Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
سماجی اور سیاسی مضامین

انتخابِ امیرِشریعت:سو برس بعد امارتِ شرعیہ نے کیا کھویا؟ کیا پایا؟ قسط 5- ڈاکٹر صفدرا مام قادری

by adbimiras اکتوبر 16, 2021
by adbimiras اکتوبر 16, 2021 0 comment

امیرِ شریعتِ ثامن کے سامنے لا مختتم سیاسی ،سماجی اور تنظیمی چیلنجز

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے لیے اپنا انفرادی نقش قایم کرنا آسان نہیں مگر جدید تعلیم اور جدید دنیا کے بہ راہِ راست تجربے کے سبب وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔

[آخری اور قسط پنجم ]

 

مولانا ولی رحمانی کے ارتحال کے بعد سے مختلف گوشوں سے ایسی اطّلاعات آنے لگی تھیں کہ نئے امیرِ شریعت کے لیے ان کے صاحب زادے احمد ولی فیصل رحمانی اُمیّدوار ہو سکتے ہیں۔اسی لیے ان کی تعلیم اور ان کی شخصیت کے تعلق سے مختلف حلقوں سے اختلافی بیانات سامنے آنے لگے۔کچھ تحریروں میں کردار کُشی کی بھی کوششیں ہوئیں۔اس کے ردعمل میںرحمانی حلقے سے بھی جوابات پیش کیے جاتے رہے۔اب جب کہ اربابِ حل و عقد نے انھیں باضابطہ طور پر منتخب کر لیا ہے،اس لیے پرانی باتوں کو دہرانا بے وقت کی راگنی سمجھا جائے گا ۔سوال وجواب اور اشتعال میں پوچھے گئے سوال یا پیش کردہ جواب کی اکثر منطقی بنیادیں کمزور ہوتی ہیںمگر بعض ایسے سوالات بھی سامنے آئے جن کے جوابات ہر فریق کو چاہے۔ نئے امیرِ شریعت کیوں نہ ہوں،انھیں جواب دینا ہی پڑے گا۔بعض سوالوں کے جواب میں تو امیرِ شریعت کو اپنی کارکردگی ہی پیش کرنی پڑے گی۔امارتِ شرعیہ کی جتنی تابناک اورروشن تاریخ ہے،اس کے مطابق نئے امیرِ شریعت کو کسی حلقے کا حصّہ نہیں بننا چاہیے۔انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد انھوں نے سب لوگوں کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کا جو نشانہ پیش کیا،وہ گذشتہ چند دنوں میں عملی شکل لیتا ہوا نظر آتا ہے۔امیر کی یہ بڑی جواب دہی ہوتی ہے کہ انتشار کے ہر موڑ پر اتّفاق اور محبت کا کوئی پیغام پہنچادیا جائے۔

انتخاب میں فتح یابی کے فوراً بعد انھوں نے عوام کے نام جو پہلا خطاب کیا،اس میں قومی اور عالمی صورتِ حال اور اہلِ اسلام کے لیے ہر سطح پر عرصۂ حیات تنگ ہونے کا ذکر تھا ۔انھوں نے تعلیم اور جدید تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا ایک واضح نقطۂ نظر پیش کیا ۔مجلس میں موجود اربابِ حل وعقد کے افراد کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ امیرِ شریعت کے ذہن میں کچھ نیا کرنے کے لیے واضح خواب ہیں۔اگلے روز ان کا ایک اور بیان شایع ہوا جس میں اسلامی اور عصری تعلیم کے بیچ جو خطِ تقسیم موجود ہے، اس سے انھوں نے بے زاری اور بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے لیے یہ نقلی بٹوارے ہیں ۔ضرورت اور مقصد کے تحت علم کی شکلیں بدلتی ہیں اور انسان ان کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔اس لیے انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی اتنی خانہ بندی قوم کی ترقّی میں رُکاوٹ ثابت ہوگی۔

کورونا کی طویل وبائی صورتِ حال اور مشکل دور میں جناب فیصل رحمانی کو امیرِ شریعت کا عہدہ ملا ہے۔چھے مہینوں کے وقفے میں امارتِ شرعیہ کا دفتر ہزار طرح کی سازشوں کا اڈا ہو گیاتھا۔شہرِ عظیم آباد، صوبۂ بہار اور پورے ملک میں گذشتہ مہینوں میں امارتِ شرعیہ کے سلسلے سے جتنی ہنگامہ آرائیاں ہوئیں ،ان میں سے ہر بات کا کوئی نہ کوئی سِرا امارتِ شرعیہ کے دفتر اور اس کے کسی نہ کسی اہل کار سے جڑا ہوا پایا گیا۔مشاہدین اس بات پر مکمّل یقین رکھتے ہیں کہ ہر کھیل تماشے میں یہ افراد کسی نہ کسی جہت سے شامل ہو جاتے تھے یا شامل کر لیے جاتے تھے۔امیرِ شریعت کے انتخاب کی تاریخ کے تعین میں جو خلفشار پیدا ہوا ،اس میں بھی کہیں نہ کہیں امارتِ شرعیہ کے دفتر اور اس کے اہل کاروں کی شرکت بتائی جاتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں انتخابِ امیرشریعت :سو برس بعد امار ت ِشرعیہ نے کیا کھویا؟کیا پایا؟ – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

امیرِ شریعت کے لیے یقینا سب سے بڑا مسئلہ اس دفتری نظام کو درست کرنا ہوگا۔وہ ماضی میں مینجمنٹ کے طالب علم اور استاد بھی رہ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ خانقاہِ رحمانہ، جامعہ رحمانی،رحمانی فاؤنڈیشن اور رحمانی ۳۰ جیسے اداروں میں خاموشی سے اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے رہے۔گذشتہ پانچ برسوں میں اس دائرۂ کار میں کہیں نہ کہیں امارتِ

شرعیہ بھی آئی ہوگی۔اس تجربے سے انھیں موجودہ ذمّہ داری کو بہ حسن و خوبی ادا کرنے میں اچھی خاصی مدد ملے گی۔عین ممکن ہے کہ امارتِ شرعیہ کے تمام ذیلی اداروں کے کار کنان اور خود امارتِ شرعیہ کے تنظیمی ڈھانچے کو سر گرم کرنے کے لیے انھیں بعض سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ممکن ہے آنے والے وقت میں نظام میں انقلاب آفریں تبدیلیاں بھی آئیں اور امارتِ شرعیہ کا دفتر جس انداز سے اب تک چلتا رہا ہے، اس میں ایک معنیٰ خیز تبدیلی آ جائے،عوام میں ایسی واضح توقعات نظر آنے لگی ہیں۔امارتِ شرعیہ سو برس کا ایک بھر پور زمانہ دیکھ چکا ؛اب اس کی شریانوں میں تازہ لہو شامل کرنا ضروری ہے۔ترقّی یافتہ اور جدید دنیا کے بہ راہِ راست تجربات مولانا فیصل رحمانی کے پاس موجود ہیں۔امارتَ شرعیہ کے دفتری نظام کا خاکہ کم وبیش اسی پُرانے مدرّسانہ انداز پر مرتَّب ہوا۔مولانا ولی رحمانی نے کار کردگی کے انداز و اسالیب بدلنے کی کوشش کی اور کاموں کی رفتار بڑھانے میں کامیاب ہوئے۔نئے نئے ادارے اور ذیلی تنظیمیں بنا کر امارتِ شرعیہ کو عوام و خواص کی زندگی سے جوڑنے اور دائرۂ کار کو پھیلانے میں ان کی سرگرمیاں یاد رکھی جائیں گی۔قدرت نے انھیں وقت نہیں دیا اور آخر کا ایک سال تو وبا کی رُکاوٹوں کی نذر ہو گیا۔اس کی وجہ سے امارتِ شرعیہ ایک نئے اور سرگرم ادارے کے طور پر پورے طور پر سامنے نہیں آ سکی ۔

موجودہ امیرِ شریعت کے پاس صوفیانہ تربیت ،جدید تر تعلیم کا فیضان اور عالمی سطح پر اداروں کے بدلتے ہوئے رُخ اور کام کرنے کے انداز سے بھر پور واقفیت موجودہے۔دفاتر کو جدید تکنیک کی مدد سے کس طرح سجایا،سنوارااور سنبھالا جا سکتا ہے ،اسے وہ خوب خوب جانتے ہیں۔بزرگوں کی دعائیں اور اربابِ حل وعقد کی بھر پور اکثریت ان کے ساتھ ہے۔ایسی صورتِ حال میں ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ امارتِ شرعیہ کا دورِ جدید اپنے قلم سے رقم کریں۔اُن کے والد واضح تصوّر کے ساتھ کوئی کام کرتے تھے۔اس سلسلے کو انھیں آگے تک بڑھانا ہے اور امارتِ شرعیہ کو اس کی حقیقی اور نئی منزل عطا کرنی ہے۔یہ آسان کام نہیں ہے مگر ان کے پاس صحت اور تندرستی کے ساتھ ساتھ طبعی عمر کی بہت ساری منزلیں ہم رکاب ہیں۔وہ چاہیں تو امارتِ شرعیہ کی دنیا بدل دیں۔بڑے بڑے علماے دین کو چھوڑ کر اربابِ حل وعقد نے انھیں جس خاص اہتمام اور مقصد کے لیے امیرِ شریعت چُنا ہے،اسے یقینی طور پر وہ سمجھتے ہوں گے۔مستقبل کا مورخ اس انتظار میں ہے کہ سید احمد ولی فیصل رحمانی اپنے عہدِ امیرِ شریعت میں وہ کام کر جائیں گے جسے تاریخ یاد رکھے گی۔

نئے امیرِ شریعت کے لیے پہلا چیلنج تو ان کے والد اور ساتویں امیرِ شریعت کی مقبول عام شخصیت کا بدل بننا ہے۔گذشتہ تین دہائیوں میں ولی رحمانی اپنی تحریر،اپنی تقریر اور سماج کے ہر انداز کے طبقے میں ایک حیرت انگیز شخصیت کے مالک کے طور پر سمجھے جاتے تھے۔اہلِ سیاست کے سامنے ان کی گرمیٔ گفتار اس بات کی شاہد تھی کہ وہ کسی وزیرِ اعلا اور کسی وزیر اعظم سے خوف نہیں کھاتے تھے۔سیاست ،،مذہب ،تعلیم ،صحت ،ادارہ سازی اور مسلمانوں کے مخصوص مسائل کے ساتھ ساتھ ہم وطنوں سے مکالمات کا ان کا جو دانشوارانہ انداز تھا، ہندستانی عوام موجودہ امیرِ شریعت سے اس کی بھر پور توقع کریں گے۔انتخاب کے بعد انھوں نے جو مختصر تقریر کی، اس سے اتنا تو اندازہ ہوا کہ وہ کام کی باتوں پر اپنی گفتگو کا مدار رکھتے ہیں مگر اپنے والد کی طرح نپے تلے اور نکیلے انداز میں اردو زبان کی سِحر انگیزی کے ساتھ اپنی باتیں پیش کرنا ان کے لیے اگلا نشانہ ہونا چاہیے۔مولانا ولی رحمانی کی مقبولیت اور ان کے پیچھے لاکھوں افراد کا جمِّ غفیر ہوتا تھا۔ وہ ان کی تقریری مہارت اور زبان و بیان کی حسن کاری سے مزید روشن ہوتا تھا۔یہ مولانا ولی رحمانی کی ایک دن کی کمائی نہیں تھی۔ندوۃالعلما،دارالعلوم دیوبند،جامعہ رحمانی اور امارتِ شرعیہ کے پچاس سال سے زیادہ کے تجربات کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔یہ یاد رہے کہ امیرِ شریعت کی مقبولِ عام شخصیت کی تشکیل میں یہ تمام چیزیں لازم ہیں،  آنے والے  وقت میں مولانا فیصل رحمانی سے لوگ اس بات کی توقع کریں گے کہ مقبولیت اور دانش ورانہ جہت میں کیا وہ اپنے والد کے ہم سر ہو سکتے ہیں؟

آج ہندستانی مسلمانوں کو سماجی اور سیاسی مورچوں پر عجیب و غریب پسپائی کا احساس ہوتا ہے۔ایسی حالت میں کسی فرقہ وارانہ جماعت سے بہ راہِ راست تعلق کو ہندستانی عوام شاید پسند نہ کریں۔مولانا انیس الرحمان قاسمی کے دورِ نظامت پر کچھ سوالات تو تھے ہی مگر این۔ڈی۔اے حکومت میں ان کے اندر تک گھسے ہونے کی بات بھی ہمیشہ سامنے آتی رہی۔اربابِ حل وعقد نے یہ بھی دیکھا کہ فرقہ پرستوں سے سیدھے مقابلے کے وقت کسی ایسے چہرے کو کیوں اپنا سربراہ چنا جائے جو اسی حکومت کا حصّہ بننے اور ا س کی سہولیات کے حصول کے در پے ہے۔مولانا فیصل رحمانی سے لوگوں کی توقع ہے کہ وہ سیاسی مورچوں پر اسی طرح بے باک اور نڈر بن کر سامنے آئیں جسیے ان کے والد ہمیشہ سامنے آتے تھے۔یہ قوم کے مفاد میں جِد وجہد اور مقابلہ آرائی کا راستہ ہے مگر یہیں سے بزمِ گیتی کو ایک روز نئی روشنی ملے گی۔مولانا ولی رحمانی جب امیرِ شریعت بنے ، اس سے پہلے سے ان کی قومی شناخت تھی۔مگر مولانا فیصل رحمانی کو اپنے لیے نئے سِرے سے پہچان کا راستہ ڈھونڈنا پڑے گا۔عہدے کے ساتھ  ہر روز نئے نئے کاموں سے اپنے آپ ان کی پہچان بنتی جائے گی اور چند برسوں میں ہندستان گیر سطح پر انھیں پہچانا جانے لگے گا ، اس میں کسی کو کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہیے۔

موجودہ امیرِ شریعت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ان کے مخالفین کی طرف سے یہ بھی لگایا گیا کہ وہ رواجِ عام کے مطابق مولانا نہیں ہیں۔ان کے مخالفین انھیں انجینئر اور مینیجر کہتے ہیں۔بھلے ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت جامعہ رحمانی میں اور خود ان کے والد کی نگرانی میں ہوئی ہو اور وہ جامعہ ازہر سے بھی کسی کورس کے فارغ ہیںمگر ان تمام سوالوں کے جواب انھیں اپنی موثر کار کردگی سے پیش کرنی ہوگی۔یہ کوئی ناممکن بات نہیں کہ کچھ برسوں میں ان کی باتیں ایک طرف عالمِ دین جیسی ہونے لگیں گی اور دوسری طرف جدید دنیا کے واقف کار کے حربوں سے وہ اپنے کاموں کو بدلتے ہوئے پائے جائیں گے مگر ان الزامات اور ان کے عقیدت مندوں کی توقعات کا صرف ایک ہی پیمانہ ہمیں نظر آتا ہے وہ ان کی حسنِ کار کردگی ہوگی۔انھیں اپنے انتخاب کے مراحل میں یہ بات ٹھیک طریقے سے معلوم ہو چکی ہے کہ اس راہ میں کانٹے زیادہ ہیں اور پھول کم۔سازشیں زیادہ ہیں اور معاونت کم سے کم ہیں مگر جسے ذمّہ داری ملی ہے اسے ایک ایک رُکاوٹ سے مقابلہ کرنا ہوگا ۔دنیا جب ان کے کام دیکھے گی تو اسے اس بات کا احساس ہو جائے گا کہ ان کی راہ کے کانٹے تو انھیں اور حوصلہ دیتے ہیں ۔سازشوں سے کار کردگی میں مہارت پیدا ہوتی ہے ۔ اس حال میں مخالفین اور معاندین بھی ان کے ساتھ آ کر اپنے حصّے کی کوئی کار کردگی پیش کر نے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اسی دن سے وہ نئی تاریخ لکھنے لگیں گے۔تھوڑے دنوں تک مخالفت اور سازشوں کا بازار گرم ہوگا مگر نئے امیرِ شریعت اپنے انتظامی سوجھ بوجھ اور کام کرنے کی رفتارسے ان تمام رُکاوٹوں کو دور کر سکتے ہیں۔بہت بڑی عوامی توقعات ان کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہیں۔اس بار سے کمزور آدمی بکھر جائے گا مگر مضبوط آدمی اس کے بر عکس نکھر کر سامنے آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں امارتِ شرعیہ کے امیر کا انتخاب یا علماے کرام کی سیاسی بصیرت کا امتحان؟ – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

یہ ضرور ہے کہ اب ان کے لیے چین سے بیٹھنے کا کوئی موقع نہیں۔زندگی میں جتنا وقت ہے ، اس سے بڑھ کر ان کے سامنے ذمّہ داریاں ہیں۔وہ نئی دنیا کے فرزند ہیں، اس لیے اس منصب عالی پر وہ وقت گزاری کے لیے نہیں آ رہے ہیں بلکہ وہ امارتِ شرعیہ کو ایک نیا نظام بخشیںگے۔امارتِ شرعیہ کو عہدِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اپنا نیا دستور اور کار کردگی کے لیے نیا آئین بنانا ہوگا۔نئی تعلیم کی روشنی سے اگر امارتِ شرعیہ کی جانب سے ادارے قایم کرنے کی ایک مہم شروع ہو جائے تو امارتِ شرعیہ کا دائرۂ کار بھی بدلے گا۔امارتِ شرعیہ کا اسپتال کام چلاو قسم کی خدمات انجام دے رہا ہے۔اسے جدید اسپتال اور معیاری ڈاکٹروں کی خدمات سے اونچا اُٹھانا ہوگا۔چالیس برس سے اگر ممتاز معالج ڈاکٹر احمد عبد الحئی اس کے چیر مین تھے تو اسپتال کی کار کر دگی کا معیار کیوں ان کی شایانِ شان نہیں ہو سکا۔امیرِ شریعت کو اس جانب بھی پوری توجہ دینی پڑے گی ورنہ بڑے بڑے ناموں سے ادارے کی ترقّی نہ ہونے والی ہے۔ قوم کو کام چاہیے اور معیاری خدمت حاصل ہونی چاہیے۔ اگر اس جانب توجہ نہ ہوئی تو امارتِ شرعیہ کی مستقبل پسند ترقّی میں رُکاوٹیں آتی رہیں گی۔نئے امیرِ شریعت کے لے یہ تمام اہداف فصیلِ وقت پر شاہ سرخیوں میں کندہ ہیں۔ ان کی کامیابی کا سارا دار و مدار ان کی موثر کار کردگی میں پہناں ہے۔لوگ ان کے اقدام کا انتظار کرتے ہوئے ملیں گے۔

 

[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]

safdarimamquadri@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

امارت شرعیہصفدر امام قادری
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سرسید احمد خاں کے تعلیمی افکار و نظریات کی عصری معنویت – رخسار پروین
اگلی پوسٹ
سر سید اور اُردو شعر و ادب –  ڈاکٹر جاوید حسن

یہ بھی پڑھیں

صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:...

جون 1, 2025

لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –...

دسمبر 4, 2024

معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد...

نومبر 30, 2024

دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –...

نومبر 30, 2024

باکو میں موسمیاتی ایجنڈے کا تماشا – مظہر...

نومبر 24, 2024

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور مدارس اسلامیہ...

نومبر 8, 2024

مسلمانوں کے خلاف منفی رویہ: اسباب اور حل...

اکتوبر 3, 2024

وقف کی موجودہ صورت حال اور ہندوستانی حکومت...

اکتوبر 1, 2024

مدارس اسلامیہ کا خود کفیل ہونا مفید یا...

جولائی 31, 2024

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے – مفتی محمد...

جون 2, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں