Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اردو رسائل- ڈاکٹرنعمان قیصر

by adbimiras اگست 31, 2020
by adbimiras اگست 31, 2020 0 comment

جامعہ ملیہ اسلامیہ سے نکلنے والے اردو رسائل وجرائد کے مزاج ومنہاج اور اس کے مجلاتی اختصاص پر گفتگو کرنے سے قبل اس کے قیام کے فکری پس منظر پر اختصار کے ساتھ گفتگو مناسب معلوم ہوتی ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ وہ کیا اغراض ومقاصد تھے جس کی وجہ سے اس ادارے کی تاسیس عمل میں آئی۔معروف اسکالراورجامعہ ملیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سابق صدر پروفیسر اخترالواسع نے جامعہ کے قیام کے اسباب وعلل اور اس کی فلسفیانہ اساس کے حوالے سے اپنی رائے یوں پیش کی ہے۔وہ لکھتے ہیں’’ جامعہ ملیہ اسلامیہ قومی تحریک آزادی کے ان ثمرات میں سے ہے جن کے ذریعے اس تحریک کے بنیادی جذبے ،افکار ،مقاصد اور نصب العین ٹھوس اور محسوس حقیقت کی شکل میں ظاہر ہوئے ۔قومی رہنماؤں نے جوکارنامہ سیاسی سرگرمی کی سطح پر انجام دیا ،جامعہ کے معماروں نے اسی کارنامے کو تعلیمی جدوجہد کی سطح پر ممکن بنایا ۔نوآبادیاتی تسلط سے آزادی ،ایک نئی مشترک ہندوستانی قومیت کی نمود ،صدیوں کے سماجی ،اقتصادی جبرو استحصال سے گلو خلاصی ،ذہنی جموداور تقلید کے مقابلے تخلیقی تحرک اور اجتہادی فکر کا فروغ جیسے مقاصد جس طرح تحریک آزادی کے منشور کا لازمی حصہ تھے ،اسی طرح جامعہ کے تعلیمی منشور کے بنیادی عناصر بھی یہی تھے۔‘‘

اردو مجلات کے ارتقائی سفر میںایسے مجلات بکثرت نظرآتے ہیں جوکسی علمی ادارے سے شائع ہوئے اور ان اداروں کے مقاصد کی ترجمانی وتعارف کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ایسے رسائل ومجلات اپنے پیغام کی سنجیدگی اور منزل مقصود کے متعین ہونے کے سبب مخصوص مزاج ومنہاج کے حامل ہواکرتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر رسالہ اپنے پیغام اور مخصوص مزاج ہی کی بنیادوں پر ترقی کے منازل طے کرتا ہے ۔اس کے برعکس اگر کسی رسالے کے اہداف طے شدہ نہ ہوں تو اس کے مشمولات لاسمتی کے شکار ہوجاتے ہیں۔علی گڑھ تحریک نے اپنے مقاصد کی ترویج واشاعت کے لیے رسالہ’ تہذیب الاخلاق‘ جاری کیا۔اس رسالہ نے علی گڑھ تحریک کے پیغام کو عوام الناس سے متعارف کرانے اور عوام کو ہم نوا بنانے میں اہم کردار اداکیا، اس کے ساتھ ہی اردو مجلات کی تاریخ کو ثروت مند بنانے میں ’تہذیب الاخلاق‘ کو نمایاںمقام حاصل ہوا۔

29، اکتوبر1920کو علی گڑھ میں جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا،دہلی منتقل ہونے پر قرول باغ پھر اوکھلا میں یہ انجمن دوبارہ آراستہ کیاگیا تو اس ادارے کوبھی اپنے پیغام کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے رسائل وجرائد کا سہارا لینا پڑا۔اس اعتبار سے جامعہ سے نکلنے والے رسائل میں ’رسالہ جامعہ ،اسلام اور عصر جدید،کتاب نما اور پیام تعلیم ‘ قابل ذکر ہیں ۔یہ رسائل بانیان جامعہ کے وسیع ترنظریاتی اہداف کی تکمیل اور ان کے افکار کی ترجمانی کے لیے معرض وجود میں آئے ۔بالخصوص ’رسالہ جامعہ‘ ایک علمی درس گاہ کا نقیب بھی تھا اور ملک میں جاری تحریک آزادی کا ترجمان بھی، اس لیے اس کی اشاعتوں میں جذبہ ٔ حریت کے ساتھ ساتھ انگریزی استعماریت کے خلاف احتجاجی شان نظر آتی ہے۔

اردو صحافت سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا چولی دامن کا رشتہ ہے۔اردو صحافت کو برگ وبار اور سمت ورفتار عطاکرنے  میں متعلقین جامعہ نے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں۔صحافتی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں میں جی ،ڈی ، اپسن،رئیس الاحرارمولانامحمد علی جوہر(ہمدرد،کامریڈ)مولانا ابوالکلام آزاد(الہلال ، البلاغ )کے علاوہ ارکان ثلاثہ یعنی ڈاکٹر عابد حسین (نئی روشنی)ڈاکٹر ذاکر حسین اور پروفیسر مجیب صاحبان کے نام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اکابرین جامعہ کی صحافتی تحریروں نے آزادی کے جذبے کو فروغ دینے کے علاوہ روشن خیالی،وسیع النظری اوراخوت ویگانگت کے لیے راہیں ہموار کیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صحافتی اور مجلاتی تاریخ کا جائزہ لیں توعلی گڑھ میں جامعہ کے قیام کے ابتدائی دنوںمیں ’الرشد ‘ کے نام سے ایک قلمی رسالہ کا ذکر ملتا ہے جسے ڈاکٹرذاکر حسین کے چھوٹے بھائی محمود حسین خاں اور سعید انصاری اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے نکالتے تھے جسے بعد میں معروف انقلابی شخصیت اورعظیم صحافی مولانامحمد علی جوہر کے تخلص کی مناسبت سے اس کانام ’جوہر ‘ کردیاگیا۔دراصل رسالہ جوہر ہی وہ خشت اول ہے جس کی وجہ سے جامعہ میں اردو صحافت کی داغ بیل پڑی ۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ رسالہ جامعہ کا خمیر ،قلمی رسالہ’ جوہر‘ سے تیار ہوا ہے۔

جامعہ کے قیام کے دوسال بعد جنوری1923میں علی گڑھ میں نورالرحمن صاحب کے زیر ادارت’ رسالہ جامعہ‘ کی اشاعت عمل میں آئی۔آپ ایک نامورقلم کار اور صحافی کے علاوہ جامعہ کے شعبہ تصنیف وتالیف کے نگراں بھی تھے ۔جنوری 1923سے جون 1924آپ نے اس کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔رسالہ کے پہلے شمارے میں اس کی اشاعت کی غرض و غایت سے متعلق نورالرحمن لکھتے ہیں:

’’ہر دارلعلوم کی یہ قدیمی سنت ہے کہ اس کا ایک مخصوص علمی رسالہ ہو۔لیکن جامعہ کے سلسلے میں اس کو اس وقت ضروری نہیں سمجھا کہ طلبا کے علمی ذوق ،مشاغل ،تصنیف وتالیف کی مقبولیت اور جامعہ کی علمی زندگی کی تدریجی ترقی کے ساتھ خودرسالہ کا وجود بھی مسئلہ ارتقا کے عالم گیر اثر میں پیدانہ ہوجائے۔چنانچہ ایک سال تک طلبائے جامعہ اپنے رسالہ جوہر کو قلمی نکالتے رہے اور اس طرح وہ تمام اسباب جو ایک علمی رسالہ کی اشاعت کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں،خود ہی فراہم ہوگئے۔‘‘

رسالہ جامعہ کی اشاعت کاایک بڑا مقصدیہ بھی تھا کہ اس کے ذریعے طلبامیں صحافیانہ شعور بیدار کیا جائے ،ان میں تصنیفی اور تالیفی صلاحیت پیداکی جائے چنانچہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے رسالہ میں ترجیحی طورپر طلباکے مضامین شامل کیے جاتے ۔ طلبامیں صحافیانہ ذوق بھی تھا اور لکھنے کی لگن بھی ،اس لیے تھوڑے دنوں میں ہی انھوں نے مشق وممارست سے قلمی میدان میں اچھی خاصی استعداد پیداکرلی اوروہ قومی اور عالمی مسائل و موضوعات پر خامہ فرسائی کرنے لگے۔اس ضمن میں یوسف حسین خاں،شفیق الرحمن قدوائی،عبدالغفور اور سعید انصاری وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کے مضامین ومقالات رسالہ جامعہ میں شائع ہونے لگے تھے۔

نورالرحمن صاحب کے بعدعربی وفارسی ادبیات کے عالم اور اسلامی اسکالر مولانا اسلم جیراجپوری کورسالے کامدیر مقررکیاگیا۔آپ نے 1924سے1934تک رسالے کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔البتہ اس دوران مولانا کو گاہے گاہے پروفیسر یوسف حسین خاں اور ڈاکٹر عابد حسین کی ادارتی معاونت حاصل رہی ۔ 1926میںجرمنی سے مراجعت کے بعد ڈاکٹر سید عابد حسین رسالے سے بطور شریک مدیر وابستہ ہوگئے اورمیگزین سے ان کا یہ انسلاک 1938تک رہا۔ان کے بعد رسالہ کے مدیر جامعہ کے شعبہ معاشیات کے استاذپروفیسر محمدعاقل کوبنایا گیا ،ان کی خاص بات یہ تھی کہ مضمون کی عدم فراہمی کی صورت میںسارے مضمون وہ خودہی لکھ کر رسالہ شائع کراتے۔رسالے کی ادارت سے ہمیشہ ذی علم اور نامور شخصیات وابستہ رہیں،جنھوں نے اپنی علمی تعمق اور فکری بصیرت سے رسالے کے معیار کو بلندکیا۔رسالہ جامعہ کی ادارتی خدمات انجام دینے والوں میں پروفیسر نورالحسن ہاشمی ،عبداللطیف اعظمی،پروفیسر محمد مجیب،ڈاکٹر سیدعابد حسین،پروفیسر سلامت اللہ،پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی،ڈاکٹر سیدجمال الدین،پروفیسر صغرامہدی،پروفیسر مقبول احمد ،پروفیسر عبدالعلیم احراری،پروفیسر شمیم حنفی،ڈاکٹر سہیل احمدفاروقی ،پروفیسر اخترالواسع اور موجودہ مدیر پروفیسر محمد اسحاق کے اسمائے گرامی اہمیت کے حامل ہیں۔

رسالہ جامعہ کے قلم کاروں میں کسی خاص خطہ یا کسی مخصوص نظریے کے حامل افراد نہیں ہیں بلکہ فکری ہمہ گیریت اور موضوعاتی وسعت کی وجہ سے ملک کے طول وعرض کے لکھنے والوں کی تحریریں اس میں شامل ہوتیں۔ فکری تحرک اورعلمی فعالیت کی وجہ سے رسالہ جلدہی قارئین وقلم کاروں کی توجہ کامرکز بن گیا۔ چنانچہ معروف دانشور شاہد مہدی لکھتے ہیں:’رسالہ جامعہ نے بہت جلد ایسے فورم(Forum)کی حیثیت اختیار کرلی جو برصغیر کے تمام اہم لکھنے والوں کی ذہنی سرگرمی کا مرکز تھا۔‘‘

جنوری 1923میں رسالہ جامعہ کی اشاعت علی گڑھ میں عمل میں آئی،لیکن1925جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قرول باغ اور اس کے بعد اوکھلا میں منتقل ہونے کے بعداس کااشاعتی تسلسل برقرارنہیں رہ سکا۔ رسالہ جامعہ کے نشیب وفراز کاقصہ اور اس کی اشاعت کی راہ میں حائل ہونے والی دشواریوں کی کہانی بہت طولانی ہے ۔ حالات کی ناسازگاری ،سیاسی اتھل پتھل اور تقسیم کے سانحہ کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کے علاوہ مالی بحران بھی رسالے کی اشاعت کی راہ میں حائل رہاجس کی وجہ سے کئی شمارے کی اشاعت میں نہ صرف تاخیر ہوئی بلکہ اگست 1947سے اکتوبر1960تک تقریباً 13سال رسالے کی اشاعت مکمل طورپر بندرہی۔لیکن 1960میں حالات قدرے بہتر ہوئے ،تومجیب صاحب کی رہنمائی میں عبداللطیف اعظمی نے اس کی اشاعت کا بیڑااٹھایااورانھوںنے فہم وفراست اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے رسالے کو اشاعت کی منزل سے ہم کنار کیا۔ اس  میں شذرات کے تحت پروفیسرمحمد مجیب نے رسالے کے طویل مدت تک بند ہونے کے اسباب وعوامل پرتفصیل سے بحث کی اور اس طرح اراکین جامعہ کی دلچسپی اوران کے عزم پیہم کی وجہ سے نومبر1960میں رسالہ جامعہ کے دوسرے دور کا پہلا شمارہ اشاعت پذیر ہوا۔

رسالہ کے دوسرے دور کی اشاعت کے تیسرے شمارے میں شذرات کی بجائے’کوائف جامعہ ‘اور ’حالات حاضرہ‘ کے نام سے دونئے عنوانات قائم کیے گیے،۔حالات حاضرہ پر خامہ فرسائی کے لیے ’قومی آواز‘کے معروف صحافی عشرت علی کی خدمات لی گئیں۔لیکن 1964میں پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی کے مدیر بننے کے بعد اس میں شذرات لکھے جانے کا سلسلہ پھر شروع کیا گیا۔اب شذرات کے علاوہ اس میں حالات حاضرہ،کوائف جامعہ،رفتار تعلیم ،اور تبصرے کے تحت اس میں تحریریں شائع ہونے لگیں۔دسمبر 1994تک جلد اور شمارہ نمبر کی تھوڑی بے قاعدگی کے ساتھ رسالہ شائع ہوتا رہا۔ اس وقت تک رسالہ کی اشاعتی میعاد ماہانہ تھی لیکن فروری 1994میںجب پروفیسر شمیم حنفی نے اس کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی ،توانھوں نے رسالے کی صوری اور معنوی ہیئت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ جنوری1995سے اس کی اشاعت کی مدت ماہانہ سے سہ ماہی کردیااور اب تک اسی دورانیہ کے ساتھ یہ شائع ہورہا ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی رسالے کی ادارت سے تقریباً ایک دہائی تک وابستہ رہے اور اس طویل عرصے میں انھوں نے اپنی صحافیانہ بصیرت اورعلمی تعمق سے رسالے کے معیار و وقار کو بلندی عطا کی۔

رسالہ جامعہ کے اشاعتی سفر پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک اس نے تقریباً ایک صدی کا طویل فاصلہ طے کرلیا ہے۔ 1923میں بے سروسامانی کے عالم میں بانیان جامعہ نے صحافت کاجوپودا لگایا تھا وہ اب ایک شجر سایہ دار کی حیثیت اختیار کرگیا ہے اور تشنگان علم وادب کی ذہنی وفکری آبیاری میں مصروف ہے۔برصغیر ہندوپاک میں بہت سے رسائل طمطراق کے ساتھ نکلے لیکن چند دہائیوں کی مسافت کے بعد وہ دم توڑگئے اور اس کی اشاعت بند ہوگئی لیکن رسالہ جامعہ کی اشاعت میں تعطل کے( 1947سے1960)13سال کو منہا کردیا جائے تو عمری طوالت کے اعتبار سے ’معارف ‘(اعظم گڑھ )کے بعد یہ دوسرارسالہ ہے جس کی اشاعت ہنوز جاری ہے۔مجلاتی صحافت میں رسالہ جامعہ کاایک بڑا اختصاص یہ ہے کہ اس کے افکارونظریات میں ایک طرح کی وسعت وہمہ گیریت نظر آتی ہے۔اس کے اداریے آفاقی تنوع کے حامل نظر آتے ہیں۔موضوعاتی اعتبار سے اس کادائرہ ہمیشہ وسیع رہا۔رسالہ جامعہ کے علمی اور تحقیقی مزاج کے باوجوداس میں یہ کوشش کی گئی کہ اس کے مشمولات یک رخانہ ہوں۔

اردو کو ایک علمی زبان کی حیثیت سے فروغ دینے اوراسے موضوعاتی اعتبارسے ثروت مند بنانے میں رسالہ جامعہ نے ایک فعال کردار اداکیا۔اس نے قارئین کے ذوق کی تسکین کے ساتھ تحقیق وتنقید کے لیے بھی راستہ ہموار کیا،اراکین ادارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ اس میں شائع ہونے والے مضامین ومقالات خالص علمی اور تحقیقی ہوں،لیکن قارئین کے حلقے کو وسیع کرنے کے لیے بعد میں ادبی اور ثقافتی تحریریں بھی اس میں شامل کی گئیں۔رسالہ جامعہ کے مشمولات اور اس کے مندرجات کو دیکھنے سے تنوع کا احساس ہوتاہے۔اس میں ادب وثقافت،تنقیدو تحقیق،مذہبیات ،عمرانیات ،اقتصادیات ،سماجیات ،سیاسیات ،تعلیم ،سفرنامہ ،تراجم اور تبصرے غرض ہر طرح کی تحریریں شروع سے ہی اس کے محتویات کا حصہ رہیں۔رسالہ کی اسی ہمہ گیریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی لکھتے ہیں :’’رسالہ جامعہ کی پوری تاریخ اور اس سے وابستہ منظر نامہ پر نظر ڈالی جائے تو ایک ہمہ گیر فکری تجسس اور ہمہ گیر علمی وادبی سرگرمی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘رسالہ جامعہ کی شناخت اردو کے ایک اہم ادبی اور فکری رسالے کے طورپر مستحکم ہے، اسے یہ استحکام فکرونظر کی گہرائی اور تحقیق کی گیرائی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔رسالے کے ان محاسن کی طرف پروفیسر مظفر حنفی نے نہایت بلیغ اشارہ کیا ہے۔’’جامعہ ملیہ کایہ جریدہ اپنے فکر انگیز شذرات ،علمی مضامین ،تحقیقی نگارشات اور ادبی تحریروں کے لیے پچھلی چھ سات دہائیوں سے اردو دنیا میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘رسالہ جامعہ کے شذرات علمی ،ادبی ،مذہبی ،اخلاقی ،تاریخی ،سیاسی اور سماجی اعتبار سے دستاویزی نوعیت کے حامل ہیںاور اجتماعی افکارواحساس کی ترجمانی کرتے ہیں۔ان شذرات سے ہندوستان،ایشیا ،یوروپ کے سیاسی حالات اور علمی سرگرمیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔موضوعی اعتبار سے شذرات کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں ایک وسعت اور رنگارنگی نظر آتی ہے۔

رسالہ جامعہ کو اس اعتبار سے بھی امتیاز اور افتخار حاصل ہے کہ اردو کی کئی اہم اور تاریخی تحریریں سب سے پہلے اسی میں شائع ہوئیں مثلاً پریم چند کاانقلاب آفریں اور نظریہ ساز افسانہ ’ کفن ‘ دسمبر 1935میں اشاعت پذیر ہوا۔افسانوی دنیا میں پریم چند کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے اردو افسانہ کو تخیلی اور ماورائی ماحول سے نکال کر اس کا رشتہ حیات وکائنات کے مسائل سے استوار کیا۔ اردو افسانے کی روایت میں ’ کفن ‘ کو اس اعتبار سے اہمیت حاصل ہے کہ اس میں ترقی پسند نظریے کی حمایت اور استحصالی اذہان کی مخالفت کے باوجوداس میں فنی حرمت کی پاسداری نظرآتی ہے۔

رسالہ جامعہ نے اردو ادب کی زرخیزی میں قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔اس میں جہاں ہندوپاک کے نامور ادیبوں،شاعروں کی نثری وشعری کاوشیں شائع ہوئیں ،وہیںادب کے مغربی رجحانات سے اردوادب کے قارئین کو واقف کرانے کے لیے لیو ٹالسٹائے،انتون چیخوف،ڈاکٹر موریس گولڈسٹائن، ٹیلڈاسیراؤ،الفیم زوزلیا،دستوئفسکی،آسکر وائلڈ،سولوگُب اورکیتاایف کی تحریروں کو اردو کا پیرہن عطا کیاگیا۔رسالہ جامعہ کے قلمی معاونین میں عالم اسلام کی معروف شخصیت ،مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ کے علاوہ معروف سیرت نگار علامہ سید سلیمان ندوی کے نام بھی شامل ہیں۔

علمی وادبی مجلات میں مختلف عنوانات (جیسے مضامین،مقالات،شاعری ،تبصرے تراجم،انشائیے ،ڈرامے ،خاکے،سفرنامے، مکاتیب)کے تحت ادبی معلومات پیش کی جاتی ہیں ۔بعض رسائل میں کچھ عنوانات مستقل ہوتے ہیں جبکہ کچھ اپنے عنوانات میں ردوبدل سے کام لیتے ہیں یا اس کے ذیلی عنوانات قائم کردیتے ہیں ۔چنانچہ رسالہ جامعہ کے مشمولات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں بھی درج بالا عنوانات کے تحت قلم کاروں کے مضامین ومقالات اور ان کی نثری اورشعری تخلیقات منصہ شہود پر آئیں۔رسالہ جامعہ نے اردو کو عالمی زبان کی صف میں کھڑاکرنے کے لیے دوسری زبانوں کی سیاسی ،سماجی ،مذہبی اور علمی کارناموں سے اردو دنیاکو متعارف کرانے کی سعی کی۔ملک میں علمی فضا قائم کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی علمی جدوجہد سے اردو قارئین کو روشناس کرایانیز اردو زبان کوثروت مند بنانے اور اسے زرخیزی عطا کرنے کے لیے ددوسری زبانوں کی عمدہ تخلیقات کو اردو میں منتقل کیاجس سے اردو میں ترجمہ نگاری کی روایت کو فروغ ملا۔

کتاب نما

’کتاب نما ‘ایک ادبی رسالہ ہے جسے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تصنیف وتالیف ’مکتبہ جامعہ لمیٹڈ‘ کے ذریعہ0 196 میںریحان احمدعباسی کی ادارت میں جاری کیاگیا۔معروف ترقی پسندشاعر غلام ربانی تاباں کی سرپرستی میں ’کتاب نما ‘نے ترقی کے منازل طے کیے اوروہی اس کے مینیجنگ ایڈیٹربھی تھے۔تاباںصاحب کی رہنمائی میں’ کتاب نما‘ نے وضاحتی فہرست کتب سے، ادبی پرچے تک کاسفر طے کیا۔ نظریاتی تعصب اورتنگ نظری کے عام ہونے کے باوجود غیر جانبدار اور متوازن صحافت کا فروغ ہی ’کتاب نما ‘ کاشعار ہے ۔میری اِس رائے کی تائیدرسالہ کے سرورق پر درج عبارت سے بھی ہوتی ہے۔’’ نظریاتی تنازعوں کے دور میں ایک غیر جانبدارانہ روایت کا نقیب‘‘۔تاباں صاحب’ ترقی پسند تحریک ‘ سے وابستہ ضرور تھے لیکن ان کے مزاج میں فکری عصبیت نہیں تھی،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ترقی پسندتحریک کی نعرہ بازی، گھن گرج اور نظریاتی شدت کو اختیار کرنے سے نہ صرف گریز کیا بلکہ اپنی شاعری بھی کواس سے پوری طرح بچائے رکھا ۔ٹھیک اسی طرح انھوں نے ’کتاب نما ‘ کو بھی نظریاتی تقلید اورفکری تتبع سے محفوظ رکھا اور اسے اردو کا ایک غیر جانبدار رسالہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

غلام ربانی تاباں کے علاوہ علمی وادبی دنیا کی فعال شخصیات میں شاہد علی خاں ،حامد علی خاں ،ہمایوں ظفر زیدی ،ولی شاہ جہانپوری اور خالد محمود کی رہنمائی اور سرپرستی کتاب نما کو حاصل رہی۔فی الحال ڈاکٹر عمران احمد عندلیب اس کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں اور اس کے بال و پر سنوارنے میں مصروف ہیں۔’کتاب نما‘ کے ابتدائی شماروں کی ورق گردانی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس میں مکتبہ جامعہ کی نئی مطبوعات یامارکیٹ میں آنے والی دیگر اشاعتی اداروںکی کتابوں کی اطلاعات ہی اس میں فراہم کی جاتی تھی ۔’کتاب نما‘ کے جنوری 1969کے شمارے کی پشت پر مطبوعہ اشتہار سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔نیز اشتہار سے رسالہ کے اشاعتی اہداف کے ساتھ ساتھ اس کا امتیازو وانفراد بھی سامنے آتا ہے۔

’’ارباب ذوق کے لیے مکتبہ جامعہ کا یہ ماہوار رسالہ نہایت ضروری چیز ہے اردو کی تمام نئی کتابوں کی اطلاعات آپ کو اس رسالے سے مل سکتی ہے ،کسی قابل ذکر دارالاشاعت کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہوتی جس کااشتہار ہم فوراً کتاب نما میں شائع نہ کرتے ہوں ۔آپ کتاب منگائیں یا نہ منگائیں اردو ادب کی رفتار ترقی سے واقف رہیں گے۔یہ رسالہ علاوہ عام بامذاق حضرات کے لیے مفید ہونے کے خاص طور پر لائبریریوں اور انجمنوں کے لیے ضروری ہے ۔کوئی کتب خانہ بغیر اس رسالے کی مدد کے نئی کتابوں کا صحیح انتخاب نہیں کرسکتا۔‘‘ لیکن تھوڑی اشاعتی مسافت طے کرنے کے بعد’کتاب نما‘ نے مستقل ایک ادبی رسالہ کی حیثیت اختیار کرلی اور اس میں نامور قلم کاروں کی نثری اور شعری نگارشات،افسانے ،ڈرامے ،انشائیہ ،طنزومزاح ،خاکہ ،خطوط اورشاعری، تنقیدی و تحقیقی مضامین اور ’مانگے کااجالا‘ اور جائزے کے کالم کے تحت مختلف طرح کی تحریریں چھپنے لگیں۔ ادب میں غیر جانبداری ،موضوعاتی تنوع اور علمی رجحان کی وجہ سے ’کتاب نما‘ کا شمار دہلی سے نکلنے والے ایک ممتاز اورمؤقر جریدے میں ہونے لگا۔’کتاب نما‘ کے انھیں محاسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمایوں ظفر زیدی لکھتے ہیں:’ اپنی فکری متانت ،تخلیقات کے تنوع ،اپنی غیر جانبداری اور ہر طرح کے نظر یاتی تعصب اور سخت گیری سے شعوری گریز کے باعث رسالہ ’کتاب نما ‘نے بہت جلد اردو کی ادبی صحافت میں اپنی ایک خاص جگہ بنالی ۔ ‘‘

’کتاب نما‘ کے اشاعتی سفر پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے اب تک تقریباً نصف صدی کا سفر طے کرلیا ہے ،اس دوران اس کی راہ میں مالی دشواریاں بھی حائل ہوئیں ،نامساعد حالات سے بھی اسے دوچار ہونا پڑا ،جس کی وجہ سے اس کی اشاعت کی رفتار مدھم ضرور ہوئی لیکن بند نہیں ہوئی۔اس کے قلمی معاونین میں نئی نسل کے قلم کار بھی ہیں اور سینئر ومعتبر فن کار بھی۔

رسائل وجرائد میں اداریہ کی حیثیت ریڑھ کی ہوتی ہے جو اس کے مزاج ومنہاج کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ اس کے امکانات کی بشارت بھی دیتے ہیں ۔اردو کے عام رسالے کی طرح’ کتاب نما‘ میں بھی اداریے لکھے جاتے تھے مگر اسے’ اداریہ ‘کے بجائے ’اشاریہ ‘کانام دیاجاتاتھا۔ ’کتاب نما‘ کے فکری سرورکار میں ایک خوشگوار تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب1987سے اس میں’ مہمان اداریہ‘ کاسلسلہ شروع کیا گیااور اس سلسلے کی شروعات ادیب ساز شخصیت شاہد علی خاں کی کوشش سے ہوئی۔مہمان مدیر اور ان سے اداریہ لکھوانے کا تجربہ بہت کامیاب رہا ۔اس کے تحت سینئر ادیبوںا ورنقادوں کے علاوہ نوجوان نسل کے قلم کاروں سے بھی اداریے لکھوائے گئے۔اس تجربے سے رسالہ کے مزاج ومنہاج میں بھی وسعت آئی اورادب میں غوروفکر کے نئے دریچے بھی روشن ہوئے ۔ادب کی تفہیم وتعبیر کا نیازاویہ بھی سامنے آیا۔بہت سے مہمان مدیروں نے ادبی رسہ کشی ،فکری عصبیت ،تخلیقی جمود اورذہنی تعطل کواساس بناکر اداریے لکھے۔1996-97کے آس پاس’ کتاب نما‘ میں معروف ناقد حقانی القاسمی کا’’ دیوزاد اور بالشتیے ‘‘ کے عنوان سے ایک اداریہ شائع ہوا تھا ،موضوع کی انفرادیت اور عنوان کے اچھوتے پن کی وجہ سے اس کی بہت سی باتیں اب بھی میرے حافظہ میں روشن ہیں۔ اداریے میں انھوں نے پہلی بار ادب میں حاشیائی بستی کا نعرہ دیا اورادبی مراکزکی اجارہ داری کے خلاف سوال قائم کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حاشیائی بستی کے جینوئن فن کاروں کو ادب میں وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں۔جبکہ ادب کی مرکزی بستی میں رہنے والے کم تر درجے کے قلم کاروں کی خوب پذیرائی ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’مجھے حیرت ہوتی ہے ملک کی کسی راجدھانی میں مقیم وہ افراد جن کا زندگی کے مظاہر سے بظاہر بھی کوئی رشتہ نہیں ہوتا انھیں توراتوں رات شہرت نصیب ہوجاتی ہے اور وہ ادب کے فلک الافلاک پر مسند نشین ہوجاتے ہیں ۔مگر محمد پور کا موچی محمد علام جب اپنے خون جگر سے لکھتا ہے تو اس کی عزت نہیں ہوتی ۔دریا پور کا درزی دبیر الدین جب انتہائی حساس شعر کہتا ہے تو اسے کوئی درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔داناپور کا دھوبی جب بہت ہی صاف ستھرا افسانہ لکھتا ہے تو اس کا کوئی اکرام نہیں کیا جاتا ۔بگڈہرا کا باقی باللہ جب کوئی انشائیہ لکھتا ہے اور کرسیل کا کریم الدین جب کوئی ڈرامہ لکھتا ہے تو اس کی پذیرائی نہیں ہوتی۔کیاداب پر صرف اشرافیہ کی اجارہ داری ہے۔‘‘

’کتاب نما‘کے مہمان اداریہ نگاروں میں آل احمد سرور،علی سردار جعفری ،حامدی کا شمیری ، رفعت سروش ،آفاق حسین صدیقی ،عبدالقوی دسنوی ،خلیق انجم ،ظہیر احمد صدیقی ،وارث علوی ،عبدالمغنی ،شمیم حنفی ،صغریٰ مہدی ،عنوان چشتی ،ابوالکلام قاسمی ،کوثر مظہری ،احمد محفوظ،مولیٰ بخش اور شہاب ظفر اعظمی کے نام قابل ذکر ہیں۔

اردو رسائل وجرائد میں ’کتاب نما‘ کو اس اعتبار سے امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اردو کی نامور شخصیات کے علمی وادبی کارناموں پر مشتمل پچاس سے زائد خصوصی شمارے شائع کیے۔شخصیتوں کی علمی قدوقامت اور ان کی خدمات کے تفصیلی جائزے کی وجہ سے ان کی حیثیت ایک سوانحی ،تاریخی اور ادبی دستاویز کی ہے۔ان شماروں کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی رہی ہے مکتبہ جامعہ نے انھیں کتابی صورت دے دی جس کی وجہ سے ان کا حصول بھی آسان ہوگیا اور ان کے افادی پہلو بھی مزید روشن ہوگئے۔ ’کتاب نما‘ کو رسالہ ’آجکل‘ کے بعد سب سے زیادہ خصوصی نمبرات شائع کرنے کااعزاز حاصل ہے۔’کتاب نما‘ نے موضوعات اور شخصیات دونوں طرح کے خصوصی نمبرات شائع کیے،موضوعاتی اعتبار سے ’نئی نظم نمبر ،لغت نویسی کے مسائل نمبر، اردو افسانہ ممبئی میں 1970کے بعد، صوفیا کا بھگتی راگ اور ہندوستان کی یونیور سٹیوں میں اردو تحقیق ‘قابل ذکرہیں۔جبکہ شخصیات میں جوش ملسیانی ،پریم چند، ،سلامت علی دبیر، ،محمد خان شہاب مالیرکوٹلوی، عرش ملسیانی ،عابد حسین ،محمود احمد ہنر،اجمل اجملی، آل احمد سرورخلیق انجم فرمان فتحپوری ،اخترسعید خاں ،نثار احمد فاروقی ،عابد علی خاں،خواجہ احمد فاروقی،مغیث الدین فریدی ،صالحہ عابد حسین،محبوب حسین جگر،علی سردار جعفری ،حامدی کاشمیری،جمناداس اختر ،ابوسلمان شاہ جہانپوری،رشید حسن خاں ،خواجہ حسن نظامی ،قرۃ العین حیدر،شادعظیم آبادی ،شمس الرحمن فاروقی ،مشفق خواجہ ،ابوالکلام قاسمی ،عبدالستار دلوی ،مجتبیٰ حسین ،جگن ناتھ آزاد ،عبداللطیف اعظمی ،عبد الوحید صدیقی ،اور شاد عارفی قابل ذکر ہیں۔مذکورہ بالا شخصیات کی ادبی خدمات اوران کے علمی کارنامے پر مشتمل خصوصی نمبرات کی گونج ادبی حلقے میں آج بھی سنائی دے رہی ہے۔

’کتاب نما‘ کے صحافتی اختصاص کی بات کی جائے تو اس نے اردو کی ادبی صحافت کو نئی راہوں اورنئے مزاج سے آشنا کیااور ادب میں مثبت اقدار کو فروغ دیا۔تجارتی مفاد اور سودوزیاں سے اوپر اٹھ کر رسالہ نے ادبی جموداور تعطل کی فضا کو ختم کرنے کوشش کی۔ ’کتاب نما‘ نے اپنی سنجیدہ اشاعتوں اورعلمی تحریروں کی وجہ سے ادبی تاریخ پر یادگار نقوش ثبت کیے۔رسالہ نے قارئین کے ادبی ذوق کی ہی تسکین نہیں کی بلکہ تحقیق کے طالب علموں کے لیے بھی راستہ ہموار کیااور تنقید کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔بہ حیثیت مجموعی’ کتاب نما‘ کے مشمولات اور اس کے محتویات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ اس نے روز اول سے ہی اردو کی ادبی صحافت کو سمت ورفتار عطاکرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب کو نئی دِشاؤں اور دَشاؤںسے روشناس کرانے کافریضہ انجام دیا۔

رسالہ اسلام اور عصر جدید

اسلام اور عصر جدید جسے انگریزی میں ’ اسلام اینڈ دی مارڈن ایج سوسائٹی ‘سے تعبیر کیا جاتا ہے،دراصل ہندوستان میں مغربی تہذیب کے عام ہونے کی وجہ سے اس کے منفی اثرات سماج پر مرتب ہونے لگے،مسلم معاشرے میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا ۔مغربی تہذیب کے زیراثر مسلمان اپنی ثقافت سے دور ہونے لگے،ایسے میں مسلمانوں کو مغرب کی کوری اور اندھی تقلید سے باز رکھنے اورملت اسلامیہ کے شیرازہ کو متحد رکھنے کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کی کوشش سے 1967میں ’ اسلام اینڈ دی مارڈن ایج سوسائٹی ‘کے نام سے ایک سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا۔اس کے وسیع تر مقاصد میں یہ بات بھی شامل تھی کہ مشرقی تہذیب کی پاسداری کے ساتھ ساتھ مسلمانو ں کو جدیدیت کے میلانات سے بھی روشناس کرایا جائے ۔نیز ملک ہندوستان میں رہنے اور بسنے والی قوموں کا باہم اختلاط ہو،علمی اور روحانی طورپروہ ایک دوسرے کے قریب  آئیں  تاکہ ملک میں ہم آہنگی اور روشن خیالی کی فضا عام ہو۔یہ سوسائٹی افراط وتفریط سے مکمل طورپر پاک تھی ۔یہ سوسائٹی بے انتہا سائنسی اور مادیاتی اس نظریے کی نفی اور اس طرزفکر کی مذمت کرتی ہے جو انسان کو اس کی تہذیب و ثقافت سے بے بہرہ کردے ۔ڈاکٹر عابد حسین اس سوسائٹی کے کرتادھرتا تھے ،ستر سال کی عمر میں انھوں نے یہ سوسائٹی قائم اور جب تک صحت اورحافظہ نے ساتھ دیا ملک وقوم کی ترقی اور بہتری کے لیے سرگرم عمل رہے ۔چنانچہ وہ اپنے منصوبے اور لائحہ کے تعلق سے لکھتے ہیں :

’’جامعہ کی خدمت میں نے پچھلے پچاس برسوں میں نہایت ایمانداری سے کی ہے۔اس کا قیام قومی یکجہتی کے تجر بوں کے لیے ایک دارالتجربہ کی حیثیت سے عمل میں آیا تھا۔1967میں، میں نے جو کچھ ان تجربوں سے سیکھا ہے وہ یہ کہ قومی یکجہتی سیکولر سطح پر اگر ممکن ہو تو بھی اس کے لیے ایک بڑی مدت درکار ہوگی اور اس کے باجودیہ تعلیم یافتہ لوگوں کے ایک چھوٹے دائرے تک ہی محدود ہوگی ۔منزل مقصود تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ مذہبی سطح پر کام کیا جائے کہ تمام مذاہب کی بنیاد انسانیت پر ہے اور رسوم ورواج وعقائد وغیرہ کے اختلافات محض ضمنی ہیں۔چنانچہ میں نے کچھ مسلمان اور ہندو دانشوروں کی مدد سے ڈاکٹر ذاکر حسین کی سرپرستی میں 1967میں ’اسلام اینڈ دی مارڈن ایج سوسائٹی ‘قائم کی ۔ابتدائی تیاریوں کے بعد جس میں میرا سفر مشرق وسطیٰ ،یوروپ ،امریکہ اور کنیڈا شامل ہے ،جس کا مقصد یہ تھا کہ میں ان ملکو ں کے ہم خیال دانشوروں کی حمایت حاصل کر سکوں‘‘

ڈاکٹر عابد حسین نے اسلام اور عصر جدید کی تشریح وتوضیح ان کے اصطلاحی معنوں میں کی ہے۔ان کی نظر میں اسلام سے مراد وہ طریق زندگی ہے جس کا آغاز آج سے چودہ سو سال قبل عرب کی سر زمین پر ہواتھا اور اس نے اپنے اخلاقی امتیازات کی بنیاپر د نیا کے ایک بڑے رقبے کو اپنے زیر نگیں کرلیاتھااور ان کی نگاہ میں ’عصر جدید ‘ سے مراد وہ طرز حیات ہے جسے گزشتہ چھ سو برسوں میں عیسائی مذہب ،یونانی اور رومی تہذیب کے زیر اثر یوروپ اور امریکہ نے اختیار کیا۔ڈاکٹر عابد حسین نے لفظ’ اسلام‘ کا استعمال مسلمانوں کی معاشرت جبکہ’ عصر جدید‘ کا استعمال مغربی تہذیب وثقافت کے طورپر کیاہے۔ان کا مقصد یہ ہے کہ تہذیبی اور ثقافتی تضادات کے باوجود مشرق ومغرب کے درمیان ایک مطابقت اور ایک ذہنی ہم آہنگی کی فضا قائم ہو تاکہ مغرب میں تحقیق وجستجو کے طفیل پھوٹنے والی علمی اور فکری شعاؤں سے ہندوستان کے مسلمان بھی اپنے اذہان کو منور کرسکیں ۔

’اسلام اینڈ دی ماڈرن ایج سوسائٹی ‘ کے درج بالا مقاصد کی تکمیل و تبلیغ کے لیے انگریزی میں ’Islam and the Modern Age‘اور اردو میں ’اسلام اور عصر جدید ‘کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیا۔سال کے چار شمارے جنوری ، اپریل،جولائی اور اکتوبر کے مہینے میں منظر عام پر آتے۔اس کا اولین شمارہ 1969میں منصہ شہود پر آیا۔اس میں مدیر کے طور پر ڈاکٹر سید عابد حسین جبکہ نائب مدیران میں ڈاکٹر محمودالحسن اور مولوی حفیظ الدین کے نام درج ہیں۔اس کی مجلس ادارت میں ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی(صدر)خواجہ غلام السیدین ،پروفیسر محمد مجیب ،مولانا امتیاز علی خاں عرشی ،ڈاکٹر خواجہ عبدالمجید ،مولانا عبدالسلام قدوائی ڈاکٹر سید مقبول احمد ،ڈاکٹر سید مشیرالحق ،ڈاکٹر سید عابد حسین(سکریٹری)اور پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی کے اسمائے گرامی درج ہیں۔ڈاکٹر عابد حسین نے رسالے کو عالمی نہج عطاکرنے کے لیے اس کے ادارتی بورڈمیں دنیا کے معروف دانشوروں اور مفکروںکو جوڑا تاکہ مغرب کے افکارونظریات کی روشنی یہاں تک پہنچ سکے یہی وجہ ہے کہ اس کے مدیران اعزازی میں پروفیسر چارلس ایڈمس(مسک گل یونیورسٹی،کنیڈا)،پروفیسراناماریہ شمل(بون یونیورسٹی،مغربی جرمنی)،پروفیسر الیساندردبوسانی(روم یونیورسٹی،اٹلی)،پروفیسرعزیزاحمد (کیلیفورنیایونیورسٹی،امریکہ) پروفیسر ملک (دلینوا یونیورسٹی ،امریکہ) نام شامل ہیں۔

رسالہ اسلام اور عصر جدید کاامتیازی پہلو یہ ہے کہ اس نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیامیں ذہنی ارتباط،نظریاتی ہم آہنگی اوربقائے باہمی کی فضاکو عام کرنے کی کوشش کی۔اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اردو میگزین میں عموماً اس طرح کی دانشورانہ بحثیں نہیں ہوتیں ،ایسے میں رسالہ اسلام اور عصر جدید کامجلاتی اختصاص یہ ہے کہ اس نے اردو میں دانشورانہ لٹریچر کی بنیادفراہم کی ۔ڈاکٹر عابد حسین کی تحریروں کاانفراد یہی ہے کہ وہ فکری اختلاف کے باوجود اتحاد ویکجہتی کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتی ہیں۔رسالہ اسلام اور عصر جدید کے قلم کاروں نے مغربی دانشوروں کے افکارونظریات سے استفادے کے امکانات پیداکرنے میں اہم کردار اداکیا۔عصر جدید کی تعبیر اور اس کے تقاضوں کی تفہیم کی راہیں آسان کیں۔رسالہ کے علاوہ اس سوسائٹی نے اپنے افکارو نظریات کی تشہیر وتبلیغ کے لیے انگریزی اور اردو میں کتابیں تصنیف کیںجن میں ’دنیا کے مذاہب سیریز ‘کے تحت منظر عام پر آنے والی کتابیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔نظریاتی خلیج کو کم کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سمینار بھی کروائے ۔ان پیہم کوششوں کی وجہ سے اعتدال ،سنجیدگی اورتعقل پسندی کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک خوشگوار فضا قائم ہوئی جس نے نظریاتی اختلاف کے باجود انسانی بنیاد پر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا۔

ماہنامہ پیام تعلیم

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے قیام کے اول دن سے ہی بچوں کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کے ارتقاپر توجہ مرکوزکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جہاں بالغوں کے ذہن سازی کے لئے’ اسلام اور عصر جدید، رسالہ جامعہ،کتاب نما‘ جیسے رسائل و جرائد جاری کر کے علم و ادب کے نور بکھیرے ،وہیں بچوں کے لئے بھی عمدہ اور معیاری رسالہ کا اجراکیا جس نے کئی نسلوں کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ علم و ادب کی جوت جگانے میں معاون ثابت ہوا۔ انھیں میں سے ایک بچوں کا ماہانہ رسالہ’ پیام تعلیم‘ بھی ہے۔

پیامِ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ کی زیرِ سرپرستی کام کرنے والے مکتبہ جامعہ لمٹیڈ کی زیر نگرانی شائع ہونے والا بچوں کا ماہنامہ رسالہ ہے۔ جو 1926ء میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی تحریک پر جاری ہوا تھا، اُس وقت بچوں کی نظمیں تو لکھی جا رہی تھیں، نثر پر توجہ نہیں تھی۔ ’پیامِ تعلیم‘ کے اجراسے بچوں کے لیے نثری تخلیقات لکھی گئیں اور بچوں کی ذہن سازی کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے اُن کی تحریروں کی اشاعت بھی ہوئی۔ ’پیامِ تعلیم‘ کے مدیرا ن میں ڈاکٹر عابد حسین خاں، غلام ربانی تاباں، شاہد علی خاں اور لکھنے والوں میں ڈاکٹر ذاکر حسین، شفیع الدین نیر، ڈاکٹر مشیرالحق، خلیق انجم، رشید حسن خاں، حکیم محمد سعید  جیسے جلیل القدر زبان و ادب کے اساتذہ کے نام شامل ہیں۔

بچے کی کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ،ان کی ذہنی اور فکری آبیاری مثبت اور تعمیری خطوط پر کی گئی تو وہ ملک اور قوم کا نام روشن کرتے ہیں ،اور اگر ان کی طرف سے بے توجہی اور لا تعلقی برتی گئی تو وہی بچے بدنامی کاسبب بھی بنتے ہیں ۔چنانچہ بچوں میں مثبت اور تعمیری سوچ کو عام کرنے اور ان کے اندر فکری جلا بخشنے کے لیے پیام تعلیم کی اشاعت عمل میں آئی۔پیام تعلیم کے ایک اشتہار سے رسالہ کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے اور اس کے مشمولات کی نوعیت کابھی اندازہ ہوتا ہے۔

’’اردو کے تمام رسائل میں طلبا کے لیے پیام تعلیم سے زیادہ مفید کوئی رسالہ نہیں ۔رسالہ کیا ہے ایک شفیق استاد ہے ۔جغرافیہ ،تاریخ سائنس ،مضامین اور اخلاقی پندونصائح ،کہانیوں نظموں اور معموں کاایک دلچسپ مجموعہ ہے ۔جماعت میں جن مضامین سے لڑکے جی چراتے ہیں ’پیام تعلیم ‘میں خوشی سے پڑھتے ہیں ۔پیام تعلیم میں وہ تمام باتیں ہوتی ہیں جن کی اسکول کے لڑکوں کی ضرورت ہے۔اس رسالے کی یہی خوبی دیکھ کر ماہرین تعلیم نے اس کو اسکولوں کے لیے سرکاری طورپر خرید کیا ہے اور طلبا کو اردو عام گندے لٹریچر سے بچانے کے لیے واحد رسالہ تجویزکیا ہے۔‘‘

مکتبہ جامعہ سے شائع ہونے والے اس رسالہ میں جن معتبر ادیبوں کی تخلیقات جگہ پاتی رہی ہیں ان میں توراکینہ قاضی، آصفہ مجیب، ڈاکٹر ذاکر حسین ،ریحان احمد عباسی، عبدالواحد سندھی، مرزا ادیب،اشرف صبوحی جیسے افراد کے نام شامل ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنھوں نے صرف بڑوں کے لئے ہی نہیں لکھا بلکہ بچوں کے لئے بھی لکھا اور ادب اطفال سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بچوں کا ادب لکھنا کس قدر مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لئے نہ صرف بچہ بننا پڑتا ہے بلکہ بچوں کی نفسیات کو بھی مد نظر رکھ کر لکھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم پیام تعلیم کے پرانے شماروں کی ورق گردانی کرتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس میں بچوں کی جملہ نفسیات کا مکمل خیال رکھا جاتا تھا، اس کے لئے جہاں کارٹون شائع کئے جاتے تھے وہیں کہانی اور نظموں کی مناسبت سے خوبصورت تصاویر بھی فراہم کی جاتی تھیں جس سے نہ صرف رسالہ کے حسن اور خوبصورتی میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ اس کی وجہ سے رسالہ بچوں کی توجہ کا مرکز بھی بنتا تھا۔

بچوں کی ذہنی و فکری تربیت کے پیش نظر قرول باغ میں 1926 میں پیام تعلیم کااجرا عمل میں آیا۔سعید انصاری اس کے پہلے مدیر اور نگراں تھے ۔رسالہ کے آغاز سے ہی ہندوستان کے طول وعرض میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔شروعات میں یہ پندرہ روزہ ہواکرتا تھا ۔اس میں جامعہ کے کوائف ،یہاں کی علمی وادبی روداد کے علاوہ بچوں کی دلچسپی کی چیزیں بھی اس میں شائع ہوتیں ۔شروعات کے کچھ برسوں میں پیام تعلیم کو بچوں کے لیے مختص نہیں کیاگیا کیوں کہ اس وقت جامعہ کی علمی وادبی سرگرمیوں سے عوام الناس کو متعارف کرانے کا واحد ذریعہ یہی تھا لیکن جامعہ کو جیسے ہی اس کا متبادل ہاتھ آیا اس کو ادب اطفال کے لیے مخصوص کردیاگیا۔

نامساعد حالات کی وجہ سے 1946میں پیام تعلیم کی اشاعت کچھ دنوں کے لیے بند رہی ،لیکن سازگار ہوتے ہی اس کی اشاعت پھرشروع ہوگئی۔اس وقت اس کی ادارت کے فرائض حسین حسان انجام دے رہے تھے ،جو بذات خود بچوں کے اچھے رائٹر تھے۔1974میں ان کے انتقال کے بعد پیام تعلیم کی ادارت کی ذمہ داری ولی شاہ جہانپوری کے سپردکردی گئی۔ڈاکٹر ذاکر حسین کی کہانی ’’ابو خاں کی بکری ‘‘سب سے پہلی پیام تعلیم میں ہی شائع ہوئی ۔ڈاکٹر عابد حسین کی ادارتی نگرانی میں اس رسالہ نے شہرت اور ترقی کے نئے منازل طے کیے۔بچوں نے اس سے خوب استفادہ کیا۔بچوں کے رسالے میں جتنی مقبولیت پیام تعلیم نے حاصل کی وہ کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ایک مشن اور تحریک کے طور پر اس رسالے نے بچوں کی ذہنی وفکری تربیت میں جو کلیدی کردار اداکیا ادب اطفال کی تاریخ میں وہ ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

تقریباً ایک صدی کے اپنے اس سفر میں پیام تعلیم نے متعدد ادوار دیکھے جن میں کئی مرتبہ رسالہ کی رفتار مدھم بھی ہوئی ، لیکن جامعہ کے ارباب حل و عقد نے اس کی لو کو بجھنے نہیں دیا یہی وجہ ہے کہ یہ رسالہ آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نہ صرف جاری ہے بلکہ نونہالوں کی ذہن سازی اور بدلتے زمانہ کے ساتھ ان کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ میں کافی تبدیلی بھی کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے میں رسالہ بچوں کے تقاضے کو پوری طرح مکمل نہیں کر سکا ہے اور جس طرح سے دوسری زبانوں میں رسائل نکل رہے ہیں اِس کا وہ معیار نہیں ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود اردو کی قندیل جلائے ہوئے اسے ہم مکمل طور پر ناکام بھی نہیں کہہ سکتے۔

٭٭٭٭

 

نوٹ: مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کررہے ہیں۔

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
اسلامپیام تعلیمرسالہ جامعہعصری تعلیمکتاب نما
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو تنقید کا سیاسی وسماجی پس منظر-ڈاکٹر شاذیہ عمیر
اگلی پوسٹ
محب اہلبیت گوپی ناتھ امن اور ان کا تحریر کردہ مرثیہ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ – ڈاکٹر سید کلیم اصغر

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (599)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (202)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (143)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,050)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (19)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں