مجاہدین جنگ آزادی کی فہرست سے ہماری پوری تاریخ بھری ہے۔آزادی کی پہلی لڑائی سے لے کر ۱۹۴۷ تک بے شمار مجاہدین نے وطن کی آزادی کے حصولیابی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔انگریزوں کے خلاف جنگ کا سلسلہ ۱۸۵۷ سے کئی برس قبل ہوچکا تھا، ہندوستان کی ریاستیں انگریزوں کے خلاف متحد تو نہیں ہوئیں تھیں مگر اپنی ریاستوں کے تحفط کے لیے وہ سرگرداں نظر آتی ہیں۔میسور کے حاکم حیدر علی نے انگریزوں کے خلاف باضابطہ جنگ کا آغاز کیا ،بعد میں اس سلسلے کو ان کے بیٹے ٹیپو سلطان نے جاری رکھا۔ٹیپو سلطان ان مرد مجاہدین میں ایک بڑا اور اہم نام ہے جس نے انگریزوں کی بہت سی سازشوں کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ انگریزوں کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبوربھی کیا ۔ٹیپو سلطان کی بہادری اور انگریزوں کے خلاف ان کی جدوجہد پر بہت سے مورخین نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔میں نے اپنے مضمون میں ٹیپو سلطان کی جدوجہد آزادی پر گفتگو سے دانستہ طور پر گریز کیا ہے۔ میرے پیش نظر ٹیپو سلطان کے درباری شاعر حسن علی عزت کی رزمیہ مثنوی ’’ فتح نامہ ٹیپو سلطان ‘‘ ہے۔اس مثنوی کو ’’اضراب سلطانی‘‘ کے نام سے بھی شہرت ملی۔مثنوی ’’اضراب سلطانی‘‘ کو معین الدین عقیل(ٹوکیو) نے ترتیب دے کر شائع کیا۔انہوں نے اس مثنوی کے پانچ نسخوں کی دستیابی کاذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس مثنوی کے نسخے سالار جنگ میوزیم حیدر آباد، برٹش لائبریری لندن،کتب خانہ ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال، کلکتہ ، کتب خانہ رائل ایشیا ٹک سوسائٹی لندن کے ساتھ ساتھ ایک نسخہ خود مصنف یعنی معین الدین عقیل کی ذاتی لائبریری میں موجود ہے۔معین الدین نے ان تمام نسخوں کی تفصیلات بھی درج کردی ہے۔معین الدین عقیل اس مثنوی کے متعلق لکھتے ہیں۔
’’زیر نظر[اضراب سلطانی]مثنوی ٹیپو سلطان کے عہد کے ابتدائی معرکہ آرائیوں کا ایک اہم اور چشم دید ماخذ ہے، جسے شاعر[حسن علی عزت] نے ٹیپو سلطان کے دربار سے اپنی وابستگی کے زمانے میں۔۔۔۔۔۔ اور خود ٹیپو سلطان کی فرمائش پر تخلیق کیا تھا۔‘‘
(فتح ٹیپو سلطان۔ مرتب معین الدین عقیل۔ ص۹)
حسن علی عزت کی زندگی سے متعلق زیادہ کچھ دستیاب نہیں ہے۔ ٹیپو سلطان کے کتب خانے کے مرتب چارلس اسٹیورٹ (Charles Stewart) نے حسن علی عزت کو ٹیپو سلطان کا درباری شاعر بتایا ہے۔حسن علی عزت کی ایک کتاب ’’ مفرح القلوب‘‘ (فارسی)بھی ملتی ہے اس کے علاوہ مذکورہ مثنوی ہے۔ان دونوں تصانیف کے متعلق یہ خیال ہے کہ یہ ٹیپو سلطان کی فرمائش پر تحریر کی گئی تھی۔اس بات کا اشارہ کتاب پر درج یہ جملہ بھی کرتا ہے۔کتاب کے سرورق پر ’’ کتاب اضراب سلطانی در ذکر جنگ مراہٹہ و نظام علی بطریق اجمال حسب الارشاد حضرت جہاں پناہ ٹیپو سلطان خلد اللہ ملکہ و سلطنتہ کا فقرہ درج ہے۔ میں نے مثنوی ’’اضراب سلطانی‘‘ کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے۔ اس مثنوی کا سنہ تصنیف معین الدین عقیل نے۱۷۸۶ بتایا ہے۔حالانکہ ۱۷۹۰ تک کے واقعات کا اشارہ اس مثنوی میں ملتا ہے۔ مثنوی کے عنوان سے متعلق ایک شعر ملاحظہ کریں ::
یہ اضراب سلطانی سن ہر کہیں
مسلماں ہوئے خوش حزین مشرکیں
اس شعر سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس مثنوی کے لکھنے کی اصل وجہ دراصل حاکم وقت ٹیپو سلطان کی تعریف و توصیف اور ان کی بہادری کی داستان سنانے کے ساتھ ساتھ دشمنوں کو للکارنے اور ان کو کمتر ثابت کرنا تھا ۔دراصل یہ مثنوی ٹیپو سلطان اور ان کے مخالفین اتحاد یعنی نظام اور مرہٹوں کے درمیان ہوئے 1785-86کی جنگ کے واقعات کو پیش کرتی ہے۔اس بات سے تاریخ کا ہر طالب علم واقف ہے کہ ٹیپو سلطان کو انگریزوں کے سامنے کمزور بنانے میں ان دو ریاستوں کے حکمراں کا رول رہا ہے۔مراہٹوں اور میسور کے درمیان رسہ کشی کی صورت حیدر علی کے زمانے سے تھی ۔ مرہٹہ کے بالاجی راؤ کے متعلق معروف تاریخ داں محب الحسن نے لکھا ہے کہ وہ اپنی سلطنت کی توسیع کرنا چاہتا تھا ، اپنی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے اس نے میسور پر شدید حملے کیے ،اسے کامیابی بھی مل گئی اور نج راج نے اپنی حکومت بچانے کے لیے مراہٹہ کو ۳۲ لاکھ دینے پر رضامند بھی ہوگیا، چھ لاکھ اس نے دے بھی دیے مگر بقیہ رقم کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں۱۳ تعلقہ کو اس نے بطور ضمانت مرہٹہ کو دے دیا، مگر حید علی اس معاہدے کے حق میں نہیں تھے لہذا یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور مرہٹہ کے کارندوں کو مذکورہ تعلقے سے نکال دیا گیا۔ظاہر ہے یہ بات مرہٹہ کے حاکم کو کیسے پسند آتی ، یہیں سے میسور اور مراہٹہ کے درمیان جنگی لڑائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے۔مثنوی اضراب سلطانی میں اس طویل جنگ کو حسن علی عزت نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
مثنوی’’ اضراب سلطانی‘‘کو شاعر نے اکتیس (۳۱) عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ اس مثنوی کا پہلا عنوان ’’ داستان آمدن مراہٹہ و مغل بہ عزم جنگ برادہونی: بطبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
عجائب سنو دوستاں داستاں
کہ جس کے بیاں میں ہے قاصر زبان
مراہٹہ مغل فوج سب جمع کر
خوشی سات سلطان کی سن یہ خبر
کیے سب نے یوں شرط سوگند سات
لیویں ملک جلدی سوں اب ہاتے ہات
سبھی ملک و مال و دیار و حصار
دونوں مل لیویں بانٹ ہے یہ قرار
حسن علی عزت نے سلطنت نظام اور مرہٹہ کے افواج سے ٹیپو سلطان اور ان کے جنگجوؤں کے مقابلے سے قبل کی ایک تصویر پیش کی ہے۔مورخین نے لکھا ہے کہ ٹیپو سلطان اپنے ان دو پڑوسی ریاستوں سے میل جول بڑھانا اور آپس میں دوستی کا رشتہ رکھنا چاہتا تھا تاکہ انگریزوں کا سامنا بہتر طریقے سے کیا جاسکے۔مگر ٹیپو سلطان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکی۔حسن علی عزت نے اپنی مثنوی کے پہلے حصے میں ادہونی کا ذکر کیا ہے۔ ادہونی دراصل مدراس کے شمال میں واقع ایک ضلع بلاری کے ایک تعلقہ کا نام ہے جہاں تقریبا 60فی صد ہندو اور 40فی صد مسلمان آباد تھے۔یہ علاقہ کئی اعتبار سے اہم تھا، مورخین لکھتے ہیں کہ چودھویں صدی میں وجے نگر(دکن کی عظیم ہندو مملکت)کے لیے یہ جگہ کافی محفوظ پناہ گاہ تھا جسے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے۔اتحادی ا فواج(نظام اور مرہٹہ) اور ٹیپو سلطان کے درمیان اس لڑائی کا ذکر حسن علی عزت نے کیا ہے۔
مثنوی کا دوسرا عنوان ’’ داستان آمدن فوج کفار برائے دیدن لشکر سلطان و ذکر شب خون وغیرہ و ہزیمت خوردن اہل ضلال از فوج اسلام بطبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔اس حصے میں حسن علی عزت نے دشمنوں کی فوج کو کفار سے تعبیر کیا ہے، ظاہر ہے یہ کفار کا لفظ نظام اور مرہٹی دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی متکلم کے پیش نظر کفار کا لفظی ترجمہ نہیں تھا بلکہ ٹیپو سلطان سے مقابلہ کرنے والی فوج خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو وہ اسے کافر ہی گردانتا ہے۔ٹیپو سلطان کی فوجی طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حسن علی عزت کہتا ہے۔
اگر رام و لچھمن ہی ہوتے یہاں
نپٹ خوف سے جیوں کے منگتے اماں
بہے ارجن و راون و بھیم و گنیش
کشن اور ہمست یہ صف ہائے جیش
اگر دیکھتے اپنے دھوتیاں خراب
کیے ہوتے نہ لا لڑائی کا تاب
اگر رستم و زاں و سام و سوار
و یا کیو و سہراب و اسفند یار
یہ لشکر کیتیں دیکھتے عقل کھو
اپس زندگانی سوں ہاتاں کو دھو
حسن علی عزت نے اپنی فوج کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ٹیپو سلطان کے پاس فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ توپ اور اس زمانے کے جدید جنگی ہتھیار موجود تھے۔یہی وجہ ہے کہ اتحادی فوج کے مقابلے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ٹیپو سلطان کی فوج طاقت ور تھی ۔ادہونی کے مقام پر جب ٹیپو سلطان نے اتحادی فوج پر حملہ کیا تو تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود نظام اور مرہٹہ کے پاؤں اکھڑ گئے اور ٹیپو سلطان کو کامیابی ملی۔ حسن علی عزت نے اس فتح کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔
غرض چو طرف سوں اخذ بے شمار
سماوی و ارضی ہوا مار مار
شتر فیل و خچر و گاواں و خر
بھی گھوڑے وکے قسم کے جانور
شہاباں و گولوں سے ہو کر کباب
پڑے تھے نہ تھا آدمیاں کا حساب
یہ احوال کوں مشرکاں دیکھ سب
دئیے چھوڑ اموال و ناموس تب
اس جنگ سے ٹیپو سلطان میں موجود قیادت کی صلاحیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اتحادی فوج نے جب ٹیپو سلطان کے سرحدی قلعہ بادامی پر حملہ کیا تو اس کا جواب ٹیپو سلطان کی فوج نے جم کر کر دیا، یہی وجہ تھی کہ بہت جلد نظام اور مرہٹہ کی فوج بادامی چھوڑ ادہونی کی طرف بھاگے جب وہ ادہونی پہنچے تو مصلحتا ٹیپو سلطان نے اپنے قدم پیچھے کر لیے اور ادہونی کا محاصرہ ترک کردیا، بعد میں انہوں نے اتحادی فوج پر چھاپہ ماری شروع کی جس سے اتحادی فوج کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔اس جنگی کاروائی کا یہ اثر ہوا کہ مہابت جنگ جو نظام علی خان کا داماد تھا اس نے قلعہ چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔حسن علی عزت نے اپنی اس مثنوی میں ٹیپو سلطان اور نظام و مرہٹہ کے درمیان ہوئے خونی جنگ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
حسن علی عزت نے اپنی مثنوی کے لیے جو عنوانات قائم کیے ہیں اس سے بھی ٹیپو سلطان اور ان کی فوج کی کاروائی اور لیاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مثنوی کا تیسرا عنوان’’ داستان فراری شدن حکیم خان ناظم شاہ از استماع خبر شکست خوردن فوج مقہور تاسف خوردن و اضطرار نمودن او بطبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔حکیم خان ویسے تو ٹیپو سلطان کا رشتہ دار یعنی اس کے بھائی عبد الکریم کا سسر تھا مگر جب حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو سلطان کو سلطنت کی ذمہ داری سنبھالی تو یہ بات اسے بے حد ناگوار لگی اور وہ ٹیپو سلطان کا دشمن بن گیا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ جب ٹیپو سلطان کے خلاف نظام اور مرہٹہ ایک ہوئے تو حکیم خان بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔حسن علی عزت نے مثنوی کے اس حصے میں حکیم خان کی سازش اور ٹیپو سلطان کے ہاتھوں اس کی شکست کو بیان کیا ہے۔
مثنوی میں کئی دیگر عنوانات بھی ہیں جن کے مطالعے سے بھی اس دور کی پوری تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔مثنوی کا چوتھا عنوان’’ داستاں شب خوں دیگر بر لشکر اہل ضلال و فراری شدن گمرہاں از خوف و جان و بدست آمدن غنیمت بے شمار از فضل یزدان پاک بر طبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔اس عنوان کے تحت بھی مثنوی نگار نے ٹیپو سلطان اور حکیم خان کے مابین ہوئے جنگی کاروائی پر روشنی ڈالی ہے۔ مثنوی نگار نے لکھا ہے کہ جب ٹیپو سلطان کو حکیم خان کی ساشز کا علم ہوا تو اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا اور حکیم خان بلکہ متحدہ افواج پر حملہ آور ہوا۔
خبر سن کے سلطان نے بند کر کمر
سر شام سب فوج تیار کر
چلے ان کے لشکر پو جلد و شتاب
جو نزدیک پہنچے یکایک شہاب
چھوٹیاں منقلے سوں بھی توپ و تفننگ
لگے ہوں سر پر چو طرف بے درنگ
سمایا یہ دیکھ دیکھیا سو لشکر تمام
لگیا چلچلانے ہرے رام رام
حسن علی عزت ے اس پورے واقعے کو پوری توجہ کے ساتھ پیش کیا ہے، اس کے لیے انہوں نے کئی عنوانات بھی قائم کئے ہیں، مگر میں نے تفصیل سے بچھنے کی خاطر مثنوی کا بہت سا حصہ فی الحال چھوڑ دیا ہے۔
مثنوی کا آخری عنوان ’’ داستان داخل شدن بدار السلطنت پٹن بہ فتح و ظفر بعد مسلمان کردن مشرکاں کچن گڈ در خوں بہائے عبد الکریم عمل در آن جا‘‘ ہے۔ایک بند ملاحظہ کریں:
پس القصہ سلطان بہ فتح و ظفر
ز فضل جہاں داور و داد گر
کیے جب سکل مشرکین پا شکست
وہاں کے قلعہ ہا کا کر بندوبست
حسن علی عزت نے مثنوی کے آخر میں ٹیپو سلطان کی فتح یابی کا ذکرکیا ہے۔شاعر نے اپنی مثنوی کا اختتام دعائیہ کلمات سے کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
تو اب رہ وعا بیچ ہر صبح و شام
بجز اس کے دوسرا نہیں تجھ کوں کام
الہی ہے جب لک مہ و آفتاب
یوں ہی رکھ تو سلطان کوں باب و تاب
مظفر و منصور بر مشرکیں
بحشمت و اعزاز تا روز دین
مثنوی فتح نامہ ٹیپو سلطان کا مطالعہ دراصل ٹیپو سلطان کے عہد کا مطالعہ ہے۔ یہ کافی طویل مثنوی ہے، اس پر تفصیل سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے،یہاں چونکہ وقت کی قید ہے اس لیے میں نے اس مثنوی کا تعارف بھر پیش کیا ہے، چند اشعار بطور نمونہ پیش کیا ہے تاکہ اہل نظر اس کی طرف متوجہ ہوں۔حالانکہ یہ مثنوی ٹیپو سلطان اور اتحادی فوج کے درمیان ہوئے دو برس کی لڑائی کا پورا احاطہ نہیں کرتی بلکہ بقول معین الدین عقیل کے ’ واقعات کے ایک درمیانی مرحلے پر ختم ہوجاتی ہے۔اس بات کا اشارہ خود حسن علی عزت نے مثنوی کے آخری حصے میں دیا ہے۔
اتھا یہ سخن بے حد و بے حساب
ہزاروں سے یک بیت کر انتخاب
لکھیا تو نے کر مختصر یہ بیاں
وگرنہ بہوت طول تھی داستاں
کیا مختصر سو اتا کچھ ہوا
اگر سب وہ کہتا نہ جانوں میں کیا
حسن علی عزت نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ٹیپو سلطان کے معرکوں کو پیش کیا ہے، انہوں نے اپنی مثنوی میں محض ٹیپو سلطان کی خوبییوں کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ایک دو مقامات پر اس کی پالیسی کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ حالانکہ ایک دو مقامات پر حسن علی عزت نے ان واقعات کو بھی پیش کیا ہے جو دراصل تاریخ کا حصہ ہی نہیں ہیں۔اس ضمن میں معین الدین عقیل نے کئی حوالے بھی پیش کیے ہیں۔زبان و بیان کی سطح پر اگر اس مثنوی کو دیکھا جائے تو قدیم اردو ہونے کی وجہ سے فارسی الفاظ کی بہتات کے ساتھ دکن کا خاص رنگ بھی نظر آتا ہے۔تمام عنوانات فارسی میں قائم کیے گئے ہیں۔
حسن علی عزت نے ٹیپو سلطان کے دشمنوں کے لیے جن القاب کا استعمال کیا ہے وہ مناسب نہیں، انہوں نے تقریبا تمام مقامات پر نظام اور مراہٹہ کے لیے تضحیک آمیز الفاظ مثلا ’مراہٹہ فوج کے لیے اہل ضلال‘ اور نظام فوج کے لیے ’مشرکاں‘کا لفظ استعمال کیا ہے جو نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ اس سے کہیں نہ کہیں مثنوی کی زبان سوقیانہ ہوگئی ہے۔حسن علی عزت چونکہ ٹیپو سلطان کے دربار سے وابستہ تھے لہذا انہوں نے ٹیپو سلطان اور اس کی فوج کو ہر مقامات پر بہادر اور دشمن ٹیپو سلطان کو حقیر اور کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
جہاں تک ٹیپو سلطان کا تعلق ہے، تو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کی مخالفت ابتدائی زمانے سے کی۔حالانکہ دوسری ریاستوں کے حکمرانوں کا ایک بڑا طبقہ انگریزوں کی چاپلوسی میں مشغول تھا ،جب کہ ٹیپو سلطان انگریزوں کی مخالفت کر رہے تھے ، یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کی نظر میں ٹیپو سلطان ایک غدار تھا جس نے انگریزی قانون ماننے سے انکار کردیا تھا۔اگر اسی زمانے میں ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں نے متحد ہو کر انگریزوں کی مخالفت کی ہوتی تو یقینا وہ اتنے دنوں تک نہ ہم پر حکومت کر پاتے اور نہ ہی ہمارے مال و دولت کو لوٹ کر لے جاتے۔
جہاں تک مثنوی کی زبان کا تعلق ہے تو پوری مثنوی پر فارسی کا اثر غالب ہے، یہاں تک کہ جو عنوانات قائم کیے گئے ہیں وہ بنیادی طور پر فارسی میں ہیں، مثنوی کے کئی اشعار ایسے ہیں جس کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ اردو نہیں فارسی کے اشعار ہیں۔جس عہد میں اس مثنوی کی تخلیق ہوئی اس وقت اردو زبان اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی ، اس کا واضح اثر مثنوی کے اشعار میں موجود ہے۔مجموعی طور پر مثنوی ’’ اضراب سلطانی‘‘ کا مطالعہ اس عہد کے سیاسی اور سماجی صورت کی جس طرح عکاسی کرتا ہے وہ بے حد خاص ہے ساتھ ہی اردو زبان کی نشو و نما کے متعلق بھی ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اردو کی صورت حال کیا تھی۔
پچھلے چندبرسوں میں ٹیپو سلطان کو لے کر کئی طرح کی باتیں سامنے آئیں، چند لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیپو سلطان غدار وطن تھا،ہمیں ایسے لوگوں کی عزت اس لیے کرنی چاہیے کہ ان کے آبا و اجداد نے جو نظریہ ٹیپو سلطان کے بارے میں قائم کیا تھا آج دو سو برس سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے آبا و اجداد یعنی انگریزوں کے موقف پر قائم ہیں۔

