سر سید احمد خاں کی بلند پایہ شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔مسلمانوں کے عظیم مصلح، رہنما اور ایم اے او کالج کے بانی سرسید احمد خاں جیسی شخصیت کی دوسری کوئی نظیر نہیں ملتی۔ فی زمانہ اُن کی شخصیت ،افکار و نظریات اور اُن کے گراں قدر کارنامے پر بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے ۔ لکھنے والوں میں ایک طرف اُن کے پرستار اور مداح ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو سر سیّد کے افکار و نظریات سے اتفاق نہیں رکھتے اور انھیں انگریزوں کا پٹھو قرار دیتے ہوئے اُن پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں ۔ اِس قسم کے افراد اُن کی زندگی میں بھی تھے ا ور اَب بھی ہیں ۔ مسلم یونیورسٹی کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے سر سید احمد خاں کی عظیم ، دلآویز اور پُر کشِش شخصیت سے خاص عقیدت مجھے بھی ہے۔ میرے خیال سے اُن کے خلاف لکھنے والوں کی اپنی سوچ ہے مگر ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اُس وقت کے تناظر اور صورتحال میں جو اقدام سر سید نے کیے وہ بے حد ضروری، لائقِ تحسین اور بہت با معنی تھے اور جس کے بہت دُور رَس نتائج بر آمد ہوئے۔ اپنی فکر کی نوعیت سے سر سیّد پہلے ترقی پسند نظر آتے ہیں، جنھوں نے ہر سطح پر ریفارم کی کوشش کی ۔ سر سید احمد خاں کے بارے میں مجموعی طور پر بہت ساری باتیں ہمارے حافظے کا حصہ ہیں۔اِس مختصرترین مضمون میں اُردو شعر و ادب کے تئیں اُن کے خیالات و خدمات پر گفتگو مقصود ہے۔
ہم سب واقف ہیں کہ سر سید احمدخاں کی بیش بہا خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ سیاسی، تعلیمی،مذہبی فرنٹ کے علاوہ علمی ،ادبی اور تحقیقی میدان میں انھوں نے جوگہرے نقش ثَبت کیے وہ بہت موثِراور دِیر پَا تھے۔علی گڑھ تحریک کو عام طور پر محض تعلیمی یا سیاسی تحریک خیال کیا جاتا ہے مگر ایک لحاظ سے یہ ایک فکری، تہذیبی، علمی تحریک بھی تھی جس نے اُردو شعر و ادب پر مثبت اثرات مرتّب کیے ۔سر سید کا شمار اُردو کے اوّلین معماروں میں بَجا طَور پر ہوتا ہے۔اُن کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی نے لکھا ہے کہ :
’’ سر سیّد کی جس زمانے میں نشو و نما ہوئی ، دِہلی میں اہل ِکمال کا مجمع تھا ۔ سر سیّد جس سوسائٹی کے ممبر تھے اُس کے بڑے اَرکان ،مفتی صدرالدین آزُردَہ ،مرزا غالب اور مولانا صَہبائی تھے ۔اُن میں سے ہر شخص تصنیف و تالیف کا مالک تھا اور اُ ن ہی بزرگوں کی صحبت کااثر تھا کہ سر سید نے ابتدائی دور میں جو مشغلہ اختیار کیا وہ تصنیف و تالیف کا مشغلہ تھا۔ اول اول رواج عام کے مطابق شاعری کے میدان میں آئے …لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کو شاعری سے مناسبت نہ تھی اس لیے جلد ہی وہ اس کوچے سے نکل آئے اور نثر کی طرف توجہ کی ۔‘‘
( بحوالہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میگزین ،مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۲۰۶،نیز ’’حالات ِشبلی‘‘ دوم ،صفحہ ۶۰)
اردو زبان و ادب کے حوالے سے سرسید نے جو کچھ کیا ،اُن کے خیالات مختلف تحریروں میں موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ:
’’جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم نے اردو زبان کے علم و ادب کی ترقی میں اپنے ان ناچیز پرچوں کے ذریعہ سے کوشش کی۔ مضمون کے ادا کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا۔ جہاں تک ہماری کج مج زبان نے یاری دی،الفاظ کی دُرُستی ،بول چال کی صفا ئی پر کو شش کی۔ رنگینیٔ عبارت سے جو تشبیہات اور استعاراتِ خیالی سے بھری ہوتی ہے اور جس کی شوکت، صِرف لفظوں ہی میں رہتی ہے اور دِل پر اُس کا کچھ اثر نہیں ہوتا، پرہیز کیا۔تُک بندی سے جو اُس زمانے میں مقفیٰ عبارت کہلاتی تھی، ہاتھ اُٹھایا۔ جہاں تک ہو سکا سادگیٔ عبارت پر توجہ کی۔ اِس میں کوشش کی کہ جو کچھ لطف ہو، وہ صرف مضمون کی اَدا میں ہو۔ جو اَپنے دِل میں ہو، وہی دوسرے کے دِل میں پڑے، تاکہ دِل سے نکلے اور دِل میں بیٹھے۔‘‘ (’’ہماری خدمات‘‘)
ادب کی ساخت اور تخلیق میں دل کی اہمیت پر یہ اِصرار ادب کی تقدیس کی پہلی بلند آواز تھی، جو اُردو ادب میں اٹھائی گئی۔ یہ بھی شاید پہلی مرتبہ ہی احساس ہوا کہ ادب کی تخلیق میں قاری کا وجود بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سرسید کے اس تصور میں قاری کو اتنی ہی اہمیت نصیب ہوئی جتنی خود ادیب کو حاصل ہے۔ اس لحاظ سے سرسید نے یہ بتایا کہ ادب ایک انفرادی مظاہرہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی مجاہدہ و ریاضت بھی ہے۔یہاں پر میں پروفیسر ابولکلام قاسمی کے ایک مضمون’’سر سیّد کا نثری اسلوب ‘‘جو اُن کی کتاب ’’کثرتِ تعبیر ‘‘ میں شامل ہے، کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ لکھتے ہیں: (یہ بھی پڑھیں سرسید احمد خاں کے تعلیمی افکار و نظریات کی عصری معنویت – رخسار پروین )
’’ سر سید نے اپنی تحریروں میں بار بار اُردو زبان اور اس کے اسالیبِ بیان پر اِظہار خیال بھی کیا ہے او راپنی ترجیحات کا بھی ذکر کیا ہے ۔ اِن باتوں کے پیش نظر نثر نگاری کے سلسلے میں سر سید کے نقطۂ نظر کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ یہ نقطۂ نظر چونکہ محض ان کے تصورِ ادب تک محدود نہیں تھا اِس لیے اِس کی عَمَلی شکلیں سر سید کی تحریروں میں تقریباً ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہیں یعنی اُن کی نثر ، نثر کے بارے میں اُن کے نقطۂ نظر کی توثیق کرتی ہے اور نظریہ و عَمَل میں کسی ثَنوِیت کا اِحساس نہیں دلاتی… سر سید کے اُسلوبِ تحریر میں تجزیاتی طریقِ کار اور اِستَدلالی طرزِ اِظہار نُمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سر سیّد کی نثر ،باوجود دقیق علمی مسائل کو زیر ِبحث لانے کے،قابلِ فہم بھی رہتی ہے او ردلچسپی کے عُنصُر کو بھی اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ۔‘‘
اس ضمن میں سر سیّد کے مختلف مضامین سے چند مثالیں لاحظہ کیجیے:
تجزیاتی و استدلالی طرز اظہار :
’’ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں دو قسم کی قومیں ہیں جن میں سے ایک نے اپنے باپ دادا کو درجۂ کمال پر پہنچاہوا اور نا قابلِ سہو و خطا سمجھ کر ان کے علوم و فنون اور طریق معاشرت کو کامل سمجھا اور اس کی پیروی پر جمے رہے اور اس کی ترقی اور بہتری پر اور نئی چیزوں کے اخذ و ایجاد پر کچھ کو شش نہیں کی اور دوسری نے کسی کو کامل نہیں سمجھا ،اور ہمیشہ ترقی میں اور نئے نئے علوم و فنون و طریقہ معاشرت کے ایجاد میں کو شش کرتی رہی ۔اب دیکھ لو کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے اور کون تنزل اور کون ترقی کی حالت میں ہے۔ ‘‘
اسی مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ۔ ’’ اِسلام کوئی مٹّی کا پُتلا نہیں ہے جس کو کوئی دیکھ سکے ۔ مسلمانوں کی حالت اور اُن کے چال چلن سے اسلام کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ سو انھوں نے اس کو ایسا بد صورت بنایا ہے کہ جو کوئی نفرت کرے کچھ تعجب نہیں ۔ پس اَب میری یہ خواہش ہے کہ مسلمان اپنے اخلاق اور تہذیب و شائستگی کی دُرُستی میں کوشش کر کر اور اپنے حال اور چال چلن کو دُرُست اور عمدہ کرکر اسلام کی جو اصلی صورت ہے ،وہ دنیا کو دکھا دیں ‘‘
ایک دوسرا انداز ملاحظہ کیجیے:
’’…دفعتاً دیکھا کہ دُنیا اُلٹ گئی اور رنگ برنگ کی پھلواڑی سب اجڑ گئی ۔ قوم کی حالت وہ دیکھی کہ خدا کسی کو نہ دکھلائے ۔ اسلام کی وہ صورت پائی کہ خدا کرے کافر بھی نہ پائے ۔ قوم کیا دنیا کی باتوں میں اور کیا دین کے کاموں میں،ایسے تاریک گڑھے میں پڑی تھی کہ ادھر اُدھر کی چیزیں تو درکنار ،وہ اس گڑھے کو بھی نہ دیکھ سکتی تھی جس میں پڑی تھی ۔ پھر میرا دل آخر دل ہی تھا ،پتھر نہ تھا جو نہ پگھلتا او راپنی قوم کی حالت پر غم نہ کرتا ۔ ایک مدّت تک اسی غم میں پڑا سوچتا رہا کہ کیا کیجئے۔ جو خیالی تدبیریں کرتا تھا کوئی بَن پڑتی نہ معلوم ہوتی تھیں ۔ جتنی اُمید کرتا تھا ،سب ٹوٹ جاتی تھیں ۔ آخر یہ سوچا کہ سوچنے سے کرنا بہتر ہے ۔ کرو جو کچھ کر سکو، ہو یا نہ ہو ۔ اسی بات پر دِل ٹھہرا ۔ ہمّت نے ساتھ دیا اور صبر نے سہارا ۔ اور اپنی قوم کی بھلائی میں قدم گاڑا ۔ اِس میں خدا کی طرف کا بدلہ تو نہ جب معلوم تھا اور نہ اب معلوم ہے مگر قوم کی طرف کا بدلہ اسی وقت سے معلوم تھا جو اب ظاہر ہے۔…مگر شکر ہے کہ ا ُن کی کسی بات نے ہمارا دِل نہیں دُکھایا اور ہمیشہ ہمارے دِل میں یہی آیا کہ اے خدا! اُن پر رحم کر کیونکہ وہ نہیں جانتے‘‘۔ آخر پرچہ ’’ تہذیب الاخلاق، ایضاً ، ص ۱۲۴)
تمثیلی اندازملاحظہ ہو:
’’ اے آسمانوں کی روشنی ،اے نا امید دِلوں کی تسلّی اُمید، تیرے ہی شاداب اور سر سبز باغ سے ایک محنت کا پھل پاتا ہے ،تیرے ہی پاس ہر درد کی دوا ہے ،تجھی سے ہر رنگ میں آسودگی ہے عقل کے ویران جنگلوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھکا ہوا مسافر تیرے ہی گھنے باغ کے سر سبز درختوں کے سایہ کو ڈھونڈتا ہے۔وہاں کی ٹھنڈی ہوا ،خوش الحان جانوروں کے راگ ،بہتی نہروں کی لہریں ،اُس کے دل کو راحت دیتی ہیں ، اس کے مرے ہوئے خیالات کو پھر زندہ کرتی ہیں ۔ تمام فکریںدِل سے دور ہوتی ہیں اور دور دراز زمانہ کی خیالی خوشیاں سب آ موجود ہوتی ہیں ۔ ‘‘
(’’اُمید کی خوشی‘‘ ایضاً، ص:۹۰)
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سر سید احمد خاں کی بدولت ایک نئے دبستان کی ابتدا ہوئی جس میں سادہ و سلیس نثر نگاری کی طرف توجہ کی گئی اور عام فہم انداز میں چیزوں کو بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اُردو میں انشائیہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی نمایاں تبدیلی آئی اور سر سید کے رُفقاء نے بھی علمی اور سنجیدہ نثر نگاری کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دیں ۔
اُردو ادب میں حقیقت اور فطرت کی تحریک بھی سر سیّد نے ہی شروع کی۔ اُردو زبان و اَدَب کے فروغ و اِرتقا میں سر سیّد اور اُن کے رُفقا کے نمایاں کردار کا ہر کوئی معترف ہے ۔ اُردو زبان و ادب سے سر سید کی غیر معمولی وابَستگی کے نتیجے میں اُردو نثر سہل اور سلیس بنی ،بقول سید عبداللہ ’’سر سید نے اِسے عام اجتماعی زندگی کا ترجمان اور علمی مَطالِب کے اِظہار کا وَسیلہ بنایا۔‘‘ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سر سید نے نثر میں اُسلوب کی جگہ مضمون کو اوّلیت دی اور پرانی نثر ،جس میںتکلف اور تصنع پائی جاتی تھی اُس کو ترک کرنے کی اور بے جا عِبارت آرائی سے بچنے کی ترغیب دی اور یو ں اُردو نثر کی حدود کومزید وسعت اور نئی بلندی سے ہمکنار کیا۔ سر سید احمد خاں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایااور اعلیٰ درجے کے مقالے تحریر کیے اور اُن کے رفقاء نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کے نتیجے میں اُردو زبان جو اُس وقت علمی طور پر اُتنی مستحکم نہ تھی ،کچھ ہی عرصے میں اعلیٰ علمی جواہرپاروں سے اِس کا دامن بھر گیا۔
سرسید اُردو شاعری کے اُس وقت کے رنگ و آہنگ کو اپنے اصلاحی مِشَن کے لیے مفید نہیں پاتے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس سے وقتی تفریح کا کام تو لیا جاسکتا تھا لیکن کسی قوم کی تعمیر اس نوع کے لٹریچر سے قدرے نا ممکن تھی۔ سرسید نے شاعری کو ِاصلاحِ قومی کا ذریعہ بنایا ۔ اُن کے زیر اثر جو لٹریچر وجود میں آیااُس کی اِبتدا مسدسِ حالی اور اِنتہا کلام ِاقبال کی شکل میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اُردو زبان کی محبت اور اِس کی علمی خدمت کا جو نقشہ سرسید کے دل میں تھا اُس کا اندازہ اُن کے چند خطوط اور دیگر متفرق تحریروں سے بخوبی ہوتا ہے۔۔ مولاناابو الکلام آزاد نے سرسید کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا:
’’مرحوم سرسید اور ان کے ساتھیو ںنے علی گڑھ میں صرف ایک کالج ہی قائم نہیں کیا تھا بلکہ وقت کی تمام علمی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک ترقی پسند حلقہ پیدا کردیا تھا۔ اس حلقہ کی مرکزی شخصیت خود ان کا وجود تھا اور اس کے گرد ملک کے بہترین دماغ جمع ہوگئے تھے۔ … اس عہد کا شاید ہی کوئی قابل ذکر اہل قلم ایسا ہوگا جو اس مرکزی حلقہ کے اثرات سے متاثر نہ ہوا ہو… اردو کی نئی شاعری کی بنیاد اگرچہ لاہور میں پڑی تھی مگر اسے نشوو نما یہیں کی آب و ہوا میں ملی۔‘‘ (بحوالہ رسالہ فکر و نظر، علی گڑھ ،خصوصی شمارہ ، مارچ : ۲۰۱۷)
سر سیّد کے ذریعہ ادب کی اِصلاح کا مقصد یہ تھا کہ اُردو ادب میں اِس طرح کے نثر کی بنیاد رکھی جائے جو جدید زندگی کے تقریباً تمام موضوعات پر لکھنے کے لیے مفیدا ور موزوں ہو۔خود سرسید کی نثر میں یہ صفات بخوبی موجود ہیں۔ اپنے مضمون ’’ہماری خدمات‘‘ میںانھوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اردو نثر میں کیا اصلاح ہوئی اور ُان کی نثر نگاری نے عام نثر نگاری پر کیا کچھ اثر ڈالا۔سرسیدنے آزادانہ سوچنے اور سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھنے اور پرکھنے کا میلان پیدا کیا۔ سرسید کی تصنیفی سرگرمیوں نے ادب میں نیاپن، ہمہ گیری، مقصدیت ، سنجیدگی اور ایک خاص قسم کی معقولیت پیدا کی جس کے سبب ادب اور زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہوئی۔ انھو ںنے یہ بتایا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ادب صرف فرد کے دل کی سچی آواز ہی نہیں بلکہ جمہور، اجتماع اور قوم کے دل کی سچی آواز ہے جو اپنے دل کا غبار نکالنے کے ساتھ ساتھ جمہور کی اصلاح و ترقی کے لیے بھی اٹھائی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سرسید نے ادب کی ماہیت اور اس کے نصب العین کے متعلق پرانے نقطۂ نظر کی اصلاح کی۔ انھوں نے یہ بتایا کہ ادب بے کاروں کا مشغلہ نہیں بلکہ عین زندگی ہے، یہ صرف لفظوں کی بازی گری نہیں دِل اور دلی خیالات کی مصوّری ہے۔ شاعری کے متعلق بھی سرسید کا نقطۂ نظر اجتماعی اور اَفادی ہے۔ سرسید نے شاعری کو تہذیب اور شائستگی کا لازمہ اور وسیلہ خیال کیا ہے۔ اُنھوں نے پرانی شاعری کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہمارا فنِ شاعری بَدجذبات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ضد حقیقی تہذیب الاخلاق کے ہیں۔‘‘ (تہذیب الاخلاق، ج۲، ص ۴۵۱)، پرانی شاعری کی بڑی کمزوری سرسید کے نزدیک یہ تھی کہ اُس میں فطری جذبات کی کمی تھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’شاعری اِنسان کی طبیعت اور نیچر کا قدرتی اظہار ہے۔یہ سب وہ خیالات ہیں جن سے آنے والے دور کی پوری شاعری متاثر ہوئی۔مولانا الطاف حسین حالی کا ’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘ تقریباً ان ہی خیالات کی زیادہ منظم اور مربوط تفسیر ہے۔ حالی نے اُنھیں بجا طور پر نثرِ اُردو کا مُورِثِ اعلیٰ قرار دیا ہے ،اِس لیے کہ ’’سر سیّد نے تقریباً بیس برس کے اندر اردو لٹریچرکا رخ پھیردیا اور وہ زبان جو عشق و عاشقی کے جھگڑوںتک محدود تھی اس میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ فنی، سیاسی، اخلاقی، تاریخی،ہر قسم کے مضامین کوبخوبی ادا کرسکے۔‘‘چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف جہاں سرسید کی تحریر کی سب سے بڑی خصوصیت سادگی اور بے ساختگی ہے وہیںدوسری طرف اس میں دلنشینی او رتاثیر بھی ہے۔ بقول مولانا حالی ’’یہ اثر محض سادگی کی وجہ سے نہیں پیدا ہوا بلکہ اُن کے کلام میں جو تاثیر تھی وہ دَرحقیقت اُن کی سچائی او رحق گوئی کا نتیجہ تھی‘‘ یہی خلوص اُن کے مضامین کے علاوہ خطوط میں بھی جلوہ گر ہے۔ مثال کے طو ر پر ۱۰؍جون ۱۸۷۹ء کو شملہ سے لکھے گئے ایک خط سے حالی ؔسے اُن کے تعلقِ خاطر کے ساتھ ادبی رنگ بھی واضح ہوتا ہے:
’’جناب مخدوم ومکرم ِمَن!
عنایت نامہ بمع پانچ جلد مسدس پہنچے۔ جس وقت کتاب ہاتھ میں آئی، جب تک ختم نہ ہوئی، ہاتھ سے نہ چھوٹی، اور جب ختم ہولی تو افسوس ہوا کہ کیوں ختم ہوگئی۔ اگر اس مسدس کی بدولت فنِ شاعری کی تاریخ جدید قرار دی جاوے تو بالکل بجاہے۔ کس صفائی اور خوبی اورروانی سے یہ نظم تحریر ہوئی ہے، بیان سے باہر ہے… میری نسبت جو اشارہ اس نثر میں ہے اُس کاشکر ادا کرتا ہوں اور آپ کی محبت کااثر سمجھتاہوں…۔‘‘
سید عبداللہ اپنے ایک مضمون میں ’’اُردو ادبیات پر سرسیّد کے اثرات‘‘ کا احاطہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اُردو ادب پر سر سیّد کے اثرات نمایاں ہیں۔ عموماً اس تاثیر و اثر کی داستان یا حقیقت سید صاحب کے احسانات یا خدمات کے طو رپر بیان کی گئی ہے۔ اس کی تشریح علمی یا فکری لحاظ سے بہت کم کی گئی ہے۔ سبب شاید یہ ہے کہ ہم عموماً ان بحثوں میں سید صاحب کی سیاسی شخصیت کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اور ان کی ادبی اہمیت کو ان کی سیاسی اہمیت کے پیمانے سے ناپتے ہیں پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اردو ادب میں سید صاحب کی خالص علمی اور ادبی اہمیت اور حیثیت کا جائزہ لیں اور یہ سیکھنے کی کوشش کریں کہ سید صاحب نے اردو ادب کو حقیقت میں کیا دیا؟ ‘‘ (یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )
سرسید نے اُردو ادب کو جو کچھ دیا، اُس کے حوالے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آج کا مجموعی ادبی اور فکری رجحان بھی اُسی سلسلۂ فکر و عمل کی ایک ارتقائی شکل ہے۔ سر سیّد کے بے مثال کارنامے کی بدولت اُردو شعر و ادب کی دنیا بدل گئی اور یہ قومی ترقیوں کا وسیلہ بن گیا ۔ بلا شبہ سر سیّد نے اُردو شعر و ادب کو لبِ گویا عطا کیا۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

