گمشدہ دولت/ طارق شبنم- ایس معشوق احمد
| فکشن جھوٹ سہی لیکن ادیبوں اور قلمکاروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ایسی دنیا تخلیق کی جس پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔اپنے خامے سے ایسے زندہ جاوید فن پارے تخلیق کئے جن کو پڑھ کر انسان داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ادباء نے اپنے زور تخیل سے لاجواب کہانیاں تخلیق کیں جن کو پڑھ کر انسانی نفسیات ،فلسفے اور زندگی سے جڑے واقعات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔افسانہ اردو کی معروف صنف ہے۔افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں میں جہاں عشقیہ قصے بیان کئے وہیں دوسری طرف انسان کی ذہنی ،جذباتی ، نفسیاتی ، اور سماجی زندگی کا عکس بھی پیش کیا۔افسانہ نگار جادو بیانی اور منفرد انداز سے کہانی ایسے بیان کرتا ہے کہ پڑھنے والا ان افراد کا شناسا ہوجاتا ہے جن کی کہانی افسانے میں بیان ہوئی ہے۔برصغیر میں جہاں افسانے کے حوالے سے بڑے نام موجود ہیں جو بہترین کہانیاں تخلیق کررہے ہیں وہیں جموں و کشمیر میں بھی بزرگ افسانوں نگاروں کے ساتھ ساتھ بہت سارے نوجوان افسانہ نگار ہیں جنہوں نے بہت بہترین افسانے تخلیق کئے۔ان ہی نوجوان افسانہ نگاروں میں ایک بے حد اہم نام طارق شبنم کا ہے۔ طارق شبنم دو دہائیوں سے لگاتار افسانے لکھ رہے ہیں۔ان کا پہلا افسانوی مجموعے ” گمشدہ دولت ” کے عنوان سے 2020 ء میں منظر عام پر آیا ہے۔اس مجموعے کو جی این کے پبلکشینز نے اہتمام سے چھاپا ہے۔کتاب کا انتساب طارق شبنم نے اپنے شفیق نانا جان مرحوم غلام محمد راتھر اور ہر پل ان کا خیال رکھنے والی پیاری نانی محترمہ مہتاب بیگم کے نام کیا ہے اور لکھا ہے کہ ” جنہیں میں نے ہر حال میں شاکر و صابر پایا اور جنہوں نے مجھے صحیح اور غلط میں تمیز کرنا اور اللہ پر بھروسہ و توکل کرنا سکھایا”۔مجموعے میں ستائیس (27) افسانے شامل ہیں۔مجموعے کا پیش لفظ وادی کے معتبر اور بزرگ افسانہ نگار نور شاہ صاحب نے لکھا ہے۔کتاب میں ڈاکٹر اشرف آثاری کا مختصر مضمون ” طارق شبنم ایک ہونہار افسانہ نگار ” بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر اشرف آثاری نے طارق شبنم کی افسانہ نگاری کے حوالے سے بات کی ہے۔ "اپنی بات” میں مصنف نے کئی نامور شخصیات کا نام لیا ہے جن میں نور شاہ صاحب ، جاوید آذر صاحب، سلیم سالک صاحب ،شیخ بشیر احمد صاحب اور ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب شامل ہیں اور لکھا ہے کہ فنی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے مجھے یہ مہربان ملے ہیں۔اس کے علاوہ اپنی بات میں مصنف نے یہ اقرار بھی کیا ہے کہ __ ” میں نہیں جانتا کہ میں لکھنے کے ہنر سے آشنا ہوں کہ نہیں، میرے قلم سے سیاہی ٹپکتی ہے کہ لہو، میں نے اچھا لکھا کہ برا، قصہ مختصر کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے،آپ کی رائے اور قیمتی مشورے میرے لیے زاد راہ ثابت ہوں گے”۔ یہ انکساری کم ادیبوں کا خاصہ ہے۔کتاب کا بیک فلپ وادی کے معروف ناقد ڈاکٹر ریاض توحیدی نے لکھا ہے۔ڈاکٹر ریاض توحیدی نے طارق شبنم کی افسانہ نگاری پر بھی روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ہی کتاب منظر عام پر آنے کی مبارک باد بھی دی ہے۔ جدید افسانوں میں کہانی گم ہوگئی ہے لیکن گمشدہ دولت میں شامل افسانوں کے مطالعے سے قاری کہانی کی دولت پالیتا ہے اور اس دنیا میں گم ہوجاتا ہے جس کو طارق شبنم نے لفظوں سے تخلیق کیا ہے۔یہ سچ ہے کہ چند دہائیوں سے کشمیر پر آشوب حالات سے گزر رہا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وادی اپنی خوبصورت اور دلفریب نظاروں کی بدولت پوری دنیا میں مشہور ہے۔یہاں کے پہاڑ، میدان ، ندیاں ،جھرنے، مقامات فرحت بخش ہیں۔کشمیر کا ادیب وادی کی خوبصورتی کا ذکر اپنے افسانوں میں ضرور کرتا ہے۔طارق شبنم نے بھی وادی کے خوبصورت اور حسین نظاروں کا ذکر اپنے افسانوں میں کیا ہے۔افسانہ ” اندھیرے اجالے ” کا یہ اقتباس دیکھیں_ کوئی بھی افسانہ نگار سب سے پہلے اپنے آس پڑوس کا عکاس ہوتا ہے۔شعوری طور پر اس کی کہانیوں میں اردگرد کے حالات و واقعات کا ذکر آتا ہے۔طارق شبنم بھی اپنے معاشرے، حالات و واقعات اور اپنے لوگ کی بات افسانوں میں کرتا ہے۔ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا ہے اس کو صحفہ قرطاس کے حوالے کرتا ہے ۔مجموعے میں شامل افسانہ ” دہشت کے سائے” میں خوف ،ڈر اور دہشت کے ماحول کو اچھے ڈھنگ سے موضوع بنایا گیا ہے۔بونہ گام کے لوگ روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔بزرگ دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھ کر گپ شپ کر رہے تھے اور حقے سے بھی لطف اندوز ہو رہے تھے۔عورتیں پانی بھر رہی تھیں، بازار میں گہما گہمی تھی۔فوج کی ٹکڑی بازار سے گزری تو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔رات کی تاریکی چھائی تو خوف اور ڈر نے گاؤں کے گرد ہالہ بنا لیا۔عادل مرزا کو باہر آوازیں آرہی تھیں،کتے بھونک رہے ،مرغیوں کی تیز آواز گونج رہی تھی، گاؤ خانے میں بندھے جانور بھی شور مچا رہے تھے۔عادل مرزا باہر نکل کر دیکھنا چاہتا تھا لیکن بیوی نے منع کیا اور یاد دہانی کرائی کہ رجب چچا حاجت بشری کے لیے باہر نکلا تھا آج تک اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔اذان ہوئی تو عادل مرزا باہر نکلا اور دیکھ کر حیران ہوا کہ جنگلی درندوں نے درجنوں مویشیوں کی چیر پھاڑ کرنے کے علاوہ سینکڑوں مرغے مرغیوں کو غائب کر لیا۔ایک بزرگ سے پتا چلتا ہے کہ کل شام صاحب لوگ لائنس یافتہ بندوق لے کر شکار کھیلنے نکلے تھے۔ افسانے سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں__ |
.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

