صنف ناول کی تدریس سے قبل طلبا کو اس صنف کی مبادیات سے روشناس کرانا ضروری ہے ۔ اس صنف کی مبادیات میں سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ لفظ’ناول‘ اطالوی زبان کے لفظ ’Novella‘سے اخذ کیا گیا ہے اور انگریزی زبان میں مخفف ’Novel‘ اردو میں اصل مفہوم کے ساتھ لے لیا گیا ہے۔اس کے بعد ناول کی لغوی اور اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جائے کہ ناول کے لغوی معنی نیا،انوکھااور نرالا وغیرہ کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں وہ نثری قصہ یا کہانی ہے جس کا مرکز و محور انسانی زندگی کے حالات و واقعات ، مشاہدات و تجربات ہیں۔جس میں معاملات زندگی کو انتہائی گہرائی اور مکمل مشاہدے کے بعد ایک خاص انداز میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ کہانی پیش کیا جاتا ہے۔جب مذکورہ لفظ کی اصلیت اور اس کی تعریف سے واقف ہو جائیں تو پھر اس صنف کے اجزائے ترکیبی میں قصہ ،پلاٹ ،کردارنگاری، منظر نگاری ، مکالمہ نگاری ،جزئیات نگاری ،نقطۂ نظر ،نقطۂ عروج و اختتام سے طلبا کو واقف کرانا ضروری ہے تاکہ ناول کی قرأت کے دوران طلبہ اس کے اجزائے ترکیبی کی روشنی میں اس کی تفہیم کر سکیں۔طلبا بنیادی نکات کی تفہیم کے بعد اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ صنف ناول کی تفہیم کر سکیں گے اور اس کی بنیادی خصوصیات سے بھی واقف ہو سکیں گے۔مذکورہ بنیادی نکات کی تفہیم کے بعد طلبا کو اس صنف کے آغاز و ارتقا سے متعلق اردو کے اولین ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ’مرأۃ العروس‘ سے عصری نمائندہ ناول نگاروں تک کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا جائے تاکہ طلبا اس صنف کی اہمیت اور اس کی افادیت کو سمجھ سکیں اور نمائندہ ناول نگاروں کے ناموں اور ان کے کارناموں سے واقف ہو سکیں۔لیکن یہ بنیادی باتیں تو اعلیٰ ثانوی سطح کے طلبا کے لیے ضروری ہیں لیکن جامعاتی سطح پر ہم یہ امید کرتے ہیں کہ طلبا جس صنف کو پڑھنے جا رہے ہیں اس کی مبادیات سے تھوڑا بہت واقف ہو ں گے۔اس لیے جا معاتی سطح پر طلبا کو اس صنف کی مبادیات سے آگے کی چیز یں پڑھائی جانی چاہیے۔البتہ یہ بات بھی ضروری ہے کہ دوران تدریس اس صنف کی مبادیات کے بارے میں طلبا سے سوالات کرتے رہنا چاہیے اسے یکسر نظر انداز کردیناکسی طور مناسب نہیں ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کی جامعات میں آنے والے تمام طلبا سے ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ جس صنف کو پڑھنے جا رہے ہیں اس کی مبادیات سے کما حقہ واقف ہوں گے۔اس لیے کسی بھی صنف کی تدریس کا پہلا قدم اس کی مبادیات کی تدریس ہے۔مثلاً جب ہم ناول کی تدریس کرنے جا رہے ہوں تو بحیثیت استاد ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم طلبا کو اس صنف کی مبادیات جس کا ذکر ماقبل میں ہو چکا ہے اس سے روشناس کرائیں۔ مبادیات کی تدریس کے بعد طلبا کو ناول کی اقسام بھی بتائی جائے کہ ناول کتنے طرح کے ہوتے ہیں مثلاً داستانوی ناول،جا سوسی ناول،سماجی ناول، سائنسی ناول، سیاسی ناول،مذہبی ناول،وجودیاتی ناول،معاشرتی و تہذیبی ناول،جنسی ناول، تاریخی ناول، عشقیہ و رومانی ناول ،اس کے علاوہ بچوں کے لیے لکھے گئے ناول وغیرہ۔ان اقسام کے مابین مماثلت و افترا ق کیا ہے اور کیوں ہے۔اس سے بھی طلبا کو روشناس کرایا جائے تاکہ متن کی قرأت کے دوران وہ مذکورہ اقسام کی نشاندہی کر سکیں اور یہ بتا سکیں کہ کوئی ناول خالص ادبی ہے تو کیوں ہے اور اگر کوئی تاریخی ، تہذیبی ،سیاسی یا سماجی ہے تو اس کی بنیادیں کیا ہیں۔
مذکورہ بالاناول کی صنفی مبادیات کی تدریس کے بعد اب اصل متن کی تدریس کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ نثری اصناف میں ناول کی تدریس شعری اصناف کی تدریس کے مقابلے زیادہ مشکل امر ہے۔وجہ یہ ہے کہ شعری اصناف کی تدریس اس کے مکمل متن کو سامنے رکھ کر تو کی جا سکتی ہے لیکن نثری اصناف خواہ وہ داستان ہو یا ناول ،سوانح ہو یا سفرنامہ اس کے مکمل متن کو ایک کلاس میں پڑھاپانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔مثال کے طور پر آپ قرۃ العین حیدر کا ناول ’آگ کا دریا‘ عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘ شوکت صدیقی کا’خدا کی بستی‘ یا اس قبیل کے دیگر ناولوں کو سامنے رکھ کر اس کے تدریسی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ جامعات میں شامل ناول کے مکمل نثری متون نہیں پڑھائے جا سکتے حالانکہ کسی بھی منظوم یا منثور صنف کی تدریس کے لیے اس کا متن اساس ہونا بے حد ضروری ہے۔لیکن ہماری جامعات کا عام رویہ یہ ہے کہ طلبا کو خود سے متن پڑھنے کی ترغیب تودی جاتی ہے مگر ہوتا کیا ہے کہ طلبا براہ راست متن پڑھنے کے بجائے اس نثری صنف یا متن سے متعلق ادھر ادھر سے چند تنقیدی و تجزیاتی مضامین جو نوٹ کی شکل میں کہیں دستیاب ہوتے ہیں انھیں کو پڑھ کر اپنا ایک تاثر قائم کر لینے پر اکتفا کر لیتے ہیں جو کسی بھی صورت میں بہتر رویہ نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے بحیثیت استاد ہمیں کسی بھی صورت میں متن کو کلاس روم میں لانا چاہیے اورکلاس روم میں ہر طالب علم کے ہاتھ میں وہ متن ہونا چاہیے جس کو ہم پڑھانے جا رہے ہیں۔یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ نثری اصناف میں بالخصوص ناول کا پورامتن کلاس روم میں نہیں پڑھایا جا سکتا۔اس سلسلے میںاساتذہ طویل سے طویل نثری فن پاروں کے ایسے منتخب اقتباسات ضرور کلاس میں پڑھا سکتے ہیں جن سے نہ صرف یہ کہ اس متن سے متعلق اس کے بنیادی موقف کی وضاحت ہو سکتی ہے بلکہ طلبہ اعلیٰ نثری نمونوں سے براہ راست آگاہ ہو نے کے ساتھ ساتھ لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں۔ناول کے اس طریقۂ تدریس سے طلبا کے اندر حسب ذیل اہلیت پیدا ہو گی ۔
۱۔طلبا صنف ناول کے مذکورہ بنیادی نکات کی تفہیم کے بعد اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ ناول کی بہتر تفہیم کر سکیں گے اور اس کی بنیادی خصوصیات سے واقف ہو سکیں گے۔
۲۔ناول کی قرأت کے بعد وہ ناول نگار کی طرز تحریر سے بخوبی واقف ہو سکیں گے اور اس میں پیش کردہ کرداروں کے محاسن و معائب کو بیان کرنے کی اہلیت پیدا کر سکیں گے۔
۳۔ناول کی قرأت کے بعد طلبا اس قابل ہو جائیں گے کہ ناول کے مرکزی خیال اور مرکزی کردار کی وضاحت کر سکیں۔ساتھ ہی مختلف کرداروں کے ذریعہ پیش کردہ صورتحال کی نشاندہی کر سکیں گے۔
۴۔ناول کی قرأت کے بعد طلبا اس کی تلخیص اپنے طور پر بہتر طریقے سے پیش کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔
۵۔ناول میں پیش کئے گئے موضوعات اور مسائل کی بہتر تفہیم کرسکیں گے اور اس کو اپنے الفاظ میں پیش کرنے کے مجاز ہو جائیں گے۔
۶۔ناول میں پیش کردہ تہذیبی و ثقافتی اور اقداری و اخلاقی پہلوئوں کی نشاندہی کر سکیں گے۔مثلاً ناول میں پیش کردہ قدیم عمارت،لباس، آرائش و زیبائش کے ساز و سامان،کھان پان، رہن سہن اور دیگر طرز زندگی سے واقف ہو کر عصری تہذیبی و ثقافتی رویوں سے تقابل کر کے اس کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہو سکیں گے۔
۷۔ناول کی قرأت کے دوران طلبا مصنف کے امتیازی و انفرادی اسلوب نگارش سے واقفیت حاصل کر سکیں گے۔
۸۔ناول کی قرأت کے دوران طلبا کے ذخیرۂ الفاظ میں جہا ںاضافہ ہوگا وہیں متواتر قرأت سے لفظوں کے برتنے کے سلیقے سے بھی آگاہ ہو جائیں گے۔
طلبا کے اندر مذکورہ اہلیت پیدا کرنے کے لیے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ خود بھی متن کی قرأت کریں اور دوران تدریس طلبا کو ناول کے منظر و پس منظر سے روشناس کرائیں اوراس بات کی مدلل وضاحت کریں کہ کسی بھی ناول کی انفرادیت کیوں ہے اوراس کی بنیادیں کیا ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ ایک ہی موضوع پر لکھے گئے مختلف ناولوں میں سب سے بہتر ناول کون سا ہے اور کیوں ہے اس کی بھی وضاحت کی جانی چاہیے۔ساتھ ہی طلبا کو ایک ہی موضوع سے متعلق ناولوں کی فہرست بھی دی جانی چاہیے تاکہ خالی اوقات میں وہ ان کا براہ راست مطالعہ کرکے خود بھی اس موضوع سے متعلق سب سے بہتر ناول کی نشاندہی کرسکیں۔ناول کی قرأت کے بعد طلبا کو چاہیے کہ اس پر اپنے ذاتی نقطۂ نظر سے بے لاگ تبصرہ کریں اور اپنا زاویہ نظر مدلل انداز میں پیش کریں ۔اس ضمن میں اساتذہ کو چاہیے کہ طلبا پر اپنا نقطۂ نظر تھوپنے کے بجائے ان کے نقطۂ نظر کو بغور سنیں اور اس کا مدلل جواب متن کی روشنی میں دیں۔ناول کی تدریس کے دوران اساتذہ کو چاہیے کہ ناول میں پیش کردہ فکر و فلسفہ،اصطلاحات،علامات،تمثیل وغیرہ کو استقرائی طریقۂ تدریس سے اس کے انسلاکات کی وضاحت کریں تاکہ طلبا ان سے واقف ہو سکیں ۔
ناول کی تدریس کے چند مزید نکات ملاحظہ کیجیے۔
۱۔کلاس روم ٹیچینگ میں تو حصول علم کا عمل جاری رہتا ہے لیکن یہ عمل اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک کہ استاد کے علاوہ طلبا اس عمل میں شریک نہ ہوں۔اس لئے کلاس روم میں لیکچر میتھڈ کے ساتھ طلبا کو سوال و جواب اور بحث و تمحیص کے ذریعہ اس میں شریک کیا جائے۔اس عمل کے لیے ضروری ہے کہ استاد ہر طالب علم کے عمل پر ذاتی توجہ دے اور اسے تدریس کے عمل میں شریک کرے ۔ساتھ ہی طالب علم کی دلچسپی کے لئے ایسا ماحول فراہم کیاجائے جو اس کے لئے دلچسپ،مناسب اور لائق توجہ ہو۔
۲۔کسی بھی صنف کی تدریس کے لئے تمام طلبا کے پیش نظر اس کا متن ہونا ضروری ہے۔متن کی قرأت کے بعد اس کی تشریح و توضیح کے لئے کبھی کبھی طالب علم کو بھی شریک کرنا ضروری ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ متن کو کس طرح سے سمجھ رہا ہے۔
۳۔کوئی بھی متن خواہ وہ نثری ہو یا منظوم اس کی خواندگی کا طریقہ کار کیا ہوگا استاد کو متن کی قرأت کرکے طلبہ کو بتانا چاہیے پھر متن کی قرأت طلبا سے بھی کرانی چاہیے تاکہ متن کی قرأت کے دوران طلبا سے ہونے والی تلفظ کی غلطیوں اور اس کی ادائیگی کی اصلاح کی جا سکے۔
۴۔مکمل ناول کی قرأت کے بعد ناول کی زبانی تلخیص طلبا سے کرائی جانی چاہیے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ طالب علم نے مکمل ناول پڑھا ہے یا نہیں۔زبانی تلخیص کے عمل سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ طلبا کو ناول کے تمام کردار ، واقعات، مقامات،مناظر،جزئیات اورمکالمہ وغیرہ سے بہم واقفیت حاصل ہو جائے گی۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بولنے کے عمل سے اس کے اندر کی جھجھک اور ہچکچاہٹ ختم ہو جائے گی۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ طلبا کے اندر اظہار خیال کی قوت پیدا ہو گی۔چوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ ناول میں پیش کردہ مختلف موضوعات سے آگاہی حاصل ہوگی اور وہ ان پر برملا کہیں بھی اظہار خیال کر سکیں گے۔
۵۔مکمل ناول کی تدریس کے بعد طلبا کو ہلکے پھلکے موضوعات مثلاً کلاس روم کی کہانی،کلاس روم کی منظر کشی،کلاس روم کی جزئیات نگاری،کلاس روم کے کردار،کلاس روم کے ماحول،کلاس روم کی تہذیبی روایت،کلاس روم کے طریقۂ تدریس وغیرہ پر د چار صفحے لکھنے کی ترغیب دی جائے۔اس طریقۂ تدریس سے طلبا کے اندر زبردست تخلیقی اور تحریری صلاحیت کا اضافہ ہوگا۔
۶۔مذکورہ طریقۂ تدریس کے علاوہ ایک طریقہ یہ بھی ہے جوکہ عصری جامعات میں رائج ہے ،وہ اسائنمنٹ کا طریقہ ہے۔اساتذہ کو چاہیے کہ ناول کی تدریس کے دوران اس ناول کے جتنے امکانی پہلو ہوسکتے ہیں ان تمام پہلوئوں میں سے ایک ایک پہلو پر ہر طالب علم کو الگ اسائنمنٹ تفویض کی جائے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس موضوع کی تیاری میں طلبا متن کو براہ راست پڑھنے پر مجبور ہو سکیں گے اور ساتھ ہی یہ پابندی بھی لگا دی جائے کہ کلاس میں دوران مباحثہ طلبا بطور دلیل متن کو کوٹ کریں۔
۷۔کسی بھی صنف کی تدریس کے سلسلے میں جو نیا طریقہ رائج ہے اسے ہم بحث و مباحثہ یا مذاکرہ کا طریقہ کہتے ہیں۔یہ طریقہ عصری تناظر میں زیادہ اہم اور کار آمد ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اب بیشتر نصاب کو Activity Basedبنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبا کی بھی شمولیت رہے گی۔اس طریقہ کا فائدہ یہ ہوگا کہ طلبا اور اساتذہ دونوں کی شمولیت سے جو نتیجہ اخذ کیا جائے گا وہ بہت ہی کار آمد ہوگا۔اس لئے ڈسکشن میتھڈ عصری طریقہ تدریس کے تناظر میں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔اس طریقہ تدریس میں طلبا اور اساتذہ کسی بھی موضوع پر کھل کر آزادی سے اجتماعی طور پر بحث و مباحثہ کرتے ہیںاس لئے اس سے خاطر خواہ نتیجہ بر آمد کیا جا سکتا ہے۔اس طریقہ تدریس میں طلبا کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے ناول کے متن کو سامنے رکھ کر اس کے مثبت و منفی دونوں پہلوؤں پر مذاکرہ کرائیں تاکہ ناول کے تمام تر پہلو کھل سامنے آجائیں۔مباحثے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں مثلاً Peer Group،Group Discussion ،رسمی مباحثہ،غیر رسمی مباحثہ، سیمینار،سوال و جواب وغیرہ۔لیکن ناول کی تدریس کا جو طریقہ کار ہماری جامعات میں رائج ہے وہ بیانیہ طریقہ یا لیکچر میتھڈکا ہے یہ طریقہ تدریس ایسا ہے جو صرف استاد مرکوز (Teachers Oriented)ہے ۔اس میں یک طرفہ عمل ہوتا ہے جس میں طلبا کی شمولیت بالکل نہیں ہوتی۔ جدید طریقہ تدریس میں استاد مرکوز ہونے کے بجائے طلبا مرکوزیعنی(Students Oriented)ہونا چاہیے۔یعنی زیادہ سے زیادہ شمولیت اس میں استاد کے بجائے طلبا کی ہونی چاہیے۔بہر حال یہ وہ کچھ طریقے ہیں جنھیں اگر دوران تدریس برتا جائے تو طلبا اور اساتذہ دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔
نوٹ: مضمون نگار این سی ای آر ٹی سے وابستہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

