے۔ تنہائی اپنی ذات کی تنہائیوں کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کفر و باطل کے مقابلے میں اپنے مقصد میں تنہا ہوجانے کے معنی میں ہے۔ اپنے عزیزوں اور رفیقوں کے بچھڑنے یا ان سے بچھڑنے کے اندیشے سے پیدا ہونے والا جو خلا ہے وہ تنہائی ہے۔ جیسے دور دور تک پھیلا ہوا میدانِ کربلا ایک ہولناک ویرانے میں بدل گیا ہے۔ جیسے ارد گرد کوئی ہم نفس ہے نہ کوئی ہم نوا، کوئی دست گیر ہے نہ دلگیر، کوئی آہٹ ہے نہ کوئی آواز۔ صرف ایک نفس، صرف ایک جان جسے حسینؑ کہتے ہیں۔
اب ذرا انیس کے اس نہایت بلیغ مصرعے کوسامنے رکھ کر میر کا یہ شعر دیکھیں۔ ایک عجیب و غریب کیفیت کا احساس ہوگا۔ ایک دوسرے کے تناظر میں فرق ہونے کے باوجود ’تنہائی‘ کو اس شعر نے بھی ایک عالمگیر تجربے میں بدل دیا ہے۔ میر کہتے ہیں:
یک بیاباں بہ رنگِ صوتِ جرس
مجھ پہ ہے بے کسی وتنہائی
انیس نے محض ایک لفظ ’کیا‘ سے عالم کو کیا سے کیا کردیا۔ میر نے عالمِ تنہائی یا تنہائی کے تجربے اور کیفیت کو ’یک بیاباں بہ رنگِ صوت جرس‘ کا نام دے کر زمین سے آسماں تک پھیلا دیا۔ امام حسین کی تنہائی ہماری اجتماعی کے سائیکی میں تہ نشین ہے۔ ایک ایسے اسطور کی تنہائی جو حق و باطل کی جنگ میں حق کا فریق ہے اور تنہا ہے۔ یہ جنگ ایک فرد ایک ہجوم اور ہجوم سے بڑھ کر پورے ایک نظام سے ہے جو ہوسِ زر و زمین پر قائم ہے۔ حق و صداقت سے عاری اور ظلم و جبر پر جس کی اساس ہے۔ ۰یہ بھی پڑھیں کلاسیکی اردو شاعری اور ملی جلی معاشرت – پروفیسر گوپی چند نارنگ)
انیس، ایک قادرالکلام شاعر تھے اور انھوں نے اپنی قادرالکلامی کے جوہر کو مراثی، سلام، نوحوں اور رباعیات و مناجاتوں ہی میں آزمانے تک محدود رکھا۔ ڈاکٹر تقی حسن عابدی کے تحقیق کے مطابق جو سرمایۂ شعر زمانے کی دست بُرد سے بچ سکا ہے وہ 213 مراثی،103 سلام، 14 نوحے اور درجن بھر تضمینوں اور مناجاتوں، پر مشتمل ہے۔ بقول عابدی ان کے اشعار کی کل تعداد 80 ہزار تک پہنچتی ہے۔ مرثیہ کی صنف کا نقطۂ عروج انیس و دبیر کا عہد ہے۔ اس سے قبل میر خلیق اور میر ضمیر اور بالخصوص میر ضمیر کے یہاں گریز کی ایک صورت ملتی ہے اور مرثیہ ایک صنفِ شعر کے طور پر اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ وہ صنف جو ابھی تک مجلسوں تک محدود تھی اور ایک مذہبی فریضہ ادا کرنے پر جس کی بنائے ترجیح زیادہ تھی۔ انیس و دبیر اسے ادب کی تاریخ کا ایک ایسا پرشکوہ باب بنا دیتے ہیں جس کے اوراق ابھی یکسر خالی تھے۔ ادبی تاریخ کو اسی معنی میں مزید ثروت مند بنانے میں انیس و دبیر کی خدمات خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ہمارے نظامِ بلاغت میں ابھی تک صرف غزل، مثنوی اور قصیدہ ہی کو صنفی درجہ حاصل تھا۔ انیس نے مرثیے کو ایک صنف کی حیثیت سے پوری طرح قائم کردیا۔
انیس کی خلاقی اور قادرالکلامی کا خاص میدان مرثیہ تھا۔ انیس میں بیانیہ کی زبردست قوت تھی۔ دنیا کی بڑی اور قدیم زبانوں میں بڑی شاعری بیانیہ ہی میں واقع ہوئی ہے۔ یونانی اور اطالوی رزمیے، دانتے کی طربیۂ خداوندی، ملٹن کی فردوسِ گم شدہ یا اسپینر کی فیئر کوئن۔‘ رومی اور فردوسی کی مثنویاں یارامائن اور مہابھارت وغیرہ رزم نامے بیانیہ ہی میں نظم ہوئے ہیں۔
بیانیہ شاعری کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کی استعداد صرف انھیں شعرا کے حصے میں آتی ہے جن کے تجربات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ حقائق کو سمجھنے کے جن کی فہم مختلف ہوتی ہے۔ جنھیں فکشن کو فیکٹ اور فیکٹ کو فکشن میں بدلنے کا ہنر آتا ہے۔ تخیل کی وہ زبردست اہلیت جو چیزوں کو الٹ پلٹ کر سکتی اور انھیں ایک نیا نظم اور ایک نئے تجربے کی صورت بخش سکتی ہے۔ ادراک کی غیرمعمولی صلاحیت، معمول سے ہٹا ہوا انسان فہمی اور دنیا فہمی کا مادّہ، موضوع کو اپنے منشا اور فنّی تقاضوں کے مطابق شعر سازی کا ملکہ، جذبوں کے احترام کے ساتھ ان کے وفور پر قدغن لگانے کی استعداد، زبان کے تخلیقی بہاؤ سے کام لینے اور اس کی راہ بدلنے یا اسے التوا میں ڈالنے کی قدرت سے بہرہ مند جس شاعر کا وجدان اور ذہانت ہوتی ہے بیانیہ کے فن سے وہی عہدہ برآ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر کسی ایک شاعر کے یہاں یہ سارے جوہر تھے تو وہ ہیں صرف اور صرف انیس۔ انیس نے مرثیے کی مسدّس والی ساخت کو پگھلا کے موم کی طرح نرم و لوچدار کردیا تھا۔ انھوں نے جیسا چاہا ویسا کہا اور جس طرح چاہا اس طرح کہا۔ موضوع ایک، واقعہ ایک، واردات ایک، جائے وقوع اور اس کا گرد و پیش اور سارا تناظر ایک، بعض ذیلی اور اہم افراد کے درمیان عظیم المرتبت کردار ایک وار تاریخ کا ورق ایک جسے انیس نے ہزاروں ہزار صفحات پر کچھ اس طرح پھیلایا ہے کہ کہیں کوئی تکرار، کہیں کوئی گرانی، کہیں کوئی ڈھیلاپن واقع نہیں ہوتا۔ ہر چیز جیسے اپنے مقام پر ہے۔ جہاں جسے ہونا چاہیے تھا وہ وہیں قائم ہے۔
مذہبی تقدیس کا تقاضہ خود ایک ایسا جبر تھا انیس کو جس کا لحاظ بھی تھا اور احساس بھی۔ ایک خاص اور محدود رقبے میں انھوں نے حیات و کائنات کے بے شمار رنگ سمو دیے تھے۔ انیس میں بلاشبہ تخلیقیت کی حیرت انگیز صلاحیت تھی اور وہ اتنی کارگر تھی کہ انھوں نے مرثیے کے فن کے تمام امکانات نہ صرف سلب کرلیے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی بہت زیادہ نہیں چھوڑا۔ انیس کے بعد جیسے ادبی تاریخ میں مرثیے کا باب انیس ہی پر ختم ہوگیا۔ مرثیہ ایک عوامی اور زبانی صنف کے طور پر متعارف ہوا تھا اور مجلسوں میں اس کی آبیاری ہوئی تھی۔ انیس کے بعد پھر اس نے وہ منصب پالیا۔
انیس کا مرثیہ، اس کا ڈکشن، اس کا طریقِ کار، انسان اور رشتوں کی اس کی فہم کا اثر بعد کے شعرا پر اس قدر حاوی تھا کہ مرثیہ کی صنف کسی بڑے انقلاب سے دو چار ہی نہیں ہوسکی۔ ہر بڑا شاعر اور اس کے تجربے کی نوعیت کی آئندہ نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک مسئلہ بنی رہتی ہیں۔ لوگ اس آواز کے سحر سے نکل نہیں پاتے بلکہ اس کی مقبولیت میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے جیسے انیس کے علاوہ غالب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انیس نے پچھلی نسلوں کے تجربات ہی سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ ان میں جو کمیاں تھیں اور جو امکانات تھے ان پر بھی نگاہ رکھی۔ گویا صنفِ مرثیہ ہی نہیں مرثیے کے موضوع کی داخلی وسعت اور گنجائشوں اور اس کے تقاضوں کی فہم سے اس کے وجدان کو غیرمعمولی جلا ملی اور انھوں نے محسوس کیا کہ امکانات کا ایک جہاں آباد ہے جسے کام میں لیا جاسکتا ہے۔ انیس نے ان امکانات کو کام ہی میں نہیں لیا بلکہ مرثیے کے سارے امکانات ہی سلب کردیے۔ ان کے بعد اردو مرثیہ کسی نئے ڈکشن اور کسی نئی ہیئت کو آزما ہی نہیں سکا۔ شاد عظیم آبادی نے متعدد مرثیے لکھے لیکن ان میں بیش تر نامکمل ہی رہے۔ غزل کو جس طرح انھوں نے نیا سوز و ساز دیا تھا ایسی کوئی نئی بات وہ مرثیے میں پیدا نہیں کرسکے۔ یہ مراثی زبان و بیان اور اپنی بے میل جذبہ انگیزی کے باعث غیرمعمولی تاثیر کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن اس تاثیر کو آگ کارگہ انیس ہی سے میسر آئی ہے۔ اس بات کا خود انھیں بھی احساس تھا غالباً اسی بنا پر وہ اپنے مراثی کو تکمیل تک نہیں پہنچا سکے۔(یہ بھی پڑھیں کلاسیکی اردو غزل اور اکبر الٰہ آبادی – پروفیسر احمد محفوظ )
جمیل مظہری کا مذاقِ شعر شستہ تھا۔ ان کے طرزِ تفکر میں گہری سنجیدگی اور شائستگی کی قدر بہ نسبت جذبہ انگیزی کے زیادہ گرم کار تھی۔ انیس سے بچ کر نکلنے کی اسے ایک ایسی ہی کوشش کا نام دیا جاسکتا ہے جس طرح جوش کے مراثی کو ہم انقلاب آفریں کہتے ہیں۔ یہ سعی اس معنی میں بھی خاص اہمیت کی حامل ہے کہ ان میں ہمیں اپنے عہد کے باطنی اضطراب، روحانی آشوب اور حق و باطل کے اس مجادلے کا ایک واضح عکس بھی اس میں پنہاں نظر آتا ہے۔ جس کے تجربے سے عہدحاضر میں ہم قدم بہ قدم دوچار ہیں۔ واقعہ کربلا کے الم ناک تجربے کی شدت جو مراثی انیس کے ساتھ مخصوص ہے۔ نئے مراثی میں وہ منتقل نہیں ہوسکی اور یہ ممکن بھی نہیں تھا۔
وحید اختر اور ان کے بعد کے شعرا نے شہادتِ حسین کا سوگ کم منایا ہے۔ مقصد حسین سے سروکار زیادہ رکھا ہے۔ انھوں نے خیر و شر کی آویزشوں، نیکی اور بدی کے مجادلے، حق و باطل کی کشمکش، سیاست کے سنگدلانہ اور مجرمانہ کردار کو بھی عصری حقائق کے طور پر نئے معنی دیے ہیں۔ حسین سے عقیدت نے ان کے جذبوں کو مہمیز کی ہے اور حسین کے مقصد کو حرزِ جاں بنا کر ظلم وجبر کے خلاف نبرد آزما ہونے کا پیغام دیا ہے کہ موجوہ بین الاقوامی سیاسی منظرنامے میں کربلا کسی ایک میدان کا نام نہیں ہے۔ عراق و افغانستان جیسے کربلا کے کئی میدان ہیں اور ان میدانوں کے علاوہ ہر شخص کے اندر بھی ایک میدانِ کربلا ہے۔ جب حفیظ تائب یہ کہتے ہیں:
مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات
سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں
یا اسرار زیدی جب یہ کہتے ہیں:
آج کے عہد میں بھی شر کی علامت ہے یزید
آج بھی ترے اقدار کی حرمت کیا کیا
تو یک لخت امام عالی مرتبت کے خطبہ آخر کے یہ الفاظ ذہن میں گونجنے لگتے ہیں:
’’لوگو! دنیا نے اپنا رنگ کیسے بدل لیا ہے؟ دنیا نیکی سے خالی ہوگئی ہے۔ افسوس، دیکھتے نہیں حق کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور باطل پر اعلانیہ عمل کیا جارہا ہے اور کوئی نہیں اس کا ہاتھ پکڑے اور سہارا دے۔ بس اب وقت آگیا ہے کہ مومن حق کی راہ میں بقائے الٰہی کی خواہش کرے۔ میں شہادت کی موت چاہتا ہوں، ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا بھی بجائے خود ایک جرم ہے۔‘‘
کیا یہ سیاق محض ڈیرھ ہزار سال پہلے کا سیاق ہے۔ یہ الفاظ ہر دور کے لیے ایک پیشین گوئی ہے۔ کیونکہ وقت بدل رہا ہے، وقت کا سیاق نہیں بدل رہا ہے۔ لوٹ کھسوٹ، جبر و استبداد، ظالم و مظلوم کی کشمکش، آجر و اجیر کا تحارب، حق و صداقت کا جدل، اعلیٰ انسانی قدروں کی پامالی اور انسانی جسموں کی بے حرمتی کا کھیل کل بھی خوب کھیلا گیا اور یہ کھیل آج بھی جاری ہے۔ کل کی لہولہان تاریخ کو اپنے خونِ جگر سے انیس نے قلم بند کیا تھا۔ آج کی تاریخ پھر کسی انیس، کسی دبیرکے انتظار میں ہے۔
‘اسالیب ’ عتیق اللہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

