یہ حقیقت ہے کہ ادب خلا میں تخلیق نہیں ہوتا بلکہ اس کے عہد کا سماج اور دوسرے متعدد عناصر مل کر اس کے ذہن وفکر اور خدوخال کا تعین کرتے ہیں۔ اس لیے جب تک ہم اس کے جملہ پس منظر کو سمجھنے کی کاوش نہیں کریں گے ، ادب کی ذات تک رسائی اور اس سے پورے طور پر معانقہ کا دعویٰ کرنا مہمل قرار پائے گا۔ تنقید بھی چونکہ ادب کی ایک شاخ ہے لہٰذا اسے بھی پورے طور پر سمجھنے کے لیے اس کے تمام پس منظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اکثر یہ باتیں سننے اور پڑھنے میںآتی رہی ہیں کہ تیرہویں صدی عیسوی میں فارسی زبان و ادب کے ساتھ جو تنقیدی اصول یہاں آئے وہ کم و بیش اٹھارہویں صدی عیسوی تک اسی روش پر گامزن رہے، جس کے تحت اردو زبان و ادب میں بھی صنائع بدائع، عروض و بلاغت ، سرقہ و توارد اورثقالت و غرابت کو ہی فن کا اصل معیار قرار دے دیاگیا اور ان باتوں پر غور و فکر کی زحمت ذرا کم ہی گوارا کی گئی کہ شاعری کیا ہے؟سماج سے اس کے کیا روابط ہیں ؟ انسانی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتسم ہوتے ہیں؟ نیز اپنے دیس کی تہذیب و ثقافت اس کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
سوال یہ ہے کہ جس ریختہ کی قوت نمو و زر خیزی کا یہ عالم تھا کہ چودہویں اورپندرہویں صدی عیسوی سے ہی اس میں طویل مثنویاں ، مرثیے اور غزلیں معرض وجود میں آنا شروع ہو گئی تھیں اور اپنے دیس کی تہذیب و ثقافت اوراس کے جملہ مظاہر سے والہانہ لگائو کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ اس کی روشنی سے دکنی ادب کا ایک پورا عہد فروزاں دکھائی دیتا ہے۔مزید شمالی ہند میں بھی جہاں اٹھارہویں صدی عیسوی میں ہی میر تقی میر ، خواجہ میر درد اور میر حسن جیسے قد آور شعرا طلوع ہوئے جنھوں نے فارسی کے پر تصنع الفاظ کے بجائے ہندی کے سادہ و شگفتہ اسلوب کو اپنایا وہاں نظیر اکبرآبادی جیسے آزاد منش اور عوامی شاعر نے بھی جنم لیا۔ جس نے گل نسریں و نسترن اور بلبل و طائوس کی جگہ چمپا چمیلی اور کوئل کاگا کو اپنی شاعری کا بنیادی اثاثہ قرار دیا۔ پھر کیا وجوہات تھے کہ ادب کی پرکھ کے سلسلے میں کوئی نیا مکتبۂ فکر وجود پذیر ہونے کے بجائے پرانے انداز نقد کو ہی جھاڑ پونچھ کر چمکایا جاتا رہا اور قدما کی پیروی کو ہی حرز جاں بنا لیا گیا اور فارسی معیار نقد کو ہی حرفِ آخر تسلیم کر لیا گیا۔
وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اگر چہ پٹھان فرماں رواؤں کے قیام ہند کے بعد بھی وقفے وقفے سے حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں اور خلجی ، تغلق نیز تیموریہ خاندان کے بادشاہ یکے بعد دیگرے تخت نشیں ہوتے رہے۔مزید احمد شاہ اور نادر شاہ کے حملے، مرہٹے، سکھ اور روہیلوں کی یلغار وشورش یہاں کے باسیوں کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد جگانے اور یوں خواب خرگوش سے بیدارکرنے اورحقیقت کی دنیا میں لانے کا فریضہ انجام دیتی رہیں لیکن وہ جو مستقل بیداری کا عالم کہا جاتا ہے اورایک بے پناہ جذبۂ تحرک کے زیر اثر اپنے عہد کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا جوش و ولولہ دلوں میں کروٹیں لیتا محسوس ہوتا ہے، ہندوستانی اقوام کے اندر سے ناپید رہا۔ بلکہ دہلی کا قتل عام ، جنگ پلاسی کی شکست،روہیلہ سردار کے ہاتھوں شاہ عالم ثانی کی ہتک اور انتشار و سراسیمگی کی ایک مستقل کیفیت نے آگے بڑھ کر زمانے سے ٹکرانے اور سارے عالم پر چھا جانے کا جذبہ بیدار کرنے کے بجائے ہندوستانی عوام کوایک مستقل خوف ، فنا ، بے ثباتی اور بیراگ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا اور وہ آنکھیں کھول کر ماحول کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کے بجائے اس کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو گئے ۔ مزید جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ بھی نہیں تھا انھوں نے دہلی سے فرار اختیا رکر کے لکھنو میں اپنی چھوٹی سی جنت آبا دکر لی اور شب و روز کے تماشے میں خود کو گم کر لیا1نتیجہ مسلمانوں کی آمد ہند سے جو ایک تہذیبی نشاۃ الثانیہ وجود پذیر ہوا تھا او ر جس کی رمق نے جملہ علوم و فنون کے ساتھ زبان و ادب کے شریانوں میں بھی تازہ لہو بھر دیا تھا، اپنے تمام عروج و زوال کے باوجود بہادر شاہ ظفر کی معزولی تک ایک ہی روش پر گامزن رہا ، لہٰذا وہ فارسی زبان اور انداز نقد جو مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان آئے ان میں بھی کوئی انوکھا نکتہ یا الگ انداز نظر ظہور پذیر ہونے کے بجائے وہی اصول کار فرما رہے جو روز اول سے نافذ تھے ۔ یوں اردو زبان، جو نہ صرف فارسی کے زیر اثر پروان چڑھی بلکہ اس کے لفظیات کو بھی اس نے اپنے مزاج میں جذب کیا- اس حکمراں زبان کے آگے اس طور سر تسلیم خم ہوگئی کہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنا تو دور اس کے رو برو بیٹھنا بھی اس کے لیے عذاب جان ہو گیا۔نتیجہ اپنی تمام تر سادگی، حسن و دل آویزی کے باوجود اٹھارہویں صدی عیسوی تک اردو زبان و ادب اپنے لیے کوئی الگ تنقیدی پیمانہ وضع نہ کر سکی۔ بقول جمیل جالبی:
’’ لفظوں اور محاوروں کے استعمال میں احتیاط اور اظہار کو بہتر و موثر بنانے کی کوشش یہی اس دور کے تنقیدی معیار تھے۔کوئی شعر پسند آیا تو اس پر واہ کہہ دیا اور تعریف کر دی، اور اگر اس میں کوئی لفظی سقم یا محاورہ و زبان کا غلط استعمال نظر آیا اس پر اعتراض کر دیا۔ تنقید میں رجحانات، میلانات ، خیالات اور مزاج شاعری کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی یہ روایتی معاشرہ تھا اور فرد کے ذہن میں اچھے اور برے کے معیار پورے طور پر واضح نہ تھے۔’نکات الشعرا‘ میں نقد و نظر کی یہی نوعیت ہے۔‘‘2
انیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک پہنچتے پہنچتے ماحول یہ ہو گیا کہ ایک عرصے سے دریا کی ہموار سطح پر جو یکے بعد دیگرے لہروں کا سلسلہ جاری تھا اس نے1857 کی جنگ آزادی کے زیر اثر ایک عظیم طوفان کا روپ دھار لیا اور پورا بر صغیر ایک ایسے جہاز کی طرح ڈولنے لگا جس کا لنگر ٹوٹ چکا ہو، باد بان تار تا رہو گئے ہوں اور انگریزی تہذیب و ثقافت کی یلغار میں مستقل ڈولتے رہنا اس کا نوشتۂ تقدیر بن گیا ہو۔
اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کی مرکزیت تو اسی روز سے کرچ کرچ ہوکر مختلف سمتوں میں بکھرنا شروع ہو گئی تھی جب 1707 میں اورنگ زیب عالمگیر نے داعی اجل کو لبیک کہا اور اس کے بانکے سپاہی ، وفادار سپہ سالار و دانا مشیروں نے اپنی الگ الگ خود مختار ریاستیں وضع کرنا شروع کر دی تھیں ۔ اس کے باوجود اہل وطن کا یہ بھرم قائم تھا کہ ان کے دیس کے راجے رجواڑے، نوابین اور مغل بادشاہ ہزار نااہل سہی اور ان کے ملک کی تہذیب و ثقافت لاکھ پیش پا افتادہ و منفعل قرار دی جا رہی ہے لیکن یہ کیا کم غنیمت ہے کہ ان کا وطن عزیزکسی غیر کے بجائے اپنے ہی جیالے سپوتوں کی بانہوں کے حصار میں ہے۔ مگر 1857 کی قتل و غارت گری میں بھارت باسیوں کی شکست فاش اور غیر ملکی قوم انگریزوں کی فتح و کامرانی نے یہاں کے عوام و خواص دونوں کو ایک شدید قسم کے نفسیاتی و فکری بحران اور احساس کمتری میں اس طو رمبتلا کر دیا کہ خود ان کا وجود ان کے قدموں میں سمٹ کر صفر رہ گیا۔
اس صورت حال نے دو واضح شکلوں میںاپنا اظہار کیا، ان میں ایک کے نمائندے تربھون ناتھ ہجر، احمدعلی شوق ، عبد الغفور شہباز، اکبر الہ آبادی اور’’ اودھ پنچ‘‘ میں لکھنے والے دوسرے متعدد ایسے لوگ تھے جنہوں نے مغربی تہذیب و ثقافت کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر نہ صرف یہ کہ طنز و مزاح کے ذریعہ بند باندھنے کی کاوش کی بلکہ بعض اوقات نل کے پانی ، ریل کے ڈبے اور اسکول کی تعلیم کو بھی ہدف طنز و تمسخر بنایا۔3 مگر دوسری طرف سر سید احمد خاں، محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی اوران کے رفقاء کار تھے جنہوں نے انتہائی خنک مزاجی و نرم روی سے حالات کی کنہ میں اتر کر جہاں حاکم قوم کی فتح و کامرانی کا راز دریافت کیا وہاں یہ جاننے کی بھی کاوش کی کہ اہل وطن کی شکست و ریخت اور حرماں نصیبی کا اصل سبب کیا ہے۔چنانچہ ان پر یہ بڑا ہی دکھ آمیز انکشاف ہوا کہ اگرچہ ہندوستان کے باسیوں کی ہزیمت ، پسپائی و دل شکستگی کی ایک حد تک انگریز قوم تو ذمہ دار ہے ہی مگر اس کے پس پشت ہندوستانی قوم کی کاہلی ، بز دلی و مجہول انانیت نے بھی کچھ کم کردار نہیں نبھایا ہے۔ لہذا اس انکشاف نے جہاں زندگی کے جملہ شعبوں پر اپنے اثرات مرتسم کئے وہاں ادب بالخصوص شاعری کے موضوعات و اسالیب میں تبدیلی کے لیے بھی شعوری کاوشیں کی جانے لگیں۔ یہاں تک کہ باضابطہ ایک ادارہ ’’ انجمن پنجاب ‘‘ لاہور (1874) کا قیام عمل میں آیا، جس کے تحت مولانا الطاف حسین حالی، محمد حسین آزاد، اسمعیل میرٹھی اور دوسرے لوگوں نے نہ صرف یہ کہ فطری ،مناظری واصلاحی نظمیں لکھنے کا باضابطہ آغاز کیا بلکہ غزل کے لیے مصرع طرح دینے کے بجائے نظموں کے عنوانات تفویض کیے۔ یوں ارد ونظم نگاری کی اس روش کو مستحکم کیا جس کا فروغ آج بھی جاری ہے۔
ان میں حالی کی عطا یہ ہے کہ انھوں نے نیچرل شاعری کی بنیاد استوار کرنے کی کاوش تو کی ہی ساتھ ہی اسے پرکھنے کے لیے ایک مربوط و منضبط مقدمہ لکھ کر ارد و ادب میں باضابطہ تنقید نگاری کی ابتدا بھی کردی۔مگر اس سے قبل آزاد کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ جہاں حالی نے ادب کو سماجی و اخلاقی فلاح و بہبود کا ذریعہ تصور کیا وہاں آزاد نے اس کے تہذیبی و ثقافتی عناصر کو قدر اول تسلیم کرتے ہوئے زمین سے اس کی شدید وابستگی کا اقرار کیا۔یوں خود کو بیسویں صدی کی اس رو سے ہم آہنگ کر لیا جس کا آج بطور خاص اعتراف کیا جا رہاہے۔
در اصل آزاد کا دامن دل تو روز اول سے ہی اپنے دیس کی سوندھی سوندھی باس، یہاں کے پھل پھول ، چرندپرند اور دوسرے جملہ مظاہر کی محبت میں اس طور گرفتار تھا کہ وہ ہزار دکھوں کے باوجود بھی جیتے چلے گئے ۔ اور جب ان کے والد محمد باقر کو تختہ دار پر چڑھائے جانے کے بعد دہلی کی گلیاں ان پر تنگ و تاریک ہو گئیں تو انھوں نے لاہور کا رخ کیا، جہاں سے ان کی زندگی ایک نئی روش پر گامزن ہوئی اور وہی انگریز حکام جن کے خوف سے وہ ایک طویل عرصے تک بے نیل و مرام در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے ، ان کی سر پرستی و کشادہ دلی کا یہ عالم ہوا کہ کرنل ہالرائڈ نے باضابطہ انھیں اپنا رفیق کار بنا لیا۔ اس طرح ان کے اندر کا وہ آزاد جو امتداد زمانہ کے ہاتھوں گھائل اورمجروح ہو گیا تھا پھر سے برگ و بار لانے لگا۔ اور انھوں نے اپنے دیس کے موسموں ، پہاڑوں ، ندیوں ، پرندوں ، پھلوں اور پھولوں کو یہ کہہ کر بے اختیار گلے لگا لیا کہ:
’’ خاص و عام پپیہے اور کوئل کی آواز اور چمپا چنبیلی کی خوشبو کو بھول گئے ہیں ۔ ‘‘4
گویا آزاد نے ادب کو اس کے سیاسی و سماجی حوالے سے منقطع کئے بغیر اس کا رشتہ ارضی و ثقافتی عناصر سے استوار کر دیا اور اردو کا شجرہ حسب و نسب غیر زبانوں سے ملانے کے بجائے دیسی بھاشا برج سے جوڑا۔5یوں غیرملکی زبان و ادب کو اہمیت تفویض کرنے کے بجائے اپنے ملک کی اشیا سے پیار کرنے کی روش کو مستحکم کیا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بدیسی تہذیب و ثقافت کے سرے سے مخالف تھے اور اس کی اعلیٰ باتوں کو بھی مسترد کرنے کے در پے تھے بلکہ زیادہ تراس انداز کے نکتہ چیں تھے جس میں پیش پا افتادہ باتیں بار بار ایک ہی انداز سے دہرائی جا رہی تھیں ۔ کہتے ہیں:
’’ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے پہلے انداز پرانے اور مستعمل ہو گئے تو ہمیں چاہئے کہ انگریزی باغ میں سے نئے پودے لے کر اپنا گلزار سجائیں ۔‘‘6
دوسری جگہ اس کی تائید اس طرح کرتے ہیں :
’’ تمہارے بزرگ اور تم ہمیشہ سے نئے انداز کے موجد رہے ہو مگر انداز کے خلعت و زیورجو آج کے مناسب حال ہیں وہ انگریزی صندو قوں میں بند ہیں کہ ہمارے پہلو میں دھرے ہیں اور ہمیں خبر نہیں۔ہاں صندوقوں کی کنجی ہمارے ہم وطن انگریزی دانوں کے پاس ہے۔‘‘7
آزاد کی حیثیت انگریزی ادب کے محض ایک خوشہ چیں کی نہیں بلکہ اس سے استفادہ کر کے انھوںنے اردوادب کے دامن کو وسیع کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ’’ نیرنگ خیال ‘‘ کے مضامین اس کی بہترین مثال ہیں ۔ مزید’’آب حیات‘‘ (1880) میں شگفتگی اسلوب و رنگین عبارت کا ایسا جوہر دکھایا کہ آج بھی یہ تذکرہ اپنے پڑھنے والوں کے دلوں کومسرور اور نگاہوں کو خیرہ کر دیتا ہے نیز اس میں بیان کردہ مختلف شعرا کے احوال ، مشاعروں کی روداد اور ان کے عہد کے سرد و گرم اس طور قاری پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ کچھ دیر کے لیے وہ آزاد کی انگلی تھامے اسی عہد اور اسی ماحول میں سانس لینے لگتا ہے جہاں وہ اسے لے جانا چاہتے ہیں ۔ یہ اقتباس دیکھئے :
’’ دیکھو جلسہ مشاعرہ کا امراء و شرفاء سے آراستہ ہے۔ معقول معقول بڈھے اور جوان برابر لمبے لمبے جامے ، موٹی موٹی پگڑیاں باندھے ہیں ، کوئی کٹاری باندھے ہے، کوئی سیف لگائے ہے۔ بعض وہ کہن سال ہیں کہ جن کے بڑھاپے کو سفید داڑھی نے نورانی کیا ہے ۔بعض ایسے ہیں کہ عالم جوانی میں اتفاقاً داڑھی کو رخصت کیا تھا اب کیوں کر رکھیں کہ وضع داری کا قانون ٹوٹتا ہے ۔ اس پر خوش مزاجی کا یہ عالم ہے کہ ان کے بڑھاپے کی زندہ دلی سے آج نوجوانوں کی جوانی پانی پانی ہوتی ہے۔ ان شوخیوں سے انہیں کچھ مطلب نہیں ہے مگر یہ کہ اپنے اوپر آپ ہنسیں اور اوروں کو خوش کریں ۔‘‘8
علاوہ ازیں اس تذکرے میں انشااللہ خاں انشا کی حرماں نصیب و درد ناک زندگی کا پرسوز نقشہ کھینچ کر آزاد نے یہ باور کرنے کی کوشش کی ہے کہ شعرا کی انفرادی کاوشیں اجتماعی اندازفکر سے اس شدت کے ساتھ متاثر ہوتی ہیں کہ انشا کی بے پناہ صلاحیت شعر و سخن کو سعادت علی خاں کی صحبت نے زنگ آلود کر دیا۔ اس سے ادب اور سماج کے ربط باہم کے متعلق آزاد کے تنقیدی شعور کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔گویا ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ارد و کے پہلے ناقد کی حیثیت سے اگر آزاد کا نام لیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ لیکن حالی کی اولیت اس بات میں ہے کہ انھوں نے پہلی بار نہ صرف یہ کہ اردو میں نظری تنقید کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا بلکہ عملی تنقید کے تحت غزل ، قصیدہ اور مثنوی کا تنقیدی جائزہ لینے کی بھی کوشش کی اور اعلیٰ شاعری کے لیے تین باتوں کو ضروری قرار دیا تخیل ، مطالعہ کائنات اور تفحص الفاظ-تخیل کے باب میں ان کاموقف ہے کہ یہ ملکہ شاعرماں کے پیٹ سے لے کرپیداہوتاہے اوراسے محنت سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ مگراس صفت کوانھوں نے آزادرکھنے کے بجائے قوت ممیزہ کے ذریعہ قابومیں رکھنے کادرس دیاہے جس سے ان کی یہ سوچ سطح پرابھری ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ کہیں تخیل بے لگام ہوکردماغ کے بجائے دل کی باتیں نہ بیان کرناشروع کردے اوران کے قبلہ وکعبہ یعنی سرسیدجن کے ہاتھوں پرانھوں نے تمام عمرکے لیے بیعت کی تھی،ان کااصلاحی وقومی مشن دھراکادھرانہ رہ جائے۔۔۔ مطا لعۂ کائنات کے بارے میں کہتے ہیں:
’’شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ نسخۂ کائنات اوراس میں سے خاص کر نسخۂ فطرت انسانی کامطالعہ نہایت غورسے کیاجائے۔انسان کی مختلف حالتیں جو زندگی میں اس کوپیش آتی ہیں ان کو تعمق کی نگاہ سے دیکھنا،جوامورمشاہدہ میں آئیں ان کی ترتیب دینے کی عادت ڈالنی،کائنات میں گہری نظرسے وہ خواص اورکیفیات مشاہدہ کرنے جو عام آنکھوں سے مخفی ہوں اورفکرمیں مشق ومہارت سے یہ طاقت پیداکرنی کہ وہ مختلف چیزوں سے متحداورمتحدچیزوں سے مختلف خاصیتیں فوراًاخذکرسکے اوراس کواپنی یادکے خزانہ میں محفوظ رکھے۔‘‘9
مزیدتفحص الفاظ کے بارے میں ان کاخیال یہ ہے کہ:
’’شعرکی ترتیب کے وقت اول متناسب الفاظ کا انتخاب کرنا اور پھر ان کو ایسے طور پر تر تیب دینا کہ شعر سے معنی مقصود کے سمجھنے میں مخاطب کو کچھ تردد باقی نہ رہے۔‘‘10
دوسری شرط کے تحت حالی نے سادگی ، اصلیت اور جوش کی حمایت کی ہے مگر اعلیٰ شاعری کے لیے ان کی اس شرط پر بھی اعتراض کی کافی گنجائش ہے اور اہل ادب نے اس کی گرفت کی ہے جو ایک حد تک درست بھی ہے۔مثلاً ان کے پہلے لفظ ’’سادگی‘‘ ہی کو لیجئے کہ اگر تمام تخلیق کار کی شاعری اپنے پیچ در پیچ علامتی و استعاراتی نظام سے دست کش ہوکر محض سادگی و اصلیت کے حصار میں قید ہوجائے اور متناسب الفاظ کو اس طو ر ترتیب دیا جائے کہ مخاطب کو شعر کے معنی مقصود کے سمجھنے میں کچھ تردد باقی نہ رہے تو پھر فن پارے میں انفرادیت کیا رہ جائے گی۔ نیز ابہام تو شاعری کے لیے حرز جاں ہے، جو اسے عمومیت کے باوجود ماورائیت عطا کرتی ہے۔ اگر اس کے گرد یہ پر اسرار ہالہ فقط ایک سیدھے سادے بیانیہ میں تبدیل ہو جائے تو پھر خود تخلیق کار ، قاری و ناقد کے لیے اس میں کشش کیا رہ جائے گی۔
مگر حالی کے اس تنقیدی موقف پر سخت روش اختیار کرنے کے بجائے اس عہد کے سماج و معاشرے کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جس کے تحت حالی نے ملٹن کے وضع کردہ پیمانے کو ارد وشاعری پر نافذ کرنے کی کاوش کی۔
در اصل جہاں پوری سوسائٹی ہی جذبۂ تحرک و داخلی تموج سے دست کش ہو کر میلوں ٹھیلوں ، تیتر بٹیر ، پتنگ بازی اور کبوتر بازی جیسے سستے مشاغل میں مصروف ہو اور اپنے دور کی شورش و بے کلی اور قتل و غارت گری کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے بجائے اس کی جانب پشت کئے کھڑی ہو ،وہاں شاعری کیسے سنجیدہ ، سبک سارو لطیف رہ سکتی تھی۔ لہذا اردو شاعری بھی اپنے پر وقار انداز و سنجیدہ روش سے منحرف ہو کر تصنع و تکلف کے بھاری لبادے زیب تن کئے سرائے و بالا خانے کی زینت بنی ناز و غمزہ اور عشوہ و ادا کے جلوے میں منہمک دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ جب حالی نے اصلاح قوم کا بیڑا اٹھایا تو شاعری سے مصنوعی خیالات و ارضی میلانات کو خارج کرنے اور اس کی جگہ سادگی، اصلیت اور دلسوزی کی حمایت کرنے کو اولین ترجیح دی۔
اعلیٰ شاعری کے لیے جب حالی اپنی تیسری شرط جوش کے قریب پہنچتے ہیں تو ان کا دل ناداں اپنے اصلاحی و قومی مشن سے دست کش ہو کر یہ کہنے کے لیے بے اختیار مچل اٹھتا ہے کہ:
’’ جوش سے مراد یہ ہے کہ مضمون ایسے بے ساختہ الفاظ اور موثر پیرایہ میں بیان کیا جائے جس سے معلوم ہو کہ شاعر نے اپنے ارادہ سے یہ مضمون نہیں باندھا بلکہ خود مضمون نے شاعر کو مجبو رکر کے اپنے تئیں اس سے بندھوایا۔ ‘‘11
یعنی شاعری کے لیے پہلے سے کسی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ، کیونکہ کوئی بھی تخلیق کار یہ کیسے بتا سکتا ہے کہ اس کے اندر جو کہرام برپاہے اس کی باہری صورت کیا ہوگی-اور یہیں قاری کی ملاقات اصل حالی سے ہوتی ہے کہ ہزار یہ کہنے کے باوجود کہ شاعری میں سادگی کا عنصر لازمی ہے، اصلیت انتہائی ضروری جزو ہے، بے ساختہ ان کے دل سے یہ آواز نکل جاتی ہے کہ شاعری ارادے سے نہیں کی جاتی بلکہ یہ تو وہ خود رو پودا ہے جو شاعر کے سبزہ ٔدل سے خود بہ خود اگتا چلا جاتا ہے۔
در اصل حالی اپنی شرافت و سنجیدگی کے ہاتھوں تمام عمر اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر دوسروں کو مسرت بہم پہنچاتے رہے اس میں کچھ تو خود ان کی فطرت کا عمل دخل تھا اور کچھ وہ ماحول بھی تھا جس میں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی – یعنی حالیؔ صرف نو سال کے ہی تھے کہ والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور ان کی پرورش کی تمام ذمہ داری بڑے بھائی کے سر پر آ گئی۔ اس لیے ایک نوع کے احساس محرومی نے انھیں سدا اپنے کلاوے میں گرفتاررکھا۔ نیز جسمانی ساخت کے لحاظ سے نحیف و نزار ہونے کی وجہ سے بھی ساری زندگی ان کے اندر ایک فطری جھجک قائم رہی اور آگے بڑھ کر زمانے کو فتح کر لینے کا رجحان ابتدائی جوانی میں بھی مفقود رہا۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ سترہ سال کی عمر میں جب انہیں اپنی مرضی کے خلاف بڑوں کی خوشنودی کی خاطر شادی کی طلائی زنجیر میں مقید ہونا پڑا تو کچھ عرصے تک تو انھوں نے اس بندھن کو بہ حسن و خوبی نبھانے کی کوشش کی لیکن جب یہ قید با مشقت نا قابل برداشت ہو گئی تو کھلے بندوں احتجاج و اعتراض کرنے کے بجائے انھوں نے راہ فرار اختیار کر لی اور ایک پر سکون و مطمئن زندگی سے دست کش ہو کر اپنی دیرینہ خواہش تحصیل علم کے لیے دہلی کی گلی گلی ، کوچے کوچے کی خاک چھانتے رہے مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ حیرت اس وقت ہوتی کہ جب ان کے گھر والوں کو اس کی خبرہوئی اورانھوں نے دوبارہ ان سے ان کی گمشدہ جنت میں واپسی کی درخواست کی تو وہ بلا چوں و چرا ان کی التجا پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے بیوی بچوں کی جانب لوٹ آئے-گویا ان کی زندگی کے نجی واقعات سے بھی یہ شواہد ملتے ہیں کہ حالی اپنی صدائے احتجاج کو دوسروں کی خوشنودی و ترقی کے لیے سدا اپنے دل میں دفن کرتے رہے ،یہاں تک کہ بعض اوقات نوکروں تک کی بد مزاجی کو وہ راضی بہ رضا برداشت کر لیتے تھے۔ وحیدقریشی نے شیخ محمد اسمعیل پانی پتی کا قول اس طرح نقل کیا ہے:
’’ عطا اللہ بڑا کھرا آدمی تھا۔ وہ اکثر مولانا پر ناراض ہونے لگتا مگر مولانا کبھی جواب نہ دیتے، اور خاموش ہو جاتے۔ میں نے مولوی خواجہ غلام الحسنین صاحب مرحوم سے پوچھا کہ آپ کو یاد ہے مولانا کبھی اپنے ملازم پر ناراض بھی ہوئے یا نہیں ؟ فرمانے لگے ہاں ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ مولانا نے عطا اللہ سے کسی چیز کے متعلق دریافت کیا، اس نے جھلا کر جواب دیا کہ یہ کیا رکھی ہے؟ مولانا میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمانے لگے میاں غلام الحسنین دیکھا تم نے عطا اللہ مجھے اندھا بنا رہا ہے کہ چیز سامنے رکھی ہے اور نہیں دکھائی دیتی۔یہ حال ہمارے نوکروں کا ہے، مگر عطا اللہ کو کچھ جواب نہ دیا اور چپکے ہو گئے۔ ‘‘ 12
حالی کے اس فطری میلان نے ادب کو بھی آلۂ کار بنایا اور ان کی ملاقات جب سر سید ایسی مضبوط دل و دماغ اور توانا و متحرک شخصیت سے ہوئی تو ان کی پوری زندگی ہی ان کے قومی و اصلاحی مشن کے آگے دست بستہ خمیدہ سر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ مگر ان تمام اختلافات و اعترافات کے باوجود اس بات سے انکا رناممکن ہے کہ حالی نے ہی پہلی دفعہ باضابطہ طو رپر اردو شاعری کے محاسن و معائب کی پرکھ کے لیے پیمانے وضع کیے جس کے تحت باضابطہ ایک تنقیدی رو وجود میں آتی چلی گئی، جسے بعد ازاں شبلی نعمانی نے مزید قوت و تحریک عطا کی۔
در اصل شبلی کی اہمیت اس بات میں ہے کہ جہاں حالی نے تخیل کو قوت ممیزہ کے زیر اثر کر کے اسے آزاد فضا میں پرواز کی اجازت دینے کے بجائے پا بہ زنجیر کر دیا تھا وہاں شبلی نے اس کے دائرہ کار کو دو حصوں میں تقسیم کر کے، جس میں اول شاعر جب کسی چیز کا مشاہدہ کرتا ہے یعنی ’’ محاکات‘‘ دوم جب وہ اس محاکات میں اپنے تخیل کی رنگ آمیزی سے اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے ’’ وسعت آشنا‘‘ کیا۔مزید انہوں نے مصوری اور شاعری میں فرق ظاہر کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ جہاں کوئی مصور کسی شے کی عکاسی کرتے ہوئے اس کے ایک ایک رگ و ریشے کی تصویر کھینچتا ہے، وہاں شاعر صرف انھیں کیفیات و تاثرات کی نقاشی کرتا ہے جو انسانی جذبات و احساسات کو برانگیخت کرتے ہیں بقیہ جزئیات کو یا تو وہ دھندلا کر کے پیش کرتا ہے یا پھر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔اس لیے شاعری کا مرتبہ مصوری سے بلند ترین ہے۔
در اصل حالی کے بر خلاف شبلی ادب کو قومی و اصلاحی مشن کے لیے وقف کرنے کے بجائے اسکی مقصودبالذات حیثیت کے داعی ہیں اور شاعری کو عقلی رویے کے تابع کرنے کے بجائے وجدانی انداز نظر کے موید ہیں۔ کہتے ہیں:
’’ شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے اس لیے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جا سکتی۔‘‘13
اس کا مطلب یہ نہیں کہ شبلی اپنے عہد کے تقاضے سے صرف نظر کر کے محض دل کے فرمائے ہوئے کو ہی مستند قرار دے رہے ہیں بلکہ صرف اتنا کہ یہ شاعرکوبندھے ٹکے اصولوں کاتابع مہمل کرنے کے بجائے اسے آزاد فضامیں پروازکی پوری اجازت دیتے ہیں۔ و جہ یہ کہ ان کے نزدیک ہرجگہ سادگی واصلیت کی وکالت کرناایک غیرمستحسن روش ہے کیوں کہ ایک جگہ ایک لفظ اگر فصیح ہوتا ہے تو دوسری جگہ وہی لفظ غیر فصیح کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ پھر پوری شاعری کے لیے ایک ہی نوع کا پیمانہ وضع کرنا کہاں تک درست ہے، لکھتے ہیں:
’’ شاعرکے لیے نہایت ضروری ہے کہ فصیح اور مانوس الفاظ کا تفحص کرے اور کوشش کرے کہ کوئی لفظ فصاحت کے خلاف نہ آنے پائے۔ فصاحت کی تعریف اگرچہ اہل فن نے منطقی طور پر جنس و فصل کے ذریعہ سے کی ہے یعنی حرفوں میں تنافر نہ ہو ، لفظ نادر الاستعمال نہ ہو، قیاس لغوی کے مخالف نہ ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ فصاحت کا معیار صرف ذوق اور وجدان صحیح ہے۔ ممکن ہے کہ ایک لفظ میں تنافر حروف ، ندرت استعمال ، مخالفت قیاس کچھ نہ ہو باوجود اس کے وہ فصیح نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک لفظ بالکل نادر الاستعمال ہو اور پھر فصیح ہو۔ ‘‘14
یوں شبلی نے شاعری کواصول و نظریات کے سلاسل میں مقید کرنے کے بجائے اس کے جمالیاتی رویے اور وجدانی انداز نظر کو اولین مقام عطا کر کے اردو تنقید کو ایک ایسی کشادہ فضا و فراخی نظر عطا کی کہ آگے چل کر اس روش نے امداد امام اثر، مہدی افادی اور وحید الدین سلیم کی تنقید نگاری میںا پنا اظہار کیا۔ لیکن اس ضمن میں اقبال کی عطا یہ ہے کہ انھوں نے فن پارے کی پرکھ کے لیے نہ ہی محض عقل کی وکالت کی اور نہ صرف وجدان کو حرز جاں بنایا بلکہ ان دونوں کے انضمام کو اہمیت تفویض کرتے ہوئے ایک ایسے انداز نظر کی حمایت کی جس میں خودی بھی تھی اور بے خودی بھی۔ گویا اقبال نے اپنے عہد کی کسی ایک روش کو حرف آخر تسلیم کرنے کے بجائے حالی اور شبلی دونوں کے موقف کی تائید کی یوں اردو تنقید کو انتہا پسندانہ فضا سے باہر نکال کر ایک ایسے متوازن طرز فکر سے آشنا کیا جو اردو ادب کے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ۔15بعد ازاں ترقی پسند تحریک جب اپنے عروج کو پہنچی تو اقبال کا یہ موقف پس منظر میں چلا گیا اور اس کی جگہ ادب میں طبقاتی آویزش اور سماجی مسائل کو اہمیت ملنے لگی۔
ایسا ہونا تو فطری تھا۔زمانے کا چلن ہی یہی تھایعنی پہلی اوردوسری جنگ عظیم کے باعث جہاں پوری دنیا ایک شدید قسم کے انفرادی و اجتماعی بحران میں مبتلا تھی وہاں روس میں اشتراکی حکومت کے قیام نے پوری دنیا کی سیاست و ادب کو گویا جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ نتیجہ بر صغیر ہند و پاک جس کی حالت روز بروز دگر گوں اور خستہ ہوتی جا رہی تھی، اس اشتراکی انقلا ب کا اثر اس پر اتنا شدید ہوا کہ سجاد ظہیر ، ملک راج آنند اور محمد دین تاثیر نے لندن میں ہی 1935 میں ترقی پسند ادیبوں کی باضابطہ ایک انجمن قائم کر لی۔ جہاں ایک طرف سرمایہ داروںا ور زمینداروں کے خلاف نفرت و بے اطمینانی ابلنے لگی وہاں دوسری طرف انگریزوں کے خلاف بغاوت اور غم و غصے کی لہر بھی دن بدن شدت اختیا رکرتی گئی ۔ چنانچہ ادب نے بھی ان تمام مسائل و تصادم کو اپنے اندر اس طور جذب کیا کہ غریبوں و مظلوموں کی حمایت اور سرمایہ داروں و جاگیر داروں کی مخالفت ہی اس کا اولین فریضہ بن گیا۔ جس کے علمبرداروں میں ملک راج آنند ، سجاد ظہیر ، اخترحسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین ، علی سردار جعفری، ممتاز حسین ، ظہیر کاشمیری، فیض احمد فیض ، عبادت بریلوی، وقار عظیم ، عارف عبدالمتین ، ڈاکٹر محمد حسن اورسعادت حسن منٹونیزعصمت چغتائی اور دوسرے متعدد لوگ شامل تھے۔
اسی کے ساتھ ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کے نام سے ایک اور تنقیدی رو وجود میں آئی۔ جس کے تحت میرا جی ، یوسف ظفر، مختار صدیقی ، مولانا صلاح الدین احمد، محمدحسن عسکری، ممتاز مفتی ، سلام مچھلی شہری ، قیوم نظر ، وزیر آغا اور متعدد حضرات کے نام آتے ہیں ۔ در اصل ان لوگوں کا موقف یہ تھا کہ ادب سب سے پہلے ادب ہے بعدازاں کچھ اور۔ اس لیے اس میں اول مقام جمالیاتی رویے کو ملنا چاہئے نہ کہ کسی نظریے ومسلک کو ، لہٰذا 1935 سے 1947 تک جہاں مارکسی تنقید کا زریں باب اپنے عروج پر رہا وہاں دوسری طرف’’ حلقہ ارباب ذوق‘‘ کی انجمن بھی اپنے آپ میں پوری طرح متحرک و فعال رہی۔ یہاں تک کہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ قتل و غارت گری کے مناظر نے کچھ دیر کے لیے تمام مسائل نظروں سے اوجھل کر دئے اور انسانی وجود ایک ایسے بے حس و حرکت بت میں تبدیل ہو گیا جو یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر یہ سب کچھ ہو کیا رہا ہے۔پھر جب اسے تھوڑا ہوش آیا تو ایک ایسا سانحہ وقوع پذیر ہو چکا تھا کہ اسے یہ ایقان ہو گیا کہ اس کی مجتمع شخصیت اب اس طور دو نیم ہو چکی ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنی ذات کی اکائی پھر سے بحال نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کی شخصیت تودو خانوں میں اس طرح بٹ چکی ہے کہ ایک سرحد کے اس پار سسک رہی ہے تو دوسری دیوار کے اس پار نوحہ خواں ہے۔ نتیجہ ان دونوں کے ملن کی جب موہوم سی امید بھی دم توڑنے لگی تو بر صغیر کے باسیوں نے انھیں اپنے اندر ہی کہیں آباد کر لیا۔ لیکن جو کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکے ان کے یہاں قسم قسم کا نفسیاتی عارضہ وجود پذیر ہونے لگا۔ لہذا ادب کو پرکھنے کے لیے جہاں ایک طرف فرائڈین مکتبۂ فکر کو بروئے کار لانے کی روش مستحکم ہوئی وہاں دوسری طرف ینگین انداز نظر کے ذریعہ اپنی جڑوں کی تلاش کی روایت بھی توانا ہوئی۔ ان میں فرائڈین مکتبۂ فکر کے نمائندے میراجی ، حسن عسکری، ریاض احمد، شکیل الرحمن ، سلام سندیلوی، دیوندر اسر اور وحید قریشی ہیں ۔جب کہ ینگین طریقہ تنقید کو اپنانے والوں میں سجاد باقر رضوی ،انور سدید ، سلیم اختر ، سہیل احمد خاں ، وزیر آغا اور دوسرے متعدد نام آتے ہیں۔ مگر 1960 تک پہنچتے پہنچتے مغرب کی مختلف تھیوریز کو بھی اردو تنقید میں برتنے کا رواج عام ہونے لگا اور جدید اردو تنقید نے اول اول ’’ نئی تنقید‘‘ کو اپنایا جو جدیدیت کے نام سے موسوم ہوئی اور جسے فروغ دینے والوں میں شمس الرحمن فاروقی نیز محمود ایاز کا نام سر فہرست ہے۔
بعد ازاں تھیوری کے دیگر پہلوئوں کی طرف بھی توجہ کی جانے لگی اور ہیئتی تنقید کو مسعود حسین خاں نے بہ حسن و خوبی برتا جبکہ ساختیاتی و ساخت شکن تنقید کو بروئے کار لانے والوں میں گوپی چند نارنگ ، ڈاکٹر فہیم اعظمی ، شفیق احمد شفیق ، ناصر عباس نیر اور بعض دوسرے ناقدین کی کاوشیں بھی اہم ہیں ۔ مگر اب امتزاجی تنقیدی رویے کو برتنے کا میلان عام ہونے لگاہے، جن میں اہم نام وزیرآغا، حامدی کاشمیری ، ابوالکلام قاسمی، اسلوب احمد انصاری ، انور سدید ، تبسم کاشمیری ، غلام جیلانی اصغر ، سجاد نقوی، معین الرحمن اور دوسرے لکھنے والے بھی شامل ہیں ۔گویا اردو تنقید بھی اب مختلف حد بندیوں اور دیواروں کو عبور کر کے آہستہ آہستہ امتزاج کی طرف قدم بڑھا رہی ہے، جو یقینا ایک اہم بات ہے۔
مختصر یہ کہ اپنی ابتدا سے لے کر آج تک اردو تنقید نے مجموعی طور پر دو واضح صورتوں میں اپنا اظہار کیا ہے ایک محمدحسین آزاد سے قبل کی وہ قدیم تنقید جو عروض و بلاغت ، صنائع بدائع ، ترکیب و بندش اور تکلف و تصنع کوہی فن کا معراج تصور کرتی تھی اور شاعری کیا ہے ؟ سماج سے اس کے کیا روابط ہیں ؟ یہ انسان کے لیے کیوں اہمیت رکھتی ہے؟ ان تمام باتوں پر ذرا کم توجہ دیتی تھی۔ دوسری وہ جدید تنقید جس کی ابتدا آزاد سے ہوتی ہے جنہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے دیس کی تہذیب و ثقافت کو اہمیت دی بلکہ ادب اور سماج کے گہرے روابط کو بھی ڈرامائی و تمثیلی انداز میں اس طور پیش کیا کہ آج اردو تنقید کے باب میں ان کا نام سر فہرست ہے۔ جسے بعد ازاں الطاف حسین حالی نے زیادہ شرح وبسط کے ساتھ پیش کیا۔ در اصل حالی نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ لکھ کر نہ صرف یہ کہ باضابطہ طور پر اردو تنقید نگاری کی ابتدا کی بلکہ تخیل، مطالعہ کائنات اور تفحص الفاظ مزید سادگی ،اصلیت اور جوش کو اعلیٰ شاعری کے لیے ضروری قرار دے کر ایک ادبی تھیوری بھی وضع کرنے کی سعادت حاصل کی۔ جس سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے شبلی نعمانی نے نہ صرف یہ کہ تخیل کے معنی کووسعت عطا کی اور شاعری کا مرتبہ مصوری سے اعلیٰ قرار دیا بلکہ اسے اصلاحی و قومی مشن کے لیے وقف کرنے کے بجائے مقصود بالذات حیثیت تفویض کی جس پر آگے چل کرامداد امام اثر ، وحید الدین سلیم اور مہدی افادی نے اپنی تنقید کی بنیاد رکھی۔ مگر اقبال کی عطا یہ ہے کہ انھوں نے نہ صرف عقل کی حمایت کی اور نہ ہی محض وجدان کی بلکہ اعلیٰ فن پارے کے لیے ان دونوں کے امتزاج کو ضروری قرار دیتے ہوئے حالی وشبلی دونوں کے سر چشموں سے اپنی ذات کی آبیاری کی-مگر بعد ازاں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ادب کے سماجی و سیاسی رشتے پر زیادہ گفتگوہونے لگی اور اسے غریبوں و مظلوموں کی حمایت کے لیے ایک جارگن (jargon)کے روپ میں استعمال کیا جانے لگا- لیکن بیسویں صدی کے پانچویں دہے کی خوں آشام روز و شب نے اذہان کے ایک بڑے طبقے کو نفسیاتی و ذ ہنی عارضے میں اس طور مبتلا کر دیا کہ ادب کو فرائیڈ ین اورینگین اندازنظر سے پرکھنے کی روش مستحکم ہوئی-مگر بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں مغرب کی مختلف ادبی تھیوریز کے حوالے سے اردو تنقید نے بھی ’’نئی تنقید‘‘ کو اپنایا ،یوں جدیدیت کی باضابطہ ایک رو وجود میں آتی چلی گئی نیز رفتہ رفتہ ساختیات(Structuralism) اورپس ساختیات (Post-Structuralism)تنقیدی رویے کو بھی برتنے کا میلان عام ہونے لگا لیکن آج اردو تنقید مختلف حد بندیوں سے آزاد ہو کر امتزاجی رویے کو بروئے کارلاتے ہوئے ادب کی آبیاری میں مصروف ہے جو یقینا ایک مسرت آفریں عمل ہے۔
حواشی
1 ’’- دہلی میں اردوشاعری کاتہذیبی وفکری پس منظر‘‘(عہدمیرتک)،پروفیسرمحمدحسن
2 ’’- میر تقی میر‘‘ ، جمیل جالبی، ص 56-57
3 ’’- اردوشاعری کاسیاسی اورسماجی پس منظر‘‘،تالیف: ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار
4 ’’- نظم آزاد‘‘ محمد حسین آزاد ، ص 2
5 ’’- آب حیات‘‘،محمدحسین آزاد،ص10
6 – دیباچہ’’ نیرنگ خیال‘‘( حصہ اول) محمد حسین آزاد، ص 12
7 ’’ -نظم آزاد‘‘ ، محمد حسین آزاد ، ص 74
8 -ایضاً
9 ’’-مقدمۂ شعروشاعری‘‘،الطاف حسین حالی،ص 42
10 -ایضا، ص14
11 ’’-مقدمہ شعر و شاعری‘‘، الطاف حسین حالی، ص ، 45
12 ’’-مقدمہ شعر و شاعری‘‘ مرتب: ڈاکٹر وحید قریشی ، ص 37-38
13 -شعرالعجم، جلد چہارم
14 -ایضاً
15 ’ ’-تنقیداورجدیداردوتنقید‘‘،وزیرآغا
ڈاکٹر شاذیہ عمیر
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی،دہلی
موبائل:9650618651
drshaziaomair@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

