Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
مثنوی کی تفہیمنوشاد منظر Naushad Manzar

مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر

by adbimiras اگست 12, 2020
by adbimiras اگست 12, 2020 0 comment

مجاہدین جنگ آزادی کی فہرست سے ہماری پوری تاریخ بھری ہے۔آزادی کی پہلی لڑائی سے لے کر ۱۹۴۷ تک بے شمار مجاہدین نے وطن کی آزادی کے حصولیابی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔انگریزوں کے خلاف جنگ کا سلسلہ ۱۸۵۷ سے کئی برس قبل ہوچکا تھا، ہندوستان کی ریاستیں انگریزوں کے خلاف متحد تو نہیں ہوئیں تھیں مگر اپنی ریاستوں کے تحفط کے لیے وہ سرگرداں نظر آتی ہیں۔میسور کے حاکم حیدر علی نے انگریزوں کے خلاف باضابطہ جنگ کا آغاز کیا ،بعد میں اس سلسلے کو ان کے بیٹے ٹیپو سلطان نے جاری رکھا۔ٹیپو سلطان ان مرد مجاہدین میں ایک بڑا اور اہم نام ہے جس نے انگریزوں کی بہت سی سازشوں کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ انگریزوں کو اپنی حکمت عملی بدلنے  پر مجبوربھی کیا ۔ٹیپو سلطان کی بہادری اور انگریزوں کے خلاف ان کی جدوجہد پر بہت سے مورخین نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔میں نے اپنے مضمون میں ٹیپو سلطان کی جدوجہد آزادی  پر گفتگو سے دانستہ طور پر گریز کیا ہے۔ میرے پیش نظر ٹیپو سلطان کے درباری شاعر حسن علی عزت کی رزمیہ مثنوی ’’ فتح نامہ ٹیپو سلطان ‘‘ ہے۔اس مثنوی کو ’’اضراب سلطانی‘‘ کے نام سے بھی شہرت ملی۔مثنوی ’’اضراب سلطانی‘‘ کو معین الدین عقیل(ٹوکیو) نے ترتیب دے کر شائع کیا۔انہوں نے اس مثنوی کے پانچ  نسخوں کی دستیابی کاذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس مثنوی کے نسخے سالار جنگ میوزیم حیدر آباد، برٹش لائبریری لندن،کتب خانہ ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال، کلکتہ ، کتب خانہ رائل ایشیا ٹک سوسائٹی لندن کے ساتھ ساتھ ایک نسخہ خود مصنف یعنی معین الدین عقیل کی ذاتی لائبریری میں موجود ہے۔معین الدین نے ان تمام نسخوں کی تفصیلات بھی درج کردی ہے۔معین الدین عقیل اس مثنوی کے متعلق لکھتے ہیں۔

’’زیر نظر[اضراب سلطانی]مثنوی ٹیپو سلطان کے عہد کے ابتدائی معرکہ آرائیوں کا ایک اہم اور چشم دید ماخذ ہے، جسے شاعر[حسن علی عزت] نے ٹیپو سلطان کے دربار سے اپنی وابستگی کے زمانے میں۔۔۔۔۔۔ اور خود ٹیپو سلطان کی فرمائش پر تخلیق کیا تھا۔‘‘

(فتح ٹیپو سلطان۔ مرتب معین الدین عقیل۔ ص۹)

حسن علی عزت کی زندگی سے متعلق زیادہ کچھ دستیاب نہیں ہے۔ ٹیپو سلطان کے کتب خانے کے مرتب چارلس اسٹیورٹ (Charles Stewart) نے حسن علی عزت کو ٹیپو سلطان کا درباری شاعر بتایا ہے۔حسن علی عزت کی ایک کتاب ’’ مفرح القلوب‘‘ (فارسی)بھی ملتی ہے اس کے علاوہ  مذکورہ مثنوی ہے۔ان دونوں تصانیف کے متعلق یہ خیال ہے کہ یہ ٹیپو سلطان کی فرمائش پر تحریر کی گئی تھی۔اس بات کا اشارہ کتاب پر درج یہ جملہ بھی کرتا ہے۔کتاب کے سرورق پر ’’ کتاب اضراب سلطانی در ذکر جنگ مراہٹہ و نظام علی بطریق اجمال حسب الارشاد حضرت جہاں پناہ ٹیپو سلطان خلد اللہ ملکہ و سلطنتہ کا فقرہ درج ہے۔ میں نے مثنوی ’’اضراب سلطانی‘‘ کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے۔ اس مثنوی کا سنہ تصنیف معین الدین عقیل نے۱۷۸۶ بتایا ہے۔حالانکہ ۱۷۹۰ تک کے واقعات کا اشارہ اس مثنوی میں ملتا ہے۔ مثنوی کے عنوان سے متعلق ایک شعر ملاحظہ کریں ::

یہ اضراب سلطانی سن ہر کہیں

مسلماں ہوئے خوش حزین مشرکیں

اس شعر سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس مثنوی کے لکھنے کی اصل وجہ دراصل حاکم وقت  ٹیپو سلطان کی تعریف و توصیف اور ان کی بہادری کی داستان سنانے کے ساتھ ساتھ دشمنوں کو للکارنے اور ان کو کمتر ثابت کرنا تھا ۔دراصل یہ مثنوی ٹیپو سلطان اور ان کے مخالفین اتحاد یعنی نظام اور مرہٹوں کے درمیان ہوئے 1785-86کی جنگ کے واقعات کو پیش کرتی ہے۔اس بات سے تاریخ کا ہر طالب علم واقف ہے کہ ٹیپو سلطان کو انگریزوں کے سامنے کمزور بنانے میں ان دو ریاستوں کے حکمراں کا رول رہا ہے۔مراہٹوں اور میسور کے درمیان رسہ کشی کی صورت حیدر علی کے زمانے سے تھی ۔ مرہٹہ کے بالاجی راؤ کے متعلق معروف تاریخ داں محب الحسن نے لکھا ہے کہ وہ اپنی سلطنت کی توسیع کرنا چاہتا تھا ، اپنی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے اس نے میسور پر شدید حملے کیے ،اسے کامیابی بھی مل گئی اور نج راج نے اپنی حکومت بچانے کے لیے مراہٹہ کو  ۳۲ لاکھ دینے پر رضامند بھی ہوگیا، چھ لاکھ اس نے دے بھی دیے مگر بقیہ رقم کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں۱۳ تعلقہ کو اس نے بطور ضمانت مرہٹہ کو دے دیا، مگر حید علی اس معاہدے کے حق میں نہیں تھے لہذا یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور مرہٹہ کے کارندوں کو مذکورہ تعلقے سے نکال دیا گیا۔ظاہر ہے یہ بات مرہٹہ کے حاکم کو کیسے پسند آتی ، یہیں سے میسور اور مراہٹہ کے درمیان جنگی لڑائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے۔مثنوی اضراب سلطانی میں اس طویل جنگ کو حسن علی عزت نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

مثنوی’’ اضراب سلطانی‘‘کو شاعر نے اکتیس (۳۱) عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ اس مثنوی کا پہلا عنوان ’’ داستان آمدن مراہٹہ و مغل بہ عزم جنگ برادہونی: بطبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:

عجائب سنو دوستاں داستاں

کہ جس کے بیاں میں ہے قاصر زبان

مراہٹہ مغل فوج سب جمع کر

خوشی سات سلطان کی سن یہ خبر

کیے سب نے یوں شرط سوگند سات

لیویں ملک  جلدی سوں اب ہاتے ہات

سبھی ملک و مال و دیار و حصار

دونوں مل لیویں بانٹ ہے یہ قرار

حسن علی عزت نے سلطنت نظام اور مرہٹہ کے افواج سے ٹیپو سلطان اور ان کے جنگجوؤں کے مقابلے سے قبل کی ایک تصویر پیش کی ہے۔مورخین نے لکھا ہے کہ ٹیپو سلطان اپنے ان دو پڑوسی ریاستوں  سے میل جول بڑھانا اور آپس میں دوستی کا رشتہ رکھنا چاہتا تھا تاکہ انگریزوں کا سامنا بہتر طریقے سے کیا جاسکے۔مگر ٹیپو سلطان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکی۔حسن علی عزت نے اپنی مثنوی کے پہلے حصے میں ادہونی کا ذکر کیا ہے۔ ادہونی دراصل مدراس کے شمال میں واقع ایک ضلع  بلاری کے ایک تعلقہ کا نام ہے جہاں تقریبا 60فی صد ہندو اور 40فی صد مسلمان آباد تھے۔یہ علاقہ کئی اعتبار سے اہم تھا، مورخین لکھتے ہیں کہ چودھویں صدی میں وجے نگر(دکن کی عظیم ہندو مملکت)کے لیے یہ جگہ کافی محفوظ پناہ گاہ تھا جسے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے۔اتحادی ا فواج(نظام اور مرہٹہ) اور ٹیپو سلطان کے درمیان اس لڑائی کا ذکر حسن علی عزت نے کیا ہے۔

مثنوی کا دوسرا عنوان ’’ داستان آمدن فوج کفار برائے دیدن لشکر سلطان و ذکر شب خون وغیرہ و ہزیمت خوردن اہل ضلال از فوج  اسلام بطبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔اس حصے میں حسن علی عزت نے دشمنوں کی فوج کو کفار سے تعبیر کیا ہے، ظاہر ہے یہ کفار کا لفظ نظام اور مرہٹی دونوں  کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی متکلم کے پیش نظر کفار کا لفظی ترجمہ نہیں تھا بلکہ ٹیپو سلطان سے مقابلہ کرنے والی فوج خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو وہ اسے کافر ہی گردانتا ہے۔ٹیپو سلطان کی فوجی طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حسن علی عزت کہتا ہے۔

اگر رام و لچھمن ہی ہوتے یہاں

نپٹ خوف سے جیوں کے منگتے اماں

بہے ارجن و  راون و بھیم و گنیش

کشن اور ہمست یہ صف ہائے جیش

اگر دیکھتے اپنے دھوتیاں خراب

کیے ہوتے نہ لا لڑائی کا تاب

اگر رستم و زاں و سام و سوار

و یا کیو  و  سہراب و اسفند یار

یہ لشکر کیتیں دیکھتے عقل کھو

اپس زندگانی سوں ہاتاں کو دھو

حسن علی عزت نے اپنی فوج کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ٹیپو سلطان کے پاس فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ توپ اور اس زمانے کے جدید جنگی ہتھیار موجود تھے۔یہی وجہ ہے کہ اتحادی فوج کے مقابلے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ٹیپو سلطان کی فوج طاقت ور تھی ۔ادہونی کے مقام پر جب ٹیپو سلطان نے اتحادی فوج پر حملہ کیا تو تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود نظام اور مرہٹہ کے پاؤں اکھڑ گئے اور ٹیپو سلطان کو کامیابی ملی۔ حسن علی عزت نے اس فتح کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔

غرض چو طرف سوں اخذ بے شمار

سماوی و ارضی ہوا مار مار

شتر فیل و خچر و گاواں و خر

بھی گھوڑے وکے قسم کے جانور

شہاباں و  گولوں سے ہو کر کباب

پڑے تھے نہ تھا آدمیاں کا حساب

یہ احوال کوں مشرکاں دیکھ سب

دئیے چھوڑ اموال و ناموس تب

اس جنگ سے ٹیپو سلطان میں موجود قیادت کی صلاحیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اتحادی فوج نے جب ٹیپو سلطان کے سرحدی قلعہ بادامی پر حملہ کیا تو اس کا جواب ٹیپو سلطان کی فوج نے جم کر کر دیا، یہی وجہ تھی کہ بہت جلد نظام اور مرہٹہ کی فوج بادامی چھوڑ ادہونی کی طرف بھاگے جب وہ ادہونی پہنچے تو مصلحتا ٹیپو سلطان نے اپنے قدم پیچھے کر لیے اور ادہونی کا محاصرہ ترک کردیا، بعد میں انہوں نے اتحادی فوج پر چھاپہ ماری شروع کی جس سے اتحادی فوج کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔اس جنگی کاروائی کا یہ اثر ہوا کہ مہابت جنگ جو نظام علی خان کا داماد تھا اس نے قلعہ چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔حسن علی عزت نے اپنی اس مثنوی میں ٹیپو سلطان اور نظام و مرہٹہ کے درمیان ہوئے خونی جنگ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

حسن علی عزت نے اپنی مثنوی کے لیے جو عنوانات قائم کیے ہیں اس سے بھی ٹیپو سلطان اور ان کی فوج کی کاروائی اور لیاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مثنوی کا تیسرا عنوان’’ داستان فراری شدن حکیم خان ناظم شاہ از استماع خبر شکست خوردن فوج مقہور تاسف خوردن و اضطرار نمودن  او بطبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔حکیم خان  ویسے تو ٹیپو سلطان کا رشتہ دار یعنی اس کے بھائی عبد الکریم کا سسر تھا مگر جب حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو سلطان کو سلطنت کی ذمہ داری سنبھالی تو یہ بات اسے بے حد ناگوار لگی اور وہ ٹیپو سلطان کا دشمن بن گیا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ جب ٹیپو سلطان کے خلاف نظام اور مرہٹہ ایک ہوئے تو حکیم خان بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔حسن علی عزت نے مثنوی کے اس حصے میں حکیم خان کی سازش اور ٹیپو سلطان کے ہاتھوں اس کی شکست کو بیان کیا ہے۔

مثنوی میں کئی دیگر عنوانات بھی ہیں جن کے مطالعے سے بھی اس دور کی پوری تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔مثنوی کا چوتھا عنوان’’ داستاں شب خوں دیگر بر لشکر اہل ضلال و فراری شدن گمرہاں از خوف و جان و بدست آمدن غنیمت بے شمار از فضل یزدان پاک بر طبق اجمال نوشتہ شد‘‘ ہے۔اس عنوان کے تحت بھی مثنوی نگار نے ٹیپو سلطان اور حکیم خان کے مابین ہوئے جنگی کاروائی پر روشنی ڈالی ہے۔ مثنوی نگار نے لکھا ہے کہ جب ٹیپو سلطان کو حکیم خان کی ساشز کا علم ہوا تو اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا اور  حکیم خان بلکہ متحدہ افواج پر حملہ آور ہوا۔

خبر سن کے سلطان نے بند کر کمر

سر شام سب فوج تیار کر

چلے ان کے لشکر پو جلد و شتاب

جو نزدیک پہنچے یکایک شہاب

چھوٹیاں منقلے سوں بھی توپ و تفننگ

لگے ہوں سر پر چو طرف بے درنگ

سمایا یہ دیکھ دیکھیا سو لشکر تمام

لگیا چلچلانے ہرے رام رام

حسن علی عزت ے اس پورے واقعے کو پوری توجہ کے ساتھ پیش کیا ہے، اس کے لیے انہوں نے کئی عنوانات بھی قائم کئے ہیں، مگر میں نے تفصیل سے بچھنے کی خاطر مثنوی کا بہت سا حصہ فی الحال چھوڑ دیا ہے۔

مثنوی کا آخری عنوان  ’’ داستان داخل شدن بدار السلطنت پٹن بہ فتح و ظفر بعد مسلمان کردن مشرکاں کچن گڈ در خوں بہائے عبد الکریم عمل در آن جا‘‘ ہے۔ایک بند ملاحظہ کریں:

پس القصہ سلطان بہ فتح و ظفر

ز فضل جہاں داور و داد گر

کیے جب سکل مشرکین پا شکست

وہاں کے قلعہ ہا کا کر بندوبست

حسن علی عزت نے مثنوی کے آخر میں ٹیپو سلطان کی فتح یابی کا ذکرکیا ہے۔شاعر نے اپنی مثنوی کا اختتام دعائیہ کلمات سے کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:

تو اب رہ وعا بیچ ہر صبح و شام

بجز اس کے دوسرا نہیں تجھ کوں کام

الہی ہے جب لک مہ و آفتاب

یوں ہی رکھ تو سلطان کوں  باب و تاب

مظفر  و منصور بر مشرکیں

بحشمت و اعزاز تا روز دین

مثنوی فتح نامہ ٹیپو سلطان کا مطالعہ دراصل ٹیپو سلطان کے عہد کا مطالعہ ہے۔ یہ کافی طویل مثنوی ہے، اس پر تفصیل سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے،یہاں چونکہ وقت کی قید ہے اس لیے میں نے اس مثنوی کا تعارف بھر پیش کیا ہے، چند اشعار بطور نمونہ پیش کیا ہے تاکہ اہل نظر اس کی طرف متوجہ ہوں۔حالانکہ یہ مثنوی ٹیپو سلطان اور اتحادی فوج کے درمیان ہوئے دو برس کی لڑائی کا پورا احاطہ نہیں کرتی بلکہ بقول معین الدین عقیل کے ’ واقعات کے ایک درمیانی مرحلے پر ختم ہوجاتی ہے۔اس بات کا اشارہ خود حسن علی عزت نے مثنوی کے آخری حصے میں دیا ہے۔

اتھا یہ سخن بے حد  و  بے حساب

ہزاروں سے یک بیت کر انتخاب

لکھیا تو نے کر مختصر یہ بیاں

وگرنہ بہوت  طول تھی داستاں

کیا مختصر سو اتا کچھ ہوا

اگر سب وہ کہتا نہ جانوں میں کیا

حسن علی عزت نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ٹیپو سلطان کے معرکوں کو پیش کیا ہے، انہوں نے اپنی مثنوی میں محض ٹیپو سلطان کی خوبییوں کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ایک دو مقامات پر اس کی پالیسی کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ حالانکہ ایک دو مقامات پر حسن علی عزت نے ان واقعات کو بھی پیش کیا ہے جو دراصل تاریخ کا حصہ ہی نہیں ہیں۔اس ضمن میں معین الدین عقیل نے کئی حوالے بھی پیش کیے ہیں۔زبان و بیان کی سطح پر اگر اس مثنوی کو دیکھا جائے تو قدیم اردو ہونے کی وجہ سے فارسی الفاظ کی بہتات کے ساتھ دکن کا خاص رنگ بھی نظر آتا ہے۔تمام عنوانات فارسی میں قائم کیے گئے ہیں۔

حسن علی عزت نے ٹیپو سلطان کے دشمنوں کے لیے جن القاب کا استعمال کیا ہے وہ مناسب نہیں، انہوں نے تقریبا تمام مقامات پر نظام اور مراہٹہ کے لیے تضحیک آمیز الفاظ مثلا ’مراہٹہ فوج کے لیے اہل ضلال‘ اور نظام فوج کے لیے ’مشرکاں‘کا لفظ استعمال کیا ہے جو نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ اس سے کہیں نہ کہیں مثنوی کی زبان سوقیانہ ہوگئی ہے۔حسن علی عزت چونکہ ٹیپو سلطان کے دربار سے وابستہ تھے لہذا انہوں نے ٹیپو سلطان اور اس کی فوج کو ہر مقامات پر بہادر اور دشمن ٹیپو سلطان کو حقیر اور کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

جہاں تک ٹیپو سلطان کا تعلق ہے، تو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کی مخالفت ابتدائی زمانے سے کی۔حالانکہ دوسری ریاستوں کے حکمرانوں کا ایک بڑا طبقہ انگریزوں کی چاپلوسی میں مشغول تھا ،جب کہ ٹیپو سلطان انگریزوں کی مخالفت کر رہے تھے ، یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کی نظر میں ٹیپو سلطان ایک غدار تھا جس نے انگریزی قانون ماننے سے انکار کردیا تھا۔اگر اسی زمانے میں ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں نے متحد ہو کر انگریزوں کی مخالفت کی ہوتی تو یقینا وہ اتنے دنوں تک نہ ہم پر حکومت کر پاتے اور نہ ہی ہمارے مال و دولت کو لوٹ کر لے جاتے۔

جہاں تک مثنوی کی زبان کا تعلق ہے تو پوری مثنوی پر فارسی کا اثر غالب ہے، یہاں تک کہ جو عنوانات قائم کیے گئے ہیں وہ بنیادی طور پر فارسی میں ہیں، مثنوی کے کئی اشعار ایسے ہیں جس کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ اردو نہیں فارسی کے اشعار ہیں۔جس عہد میں اس مثنوی کی تخلیق ہوئی اس وقت اردو زبان اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی ، اس کا واضح اثر مثنوی کے اشعار میں موجود ہے۔مجموعی طور پر مثنوی ’’ اضراب سلطانی‘‘ کا مطالعہ اس عہد کے سیاسی اور سماجی صورت کی جس طرح عکاسی کرتا ہے وہ بے حد خاص ہے ساتھ ہی اردو زبان کی نشو و نما کے متعلق بھی ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اردو کی صورت حال کیا تھی۔

پچھلے چندبرسوں میں ٹیپو سلطان کو لے کر کئی طرح کی باتیں سامنے آئیں، چند لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیپو سلطان غدار وطن تھا،ہمیں ایسے لوگوں کی عزت اس لیے کرنی چاہیے کہ ان کے آبا و اجداد نے جو نظریہ ٹیپو سلطان کے بارے میں قائم کیا تھا آج دو سو برس سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے آبا و اجداد یعنی انگریزوں کے موقف پر قائم ہیں۔

ادبی میراثاضراب سلطانیٹیپو سلطانمثنوی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غالب اور مثنوی چراغ دیر – ابو بکر عباد
اگلی پوسٹ
انیس کی عظمت – پروفیسر عتیق اللہ

یہ بھی پڑھیں

اردو مثنوی: تعارف اور تفہیم ۔ خان محمد...

اکتوبر 11, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

دسمبر 30, 2023

قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں...

مارچ 11, 2023

اردو کا پہلا عوامی اور ترقی پسند شاعر...

نومبر 2, 2022

جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی: ایک فکشن –...

اکتوبر 5, 2022

اپریل 14, 2022

اپریل 14, 2022

رسالہ شاہراہ کا ادبی و تاریخی پس منظر...

اپریل 6, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں