حمیرا اشفاق کا ناول می سوزم – محمد تیمور خان
معاصر ادیبوں میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا نام نمایاں حیثیت رکھتا یےاس سے پہلے آپ ادبی حلقوں میں بحیثیت محقق، نقاد دانشور، افسانہ نگار کے طور پر جانی جاتی تھی آپ نے درجن سے زائد تحقیقی وتنقیدی کتب لکھی ہیں اپ کی افسانوں کی کتاب کتبوں کے درمیان 2019 میں منظر عام پر آئی می سوزم آپ کا پہلا ناول ہے جس نے اپ کو معاصر ناول نگاروں کی صف میں کھڑا کردیا ہے. وہ ادیب خوش نصیب ہوتا ہے جس کی زندگی میں کوئی ایسا ناول آتا ہے جو اس کو ناول نگار بنا دیتا ہے میرے خیال میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق وہ خوش نصیب ادیب جس نے ،می سوزم جیسا ناول تخلیق کیا ہے. یہ ناول روایتی انداز سے ہٹ کر مابعد جدید تکنیک میں لکھا گیا یے می سوزم ناول میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے بلوچستان کے قبائلی رسم و رواج، معاشی بدحالی جنگی ماحول سماجی گھٹن اور خواتین کے حقوق کی پامالی، اور غریبوں کا استحصال کو موضوع بنایا ہے. خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی اور شناخت کا مسلہ ہمارے معاشرے میں اج بھی سب سے بڑا مسلہ یے رابعہ خضداری جیسی کتنی ہی خواتین ہیں جو قتل کر دی جاتی ہیں کبھی غیرت کے نام پر تو کبھی جائیداد کے لیے تو کبھی ونی قرار دے کر صدیوں پرانا بادشاہی نظام ہویا اج کے جدید دور کا جمہوری نظام عورت ہر دور میں ظلم کی چکی میں پسی جارہی ہے عورت مرد کے بنائے ہوئے اصولوں پر چلنے کی پابند ہے اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں. رابعہ خضداری ایک ایسا ہی کردار ہے جس کو قبائلی رسم ورواج کا لقمہ بننا پڑتا ہے. ڈاکٹر حمیرا اشفاق اس ظلم اور بربریت کے خلاف آواز بند کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں اپ کے اندر ایک نظریاتی ادیب کی جھلک نظر آتی ہے رابعہ خضداری ناول کا مرکزی کردار یے یہ بلوچستان کے علاقے خضدار سے تعلق رکھتی تھی امیر کعب کی بیٹی تھی رابعہ عربی اور فارسی دونوں زبانوں کی شاعرہ تھی اور معروف فارسی شاعر، رودکی، کی ہم عصر شاعرہ تھی اپ شاعر کے ساتھ ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک تھی اس کے آداب نشست وبرخاست فارسی ادب میں بڑی خدا داد صلاحیتوں کی مالک تھی وہ ایک آزاد منش شجاع نڈر اور دلیر بیٹی تھی وہ ظلم و بے انصافی کے ساتھ دلیری سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی حق کی راہ میں جان تک دینے سے گریز نہیں کیا وہ ایک صاحب شناس دین دار اور متقی خاتون تھی وہ حق کا ساتھ دیتے ہوئے ہمارے فرسودہ رسم ورواج کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اور اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے مگر یہ شہزادی حق بات سے پیچھے نہیں ہٹتی ،، میری جان خوشی سے لیجیے لیکن مرنے سے پہلے صرف دو خواہشات پوری کردیں ایک مجھے کچھ لکھنے کا سامان دے دیا جائے تاکہ میں اپنے آخری سفر کی داستان رقم کر سکوں جس میں یہ واضح لکھ سکوں کہ میں ظالم کے ساتھ نہیں بلکہ مظلوم کی آواز ہوں اور میری آواز کو خاموش کروانے والا ،حارث، ہے جس سے میں اپنے خاندان تک کا نام منسوب نہیں کرنا چاہتی (یہ بھی پڑھیں محمد حفیظ خان کے ناول ’انواسی‘ – محمد تیمور خان ) دوسرا میرے حکم کی تعمیل میں رعنا نے ایک وفا دار کنیز کی طرح عمل کیا ہے اس میں اس کا کوئی قصور نہیں سب میرے حکم پر ہوا ہے اس لیے اس کی جان بخش دی جائے، رابعہ خضداری کا کردار جب تک زندہ رہے گا فکشن کی دنیا میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا نام زندہ رہے گا حارث کا کردار ایک لا ابالی نوجون عیش پسند طبعیت کا مالک جس نے ہر طرف لوٹ مار قتل وغارت رعایا پر بے بے جا ظلم اس کا وتیرہ یے اس قدر ظالم کہ اپنی بہن تک کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کیا. یہ ناول ایک تاریخ بھی ہے اور ناول بھی یہ ناول موجودہ دور کی قبائل نظام کی بھی مکمل عکاسی کرتا ہے اور صدیوں پرانی تہذیب کی بھی یہ ناول ادب کے طالب علم کو ضرور مثاتر کرے گا ایک منفرد ناول تخلیق کرنے پر ڈاکٹر حمیرا اشفاق صاحبہ مبارک باد کی مستحق ہیں.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

